موبائل پر سکرولنگ سے دماغ پر ہونے والے منفی اثرات اور اس بچنے کے تین آسان طریقے

سینٹیاگو وینیگاس - بی بی سی نیوزورلڈ


فون سکرولنگ
ایک تحقیق کے مطابق 13 سے 17 سال کی عمر کے بچے ٹک ٹاک جیسی ایپس پر مستقل سکرول کرتے رہتے ہیں
آپ کے سامنے ایک کے بعد ایک کلپس آتے ہیں جن میں ایک کتے کی ویڈیو، پھر ساحل سمندر پر ایک پرانے دوست کی تصویر، پھر ایک ویڈیو میم، پھر دور دیس کی خبریں۔ ان میں سے جو آپ کو پسند ہے وہ آپ دیکھتے ہیں اور جو پسند نہیں ہے اسے چھوڑ کر آپ آگے بڑھ جاتے ہیں۔

سکرین کو یونہی آگے سے آگے بڑھاتے رہنے کی یہ عادت اب ہم میں سے بہت سے لوگوں کی روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکی ہے اور ایسا حصہ کہ بعض اوقات ہم لفٹ میں بھی ہوتے ہیں تو چند سیکنڈ کے لیے بھی اسے دیکھنا نہیں بھولتے اور سونے سے پہلے گھنٹوں موبائل پرویڈیو سکرولنگ کا یہ عمل جاری رہتا ہے۔

لیکن جب ہم اپنے موبائل فون پر سکرول کرتے ہیں تو اعصابی طور پر اس کے اثرات کیا ہوتے ہیں؟ ہمیں اس قدر اس کی عادت کیوں پڑ جاتی ہے؟ اور ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اب عادت تو چلیں پڑ ہی گئی مگر اس سے اب دور کیسے رہا جا سکتا ہے اور اسے ایک مسئلہ بننے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟

لیڈز کی بیکٹ یونیورسٹی میں سائیکالوجی یعنی نفسیاتی ماہر اور سینیئر لیکچرر ایلیش ڈیوک کہتے ہیں کہ ’سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہم میں فون اٹھا کر جو سکرین کو آن کرنے کی چاہت ہے یا جو چیز سکرولنگ پر ہمیں متحرک کرتی ہے وہ اپنے آپ پیدا ہوتی ہے یا جبلی ہے۔

ہمیں اس کا احساس نہیں ہوتا کیونکہ ہم نے اس عادت کو ایک طویل عرصے سے بنا رکھا ہے، جیسے کہ گھر سے نکلتے وقت دروازہ بند کرنا بھی ہماری جبلت یا عادت میں شامل ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’چند سال پہلے کی گئی ایک تحقیق میں شرکا نے بتایا کہ وہ ہر 18 منٹ میں اپنا فون چیک کرتے ہیں، لیکن جب ہم نے ان کی سکرین ریکارڈنگ کے استعمال کو دیکھا تو ہمیں علم ہوا کہ وہ درحقیقت بہت زیادہ بار اپنا فون چیک کر رہے تھے۔‘

پہلی کلک جو ہم اپنے فون کی سکرین کو آن کرنے کے لیے کرتے ہیں اس کے ساتھ ہی ہمارے دماغ کے کچھ افعال اور ہمارے سیل فون ایپلی کیشنز کے جدید ترین ڈیزائن کامل ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنے لگتے ہیں۔

لینگون کی نیویارک یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات سے تعلق رکھنے والی پروفیسر ایریانے لِنگ کے مطابق سکرولنگ جیسی عادتیں انسان کے قدرتی ہونے کی وضاحت کرتی ہیں لیکن ماحولیاتی عوامل کی وجہ سے اس میں اضافہ ہوتا ہے۔

لِنگ بتاتی ہیں کہ فطری طور پر انسان یہ جاننا چاہتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔ اسی لیے ہم خبریں پڑھتے ہیں یا مثال کے طور پر جب سڑک پر کوئی حادثہ ہوتا ہے تو دیکھنے کے لیے رک جاتے ہیں۔ یہ ایسی چیز ہے جو ارتقائی ترقی کا حصہ ہے جس نے ہمیں باقی رکھا ہے۔

اور ہمارا سیل فون ہمیں ایسی معلومات فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جس میں ہماری دلچسپیاں ہوں۔

اس لیے انسان اور اس کا موبائل ایک بہترین جوڑا ہے۔

دماغ

سکرولنگ دماغ کے پچھلے حصے یعنی جذباتی حصے کو متاثر کرتی ہے

خوشی کی مسلسل تلاش

ہمارا دماغ فطری طور پر صلہ یا انعام پانے کی کوشش کرتا ہے۔ ہمارے پاس کچھ اعصابی مراکز ہیں جو سیکس، منشیات، جوئے کے اڈوں میں پیسہ جیتنے جیسی خوشیوں پر رد عمل ظاہر کرتے ہیں اور اسے بار بار دہرانے کے متلاشی رہتے ہیں۔

پروفیسر ڈیوک بتاتے ہیں کہ ’وہ ایسے نئے پن کی تلاش کرتے ہیں، جو کہ خوشی کا اگلا احساس اور وہ جو کچھ بھی ہو ہم اس سے واقعی لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں۔‘

اسے دماغ کے انعامی نظام یا سرکٹ کے نام سے جانا جاتا ہے، اور یہ وہی چیز ہے جس کے ذریعے کوئی شخص شراب جیسے مادے کا عادی ہو جاتا ہے۔

’ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لیے، یہ نیا پن ہمارے فون کی شکل میں سامنے آيا ہے۔‘

خاص طور پر سوشل نیٹ ورکس پر ہمیشہ خوشگوار نئی چیزوں کی پیشکش جاری رہتی ہے، خواہ وہ کوئی تصویر ہو، کوئی ویڈیو یا ٹویٹ، یا پھر کوئی پیغام۔

لیکن آپ کے دماغ کا ایک اور حصہ ہے جو مسرت اور فوری صلے کے حصول کے لیے اٹھنے والے جذبوں یا تحریکوں کا مقابلہ کرتا ہے اور وہ پریفرنٹل کورٹیکس یعنی دماغ کے آگے کا حصہ ہے۔

یہ آپ کے دماغ کا وہ خطہ ہے جو جوش کے بجائے ہوش سے کام لینے یعنی متوازن فیصلے کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ آپ کو سکرولنگ بند کرنے، صوفے سے اٹھنے اور اپنے گھر کو صاف کرنے یا ورزش کرنے کا فیصلہ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

لیکن یہ دو دماغی فیکٹر ہمیشہ درستگی کے ساتھ متوازن نہیں ہوتے ہیں۔

مسٹر ڈیوک بتاتے ہیں کہ ’ہم میں سے بہت سے لوگوں کے معاملے میں ایسا ہوتا ہے کہ ‘ہمارے دماغ کا منطقی حصہ جو ہماری ترنگ یا جوش کو کنٹرول کرتا ہے وہ اپنے حصے کا کام نہیں کرتا، یا کم از کم اس طرح سے نہیں کرتا کہ وہ مسرت کی تلاش سے مغلوب نہ ہو۔‘

اور نوجوانوں میں ایسا زیادہ ہوتا ہے۔

پرفیسر ڈیوک کہتے ہیں: ’نوعمروں میں ہم دیکھتے ہیں ان کے صلہ کا خواہاں سرکٹ ہائی الرٹ پر ہوتا ہے اور وہ اس کے لیے ہمہ وقت تیار ہوتا ہے۔ لیکن پریفرنٹل کورٹیکس جو 23 یا 24 سال کی عمر تک بھی پوری طرح اپنی نشوونما ختم نہیں کر پاتا ہے، اس لیے وہ بعض جذبوں کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔ جیسا کہ ہم ٹیلی فون کے استعمال کے معاملے میں دیکھتے ہیں۔‘

موبائل

ہم سکرولنگ میں ایسے گُم ہو جاتے ہیں کہ ہمیں وقت کا احساس ہی نہیں رہتا

وقت کا جال

پروفیسر ڈیوک کے مطابق جب ہم سکرول کرتے ہیں تو ہم ایک قسم کی ترنگ یا بہاؤ کی حالت میں داخل جاتے ہیں۔

نفسیات میں بہاؤ کے تصور سے وہ ذہنی حالت مراد ہے جس میں کوئی شخص کسی خاص وقت میں جو کام کر رہا ہے وہ اس وقت میں اس توجہ اور مہارت کی سطح کے ساتھ بہت اچھی طرح سے ہم آہنگ ہوتی ہے جو اس وقت اسے دینا ہوتی ہے۔

ٹک ٹاک جیسی ایپس، جہاں الگورتھم مسلسل بدل رہا ہے اور آپ کو ایسی نئی چیزیں دے رہا ہے جو آپ کی دلچسپی اور خاص طور پر آپ کا ہدف ہیں وہ براہ راست آپ کو ایک بہاؤ کی حالت میں پیش کی جاتی ہیں۔

’وہ آپ کی ساری توجہ اپنی جانب مبذول کر لیتی ہیں اور آپ ایک ایسی کیفیت کا شکار ہو جاتے ہیں کہ آپ کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ دو گھنٹے گُزر چُکے ہیں اور آپ کے ہاتھ بے حس ہو چکے ہیں اور آپ نے ویڈیوز دیکھنے میں کتنا سارا وقت ضائع کر دیا ہے۔‘

ڈاکٹر لِنگ بتاتی ہیں کہ ’کس طرح ہمارا دماغ ضرورت سے زیادہ سکرول کرنے کی عادت میں واپس آنا شروع ہو جاتا ہے۔‘

’اگر آپ کسی ایسے راستے کے بارے میں سوچتے ہیں جس پر کئی بار سفر کیا ہے تو وہ راستہ آپ کے لیے بہت واضح ہو جاتا ہے، اور آپ اس پر چلتے رہتے ہیں کہ یہ آسان ہے۔‘

’اگر آپ مسلسل سکرول کر رہے ہیں تو یہ پہلے سے طے شدہ تجربہ بن جاتا ہے۔ اور اس طرح آپ کا اپنی توجہ اور اپنا وقت کسی اور چیز پر مرکوز کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔‘

سیل فون کی لت نفسیات کی دستی کتب میں موجود نہیں ہے۔ لہٰذا اس مضمون میں صحت مند استعمال کو مشکل استعمال یا لت سے الگ کرنے کا کوئی معیار نہیں ہے۔

ڈاکٹر ڈیوک وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ہم نشے کی تشخیص کے مروجہ معیار پر چل رہے ہیں یعنی (آسان الفاظ میں) کوئی بے قابو جذبہ یا رویہ کسی شخص کی زندگی کے دیگر پہلوؤں پر منفی اثر تو نہیں ڈال رہا؟ متاثرہ شخص کیا روزانہ کی بنیاد پر کرنے والے ضروری کام چھوڑ رہا ہے یا پھر اس میں منفی اثر کی حامل رویے سے دستبرداری کی علامات نمایاں ہیں۔‘

ایسے میں آپ کو ہوشیار ہو جانے کی ضرورت ہے۔

پروفیسر لنگ کہتی ہیں کہ ’اگر آپ نے خود کو روکنے کی کوشش کی ہے اور آپ نے واقعی کوشش کی ہے اور نہیں رک سکے ہیں، تو میں یہ کہوں گی کہ آپ اس کے لیے مدد طلب کریں۔‘

اور اب جانتے ہیں کہ زبردستی سکرولنگ سے کیسے بچیں؟

موبائل

اگر آپ نے موبائل سے دوری اختیار کرنے کی دانستہ کوشش کی ہے اور آپ کو کامیابی نہیں ملی ہے تو آپ کو مدد کی ضرورت ہے

سکرین سے دوری

پروفیسر لِنگ کا کہنا ہے کہ ’کچھ عادات جو آپ کو آپ کے سیل فون سے دور رکھیں وہ ہمیشہ بہت مددگار ثابت ہوتی ہیں۔‘

ان کے مطابق اس بارے میں کافی تحقیق ہوئی ہے کہ فون کے بغیر آپ کی چہل قدمی کرنے جیسی آسان ورزش کس طرح آپ کی صحت پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔

پروفیسر ڈیوک ان سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’کسی بھی وقت آپ اپنا فون دور رکھ سکتے ہیں اور وقفہ لے سکتے ہیں، چاہے آپ چہل قدمی کے لیے جا رہے ہوں یا ورزش کے لیے جم جارہے ہوں، یہ کرنا بہت اچھا ہے۔‘

اور صرف اس وجہ سے اچھا نہیں کہ آپ نے اس دوران فون استعمال نہیں کیا بلکہ اس لیے بھی اچھا ہے کہ یہ آپ کو اپنے اردگرد موجود چیزوں پر توجہ دینے، دماغ کے دیگر افعال کو متحرک کرنے میں مدد دیتا ہے اور ساتھ ہی یہ جاننے میں بھی مدد کرتا ہے کہ اپنے فون کو پیچھے چھوڑ کر جانے سے آپ کیسا محسوس کرتے ہیں۔

جب آپ اپنے اہل خانہ یا دوستوں کے ساتھ ہوں تو میز پر موبائل فون نہ رکھنے کی عادت ڈالنا بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ کسی کو یہ یاد دلانے کی ضرورت پیش نہ آئے کہ اس وقت تو آپ موبائل استعمال نہ کریں۔ اور کھانے کے روزانہ کے عمل سے پہلے سیل فون کو کسی ٹوکری میں رکھ دینا اسے اور بھی موثر بنا سکتا ہے کیونکہ یہ بصری طور پر بھی آپ کو فون سے دور کرتا ہے۔

عام طور پر آپ کی روٹین میں سیل فون سے خود کو الگ کرنے کی کوئی بھی شعوری کوشش آپ کو یوں ہی سکرولنگ سے بچنے میں مدد دے سکتی ہے۔

ڈیوک مشورہ دیتے ہیں ’اگر آپ ایسے وقت کو الگ کر سکتے ہیں جہاں آپ فون پر چِپکے نہ ہوں بلکہ اس کے بجائے کسی کام پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں یا صرف اپنے دوستوں کے ساتھ ہیں تو ایسا کرنا اچھا خیال ہے۔‘

پروفیسر لنگ کا کہنا ہے کہ ’ایک اور چیز جو میں بھی کبھی کبھی کرتی ہوں وہ یہ ہے کہ اپنے فون کو رنگین کے بجائے بلیک اینڈ وائٹ کر دیتی ہوں، جس کی وجہ سے سکرین کو دیکھنا کم پرکشش ہو جاتا ہے۔‘

موبائل

طبعی دنیا کے ساتھ ہونا

اپنے فون کا استعمال کیے بغیر فون پر کیے جانے والے کاموں کو کرنے کے لیے اپنے معمولات میں چھوٹی موٹی تبدیلیاں کرنا بھی آپ کو سکرولنگ کے ساتھ صحت مند تعلق قائم رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

مسٹر ڈیوک کا کہنا ہے کہ ’کچھ سال پہلے کی گئی ایک تحقیق میں، ہم نے ان لوگوں کے درمیان بڑا فرق دیکھا جو باقاعدگی سے گھڑیاں پہنتے تھے اور ان لوگوں کے درمیان جو وقت چیک کرنے کے لیے اپنے سیل فون کا استعمال کرتے تھے۔‘

ہم نے پایا کہ جو لوگ وقت چیک کرنے کے لیے اپنے سیل فون کا استعمال کرتے تھے وہ غیر ارادی طور پر سکرولنگ میں پھنس جاتے تھے۔

مسٹر ڈیوک کہتے ہیں کہ ’اس کے علاوہ اگر آپ جو کچھ پڑھ رہے ہیں اسے آن لائن کے بغیر پڑھ سکتے ہیں تو یہ بہت اچھا ہے۔‘

پروفیسر لِنگ کہتی ہیں کہ ’میں لوگوں کی اس بات میں حوصلہ افزائی کرتی ہوں کہ وہ متجسس رہیں اور اپنے سیل فون کا وقت کم کرنے اور سہ جہتی دنیا میں وقت گزارنے کے طریقے تلاش کریں۔ حسیات کے حامل ہونے کے باعث ہم حقیقی دنیا میں چیزوں کے ساتھ رابطہ چاہتے ہیں۔‘

کتابوں پر بیٹھی ایک لڑکی

آن لائن فون پر پڑھنے کے بجائے کتابیں پڑھیں

جذبے پر نگاہ رکھیں

جب ہم سکرول کرنے بیٹھ جاتے یا اس کی خواہش محسوس کرتے ہیں یا جب ہم گھنٹوں سے سکرول کر رہے ہوتے ہیں تو ہم شاذ و نادر ہی یہ سوچتے ہیں کہ ہم ایسا کیوں کر رہے ہیں یا اس فیصلے سے ہم کتنے مطمئن ہیں۔

اپنے فیصلوں کے متعلق یا ہم کیسا محسوس کر رہے ہیں، اور ان لمحات میں ہمارا دماغ کیسے کام کرتا ہے، اس کے بارے میں زیادہ آگاہ ہونے کی کوشش کرنا ایک طاقتور مداخلت ہے جو ہم سیل فون سے دوری بنانے کے لیے اختیار کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر لِنگ کہتی ہیں کہ ’فون اٹھانے کی خواہش ایک ایسی خواہش کے مترادف جس کی آپ کو ہوک اٹھتی ہے۔ آپ کا جسم اس کی خواہش کرنے لگتا ہے۔ آپ کا دماغ آپ کو بتاتا ہے ’ارے، ہم نے کچھ عرصے سے ڈوپامائن نہیں لی ہے، آئیے کچھ لیتے ہیں۔ اور وہ خواہش کسی ترنگ کی طرح بڑھ سکتی ہے۔‘

’لیکن آپ اس خواہش کو کنٹرول کر سکتے ہیں، ٹھیک ہے؟ آپ کہہ سکتے ہیں، ٹھیک ہے، یہ وہی ہے جو میں دیکھنا چاہتا ہوں، میں واقعی میں اپنے فون کو دیکھنا چاہتا ہوں، اس نوٹیفکیشن کو کھولنا چاہتا ہوں، لیکن میں ایسا نہیں کروں گا۔‘

بہر حال لِنگ بتاتی ہیں کہ ’اس کے لیے بہت زیادہ مشق اور ذمہ داری کی ضرورت ہے، لیکن میں سمجھتی ہوں کہ جو لوگ واقعی مستعدی سے اس پر عمل کرتے ہیں وہ اس کے طویل مدتی فوائد دیکھیں گے۔ جیسے کہ وہ اپنی توجہ زیادہ دیر تک برقرار رکھنے کے قابل ہوتے ہیں، وہ بہتر محسوس کرتے ہیں، ان کے پاس سکرین سے دور رہنے کے اپنے تجربات ہوتے ہیں اور یہ کہ اس سے ان کی زندگی زیادہ متنوع اور زیادہ معنی خیز بنتی ہے۔‘

اسی بارے میں


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 32772 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments