یومِ مزدور کے بعد مارکسزم کی روشنی میں چند گزارشات اور چند اقتباسات
مزدوروں کا عالمی دن آتا ہے اور محض شورو غل میں گزر جاتا ہے جبکہ، حالات پھر ویسے ہی ہو جاتے ہیں جیسے وہ اپریل کی آخری تاریخ کو رات 12 بجے تک تھے۔ اس دن کئی ریلیاں نکالی جاتی ہیں، جلسے منعقد کیے جاتے ہیں اور کچھ تنظیمیں لگے بندوں اپنی کانگریسیں بھی منا لیتی ہیں۔ لیکن محنت کش و مزدور کے حالات و اطوار جوں کے توں قائم رہتے ہیں۔ اُن میں کوئی بدلاؤ دیکھنے میں نہیں آتا۔ ایسا کیوں ہے کہ ہم یومِ مزدور، یوں گھن گرج کے ساتھ مناتے ہیں لیکن یہ بے سود چلا جاتا ہے؟
ایسا کیوں ہے کہ اتنے یومِ مزدور گزر جانے کے باوجود محنت کش مفلسی کی زندگی جی رہے ہیں؟ جبکہ پرولتاریہ (مزدور) کا اقتدار قائم کرنا تو دور کی بات ہے وہ محض چار پیسے کمانے کے لیے بھی مجبور ہیں، بے بس ہیں اور سرمایہ دار، جاگیردار، وڈیرے، مشرف زادے زادیاں (جنہیں بورثوا بھی کہا جاتا ہے ) اُن کا خون نچوڑ کر اپنے جام بھر رہے ہیں اور گوشت نوچ کر اپنے پہلے سے بھرے پیٹوں کو مزید بھر رہے ہیں۔ اِن تمام سوالوں کا سیدھا سادا جواب یہ ہے کہ محنت کشوں، مزدوروں، کسانوں، ہاریوں، نوجوانوں اور عوام ایک ایسے ظالمانہ نظام کی گرفت میں ہیں جس سے نکلنا بظاہر ان کے بس میں نہیں ہے۔ اور بظاہر نکلنا کیوں بس میں نہیں؟ تو اس کا جواب ”سیاسی شعور“ کی شدید کمی ہے بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ سرے سے فقدان ہے۔
سیاسی شعور سے میری مراد اپنے حقوق اور طاقت کا احساس اور ذمہ داری ہے۔ مارکسزم کی رُو سے مزدور محض کسی فیکٹری میں اپنی جان کھپانے اور بازو گھسنے کے لیے یا کسان محض کھیت میں ہل چلانے تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ ان کا سماج اور تاریخ میں انتہائی اہم کردار اور مقام ہے۔ یعنی ان کے مضبوط کاندھوں پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہے کہ وہ مادی و سماجی ترقی کے پہیے کو مزید آگے کی جانب بڑھائیں۔ وہ سماج کو سرمایہ داریت کے فریب سے نجات دلاتے ہوئے سوشلزم سے دوچار کریں۔
اور پھر کمیونزم کی انتہاء تک پہنچائیں۔ محنت کش، مزدور اور کسان سماج میں اپنے انقلابی کردار سے نا واقف ہیں انہیں تو محض تقدیرات ِ الٰہی کا غلام بنا دیا گیا ہے اور وہ اپنے اوپر پر رواں ظلم و زیادتی کو ”اللہ اللہ خیر سلا“ کہتے ہوئے فراموش کر دیتے ہیں۔ جبکہ انہیں اس فرسودہ نظام کی زنجیریں توڑ پھینکی چاہئیں جو نا صرف انہیں بلکہ ان کی نسلوں کے مستقبل کو بھی غلامی اور بربریت کے الاؤ میں دہکنے کے لیے، جھلسنے کے لیے اور بالآخر راکھ ہو جانے کے لیے چھوڑ بیٹھا ہے۔
سرمایہ داریت کی فرسودگی، بربریت اور فریب کی بدولت ہی محنت کشوں، مزدوروں، کسانوں حتیٰ کہ متوسط طبقے میں بھی بیگانگی کا المیہ شدت پکڑ چکا ہے۔ بیگانگی کا مرض سرمایہ داریت سے کس طرح وجود پذیر ہوتا ہے مارکس اس حوالے سے ”محنت کی بیگانگت کے اجزائے ترکیبی“ بیان کرتے ہوئے ”1844 ء کے سیاسی و اقتصادی مسودات“ میں رقم طراز ہے،
”اول، یہ حقیقت کہ محنت مزدور کے لیے“ خارجی ”ہے یعنی اس کا تعلق اس کی پیدائشی فطرت سے نہیں لہٰذا وہ اپنے کام میں اپنی ذات کا اثبات نہیں بلکہ اس کی نفی کرتا ہے، وہ اطمینان کی بجائے اضطراب محسوس کرتا ہے، اس کی جسمانی اور ذہنی توانائی آزادانہ طور پر فروغ نہیں پاتی بلکہ وہ اپنے جسم کو گلاتا اور ذہن کو اجاڑتا ہے۔ لہٰذا مزدور صرف اپنے کام سے باہر ہی خود کو محسوس کرتا ہے اور اپنے کام میں خود کو اپنی ذات سے باہر پاتا ہے جب وہ کام نہیں کر رہا ہوتا تو وہ سکون محسوس کرتا ہے اور جب وہ کام کر رہا ہوتا ہے تو سکون محسوس نہیں کرتا۔
لہٰذا اس کی محنت رضاکارانہ نہیں بلکہ جبری ہے، یہ“ جبری مشقت ”ہے۔ یہ محض ان ضروریات کی تسکین کا ذریعہ ہے جو اس سے علیحدہ ہیں۔ اس کا بیگانہ کردار اس حقیقت سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ جب بھی کوئی جسمانی یا دوسری مجبوری موجود نہیں ہوتی محنت سے وبا کی طرح احتراز کیا جاتا ہے۔ خارجی محنت، وہ محنت جس میں انسان خود کو بیگانہ کر لیتا ہے، ایثارِ ذات اور نفس کشی والی محنت ہے۔ آخر میں مزدور کے لیے محنت کے خارجی کردار کا اظہار اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ وہ اس کی اپنی نہیں ہے بلکہ کسی اور کی ہے کہ وہ اس کی ملکیت نہیں کہ اس میں وہ اپنا نہیں بلکہ کسی اور کا ہوتا ہے جس طرح مذہب میں انسانی تصور اور دل و دماغ کی برجستہ سرگرمی انسان پر اس سے جداگانہ طور پر عمل کرتی ہے۔ یعنی ایک اجنبی، مقدس یا شیطانی سرگرمی کے طور پر عمل کرتی ہے۔ اسی طرح مزدور کی سرگرمی اس کی برجستہ سرگرمی نہیں ہے۔ یہ کسی اور کی ہے، یہ اس کی ذات کی تباہی ہے۔“
مذکورہ اقتباس کی روشنی میں مارکس نے انتہائی جامع انداز میں سرمایہ داریت سے بیگانگی کس طرح وجود پذیر ہوتی ہے، عیاں کردی ہے۔ اس ضمن میں مزید بہت کچھ کہا جاسکتا ہے لیکن فی الوقت یہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔ محنت کشوں، مزدوروں اور کسانوں کے سیاست میں ”انقلابی کردار“ کی وضاحت کرتے ہوئے، مارکس کا ”رازداں“ اور فریق فریڈرک اینجلز ”انٹرنیشنل ورکنگ مینز ایسوسی ایشن“ کی لندن کانفرنس کی اپنی تقریر میں جو انہوں نے 11 ستمبر 1871 ء کو فرمائی تھی، کہتے ہیں،
”مزدور پارٹی ایک سیاسی پارٹی کی حیثیت سے اکثر ملکوں میں موجود ہے۔ سیاست سے الگ رہنے کا پرچار کر کے ہم اسے اپنے ہاتھوں برباد کرنے سے رہے۔ آج کی زندگی کا تجربہ، موجودہ حکومتوں کا مزدوروں پر ظلم و ستم، جو سیاسی مقاصد میں بھی ویسا ہی ہے جیسا سماجی مقاصد میں، مزدور خود چاہیں یانہ چاہیں، انہیں سیاست میں حصہ لینے پر مجبور کرتا ہے۔ انہیں سیاست سے الگ تھلگ رہنے کا مشورہ دینا یہی ہے کہ بورثوا سیاست کے دامن میں ڈال دیا جائے۔
سیاست سے کنارہ کش رہنا بالکل ناممکن ہے، خاص کر پیرس کمیون کے بعد ۔ ہم طبقے مٹا دینا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کو پورا کرنے کی سبیل کیا ہے؟ صرف ایک سبیل ہے۔ پرولتاریہ کا سیاسی غلبہ۔ وہ سیاست جو اختیار کرنے کے قابل ہے، مزدوروں کی سیاست ہے۔ مزدوروں کی پارٹی کو ایک نہ ایک (کسی نہ کسی) بورثوا پارٹی کی دم بن کر نہیں رہنا چاہیے۔ اسے تو اپنا وجود آزاد رکھنا چاہیے، جس کی خاص اپنی منزل ہو، خاص اپنی سیاست ہو۔ سیاسی آزادیاں، جلسے کرنے، انجمن بنانے کا حق، پریس کی آزادی، یہ ہیں ہمارے ہتھیار۔ اب اگر موجودہ بندوبست ہمیں یہ ذریعے مہیا کرتا ہے کہ خود اسی کے خلاف اٹھ سکیں، تو ان ذریعوں سے کام لینے کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ ہم نے موجودہ بندوبست کے آگے سر تسلیم خم کر دیا ہے۔“ (منتخب تصانیف، مارکس اینجلز جلد دوئم۔ دارالاشاعت ترقی، ماسکو)
پیشِ نظر تقریر میں ناصرف اینجلز نے مزدوروں کو سیاست میں آگے بڑھنے کی نصیحت کی ہے بلکہ مزدور تحریک کے لیے لائحہ عمل بھی پیش کیا ہے کہ وہ کیسے سرمایہ دارانہ ریاست کے ہی آلات کو استعمال کرتے ہوئے اپنے حقوق کی جنگ لڑ سکتے ہیں اور بالآخر پرولتاری انقلاب بر پا کر سکتے ہیں۔ مزید براں، روسی انقلاب کے قائد ولادیمیر لینن ”امریکہ کے مزدوروں کے نام خط“ جو 20 اگست 1918 ء میں لکھا گیا تھا، رقمطراز ہیں،
”سامراجی جنگ کی ہولناکیوں کے درمیان، پرولتاریہ کو یہ انتہائی واضح اور نمایاں عظیم حقیقت مل رہی ہے جو سب انقلابوں نے سکھائی ہے اور مزدوروں کے لئے ان کے بہترین معلموں، جدید سوشلزم کے بانیوں نے بطور میراث چھوڑی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ کوئی انقلاب اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک استحصال کرنے والوں کی مزاحمت کو نہ کچل دیا جائے۔ جب ہم، مزدوروں اور محنت کش کسانوں نے ریاستی اقتدار پر قبضہ کر لیا تو استحصال کرنے والوں کی مزاحمت کو کچل دینا ہمارا فرض ہو گیا۔“ (مجموعہ ہائے تصانیف لینن، جلد 42، دارالاشاعت ترقی، ماسکو)
مذکورہ تمام اقتباسات کی روشنی میں یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ مارکسزم کی رُو سے محنت کش اور مزدور سماج اور تاریخ میں ایک اہم بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ ”انقلابی کردار“ رکھتے ہیں اور انہیں اس انقلابی کردار کی تکمیل سے دور رکھنے کی کوشش دراصل سماجی ترقی کو مسدود کرتی ہے اور استحصال کو رواں رکھتی ہے۔ عوام اور بالخصوص محنت کش مزدور کے سماج اور تاریخ میں ”انقلابی کردار“ کی وضاحت کرتے ہوئے ایک روسی ماکسسٹ و۔ افانا سیئیف لکھتے ہیں،
”تاریخ میں عوام کی فیصلہ کن اہمیت طرزِ پیداوار کے اس تعین کن رول سے وجود میں آتی ہے جو وہ سماج کے نشو نما میں ادا کرتا ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے جان چکے ہیں، مادی پیداوار سماجی زندگی کی بنیاد ہے اور محنت کش عوام اصل پیداواری قوت ہیں۔ چنانچہ نتیجۃً، عوام سماجی نشو نما کی فیصلہ کن قوت ہوتے ہیں، تاریخ کے حقیقی خالق ہوتے ہیں۔ محنت کش عوام سب سے پہلے اپنی پیداواری محنت کے ذریعے تاریخ بناتے ہیں۔ یہ عوام ہی ہوتے ہیں جو ساری مادی دولت، شہر اور گاؤں، فیکٹریاں، سڑکیں، پُل، موٹریں، مشینیں، کپڑے، جوتے، غذا اور گھریلو اشیا، مختصر یہ کہ ہر وہ چیز تخلیق کرتے ہیں جس کے بغیر ہمارا وجود باقی نہیں رہ سکتا۔
لیکن تاریخ میں عوام کا رول محض پیداواری قوتوں کو فروغ دینے اور اس طرح ایک نئے سماجی نظام میں منتقلی کے لئے مادی حالات مہیا کرنے تک محدود نہیں ہے۔ عوام وہ اصل قوت بھی ہیں جو سماجی انقلاب کے مقدر کا، سیاسی اور قومی آزادی کی تحریکوں کے مقدر کا فیصلہ کرتی ہے۔ طبقاتی جد و جہد، ظالموں کے خلاف محنت کش عوام کی جد و جہد، جس کی اعلیٰ ترین شکل سماجی انقلاب ہے، مخاصمانہ طبقاتی سماجوں کے نشو و نما میں قوتِ محرکہ کا کام دیتی ہے۔
عوام کا نوعِ انسانی کی روحانی ثقافت کے فروغ میں زبردست حصہ ہے۔ میکسم گورکی نے لکھا ہے، عوام محض وہ قوت ہی نہیں ہیں جس نے ساری مادی اقدار پیدا کی ہیں۔ وہ روحانی اقدار کا واحد اور کبھی نہ خشک ہونے والا سر چشمہ ہیں۔ وہ وقت، حسن اور ذکاوت کے معاملہ میں سب سے بڑے شاعر اور فلسفی ہیں، وہ تمام عظیم نظموں کے جو کہ موجود ہیں، دنیا کے سارے المیوں کے اور ان المیوں میں سے سب سے بڑے المیے یعنی عالمی ثقافت کی تاریخ کے خالق ہیں۔“ (مارکسی فلسفہ (مبادیات) مصنف، و۔ افانا سیئیف، دارالاشاعت ترقی، ماسکو)
سماج میں عوام کے انقلابی کردار کی مزید تشریح ”تاریخی مادیت“ کے عنوان کے تحت مارکسزم کے فلسفہ کی رُو سے سمجھی جا سکتی ہے۔ بہرحال، مزدوروں اور عوام میں سیاسی شعور کو اجاگر کرنا نوجوانوں اور دانشوروں کی تنظیموں کا فرض ہے جسے بلا تردد و خوف مکمل طور پر پورا کرنا چاہیے۔ کیونکہ اسی صورت میں موجودہ صورتحال میں کوئی انقلابِ حال دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ جو نسل اور مذہب کی تفریق سے بالاتر ہوتے ہوئے ایک قومی انقلاب ہو گا۔
جو ناصرف کسی پنجابی کے مسائل کو حل کرے گا بلکہ بلوچستان کے بحرانوں کا بھی سد باب ہو گا۔ یہاں مزید یہ گزارش کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ پاکستان کی سماجی حرکیات یورپ اور امریکہ کی سماجی حرکیات سے یکسر مختلف ہیں۔ پاکستان میں انقلاب ہمارے سماج کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہی کامیاب ہو سکتا ہے جہاں مذہب ایک ناقابلِ تردید و فراموش حقیقت ہے۔ مذہب بیگانہ یا مذہب مخالف انقلاب پاکستان کی سرزمین میں عبث ہے بلکہ یوٹوپیا ہے۔ اسی لیے دیسی مارکسسٹوں سے گزارش ہے کہ ہوش کے ناخن لیں اور یورپ و امریکی کامریڈز کی تقلید میں ہی اپنی عافیت نہ سمجھیں۔ دراصل ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ یہاں بایاں بازو بھی ”سطحیت“ کا شکار ہے جبکہ دایاں بازو تو سراسر ”رجعت پرست“ ہے اور ترقی پسندی و روشن خیالی سے خائف ہے بلکہ شدید نفرت کرتا ہے۔ علاوہ ازیں، یومِ مزدور کے حوالے سے مزید صرف یہی کہا جاسکتا ہے کہ ٹریڈ یونینز کو مضبوط کرنا ہو گا، مزدوروں کی بنیاد پر سیاسی تنظیمیں بنانی ہوں گی اور عوام میں سیاسی شعور کو اجاگر کرنا ہو گا۔ اسی صورت میں پاکستان کی تقدیر کو بدلا جاسکتا ہے۔ یہاں مارکس کے انقلابی ”کمیونسٹ پارٹی کے منشور“ کے آخری جملے پر مضمون کو اختتام سے دوچار کرتے ہیں،
”حکمران طبقے کمیونسٹ انقلاب کے خوف سے کانپ رہیں ہوں تو کانپتے رہیں۔ مزدوروں کو اپنی زنجیروں کے سوا کھونا ہی کیا ہے؟ اور جیتنے کو تو ساری دنیا پڑی ہے۔“ (کمیونسٹ پارٹی کا مینی فیسٹویعنی اشتمالی منشور، کارل مارکس فریڈرک اینجلز، دارالاشاعت ترقی، ماسکو)

