نجی تعلیمی اداروں کی لوٹ مار اور ہماری حکومت کا کردار
آئین پاکستان کے تحت تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے بلکہ معیاری تعلیم کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے مگر گزشتہ کئی دہائیوں سے سرکاری تعلیمی نظام معیاری اور وقت کے تقاضوں کے عین مطابق نہیں ہے جس وجہ سے ہمارے سرکاری تعلیمی ادارے تعلیم فراہم کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔ اسی ناقص تعلیمی نظام کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں میں بھیجنے پر مجبور ہیں، اور وہ اپنے بچوں کو ان پرائیویٹ اسکولوں میں داخل کرانے کے بعد وہ سارا سال اسکول انتظامیہ کے ہاتھوں لٹتے رہتے ہیں۔
اسکول انتظامیہ تعلیم پر توجہ دینے کی بجائے درس و تدریس سے زیادہ فروٹ ڈے، فلاور دے، کلر ڈے، و، پلانٹس ڈے اور نجانے کس کس دن کے منانے کے نام پر والدین کی جیبوں پر ڈاکا زنی کرتی ہیں۔ پکنک منانا اور اس سے پیسے کمانا بھی ان اسکولوں کی انتظامیہ کی ایک چال ہے اسی طرح ہوٹل کے ہالوں میں رزلٹ ڈے منانا بہت بڑا اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ پرائیویٹ تعلیمی ادارے پہلے ہی بچوں کے والدین سے بھاری فیسوں کے علاوہ نہ جانے کن کن مدوں میں فنڈز وصول کر کے انہیں بلیک میل کرتے ہیں یہاں تک کہ بچوں کی کتابیں، کاپیاں، یونی فارم، جوتے، بیگ اور تعلیم میں استعمال ہونے والی ہر چیز بازار سے تین گنا زیادہ قیمت پر فروخت کر کے والدین کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں اور ان کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
ایک اور تک چھوڑ دی گئی ہے کہ اب ان اسکولوں نے ”سیکورٹی فنڈ“ کے نام پر ان کے اسکولوں میں داخل بچوں کے والدین سے بھاری رقوم بٹورنا شروع کر دی ہیں۔ حالانکہ بعض پرائیویٹ تعلیمی ادارے فیسیں پانچ ہزار سے 15 ہزار ماہانہ وصول کر رہے ہیں۔ کیا ان مہنگے تعلیمی اداروں کی یہ ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ اپنے سٹوڈنٹس کی سکیورٹی کے لئے مناسب اقدامات کریں؟ حال ہی میں ہماری حکومت نے واضح انداز میں بھاری فیسیں وصول کرنے والے تعلیمی اداروں کو متنبہ کیا تھا کہ وہ اپنے اداروں کی سیکورٹی یقینی بنائیں۔ ہمارے ملک میں بیشتر پرائیویٹ تعلیمی ادارے کلی طور پر تجارتی اور کاروباری بنیادوں پر چلائے جا رہے ہیں جو من مانی فیسیں اور دوسری مدوں میں فنڈز وصول کرتے ہیں۔
اسکول کی انتظامیہ والدین سے لاکھوں روپے بٹورتی ہے مگر ٹیچرز کو۔ پانچ، دس ہزار روپے تک احسان جتا کر تنخواہ دی جاتی ہے اور وہ اساتذہ تعلیم پر توجہ کم دیتے ہیں جس سے بچے تعلیم میں کمزور رہ جاتے ہی ہیں ہمارے معاشرے میں بیس فیصد بچوں کے والدین پرائیویٹ اسکولوں میں مہنگی تعلیم کا خرچہ برداشت کر سکتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ملک کے اسی فیصد بچے ٹاٹ والے سرکاری اور نچلے درجے کے نجی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، جن کی فیس غریب والدین بمشکل برداشت کر پاتے ہیں۔
اگر ہم دیکھیں تو ان اسکولوں میں تعلیم کا معیار بھی کوئی اتنا خاص نہیں ہے۔ مہنگے پرائیویٹ اسکولوں میں ابتدا ہی سے انگریزی پر بھرپور توجہ دی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ ان اسکولوں میں انگریزی کے ماہر اساتذہ کی عدم موجودگی کی وجہ سے بچے انگریزی پر ’اعلیٰ پرائیویٹ اسکولوں‘ کے بچوں کی طرح انگریزی پر عبور حاصل نہیں کر پاتے اور وہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اعلی پرائیویٹ اسکولوں اور کالجوں میں پڑھنے والے بچے انگریزی اور میں پڑھائے گئے دوسرے مضامین میں مہارت کی وجہ سے نا صرف ملکی سطح پہ بلکہ بین الاقوامی شہرت یافتہ جامعات میں اپنی قابلیت کے بل بوتے پر داخلہ حاصل کر لیتے ہیں۔ جبکہ وہ غریب آدمی جسے روٹی کے لالے پڑے ہوں وہ بھلا کیا کر سکتا ہے۔
پہلی سے بارہویں جماعت تک یکساں تعلیمی مواقع کے فقدان کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم کے لئے داخلوں کے وقت غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے بچے بہتر مواقع سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے، جو انہیں مستقبل میں ایک اچھی زندگی فراہم کر سکیں۔ اور یہ بچے کلرک یا چپڑاسی کا کام کر رہے ہوتے ہیں، یا کسی دکان پر ملازمت کر کے اپنے گھر کے اخراجات چلاتے ہیں۔
جن اسکولوں میں غریب بچے تعلیم حاصل کرنے کے لئے جاتے ہیں، وہاں بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں پہ کام نہیں ہوتا بلکہ بچوں کو رٹا لگا کر چیزیں یاد کروائی جاتی ہیں۔
نجی اسکولوں میں فیس کا معاملہ بہت اہمیت کا حامل ہے جس پر توجہ دی جانی چاہیے اس وجہ سے والدین پریشان ہیں اور نجی اسکولوں کی اضافی فیسوں کا معاملہ ان والدین کے لئے کافی مشکل ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ اسکول ہر سال غیر قانونی طور پر فیس بڑھا دیتے ہیں۔ محکمہ تعلیم نے اسکولوں کی من مانی کے لئے منظور شدہ فیس اسٹرکچر ہی غائب کر دیے ہیں۔ نجی اسکولوں کی لوٹ مار، اسکول مالکان اور محکمہ تعلیم کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ نظر آتا ہے، والدین کو فیس اسٹرکچر نہ اسکول دکھایا جاتا ہے، نہ محکمہ تعلیم ہی انہیں صحیح سے رہنمائی کرتا ہے۔
پرائیویٹ اسکول ناجائز کمائی کے اڈے ہیں، لوٹ مار کر رہے ہیں، اور اس نہج تک پہنچانے والے ناتجربہ کار اور غیر پروفیشنل اساتذہ، پرائیویٹ اسکول کی لالچی انتظامیہ جس کو سرکاری نوکری نہیں مل سکی وہ غیر معیاری سکولز کھول کہ بیٹھ گئے ہیں۔ تعلیم کو کاروبار بنانے والوں نے پرائیویٹ سکولز کا امیج بھی تباہ کر دیا ہے۔
افسوس! تعلیم جیسے مقدس شعبے کو چند کالی بھیڑوں نے کاروبار بنا کر رکھ دیا ہے مگر حکومت خاموش ہے او ان کا کچھ بھی نہیں کر سکتی۔
ایسی صورت حال میں اپنے بل بوتے پر تگ و دو اور محنت کرتے ہوئے غریب گھرانوں کے چند بچے اعلی جامعات تک اسکالرشپ پر رسائی حاصل کرتے ہیں لیکن اسی طرح کے دوسرے شعبہ جات سے منسلک لوگ، جو اپنے بچوں کو اپنا پیٹ کاٹ کر کے تعلیم دلواتے ہیں، وہ سرکاری جامعات میں چند مخصوص شعبوں تک ہی پہنچ پاتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ تعلیمی مواقعوں کی یکساں فراہمی میں کمی بھی ہے۔ کیونکہ ان بچوں کو ڈیجیٹل دنیا جہاں کمپیوٹر، ٹیبلیٹس، اور موبائل اور جدید شعبہ جات کے بارے میں محدود اور اکثر نا ہونے کے برابر معلومات ہوتی ہیں اور انہیں مشاورت کے مواقع بھی میسر نہیں آتے ہیں۔ غربت میں پرورش پانے والے بچے اکثر و بیشتر پیسوں کے کمی، حوصلہ افزائی، رہنمائی اور یکساں تعلیمی مواقع کے فقدان اور دوسرے مسائل سے نمٹتے ہوئے تعلیم میں عدم دلچسپی کی بناء پر اسے ادھورا چھوڑ کر کمانے کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔
تعلیم کے ذریعے ترقی کا خواب دیکھنے والوں نے اور غربت سے چھٹکارا حاصل کرنے کی، ان بچوں اور غریب والدین کے دل میں پنپنے والے وہ خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں جو انہوں نے اپنے دل میں سجائے ہوتے ہین، غریب والدین لڑکیوں کی کم عمری میں شادی کر دیتے ہیں اور لڑکوں کو مزدوری پہ لگا دیتے ہیں تاکہ آمدنی بڑھائی جا سکے۔ غرض مستری کا بچہ مستری، کمہار کا بچہ کمہار اور رکشے والے کا بچہ ایک اور رکشے والا بن جاتا ہے۔ غرض یہ کہ بنیادی سطح پہ یکساں تعلیمی مواقع کا فقدان معاشرے میں غربت کو مزید جنم دینے کا سبب بنتا ہے۔
ایک جانب جہاں وفاقی حکومت متعدد اداروں کی نجکاری کرنے میں مصروف ہے، وہیں ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی حکومت نے سرکاری اسکولوں کی نجکاری کی بھی تیاریاں شروع کر دیں ہیں۔ دوسری جانب اساتذہ کی تنظیموں نے نجکاری کے منصوبے کی سخت مخالفت کی ہے اور نئے اساتذہ کی فوری بھرتی کا مطالبہ کیا ہے ان کی طرف سے خبردار کیا گیا ہے کہ اسکولوں کی نجکاری سے تعلیمی اخراجات میں اور ہر سطح پر فیسوں میں زبردست اضافہ ہو گا۔ مفت نصابی کتابوں کے نظام کو ختم کرنے سے سرکاری اسکولوں میں طلبا و طالبات کے اندراج میں بے حد کمی آئے گی۔ جس سے جہالت کو بڑھاوا ملے گا اور چوری، ڈکیتیوں، قتل و غارت گری، خودکشیوں اور دوسرے جرائم می اضافہ ہو گا جس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکومت پر ہوگی۔


