گانٹھ رہنے دیجئے ورنہ انجام بھیانک ہو گا


بسا اوقات کسی معاملہ کی نشان دہی کسی کی دانست میں تو درست بلکہ ضروری ہوتی ہے مگر انجام کے لحاظ سے تباہ کن ہوتی ہے۔ کسی ملک میں بادشاہ کے سامنے تین ملزمان کو پیش کیا گیا۔ بادشاہ کے نزدیک ان تینوں کے جرم کی نوعیت ایسی تھی کہ ان کو تختہ دار پر چڑھا دینے کا حکم صادر کیا گیا۔ اس مملکت میں موت کی سزا پر عمل درآمد کے لئے ایک پھانسی گھاٹ قائم کیا گیا تھا۔ ان تینوں کو موت کی سزا پر عمل درآمد کے لئے وہاں پر پہنچا دیا گیا، پھانسی گھاٹ اس طرح سے بنایا گیا تھا کہ وہاں ایک لکڑی کا تختہ تھا، جو پتھروں کے ساتھ منسلک ایک بلند جگہ سے بندھا ہوا تھا اور اس کے ساتھ ایک بڑا پتھر بندھا ہوا ایک چرخی پر موجود تھا۔

جب رسی کو جس کے ساتھ پتھر بندھا ہوا تھا کھینچا جاتا اور پھر یک دم چھوڑ دیا جاتا تو پتھر پوری طاقت سے گرتا اور اپنے سامنے آنے والی آنے والی ہر شے کو پیس کر کچومر بنا ڈالتا تھا، ان تینوں مجرمان کو وہاں پر سزائے موت سے ہمکنار کرنے کی غرض سے لایا گیا، ان میں سے ایک مذہبی پیشوا دوسرا قانون دان جبکہ تیسرا فلسفی تھا۔ سب سے پہلے مذہبی پیشوا کو سزائے موت دینے کے لئے آگے کیا گیا اور دستور کے مطابق اس سے کہا گیا کہ اپنی آخری خواہش بیان کر، وہ بولا، کہ میں موت و حیات کے حوالے سے صرف خدا پر ایمان رکھتا ہوں کہ وہ ہی بس اس پر قادر ہے، اور مجھے کچھ کہنا مقصود نہیں، موت کی چرخی کو کھول دیا گیا تو پتھر نے تیزی سے حرکت کی مگر وہ پتھر مذہبی پیشوا کے سر کے پاس آ کر ٹھہر گیا۔ اس ماجرا پر سب ہکا بکا رہ گئے کہ اس شخص کے ایمان نے اس کی جان بچالی اور اس کو پھانسی گھاٹ سے اٹھا دیا گیا۔

اس کے بعد قانون دان کو سزا پر عمل درآمد کے لئے وہاں پر لایا گیا اور اس سے بھی دستور کے مطابق آخری خواہش کے بیان کرنے کا کہا گیا، وہ بولا میں اپنی پوری زندگی انصاف کے لئے لڑتا رہا ہوں اور فتح انصاف کے نام ہی ہوتی ہے، اس لیے مجھے یقین ہے کہ میرے ساتھ بھی انصاف ہی ہو گا۔ موت کی چرخی کو کھول دیا گیا، پتھر اس کا سر کچلنے کی غرض سے بہت تیزی سے اس کی جانب آیا مگر سب اس وقت دم بخود رہ گئے جب یہ منظر دیکھا کہ پتھر اس کے سر کے پاس بھی آ کر رک گیا اور وہ اپنی موت سے محفوظ ہو گیا۔ اب سب کی نظریں فلسفی پر جم گئی کیوں کہ تیسرا سزا یافتہ وہ بھی اس سب کا منتظر تھا۔

اس سے بھی کہا کہ وہ اپنی آخری خواہش کو بتا دے مگر اس نے اپنا فلسفہ جھاڑنا شروع کر دیا اور کہا کہ میری بات سنو ان دونوں کو جو مجھ سے پہلے لائے گئے تھے اس لئے موت نے نہیں چھوڑ دیا ہے کہ مذہبی پیشوا کے لئے خدا نے کچھ کیا یا قانون دان کو اس کے انصاف کے لئے کی گئی جد و جہد نے بچا لیا ہے بلکہ میں نے جب اس پر غور کیا تو میرے سامنے یہ چیز آئی کہ موت کی رسی کے ایک مقام پر گانٹھ پڑ گئی ہے، جو موت کی چرخی کو مکمل طور پر گھومنے نہیں دیتی ہے، جس کی وجہ سے یہ رسی مکمل طور پر کھل نہیں پا رہی ہے اور اس وجہ سے پتھر ان کا سر نہیں کچل سکا۔ فلسفی کی اس نشان دہی پر اس رسی کا معائنہ کیا گیا تو دیکھا کہ اس کی بات درست تھی۔ فوری طور پر اس نقص کو ختم کیا گیا اور گانٹھ کھول دی گئی تو پھر پتھر اپنے ہدف کی طرف پوری طاقت سے آیا اور فلسفی اپنے انکشاف سمیت کچلا گیا۔

عقل مندی اسی میں تھی کہ گانٹھ کو رہنے دیا جاتا تاکہ سر نہ کچلا جا سکے۔ اسی طرح سے وطن عزیز کے معاشی مسائل کو حل کرنے کی غرض سے بھی آج کل بہت ساری گانٹھوں کی نشان دہی کی جا رہی ہے۔ مثال کے طور پر بار بار اس کا تذکرہ کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں مالی مشکلات کی ایک وجہ پینشن کا بوجھ ہے۔ جنرل مشرف کے دور سے اس کی اکثر تکرار سننے کو ملتی ہے اور اب بجٹ کی آمد آمد ہے اور دوبارہ سے یہ ہی معاملہ سننے کو مل رہا ہے۔ پینشن کا ایسے ذکر کیا جاتا ہے کہ جیسے بس تمام مسائل کا ذمہ دار یہ ہی سہولت ہے حالاں کہ یہ ایک سہولت ہے جو کہ ریاست اپنے شہریوں کو فراہم کر رہی ہے اور کسی بھی ذمہ دار حکومت کو یہ قطعی طور پر زیب نہیں دیتا ہے کہ وہ عوام سے سہولیات اس نام پر واپس لے لیں کہ ریاست کے اخراجات کو پورا کرنا ہے آج یہ بوجھ لگ رہا ہے

کل کہہ دیا جائے گا کہ صحت، تعلیم، انصاف پر بھی رقم خرچ نہ کی جائے ویسے بھی پینشن سے تو کوئی شکایت نہیں ہوتی مگر ان سہولیات کو فراہم کرنے والے اداروں سے شکایات کا ہونا روز مرہ کی بات ہے۔ پینشن کے خلاف مشورے صرف وہ ہی دے سکتے ہیں کہ جن کا ایک وقت کا کھانا کسی کی مہینے بھر کی پینشن سے زیادہ کا ہوتا ہے۔ اس لئے پینشن کی کسی بھی قسم کی کٹوتی کی کسی تجویز کو اہمیت دینے سے حکومت کو اجتناب کرنا چاہیے۔

اسی طرح ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں پاکستان کے ٹیکس کے نظام کو زیر بحث لایا گیا اور اس وقت سے سفارتی حلقوں میں یہ گونج سنائی دے رہی ہے کہ اگر پاکستان اپنے ادارہ جاتی معاملات کو بہتر نہیں کر پا رہا ہے تو ایسی صورت میں پاکستان میں سرمایہ کاری کیسے ممکن ہو سکتی ہے۔ ویسے بھی اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ برادر ملک سعودی عرب کی سرمایہ کاری کا اس انداز میں چرچا نہ کیا جائے کہ جیسے بس اس نے ہونا ہے اور تمام دلدر دور ہو جائے گے۔ ایسی عوامی توقعات جب قائم کردی جاتی ہے تو اس کے بعد عوام یہ نہیں سننا چاہتے کہ فلاں فلاں رکاوٹ کی وجہ سے اس کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ سکیں ہیں بلکہ وہ اس سے یہ گمان کرتے ہیں کہ یا تو حکومت اس پر عمل درآمد کے قابل ہی نہیں تھی یا پھر وہ اس پروپیگنڈے کا شکار ہو جاتے ہیں کہ سب کچھ بد عنوانی کی نذر ہو گیا ہے۔ اس لئے جب یہ معاہدے ہو جائیں اور ان کے ثمرات سے عوام لطف اندوز ہونے لگیں تو پھر ضرور ان کا ڈھنڈورا پیٹ ڈالئے۔ ورنہ یہ گانٹھیں ہی ثابت ہوں گی اور گانٹھیں کھولنا نقصان دہ ہو گا۔

 

Facebook Comments HS