کیا شکاری کا سچ پورا سچ ہے؟


انسانی تاریخ فاتحین کے بیانیے کی تصویر کشی کرتی ہے۔ مفتوحین کے بیانیے سے اُسے قَطْعاً کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ جو جیت گیا وہی سکندر اور اُس کی جیت سے کتنے قلوب کی کلی مرجھا گئی کسی کو پرواہ نہیں۔

کامیابی کی کہانی ہمیشہ دلکش ہوتی ہے اور کامیابی کی وہ کہانی تو اور بھی دلپذیر ہو جاتی ہے جس میں کامیابی کو ہاتھ کی کمائی کا شاخسانہ قرار دیا جائے۔ کامیاب انسان جب اپنی کامیابی کو اپنی صلاحیتوں اور اپنی ہنرمندی کا نتیجہ قرار دیتا ہے تو پھر اُس سے کامیابی کا فارمولا دریافت کیا جاتا ہے اور پھر وہ بڑے فخر سے اپنی کامیابی کے تیر بہدف نسخے بیان کرتا ہے۔ وہ اپنے بیانیے سے یہ ثابت کر دیتا ہے کہ نرگس ہزاروں سال روئی تھی اور پھر اس کا جنم ہوا تھا وہ ببانگِ دہل اعلان کرتا ہے کہ اس جیسا کوئی ہے تو سامنے آئے۔ اُسے یہ دعوِیٰ کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی کہ اُس نے مخالف ہواؤں کے رخ موڑ دیے اور اُس راستے سے کامیابی حاصل کی جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔

شکاری جب اپنے جال کی گوناگوں صفات بیان کر رہا ہوتا ہے تو اُس کی عظمت کے قصے سننے والے یہ فراموش کر دیتے ہیں کہ جس کو شکار کیا گیا ہے اُس کا بھی ایک سچ ہے لیکن اب وہ اپنے حصے کا سچ بیان کرنے کے لئے زندہ اور موجود نہیں ہے اس لئے شکاری کا سچ ہی حتمی اور قطعی تصور کر لیا جاتا ہے۔

وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے اُن کا سچ اُن کے ساتھ ہی دفن ہو گیا اور اِس اینٹ اور گارے کی دنیا نے فاتح کے سچ کا ڈھول پیٹنا شروع کر دیا۔

دنیا کی اس زندگی میں جہاں انسان فکری مغالطوں کا شکار ہے وہاں پر پورے سچ تک پہنچنا ویسے بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے اور جب طاقتور کا سکہ ہر شے پر چلتاہے تو پھر سچ پر بھی اس کی اجارہ داری کو تسلیم کر لیا جاتا ہے۔

انسانوں کی غالب اکثریت کو اصلی اور کھرے سچ کی کوئی طلب نہیں ہوتی کیونکہ انہیں تو صرف اپنی اور اپنے بال بچوں کی دال روٹی کا بندوبست کرنا ہوتا ہے۔ فکرِ معاش ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو سلب کر چکی ہوتی ہے اور وہ کولہو کے بیل کی مانند ایک دائرے میں سفر کرتے ہیں اور چڑھتے سورج کو سلام کرنے کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں۔

شکاری اور شکار کے ساتھ بیک وقت بھاگنے والوں کا منافقانہ کردار بھی ظلم کے نظام کو تقویت بخشتا ہے۔ وکٹ کے دونوں اطراف کھیلنے والے ابن الوقت شام کو جم خانہ میں ظالم کے ساتھ مے نوشی کرتے ہیں اور دن میں مال روڈ پر انقلابی جلسے کی قیادت کرتے ہیں۔

فلاحی تنظیموں کی سربراہی بھی ان کے حصے میں آتی ہے اور ڈی ایچ اے میں اُن کے محل بھی ہوتے ہیں۔ انہیں طاقتوروں کی آغوش میں سوئی ہوئی اقوامِ متحدہ کے اجلاسوں میں بطورِ مہمان مقرر کے بھی بُلایا جاتا ہے جہاں پر وہ اپنے فلاحی کارنامے مرچ مصالحہ لگا کر پیش کرتے ہیں۔

قرآنِ حکیم تو حق اور باطل میں فرقان یعنی واضح فرق پیدا کرنے کے لئے آیا تھا لیکن انسانیت کے یہ نام نہاد مسیحا سچ اور جھوٹ کو ملا کر اپنے لئے نیک نامی کا چورن تیار کرتے ہیں۔ اپنے فلاحی اداروں کے یہ مخدوم عوام کے خادم بن کر سٹیج پر طلوع ہوتے ہیں اور عاجزی کا ڈھونگ رچاتے ہیں جب کہ اپنے اداروں میں اُن کی فرعونیت سے اصلی فرعون بھی خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔

اگر کبھی عوام الناس میں پورا سچ جاننے کی طلب بیدار ہو تو انہیں چاہیے کہ خاص الخاص کے ارشادات کو نہ سنیں بلکہ ان کے اعمال کا بغور مشاہدہ کریں۔ مقتدرہ کے فیصلے اور اعمال پورے سچ کا احاطہ کرتے ہیں۔

اک بے پناہ رات کا تنہا جواب تھا
چھوٹا سا اک دیا جو سرِ احتساب تھا
رستہ مرا تضاد کی تصویر ہو گیا
دریا بھی بہہ رہا تھا جہاں پر سراب تھا
(یاسمین حمید)


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments