آزاد کشمیر کی عوامی تحریک اور اس کے محرکات


ہماری سیاست اور ملکی حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں انھیں دیکھتے ہوئے ایک عرصہ سیاسی حالات کے بارے میں طویل خاموشی اختیار کیے رکھی، لیکن کچھ دن سے آزاد کشمیر جیسے پرامن اور امن و امان کے لیے مثالی قرار دیے جانے والے خطے کے موجودہ حالات نے دل چھلنی کر دیا ہے۔ افسوس کہ آج ہمارا پرامن کشمیر بھی بدامنی کی آگ کی جانب دھکیل دیا گیا ہے۔ دو تین روز میں جو کچھ ہوا اس پر سب حیران ہیں کہ کیسے ہوا اور کون ان حالات کا ذمہ دار ہے۔ فریقین یعنی ریاست اور احتجاجی ایک دوسرے پر الزام عائد کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر الگ سے بحث چِھڑ چکی ہے کہ ان حالات کا ذمہ دار کون ہے۔

عوامی تحریکیں کبھی بھی فوری تشکیل نہیں پاتیں، نہ ان کی وجوہات چند ایک ہوتیں ہیں۔ ہجوم ایک طوفان کی طرح تب ہی بپھرتا ہے جب کئی عوامل دن رات، ایک عرصہ تک ہواؤں کی طرح اسے اشتعال دلاتے رہتے ہیں۔

آج سے کچھ عرصہ قبل میں نے ایک مضمون کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ اگر آزاد کشمیر کے باسیوں کو بنیادی حقوق میسر نہ ہوئے تو یہ احساسِ محرومی کشمیر کے حالات بھی کہیں بلوچستان جیسے نہ کر دے، آج ہو بہو ویسی ہی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی میڈیا پر آزاد کشمیر کی مکمل نمائندگی نہ ہونے کے باعث پاکستانی عوام بھی شدید تذبذب کا شکار ہیں کہ آخر امن و امان والے اس خطے میں پیدا ہونے والی اس انتشاری صورتِ حال کی وجہ کیا ہے۔ کچھ لوگ تو معلومات کی فراہمی نہ ہونے کے باعث اسے خودمختاری کی تحریک سمجھ رہے ہیں۔ خودمختاری، سٹیٹس چینج اور اسی طرح کی مزید کئی تحریکوں کے بارے میں افواہیں سوشل میڈیا کی زینت بنتے اور ان پر کچھ لوگوں کی رائے دیکھ کر شدید دکھ ہوا کہ اصل تحریک کہیں ان افواہوں تلے دب نہ جائے اور ایک بار پھر کشمیر کے بنیادی حقوق پسِ پشت چلے جائیں۔

حقیقت یہ ہے کہ نہ یہ خودمختاری کی تحریک ہے اور نہ یہ محض بجلی قیمتوں اور اس جیسے باقی مسائل میں confined تحریک ہے۔ بلکہ یہ ایک وسیع تحریک ہے جو خون چوستی اشرافیہ کے خلاف مضبوطی اور تیزی سے ابھر کر سامنے آئی ہے۔ چونکہ یہاں شرح خواندگی زیادہ ہے سو اپنے حقوق کے بارے میں آگاہی اور شعور بھی زیادہ ہے۔ ویسے بھی کشمیریوں کی تاریخ اور روایت ہے کہ وہ اپنی آزادی اور حقوق کے لیے ہر طرح کی قوت سے ٹکرانے کی اہلیت رکھتے ہیں، چاہے ان کی کھالیں کیوں نہ اتروا دی جائیں۔

آزاد کشمیر کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ احساسِ محرومی ہے۔ پاکستان کی نسبت یہاں معاشی وسائل کی فراہمی نہ ہونے کے برابر ہے۔ آزاد کشمیر معاشی لحاظ سے خود کفیل نہیں بلکہ پاکستان پر منحصر ہے۔ آزاد کشمیر میں خواندگی کی شرح پاکستان کے باقی علاقوں کی نسبت کافی زیادہ ہے، لیکن پرائیویٹ سیکٹر اور صنعتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے بے روزگاری کی شرح بہت زیادہ ہے۔ یہاں آپ کو ہر نوجوان اعلیٰ تعلیم یافتہ ملے گا مگر بے روزگار۔

بجلی کی پیداوار کشمیر میں ہونے کے باوجود کشمیریوں کو مہنگی بجلی میسر ہے۔ مہنگائی کی شرح بھی یہاں بلند ترین سطح پر رہتی ہے۔ قدرتی حسن سے مالا مال خطہ ہونے کے باوجود سیاحت جیسے شعبے پر کسی حکومت نے کوئی خاص توجہ نہیں دی، ایک عرصہ تک حکمران ان مسائل سے صرفِ نظر کر کے کرسی کرسی کھیلتے رہے۔ الیکشن کے دوران ترقی کے بلند و بالا دعوے کرنے والے محض اپنی وزارت اور وزارتِ عظمیٰ کی کرسی کے لیے کوشاں نظر آئے اور تمام جماعتیں مل جل کر اپنی اپنی ”باری“ سے لطف اندوز ہوتے نظر آئے۔ عوام رلتی رہی اور حکمران وزارتوں اور ممبری کا ٹیگ، میڈل کی طرح گلے میں لٹکائے پھرتے رہے۔

اسی طرح کے ان گنت مسائل میں گھری چالیس لاکھ کی مختصر آبادی پر جلتی کا تیل حکمران طبقے نے اس وقت ڈالا جب انھوں نے اپنی انتیس رکنی کابینہ، اور سابق وزرائے اعظم کے لیے کئی مراعات کا اعلان کیا۔ اس اعلان سے آزاد کشمیر کے باسیوں خاص کر نوجوانوں میں شدید بے چینی پھیلی۔ ایک خطہ جو معاشی طور پر خود کفیل نہ ہو اور کئی مسائل کا شکار ہو اس کے حکمران طبقے کی عیاشیاں کسی بھی طور عوام قبول نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ بجلی پر احتجاج سے شروع ہونے والی تحریک ایک عظیم عوامی تحریک اور ردعمل کی صورت اختیار کر چکی ہے۔

اس تحریک کو اگر حکومت کی جانب سے پرامن طریقے سے ڈیل کیا جاتا تو بہترین تھا، لیکن بہترین انتظام کا فقدان واضح طور پر دکھائی دیا۔ عوامی ہجوم ایک ردعمل ہوتا ہے جو محض جذبات پر مشتمل ہوتا ہے، اس کے برعکس ریاست جذبات نہیں ایک پختہ سوچ پر کار فرما ہوتی ہے، اُسے جذبات پر بند باندھنے آنے چاہیے، نہ کہ جذبات کو مزید بھڑکانے کا کام کرنا چاہیے۔ احتجاجیوں نے بھی جو کچھ کیا وہ بھی ایسی شعوری تحریکوں کو زیب نہیں دیتا گو کہ شرپسند ہر جگہ ہر بھیس میں چھپے ہوتے ہیں۔

انتظامیہ میں موجود اپنے جیسے لوگوں، بھائیوں کو دشمن گرداننے، مارنے اور بدتہذیبی سے پیش والے یقیناً اپنے مقصد سے بالکل بھی مخلص نہیں، بلکہ ایک خاص دشمن کی آلہ کاری کا کام سرانجام دیتے دکھائی دیے۔ ماؤں کی گود اجاڑنے والے کچھ حاصل کر کے بھی کیا حاصل کر لیں گے۔ نوجوان سب انسپکٹر، ایڈیشنل ایس ایچ او کی شہادت کی تحقیق کر کے قاتلوں کو فوری سزا دینی چاہیے۔ امن کے حامل خطے میں ایسا واقعہ ہونا کسی کے لیے بھی قابلِ برداشت نہیں۔

امید اور دعا ہے کہ کشمیر کی امن و امان کی فضا جلد بحال ہو اور ساتھ ہی خطے کی محرومیوں کا ازالہ بھی جلد ممکن ہو۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments