چمن پرلت: دوسرے شہر کا نوحہ


پرلت پشتو زبان میں میں آلتی پالتی مارکر بیٹھنے کو کہتے ہیں، لیکن سیاسی اصطلاح میں پرلت دھرنا کہلاتا ہے۔ جس طرح لوڈ شیڈنگ ضیا دور کی سدا بہار ایجاد ہے، اسی طرح پاکستان میں دھرنا قاضی حسین احمد کے عطایا میں سے ہے، جو آئین سے، اٹھاون ٹو بی کو نکالنے کے بعد جمہوری حکومتوں کو گرانے کے لئے گاہے گاہے استعمال ہوتا رہا۔

روزگار مہیا کرنا عام ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ لیکن اچھی ریاست کی ذمہ داری صرف روزگار کی فراہمی تک محدود نہیں رہتی، وہ روزگار کا تحفظ اور روزگار مہیا ہوسکنے کی صورت نہ بن سکے، تو پھر اچھی ریاست بیروزگاری الاؤنس تک دیتی ہے۔ بدتر سے بدتر اور بے حس ریاست بھی اپنے شہریوں کا روزگار نہیں چھینتی۔ شہریوں کا روزگار اتنا اہم ہے، کہ اس کو پیدا کرنے کی خاطر امریکہ دنیا بھر میں جنگیں بھڑکاتا ریتا ہے۔ روزگار کی عدم موجودگی میں بے چینی، جرائم اور سیاسی افراتفری جیسی سماجی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، جو بعض صورتوں میں ریاست کی بقا خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

ناوہ پاس، باجوڑ سے لے کر چمن، بلوچستان تک، ڈیورنڈ لائن کی دونوں اطراف، پاکستان اور افغانستان کے پختون قبیلوں کی مشترکہ ملکیت، مارکیٹیں، زمینیں اور جائیدادیں موجود ہیں۔ جہاں انگریزوں کے دور سے لے کر چھ مہینے پہلے تک، طرفین کا روزگار اور تجارت کے لئے آنے جانے پر کوئی قدغن موجود نہیں تھی۔ نگران حکومت آئی، تو اپنی مینڈیٹ سے تجاوز کرتی ہوئی، اس نے اس بارڈر تجارت اور ان جائیدادوں پر یک طرفہ پابندی عائد کر دی جو زیادہ تر پاکستانی پختونوں کی ہیں۔ یہ سراسر ایک غیر انسانی اور غیر قانونی عمل تھا۔ بلوچستان سے لے کر کراچی اور کراچی سے لے کر دبئی اور سنگاپور تک ہزاروں خاندانوں اور لاکھوں انسانوں کی روزی روٹی اس روزگار سے وابستہ ہے۔ جن کے گھر پاکستان میں اور زمینیں افغانستان میں ہیں۔ جن کے گاؤں پاکستان میں لیکن منڈیاں، مارکیٹیں اور قبرستانیں افغانستان میں ہیں۔ جن کی دکانیں پاکستان میں اور گودامیں افغانستان میں ہیں۔ جن کی گاڑیاں پاکستان میں اور سامان تجارت افغانستان میں ہے۔

دنیا بارڈر تجارت کی خاطر اپنی سرحدیں کھول رہی ہے، لیکن ہم، جو کھلی ہیں، وہ سرحدیں بھی بند کر رہے ہیں۔ سمندر کے علاوہ سب ہمسایوں کے ساتھ ہمارے مسائل ہیں، اور تقریباً سب کے ساتھ سرحدیں بند پڑی ہیں۔ اس سے ہمارے لاکھوں شہری بیروزگار ہوتے ہیں اور اشیائے ضرورت کی قلت پڑتی ہے، تو پڑے، ہمیں کوئی پرواہ نہیں۔

چھ مہینوں سے بلوچستان میں آباد ہزاروں پختون چمن میں اپنی روزی روٹی کی بندش کے خلاف احتجاجی پرلت میں برفباری، سردی اور بارشوں کے باوجود حکومت سے رحم کی توقع لگائے ہوئے بیٹھے ہیں۔ نگران حکومت والے انتخابات رکوانے کے علاوہ، نواز شریف اور عمران خان کی عدالتی پیشیوں کی بندوبست کے بغیر کسی بات میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے، اور موجودہ نام نہاد جمہوریت اسی نگران حکومت کی بنائی ہوئی پالیسیوں کی تسلسل ہے۔ یہ بھی جمہوری تاریخ کا عجیب تماشا ہے، نگرانوں نے مستقل حکومت کے لئے پالیسیاں بنائیں اور فیصلے کردیے ہیں۔

پینتیس تیس ہزار لوگ جو روزانہ کئی بار اپنی کھیتوں، بازاروں دکانوں، قبرستانوں اور گوداموں میں آتے جاتے ہیں، انہیں سابقہ فری آمد و رفت کے علاوہ کس انتظام کے تحت مینیج کیا جا سکتا ہے؟

موجودہ حکومت اور کچھ نہیں کر سکتی تو اسلام آباد میں ایک دیوار گریہ بنا دے، جہاں پر اقلیتی اقوام آتی رہیں اور ہچکیاں لے لے کر آئین پڑھتی رہیں۔

ایک سرائیکی سوشل میڈیائی دوست نے چند دنوں پہلے فیس بک پر باقاعدہ مہم چلا کر ثابت کرنے کی کوشش کی، کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ پختون بہت خود دار قوم ہے، وہ مشقت بھری مزدوری کر لیں گے، لیکن کبھی بھیک نہیں مانگیں گے، یہ بالکل غلط ہے۔ انہوں نے کئی ثبوتوں اور حوالوں سے اپنی بات میں وزن ڈالتے ہوئے لکھا، کہ مصروف چوراہوں، مشہور ہوٹلوں، معروف ریستورانوں اور بڑے سپر سٹوروں کے سامنے پختون بچے اور بچیاں، پھٹے کپڑوں، گندے جسموں اور جوتوں کے بغیر ہر کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا کر کھڑی ہوتی ہیں۔

بھیک نہ مانگنے کا ایک مشاہدہ تھا، جو غیر ملکیوں نے پورے پاکستان سے گزرنے کے بعد پختون علاقوں میں پہنچ کر کیا اور اپنی کتابوں میں لکھا، اور یہ سچ تھا۔ پختون خیرات نہیں مانگتے تھے، محنت پر فخر کرتے تھے، اور اپنے علاقے میں ہو یا دیار غیر میں، مہمان نوازی پر فخر کرتے تھے۔ پشتو میں مسافر کا لفظ ہجر کے معنوں میں استعمال ہوتا تھا، جبکہ پختون علاقے میں آنے والے مسافر کو مہمان کہا جاتا تھا۔ اور آج بھی پختون علاقوں میں باہر سے آئے ہوئے اجنبی کو مسافر نہیں مہمان کہا جاتا ہے۔ لیکن کسی کو احساس نہیں کہ چالیس سال سے جاری بد امنی کی وجہ سے ایک معاشی اور سماجی سانحہ ظہور پذیر ہو گیا ہے، اور وہ یہ کہ دوسروں کے ساتھ اپنا کمایا ہوا رزق بانٹنے والا پختون، آج ہاتھ پھیلا کر دوسروں سے مانگ رہا ہے۔ یہ سانحہ صرف پاکستان میں موجود پختونوں تک محدود نہیں ہے، سرحد کے دونوں طرف شدت سے محسوس کیا جاتا ہے۔

نظیف افغانستان سے تھا۔ مردان میں قہوہ کی تھرماس لیے مارکیٹ مارکیٹ قہوہ بیچتا رہتا۔ جس دن طالبان کی حکومت امریکی بمباری کی وجہ سے ختم ہوئی، اور کابل میں سینما دوبارہ کھل گئے، یہ ان دنوں کی بات ہے۔ ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی، نظیف دکان کے ایک چھجے کے نیچے بیٹھا رو رہا تھا۔ میں معلوم کرنے کی غرض سے اس کے قریب بیٹھ گیا، تو اس نے بتایا کہ سامنے ڈرائی فروٹ کی دکان والے حاجی صاحب نے، کابل میں سینما دوبارہ کھل جانے پر مجھے بے غیرت اور بے ایمان کہہ کر گالیاں دیں۔ میں نے کاندھے پر تھپکی دے کر اسے حوصلہ دیا، تو وہ جذبات کے مارے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا، اور ہچکیوں میں بتایا کہ آپ سمجھتے ہیں کہ میں اس تھرماس کے ساتھ بڑا ہوا ہوں۔ ایسا نہیں ہے۔ میں قلعہ موسیٰ کے علاقے کا بڑا زمیندار اور اپنے علاقے کا معزز پختون تھا۔ کھانے کے وقت میرے ساتھ دوچار لوگ مہمان بن کر کھانا کھاتے، میرا ڈیرہ اونچائی پر تھا، جس کے قریب اترائی میں ندی بہتی تھی، وہاں سے کھانے کے وقت کوئی مہمان (مسافر) گزرتا، تو میں اسے زبردستی اوپر بلاتا، اور کھانا مع قہوہ پلا کر رخصت کرتا۔ میرے ڈیرے میں ذبح شدہ بکرا یا دنبہ لٹکا ہوتا، اور اپنے باغات کے پھلوں کے بنے ہوئے مربوں کے بھرے ہوئے بڑے بڑے مرتبان پڑے ہوتے۔ میرے پاس اتنا وافر مربہ ہوتا کہ اگلے سال نیا مربہ بن جاتا تو پرانے کو پھینکنا پڑتا۔ میں جو مہمانوں (مسافروں ) کو زبردستی کھانا کھلاتا اور قہوہ پلانے کے بعد رخصت کرتا، آج آپ کے شہر میں قہوہ بیچ کر اس کے پیسے لیتا ہوں۔ میرے لیے اس سے زیادہ ذلت بھری کوئی اور زندگی نہیں ہو سکتی۔ چھجے کے باہر بارش برستی رہی اور چھجے کے اندر اس کی داڑھی پر اس کے آنسو بہتے گئے۔

پختون واقعی محنت کش ہیں۔ لیکن چھوٹے بچوں کا کچرے میں سے رزق چننا اور پھول جیسی بچیوں کا کمیٹی کے ڈرموں میں کھانا ڈھونڈنا، محنت نہیں بھوک ہے۔ پختون بچے سارے ملک میں ڈی کمپوزر بنے ہوئے شہر بھر کے کچرے کو ری سائیکل کرتے ہیں، تو صاف ستھرے شہری سمجھتے ہیں، کہ یہ قوم ازل سے اس کام کے لئے بنی ہے، لیکن یہ غلط ہے۔ جب آپ کے گھر بمباری میں دھواں بن کر فضا میں غائب ہو جائے، آپ کے سکول بارود لگا کر اڑا دیے جائیں، آپ کے کھیتوں میں بارودی سرنگیں کاشت کی جائیں، اور آپ کے بڑوں کی لاشیں نقاب پوش چوراہوں میں لٹکا کر ان پر پہرا دیں، تو پھر بچے ہوئے بچے، زندہ رہنے کے لئے فوڈ چین کے آخری زینے پر رینگتے ہوئے مصروف شاپنگ مالوں کے اردگرد، معروف ریستورانوں کے باہر، ٹریفک سگنلز، چوراہوں اور کچرے کے ڈبوں میں خوراک تلاش نہ کریں تو کیا کریں؟

جتنے پختون بچے زندگی کھینچنے کے لئے کچرا چنتے، خیرات مانگتے اور ریستورانوں کے ڈسٹبنوں میں آوارہ بلیوں کے ساتھ بچے ہوئے کھانے پر مقابلہ کرتے ہیں، چمن ہمیشہ کے لئے اجڑ گیا، تو اس سے کئی گنا زیادہ بچے، پاکستان بھر کے شہروں میں فوڈ چین کے اس آخری زینے پر بقا کی خاطر رینگنے لگیں گے۔ جب دریائے سندھ نے راستہ بدلا، تو زندہ شہر، اس کا نام جو بھی تھا اور آج کوئی نہیں جانتا، موہن جوداڑو بن گیا۔ کیونکہ دریائے سندھ اس زندہ شہر کو زندہ رکھے ہوئے تھا۔ اسی طرح بارڈر تجارت بند ہو گئی، تو ہنستا بستا چمن بھی اجڑ کر ویراں ہو جائے گا۔

چمن میں کوئی دریا ہے، کاشتکاری کی قابل زمین ہے، کارخانہ ہے نہ کوئی دوسرا ذریعہ معاش۔ چمن کے لوگ بارڈر پار کی مارکیٹوں، منڈیوں روزگار اور اسی فیصد زمینوں کے مالک ہیں اور یہ پاکستان کی جائیدادیں ہیں، سمجھ نہیں آتی کیوں ان سے زندگی گزارنے کے سارے وسائل چھینے جا رہے ہیں؟ یہ کسی طرح ممکن ہی نہیں، کہ روزانہ کی بنیاد پر تیس پینتیس ہزار لوگ ویزہ اور پاسپورٹ کے ذریعے بارڈر کے آر پار دن میں کئی بار آ جا سکیں۔ ایران کشمیر اور چین کے ساتھ بارڈروں پر بالترتیب بلوچ، ایرانی اور گلگت بلتستان کے باشندے آزادانہ سہولت کاری کے تحت تجارت اور آمد و رفت رکھے ہوئے ہیں، تو پھر پختونوں کے ساتھ یہ امتیازی اور نسل پرستانہ سلوک کیوں؟ میرے ذہن میں اس کے علاوہ کوئی توجیہ نہیں آتی کہ ریاست پختونوں کو معاشی طور پر دست نگر رکھنا چاہتی ہے اس لیے ان کی تجارت پر پابندی اور جائیداد سے بیدخلی کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کیونکہ دھرنے میں بیٹھے ہوئے متاثرین کئی بار حکومت سے درخواست کر چکے ہیں کہ پاکستان کے دوسرے بارڈروں پر لاگو پاکستانی قانون کے تحت جتنے ٹیکسز لیے جاتے ہیں، وہ بھی اتنے ٹیکسز دینے کو تیار ہیں، لیکن ان کے بچوں کے منہ کا نوالہ ان سے نہ چھینیں۔

اے ٹیل آف ٹو سٹیز کے نام سے چارلس ڈکنز کا ایک ناول ہے، اور اسی نام سے جان پیٹر کی نظم ہے۔ چارلس ڈکنز کا موضوع تو انقلاب فرانس کے اردگرد کی دنیا ہے، لیکن جان پیٹر نے ہیروشیما اور ناگاساکی کا نوحہ لکھا ہے۔ ہمارے ہاں پہلے سے مردوں کا ایک شہر موہنجوڈارو موجود ہے، لگتا ہے مردوں کا دوسرا شہر چمن بنانے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے، جس کا نوحہ لکھنا باقی ہے۔ یوں ہم بھی اس قابل ہو جائیں گے کہ اے ٹیل آف ٹو سٹیز کے نام سے ناول اور افسانے لکھ سکیں۔ شہر بنانے والوں کے تذکروں کو تاریخ اتنی اہمیت نہیں دیتی، جتنی وہ شہر جلانے اور ویران کرنے والوں کو دیتی ہے۔ علاؤ الدین کو جہاں سوز کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، کیونکہ اس نے عروس البلاد غزنی کو جلا ڈالا تھا اور دوسرے ہلاکو خان اور چنگیز خان ہیں، جو خانہ بدوش پس منظر کی وجہ شہروں کی اہمیت سے واقفیت نہیں رکھتے تھے، اس لیے ہنستے بستے شہروں کو ویرانوں میں بدل دیتے تھے۔ ممکن ہے ہمارے حکمران بھی اپنے نام علاؤ الدین جہاں سوز اور ہلاکو خان کی طرح تاریخ میں امر کرنا چاہتے ہوں۔

شازار جیلانی

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 128 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments