’گھر میں سوتے ہوئے بھی ایسا لگتا تھا کہ میں جیل میں ہوں‘: نو مئی واقعات پر فوجی عدالتوں سے سزائیں پانے والوں کی زندگیاں کیسے بدلیں؟

شہزاد ملک اور عزیز اللہ خان - بی بی سی اردو


نو مئی، مظاہرے، فوجی عدالتیں
نو مئی 2023 کو جب شاہزیب نے سابق وزیرِاعظم اور تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تو اُن کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ دن اُن سمیت کتنے ہی لوگوں کی زندگیوں کو کیسے تبدیل کر کے رکھ دے گا۔

وہ صوبہ خیبرپختونخوا کے شہر مردان میں ہونے والے ایک احتجاج کا حصہ تھے تاہم وہ اس احتجاج کے دوران ہونے والے تشدد، پتھراؤ یا توڑ پھوڑ میں شامل ہونے سے انکار کرتے ہیں۔ انھیں اس پرتشدد احتجاج کے دو روز بعد حراست میں لیا گیا اور گذشتہ ماہ (اپریل 2024) ہی فوجی عدالت سے ملنے والی سزا مکمل ہونے پر انھیں رہائی ملی ہے۔

نو مئی کے دن کو یاد کرتے ہوئے انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں بنیادی طور پر چِپ بورڈ وغیرہ کے لیے خام مال کا کاروبار کرتا ہوں اور میرا کاروبار اچھا چل رہا تھا۔ نو مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تو میں اُس وقت بینک گیا ہوا تھا۔ مجھے فیس بُک سے خبر ملی کہ عمران خان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔‘

’مردان میں کالج چوک زیادہ دور نہیں ہے۔ وہاں لوگ جمع ہو رہے تھے، میں بھی وہاں پہنچ گیا۔ وہاں پُرامن احتجاج تھا، میں اُس میں شامل رہا اور ایک گھنٹے کے بعد میں وہاں سے واپس آ گیا۔ دوسرے روز ہم احتجاج میں شامل ہونے کے لیے اسلام آباد چلے گئے۔ تقریبا دوپہر دو بجے ہم وہاں پہنچے اور پھر دو گھنٹے کے بعد واپس مردان کے لیے روانہ ہوئے اور عشا کی نماز کے وقت تک واپس پہنچ گئے۔‘

اپنی گرفتاری کی تفصیلات بتاتے ہوئے شاہزیب کا کہنا تھا کہ ’11 مئی کو دو بجے کا وقت تھا۔ میں مارکیٹ میں اپنے دفتر میں موجود تھا کہ اتنے میں پولیس اہلکار آئے اور مجھے کہا کہ آپ کا نام احتجاج کرنے والوں میں شامل ہے، آپ ہمارے ساتھ تھانے چلیں۔‘

’میں حیران تھا کہ میں نے تو کچھ نہیں کیا پھر مجھے کیوں گرفتار کیا جا رہا ہے۔ میرے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا، میں احتجاج کے دوران پُرامن رہا تھا۔ میں نے ریاست، فوج یا حکومت کے خلاف کوئی ایسا کام نہیں کیا تھا۔۔۔‘

شاہزیب کے مطابق پولیس اہلکار انھیں تھانہ صدر لے گئے جہاں تحریک انصاف کے چند مقامی قائدین سمیت اور لوگ بھی موجود تھے۔ ’اس کے بعد ہمیں جیل لے گئے۔ معلوم ہوا کہ ہمیں ایم پی او کے تحت چالان کیا گیا ہے۔ ایک ہفتے تک ہم اُدھر رہے۔ 19 مئی کو مجھے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش گیا، پھر تھانہ صدر لائے وہاں تفتیش کی گئی۔‘

’حوالات میں ایک رات گزارنے کے بعد ہمیں پھر عدالت لائے اور پھر ہمیں آرمی کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ تب ہمارے چہرے کالے کپڑے سے ڈھانپ دیے گئے تھے اور ہاتھ پیچھے باندھ دیے گئے تھے۔‘

شاہزیب کا کہنا ہے کہ انھیں ایک چھوٹے سے قید خانے میں رکھا گیا۔ ’رات کے وقت ہم سے تفتیش شروع کی گئی اور مجھ سے پوچھا کہ تمھیں کیوں گرفتار کیا گیا ہے تو میں نے کہا مجھے نہیں معلوم۔ میرے خلاف کوئی شواہد نہیں تھے اور نہ ہی میں نے کوئی ایسا کام کیا تھا اس لیے میں مطمئن تھا۔ پھر مجھے کہا گیا، ٹھیک ہے آپ جائیں۔‘

’میں ایک ہفتہ ایک قید خانے میں رہا پھر مجھے تہہ خانے میں اور پھر ایک اور قید خانے میں منتقل کر دیا گیا جہاں لیٹرین بھی تھی اور کیمرے لگے ہوئے تھے۔‘

اُن کا کہنا ہے کہ وہ 11 ماہ فوج کی تحویل میں رہے اور اس دوران ان سے کوئی بدسلوکی نہیں ہوئی۔ ’ہم سے کوئی غلط سلوک نہیں کیا گیا۔ وہ ہمارے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آئے لیکن فوج کا ایک خوف تو ہوتا ہے وہ ہمارے اندر تھا۔‘

فوجی عدالت میں مقدمے کی کارروائی کے بارے میں شاہزیب نے بتایا کہ ’فوجی جج باوردی تھے، کرنل اور میجر موجود تھے، ہمارے وکیل بھی تھے۔ عدالتی کارروائی ویسی ہی تھی جیسے سول عدالتوں میں ہوتی ہے۔ ہمارے ساتھ کوئی بُرا رویہ نہیں تھا۔‘

نو مئی

نو مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد اسلام آباد سمیت کئی چھوٹے بڑے شہروں میں پُرتشدد مظاہرے ہوئے تھے

بے یقینی اور آزادی

شاہزیب کا شمار اُن خوش قسمت افراد میں ہوتا ہے جو نو مئی کے احتجاج پر گرفتار ہونے کے بعد رہا ہوئے لیکن یہ مرحلہ بھی آسان نہ تھا۔

شاہزیب کہتے ہیں کہ ایک دن اُن کے پاس ایک شخص آیا اور اُن سے کہا گیا کہ وہ تیار ہو جائیں۔ شاہزیب نہیں جانتے تھے کہ کیا ہونے والا ہے لیکن دن کے گیارہ بجے اُن کو ایک دفتر میں لے جایا گیا اور بتایا گیا کہ ان کو رہا کیا جا رہا ہے۔

شاہزیب کو اپنے کانوں پر یقین نہیں ہو رہا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہم سوچ رہے تھے کہ شاید یہ سچ ہو اور اس سوچ کے ساتھ ایک خوشی کی کیفیت حاوی ہو رہی تھی۔‘

اس کیفیت کا سامنا کرنے والے شاہزیب اکیلے نہیں تھے۔ شاہزیب بتاتے ہیں کہ ان سمیت چار لوگوں کو ان کے کپڑے دیے گئے اور پھر ان کو ایک اور جگہ لے جایا گیا جہاں ان کے بھائی اور دیگر افراد کے رشتہ دار پہلے سے ہی موجود تھے۔

اب شاہزیب سمیت ان چاروں کو ہی یقین ہونا شروع ہوا کہ ان کی اسیری کے دن ختم ہو چکے ہیں۔ شاہزیب کہتے ہیں کہ ’ہم انھیں دیکھ کر خوش ہوئے لیکن پھر بھی یہ سوچ آ جاتی تھی کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ ہمیں آزاد کیا جا رہا ہو۔‘

لیکن یہ ابہام زیادہ دیر باقی نہیں رہا اور جب شاہزیب کو بتایا گیا کہ اب وہ آزاد ہیں تو کچھ ہی دیر بعد وہ اپنے بھائی کے ساتھ مردان کی جانب رواں دواں تھے جہاں پہنچنے پر ان کے گھر والوں کی خوشی کا بھی ٹھکانہ نہ رہا۔

شاہزیب

شاہزیب یاد کرتے ہیں کہ ’میں ایک ہفتہ ایک قید خانے میں رہا پھر مجھے تہہ خانے میں اور پھر ایک اور قید خانے میں منتقل کر دیا گیا‘

شاہزیب تقریبا گیارہ ماہ بعد اپنی بیمار والدہ، والد، اہلیہ اور چار بچوں سے مل رہے تھے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’سب گھر والے رو رہے تھے۔ ایک عجیب صورتحال تھی۔ بے یقینی اب بھی ہمارے ذہن میں تھی۔‘

رہائی کے باوجود قید میں گزارے دنوں کی یادوں نے اُن کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ جیل سے واپسی کے بعد شاہزیب ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس ایک سال میں میرے ذہن پر اتنا دباؤ بڑھ گیا کہ گھر میں سوئے ہوئے بھی ایسا لگتا تھا کہ میں اب بھی جیل میں ہوں۔‘

اُن کا کہنا ہے کہ اس دباؤ کی وجہ سے اُن کی یادداشت بھی متاثر ہوئی ہے۔

’میرے ذہن پر اتنا دباؤ تھا کہ مجھے بہت کچھ بھول چکا تھا۔ میرے منشی نے بتایا کہ کس کے ذمے کتنی رقم بقایا ہے اور کس نے کتنے پیسے دینے ہیں، لیکن مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ کیا کہہ رہا ہے اور یہاں تک کہ شروع میں تو منشی کو بھی نہیں پہچان پا رہا تھا۔ میں اسے کہتا تھا کہ کون ہو تم اپنا تعارف کراؤ۔‘

شاہزیب کا دعویٰ ہے کہ اس ایک سال میں انھیں کاروباری لحاظ سے چار سے پانچ کروڑ روپے کا نقصان بھی سہنا پڑا ہے۔

نو مئی

شاہزیب کا شمار ان خوش قسمت افراد میں ہوتا ہے جو نو مئی کے احتجاج پر گرفتار ہونے کے بعد رہا ہوئے لیکن یہ مرحلہ بھی آسان نہ تھا

’رہائی پانے والوں کو معافی نہیں ملی، کورٹ مارشل ہوا ہے‘

نو مئی کے واقعات میں جن 103 افراد کے مقدمات قانونی طریقہ کار مکمل کرنے کے بعد فوجی عدالتوں میں بھجوائے گئے تھے ان میں سے اب تک 20 افراد کو سزا مکمل ہونے کے بعد رہا کیا گیا ہے جن میں شاہزیب کے علاوہ ایبٹ آباد کے رہائشی 20 سالہ عبدالرحمان بھی شامل ہیں جو عیدالفطر سے چار دن پہلے اپنے گھر پہنچے تھے۔

عبدالرحمان کے وکیل رانا قیوم کا کہنا ہے کہ اُن کے مؤکل کو نو مئی کے واقعات کے پانچ دن بعد حراست میں لیا گیا اور 22 مئی کو ایبٹ آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم کو فوجی حکام کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔

ان کا دعویٰ ہے کہ اس حوالگی کے پانچ ماہ بعد 22 اکتوبر 2023 کو ان کے مؤکل کے والد کو فوجی حکام کی جانب سے فون کر کے بتایا گیا کہ ان کے بیٹے کے خلاف مقدمے کی کارروائی راولپنڈی میں قائم کی گئی فوجی عدالت میں ہو گی۔

رانا قیوم نے الزام عائد کیا کہ اس سلسلے میں جب جیگ برانچ کو ان کے مؤکل کے خلاف چارج شیٹ دینے کے لیے درخواستیں دی گئیں تو اس کا کوئی جواب نہیں ملا۔ انھوں نے کہا کہ آرمی ایکٹ 1952 میں یہ واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ اگر کسی شخص کا فوجی ٹرائل شروع کرنا ہے تو گرفتاری کے 48 گھنٹے کے اندر ملزم کو بتانا ہو گا کہ اس کے خلاف کن الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جن افراد کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے گئے اُن کے خلاف پراسیکوشن کی طرف سے جو گواہان پیش کیے گئے وہ سب پولیس اہلکار تھے جبکہ قانون شہادت کے مطابق پولیس اہلکاروں کی گواہی قابل قبول نہیں ہوتی۔

فوجی عدالتوں میں شہریوں کے خلاف نو مئی کے واقعات سے متعلق مقدموں کی کارروائی کی شفافیت پر پاکستانی فوج کا مؤقف جاننے کے لیے آئی ایس پی آر سے رابطہ کیا گیا تو ادارے کا کہنا تھا کہ اس بارے میں حال ہی میں فوج کے ترجمان اور فوج کے سربراہ کی جانب سے جو باتیں کی گئی ہیں وہی فوج کا مؤقف ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال نو مئی کے بعد آرمی چیف کی زیر قیادت کور کمانڈرز کے خصوصی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ فوجی تنصیبات اور اہلکاروں پر حملوں میں ملوث افراد کے خلاف فوج کے متعلقہ قوانین بشمول آرمی ایکٹ اور سیکرٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی اور اس کے بعد سے فوج کی جانب سے فوجی عدالتوں کے بارے میں دیے گئے بیانات میں کہا جاتا رہا ہے کہ آرمی سیکرٹ ایکٹ کے تحت گرفتار افراد کے ساتھ آئین اور قانون کے مطابق ہی نمٹا جا رہا ہے۔

گذشتہ سال اکتوبر میں سپریم کورٹ نے عام شہریوں کے ٹرائل کی اجازت دینے والی آرمی ایکٹ میں موجود شق ٹو ون ڈی ہی کالعدم قرار دے دی تھی اور حکم دیا کہ تمام افراد کے خلاف مقدمات عام فوجداری عدالتوں کے سامنے چلائے جائیں گے۔

دسمبر میں سپریم کورٹ کے چھ رکنی بنچ نے اس حکم کو معطل تو کر دیا تھا تاہم یہ بھی کہا تھا کہ جب تک فوجی عدالتوں میں شہریوں کے مقدمات کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ نہیں سنایا جاتا اس وقت تک فوجی عدالتیں کسی مقدمے کا فیصلہ نہیں سنا سکتیں۔

رواں برس سات مئی کو ایک پریس کانفرنس میں مسلح افواج کے ترجمان میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ’اگر نو مئی کرنے اور کروانے والوں کو سزا نہ دی گئی تو کسی کی جان، مال، عزت و آبرو محفوظ نہیں رہیں گے۔‘

کورٹ مارشل، نو مئی

20 افراد کورٹ مارشل اور سزا مکمل ہونے کے بعد رہا ہوچکے ہیں

اس کے علاوہ نو مئی کے واقعات کا ایک برس پورا ہونے پر ایک بیان میں بری فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے کہا تھا کہ ’وہ عناصر جو اس مجرمانہ عمل کے پس پردہ اصل مقصد کو نہیں سمجھ سکے اور منصوبہ سازوں کے سیاسی عزائم کے لیے چارے کے طور پر استعمال ہوئے، سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت پر انھیں پہلے ہی شک کا فائدہ دیا جا چکا ہے۔ تاہم اس عمل کے اصل ذمہ داران جو اب خود کو متاثرین کے طور پر پیش کرتے ہیں، اپنے اعمال کے لیے جوابدہ ہوں گے، خاص طور پر جب منظم تشدد اور تخریب کاری میں ان کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔‘

رانا قیوم ایڈووکیٹ کا بھی کہنا ہے کہ ان کے مؤکل سمیت جن 20 افراد کو رہائی ملی ہے۔ ’انھوں نے کورٹ مارشل کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد آرمی چیف کے پاس رحم کی اپیلیں دائر کی تھیں جس کی بنیاد پر ان کی چار سال کی سزا ایک سال میں مکمل ہوئی ہے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ابھی تک جن افراد کو رہا کیا گیا ہے ان میں سے کسی ایک کے پاس بھی فوجی عدالتوں سے جاری ہونے والی عدالتی دستاویزات نہیں ہیں جن کی بنیاد پر وہ اعلیٰ عدالتوں میں اپنی سزا کو چیلنج کر سکیں۔

ان افراد کے لیے یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کیوں کہ رانا قیوم کے مطابق ’جن افراد کا کورٹ مارشل ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں ریاست کے خلاف جرم کرنے کے مقدمے میں سزا سنائی گئی ہے جس کی وجہ سے وہ مستقبل میں سرکاری نوکری کے اہل ہیں، نہ وکالت سمیت کوئی پروفیشنل ڈگری حاصل کر سکتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ وہ عمر بھر کے لیے سیاست میں بھی حصہ نہیں لے سکتے۔‘

’دو نفل پڑھیں کہ آپ کو بندہ واپس مل گیا ہے‘

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ عبدالرحمان کے والد نے اپنے بیٹے کو فوجی عدالت سے ملنے والی سزا کے خلاف جب عدالت سے رجوع کیا تو لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے ایک جج جسٹس عبدالعزیز نے سماعت کے دوران ان کے وکیل رانا قیوم سے کہا کہ وہ اس بات پر شکر کریں کہ اُن کا بندہ واپس آ گیا ہے۔

اس اپیل میں نہ صرف عبدالرحمان کی سزا بلکہ ان کی گرفتاری کو بھی کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

سماعت کے دوران رانا قیوم ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل کو پہلے حبس بےجا میں رکھا گیا اور پھر کورٹ مارشل کر کے سزا سنائی گئی لیکن حکام کی طرف سے کوئی دستاویز فراہم نہیں کی گئی جس پر عدالت نے جواب دیا کہ جب ان کے پاس کوئی دستاویز ہی نہیں ہے تو پھر کس بات کو چیلنج کر رہے ہیں۔

اسی دوران جب استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ اپیل کنندہ تو گھر پہنچ چکا ہے، تو جسٹس عبدالعزیز نے رانا قیوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’جائیں جا کر دو نفل پڑھیں کہ آپ کو بندہ واپس مل گیا ہے‘ اور یہ کہہ کر عدالت نے اس اپیل کو نمٹا دیا۔

رانا قیوم کا کہنا ہے کہ ’عبدالرحمان سمیت جن افراد کو رہا کیا گیا ہے ان میں سے کسی ایک کو بھی فارم جی نہیں دیا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ ان سب کا کورٹ مارشل ہوا ہے جس میں انھیں سزا سنائی گئی ہے۔‘

نو مئی

فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے منتظر اہلخانہ

فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے 20 افراد کو تو رہائی مل گئی مگر نو مئی کے مقدمات میں اب بھی 80 سے زیادہ افراد فوج کی تحویل میں ہیں۔

اُن کے خلاف فوجی عدالتوں میں کارروائی جاری ہے یا مکمل ہو چکی ہے تاہم سپریم کورٹ نے یہ حکم امتناع جاری کر رکھا ہے کہ جب تک فوجی عدالتوں میں شہریوں کے مقدمات کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ نہیں سُنایا جاتا اس وقت تک فوجی عدالتیں کسی مقدمے کا فیصلہ نہیں سُنا سکتیں۔

ان افراد میں مردان کے 17 سالہ طالبعلم زاہد خان بھی شامل ہیں جن کے بھائی سعید خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے بھائی کو اُس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ فرسٹ ایئر کے امتحان کی رول نمبر سلپ لینے کے لیے کالج گیا تھا۔

سعید خان کا کہنا تھا کہ نو مئی کے واقعے کے دوران پنجاب رجمنٹ کے دفتر کے باہر لوگ احتجاج کر رہے تھے تو زاہد خان وہاں سے گزر رہا تھا اور اس احتجاج کی جو ویڈیو بنائی گئی اس میں ان کا بھائی بھی دکھائی دیا اور اسی بنیاد پر پولیس نے اسے گرفتار کیا تھا۔

تاہم خیبر پختونخوا پولیس کے ایک سینیئر افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ مردان میں درج ایف آئی آر نمبر 833 کے تحت مشترکہ تفتیشی ٹیم کی رپورٹ کے بعد 141 افراد کو گرفتار کیا گیا اور اس کے بعد عدالتی کارروائی کے دوران کچھ کی ضمانت ہوئی اور جو دیگر اداروں کو مطلوب تھے قانون کے مطابق ان کو ایسے اداروں کے حوالے کر دیا گیا۔

سعید خان کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 20 مئی کو زاہد کو فوجی تحویل میں دیا، جس کے بعد چھ ماہ تک انھیں کچھ علم نہیں تھا کہ اسے کہاں رکھا گیا ہے۔ ’چھ ماہ کے بعد معلوم ہوا کہ بھائی کو پشاور کینٹ میں رکھا ہوا ہے۔‘

سعید کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ ماہ عیدالفطر پر اپنے بھائی سے ملے تو پہلی نظر میں اسے پہچان ہی نہیں پائے کیونکہ وہ کافی کمزور ہو چکا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ زاہد کے ساتھ قید رہنے والوں نے انھیں بتایا کہ وہ حراست کے دوران اتنا زیادہ پریشان ہو چکا تھا کہ اس نے خودکشی کرنے کی بھی کوشش کی، تاہم بی بی سی اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

سعید خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب تک وہ اپنے بھائی سے نہیں ملے تھے تو انھیں اور ان کے اہلخانہ کو یہ بتایا جاتا تھا کہ اس کے جسمانی اعضا کاٹ دیے گئے ہیں، لیکن جب وہ زاہد خان سے ملے تو حالات ویسے نہیں تھے جیسے بتائے جا رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ عید پر ہونے والی ملاقات کے بعد فوجی حکام نے انھیں بتایا کہ ان کے بھائی کے خلاف مقدمے کی کارروائی مکمل ہو چکی ہے مگر سپریم کورٹ نے چونکہ انھیں فیصلہ سنانے سے روکا ہوا ہے اس لیے جب تک عدالت حکم امتناع واپس نہیں لیتی اس وقت تک ان مقدمات کا فیصلہ نہیں سنایا جا سکتا۔

سعید حان کا کہنا تھا کہ اب ان سمیت دیگر افراد بھی اس انتظار میں ہیں کہ کب سپریم کورٹ اس معاملے پر فیصلہ دیتی ہے تاکہ ان کے بھائی کی قسمت کا فیصلہ بھی ہو سکے۔

خیال رہے کہ عام شہریوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جانے کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران درخواست گزاروں کی طرف سے نو رکنی لارجر بینچ بنانے کی استدعا کے بعد چھ رکنی بینچ ٹوٹ چکا ہے اور اب یہ معاملہ چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ تشکیل دینے والی تین رکنی کمیٹی کے پاس ہے۔

نو مئی

’جن افراد کا کورٹ مارشل ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں ریاست کے خلاف جرم کرنے کے مقدمے میں سزا سنائی گئی ہے جس کی وجہ سے وہ مستقبل میں سرکاری نوکری کے اہل نہیں‘

’گرفتار افراد کے مقدمات کی پیروی کرنا آسان نہ تھا‘

نو مئی کے بعد ایک جانب گرفتار افراد اور ان کے اہلخانہ کی زندگیاں بدل گئیں تو دوسری جانب ایسے افراد کے مقدمات لڑنے والے وکلا کو بھی نئی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

نو مئی کو گرفتار ہونے والے پی ٹی آئی کے کارکنوں کے مقدمات کی پیروی کے لیے جماعت کی جانب سے اپنے لائرز ونگ کے وکلا کو کہا گیا تھا۔

انصاف لائرز ونگ مردان کے صدر ندیم شاہ ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وہ ایک مشکل وقت تھا جب کارکنوں کی گرفتاریاں شروع ہو گئی تھیں اور ہمیں عمران خان کی جانب سے کہا گیا تھا کہ جماعت سے وابستہ وکلا نے کارکنوں کے مقدمات کی پیروی کرنا ہے۔‘

ندیم شاہ کے مطابق مردان میں پولیس نے 10 مئی سے ہی چھاپے مارنے شروع کر دیے تھے اور تخت بھائی میں بھی لوگوں کے گھروں پر ریڈ کیے گئے جبکہ وہاں سے تو لوگ مظاہروں میں گئے بھی نہیں تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’مردان سے پہلی رات 94 کارکنوں کو تین ایم پی او کے تحت اٹھایا گیا تھا جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تو پشاور ہائی کورٹ سے ریلیف مل گیا، لیکن اگلے ہی دن انھوں نے آرمی آفیشل ایکٹ اور آرمی سیکرٹ ایکٹ کے تحت مردان ضلع میں ایک ایف آئی آر نمبر 831 میں361 افراد پر مقدمہ کر دیا تھا۔‘

ندیم شاہ نے بتایا کہ مقدمات کی پیروی کے دوران مؤکلین اور ان کے اہلخانہ تو ایک طرف اہلِ علاقہ بھی دباؤ اور خوف کا شکار دکھائی دیے۔ ’ایک گرفتار کارکن کے اہلخانہ سے ملنے گئے تو ایک دوکاندار سے پوچھا کہ فلاں کا گھر کہاں ہے تو اس نے فوری طور پر دکان بند کر دی اور چلا گیا اور ہم سے بات تک نہیں کی۔ وہ پورا علاقہ خوف میں مبتلا تھا۔‘

’ایک (ملزم) لڑکے کے والد سے میں نے بات کرنا شروع کی تو وہ بات نہیں کر پا رہے تھے۔ ان کے بیرونِ ملک مقیم بیٹے سے میں نے کہا کہ آپ کے والد تو بات ہی نہیں کرتے تو انھوں نے بتایا کہ موجودہ حالات میں ان پر اتنا دباؤ آیا ہے کہ وہ بول نہیں سکتے۔‘

ندیم شاہ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ جب تحریکِ انصاف کے وکلا کی ٹیم نے ان تمام کارکنوں کے مقدمات کی پیروی شروع کی تو خود انھیں بھی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

’ہمیں مختلف نمبروں سے فون آنے شروع ہوئے۔ کہا جاتا تھا کہ آپ ان مقدمات کی پیروی نہ کریں اور ان سے ہٹ جائیں تو ہم انھیں کہتے تھے کہ یہ ہمارا پیشہ ہے، لوگ ہمیں وکالت کا کہتے ہیں اور ہم ان کے مقدمات میں پیروی کرتے رہیں گے۔‘

تاہم ندیم شاہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ انھیں یہ فون کرنے والے عناصر کون تھے۔

تحریکِ انصاف سے تعلق رکھنے والے وکیل کے مطابق پیروی سے باز نہ آنے پر اُن کے اور ان کے ساتھی وکلا کے خلاف بھی مقدمات درج کر دیے گئے۔

’میرے اور میرے دیگر ساتھیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی تھی، میرے خلاف ہی چار، پانچ ایف آئی آر درج ہوئی تھیں۔ اس دوران ہمارے گھروں پر چھاپے مارے گئے۔ یہ پریشر اتنا بڑھا کہ ہم نے اپنے بچوں اور اہلخانہ کو دوسرے شہر منتقل کر دیا تھا۔‘

ندیم کا کہنا تھا کہ ان کے ایک ساتھی یہ دباؤ برداشت نہیں کر سکے اور انھوں نے پارٹی کا عہدہ ہی چھوڑ دیا تھا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 32772 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments