ڈاکٹر حنا جمشید کا ناول ”ہری یوپیا“
پچھلا ایک ہفتہ میں صدیوں پرانے ایک شہر ”ہری یوپیا“ میں گھومتی پھرتی رہی۔ میرے آس پاس گانیکا، کومیل، ابھایا اور باسا سمیت بہت سے اور لوگ تھے۔ میں نے ان لوگوں کے رہن سہن، دیویوں اور دیوتاؤں، ہنر اور گھروں اور عمارات کی طرز کے بارے میں بہت کچھ جانا۔
”ہری یوپیا“ ڈاکٹر حنا جمشید کا ایک خوبصورت ناول ہے جو ہمارے خطے کے ایک قدیم لیکن اس دور کے لحاظ سے ترقی یافتہ شہر ہری یوپیا پر مبنی ہے۔ ناول کی ابتداء ”کالی بنگن“ بستی میں رہنے والے کچھ کرداروں سے ہوتی ہے جو اپنی بنجر اور غریب بستی میں انتہائی محنت کے باوجود جب کچھ خاص حاصل نہیں کر پاتے تو پانیوں کا سفر طے کر کے ایک ترقی یافتہ شہر ”ہری یوپیا“ جانے کی ٹھان لیتے ہیں۔ ہری یوپیا کی طرف جانے والے اس مختصر سے قافلے میں کالی بنگن کی مشہور کمہاری مائی اجو کا شوہر باسا اور ان کے دو بچے گانیکا اور کومیل ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ کالی بنگن کا مشہور اور محنتی پتھر تراش ابھایا بھی اس قافلے کا اہم رکن ہوتا ہے۔ مائی اجو چونکہ اپنے بنائے گئے مٹی کے کھلونوں، برتنوں اور چوڑیوں کو بنا کر بیچنے سے گھر کا نظام چلاتی ہے اس وجہ سے اس کا ہری یوپیا جانا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ مختصر سا قافلہ اپنی آنکھوں میں ایک بڑا شہر دیکھنے کا اشتیاق اور اپنی بستی اور لوگوں سے کئی دنوں کے لیے دور جانے کی فکر دل میں سمائے روانہ ہو جاتا ہے۔
ناول میں ان کے سفر اور ہری یوپیا کے حوالے سے ملی جلی توقعات کو اس عمدگی سے بیان کیا گیا ہے کہ پڑھنے والے کا ہری یوپیا فوراً پہنچ جانے کا دل چاہتا ہے۔ شہر کے داخلی دروازے پر جس طرح سے ان مہمان سوداگروں کی تلاشی لی جاتی ہے اس سے ابھایا اور باسا بہت مایوس ہوتے ہیں مگر ہری یوپیا کی ہریالی، زرخیزی، کشادہ سڑکیں، زبردست نکاسی کا نظام اور بڑا سا بازار انھیں جلد ہی اس مایوسی کی کیفیت سے نکال دیتے ہیں۔ یہاں یہ قافلہ سمارا کے مہمان سرائے میں ٹھہرتا ہے جو کسی اور دیس سے کاروبار کے سلسلے میں آئی تھی اور یہاں کے ایک مقامی سوداگر کی محبت میں گرفتار ہو کر یہیں کی ہو کر رہ گئی۔ اس کی خوبصورت یادیں ہری یوپیا سے جڑی ہوئی تھیں جس وجہ سے وہ اپنے شوہر کی موت کے بعد بھی اس دھرتی سے نہ جا سکی۔
اگلے دن بازار میں ابھایا اور باسا کو اپنے اپنے سامان کی فروخت سے اچھا خاصا منافع ہوتا ہے۔ وہاں سے واپسی پر کچھ رکھشک ابھایا کی تلاشی لینے لگتے ہیں اور اس کے قیمتی پتھر اس سے چھینتے ہوئے اسی پر ہی چوری کا الزام لگا دیتے ہیں جس پر ابھایا کی ان سے لڑائی ہو جاتی ہے۔ باسا جو ابھایا کا ٹھنڈے دماغ کا دوست ہوتا ہے اس موقع پر اپنا ضبط کھو بیٹھتا ہے کیونکہ یہاں اس کا اپنے دوست ابھایا کا ساتھ دینا ضروری ہوتا ہے۔ لڑائی شدت اختیار کر جاتی ہے اور باسا کی موت کا سبب بنتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی رکھشکوں کا سربراہ حمود بھی مارا جاتا ہے۔ معاملہ جب شہر کے سربراہ (مقدس پروہت) تک پہنچتا ہے تو وہ اس قافلے کو اپنے دربار میں طلب کر لیتا ہے جس پر غم سے نڈھال یہ قافلہ بہت خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ پروہت معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیتے ہوئے اس قافلے کو بے گناہ قرار دے دیتا ہے اور ان سے معافی طلب کرتا ہے۔ چند دن تک قافلہ وہیں مہمان بن کر ٹھہرتا ہے اور ہری یوپیا کے مشہور میلے کی تیاریوں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔
ناول میں اس دور میں بھی موجود کرائم پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے جیسے انسانوں کی ٹریفکنگ (Human Trafficking) ۔ کچھ گینگ مقامی لوگوں کو اٹھا کر لے جاتے اور آگے بیچ دیتے۔ اس کے علاوہ ایک پُرامن اور ترقی یافتہ شہر میں انتظامی معاملات سنبھالنے والوں میں کچھ کرپٹ لوگوں کی شمولیت کیسے سارے شہر کو متاثر کرتی ہے اس میں گہرا سبق ہے۔
ڈاکٹر حنا جمشید نے انسانی جذبات کی ترجمانی بھی بہترین انداز میں کی ہے۔ جیسے گانیکا اپنے والدین کو کھو دینے کے بعد انجانے میں ہی دیوتاؤں کے لیے کیے جانے والے رقص میں یوں گم ہو جاتی ہے کہ اسے اپنے آپ کی خبر نہیں رہتی۔ وہ رقص کے رنگوں میں ایسی رنگ جاتی ہے کہ لوگ حیرت سے اسے دیکھتے رہتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ جذبات کی ایک صحت مند اور کھلی ترجمانی ہے جسے ”channelization of emotions“ کہتے ہیں۔
اتنا ترقی یافتہ شہر ساون کی بارشوں میں سیلاب کی وجہ سے تباہ ہو جاتا ہے۔ اس تباہی میں ایک بڑی وجہ انتظامی امور سنبھالنے والے کچھ لوگوں کی کرپشن بھی ہوتی ہے۔
یہ ناول قدیم شہر ہری یوپیا کے رہنے والوں، ان کی منفرد زبان، مذہب اور طور طریقوں کو دلچسپ کہانی کے انداز میں بہت اچھے انداز میں پیش کرتا ہے۔ مجھے قدیم تہذیبوں کے متعلق پڑھنے میں بہت دلچسپی ہے۔ اس ناول کا کور اور اس کا نام اتنا پرکشش لگا کہ اسے فوراً خرید لیا۔ ڈاکٹر حنا جمشید کو ایک زبردست ناول لکھنے پر مبارکباد!


