چین یورپی یونین تعلقات۔ ماضی حال اور مستقبل
کثیر قطبیت کو فروغ دینے، عالمگیریت کی حمایت کرنے والی اور دنیا میں دو بڑی تجارتی منڈیوں کی حامل یورپی یونین اور عوامی جمہوریہ چین کے تعلقات کی ترقی عالمی معیشت کے کے استحکام اور ترقی کی ضمانت سمجھی جاتی ہے۔
ان تعلقات کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں مفادات کا ٹکراؤ نظر نہیں آتا اور نہ ہی ان کے درمیان جغرافیائی اور تزویراتی تنازعات ہیں بلکہ دیکھا جائے تو شاید مشترکہ مفادات کا تناسب زیادہ ہے۔ لیکن کچھ ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ ان تعلقات کو جس سوچ اور رجحان سے خطرہ ہے وہ خود مختاری اور مستقبل کے لائحہ عمل کے لئے اوروں پر انحصار ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یورپی یونین کے اہم ملک فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون مختلف پلیٹ فارمز پر کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ کسی اتحاد میں ہونے کا یہ مطلب نہیں ہو نا چاہیے کہ کوئی رکن اپنا تشخص اور خود مختاری کھو دے اور اتحاد کے مکمل زیر اثر ہو جائے۔
چین کا ماننا ہے کہ اس نے ہمیشہ یورپی یونین کو بین الاقوامی منظر نامے میں ایک اسٹریٹجک طاقت کے طور پر دیکھا ہے، اسی لئے چین۔ یورپی یونین تعلقات کی ترقی چینی سفارت کاری میں ترجیحی طور پر نظر آتی ہے۔
سنہ 2014 مٰیں چین کے صدر شی جن پھنگ نے یورپی یونین کے صدر دفتر کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے امن، ترقی، اصلاحات اور تہذیب کے لیے مشترکہ طور پر چین اور یورپی یونین کے درمیان چار اہم شراکت داریاں قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔ چین کی نظر میں یہ وژن تبدیل نہیں ہوا بلکہ موجودہ حالات میں اس کی عملی اہمیت اور بھی زیادہ ہے۔ چونکہ آج دنیا میں غیر یقینی اور عدم استحکام زیادہ نظر آتا ہے لہذا چین اور یورپی یونین دونوں کے لئے قریبی رابطے کو برقرار رکھنا اور باہمی فائدہ مند تعاون پر توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے، چاہے وہ اپنی متعلقہ ترقی کو آگے بڑھانے میں ہو یا عالمی چیلنجوں سے نمٹنے میں۔ تاریخ نے بھی بار ہا ثابت کیا ہے کہ چین اور یورپی یونین تعلقات کے لئے درست سمت طے کرنے کے لئے مل کر کام کرتے رہے ہیں جس سے انہیں ایسی ترقی حاصل ہوئی ہے جو دونوں فریقوں کے مفادات اور عوام کی توقعات پر پورا اترتی ہے۔
فی الحال، چین یورپی یونین کے سب سے اہم تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے، اور اس کے برعکس۔ عالمی تجارتی مندی کے منفی اثرات کے باوجود، چین اور یورپی یونین کے مابین مجموعی تجارتی حجم 2023 میں 783 بلین ڈالر تک پہنچا جس میں دو طرفہ سرمایہ کاری کے اسٹاک نے 250 بلین ڈالر سے تجاوز کیا ہے۔
چین کاروباری تعاون، سائنس اور ٹیکنالوجی میں تعاون، اور سپلائی چین میں تعاون کے لئے یورپ کا قابل اعتماد، کلیدی، ترجیحی اور صنعتی شراکت دار بننے کے لئے تیار ہے کیوں کہ دونوں فریقین باہمی کامیابی اور مشترکہ خوشحالی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور
دونوں کے مابین تعاون ڈیجیٹل معیشت، سبز ترقی اور ماحولیاتی تحفظ، نئی توانائی اور مصنوعی ذہانت جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
یورپی یونین چیمبر آف کامرس ان چائنا (ای یو سی سی سی) کی جانب سے جاری کردہ بزنس کانفیڈنس سروے 2023 کے مطابق سروے میں شامل 90 فیصد سے زائد یورپی کمپنیاں چین کو اپنی سرمایہ کاری کی منزل بنانے اور سروے میں شامل 80 فیصد سے زیادہ چینی کمپنیاں یورپ میں اپنے کاروبار کو بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
چین دنیا کا سب سے بڑا ترقی پذیر ملک ہے اور یورپ کسی بھی دوسرے براعظم کے مقابلے میں زیادہ ترقی یافتہ ممالک کا خطہ ہے۔ چین اور یورپی یونین دونوں کو بکھری ہوئی عالمی معیشت اور تحفظ پسندی کی بڑھتی ہوئی لہر کے سامنے محتاط رہ کر کھلے پن کی پیروی جاری رکھنی چاہیے، منصفانہ مسابقت اور آزاد تجارت کو برقرار رکھنا چاہیے، سلامتی کے تصور کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے گریز کرنا چاہیے، اور گلوبلائزیشن کے خلاف مزاحمت کرنی چاہیے۔
چین بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو کے حصول لے مشترکہ ہدف کے تعاقب میں یورپی یونین اور دیگر یورپی ممالک کی فعال شرکت کا بھی خیرمقدم کر رہا ہے اور یورپی یونین کی گلوبل گیٹ وے حکمت عملی کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لئے بھی تیار نظر آتا ہے تاکہ ترقی پذیر ممالک ترقی کے اپنے سفر کو تیز کرنے میں مدد کے لئے متعلقہ طاقتوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔ بدلتی ہوئی اور غیر مستحکم بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر، چین اور یورپ کو مزید تعاون کی ضرورت ہے۔ دونوں فریقوں کو کثیر الجہتی پر عمل کرنے، کھلے پن اور ترقی کی وکالت کرنے اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے کو آسان بنانے کے لئے مل کر کام کرنا ہو گا۔ انہیں مشترکہ طور پر ایک مساوی اور منظم کثیر قطبی دنیا کی تعمیر کرنا ہو گی اور عالمی سطح پر فائدہ مند اور جامع اقتصادی عالمگیریت کو فروغ دینا ہو گا،


