چند سال کی محنت یا زندگی بھر کا پچھتاوا فیصلہ آپ کا


ہماری آبادی کے بیشتر حصے کو بنیادی ضروریاتِ زندگی کے حصول کے لئے بھی بے انتہا تگ و دو کرنی پڑتی ہے۔ ایسے لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جن کی آمدنی موجودہ دور کی ضروریات کے مطابق انتہائی قلیل ہے۔ لوگوں کے اخراجات زیادہ اور آمدنی کم ہے۔ تقریباً نصف آبادی خوش حال زندگی کے تصور سے بھی دور ہے۔ ان کی تمام عمر بجلی گیس کے بلوں کی فکر میں ہی گزر جاتی ہے۔ اس صورتحال کی وجوہات کی بات کریں تو اس کے پسِ منظر میں کافی وجوہات موجود ہیں، جن کو بیان کرنے کے لئے بھی کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں، مگر اس آرٹیکل میں ان وجوہات سے زیادہ اس صورتحال سے نکلنے پر زور دیا جائے گا۔

زندگی میں ناکامی اور غریب رہ جانے کی بے شمار وجوہات ہیں مگر اگر دو تین انتہائی اہم وجوہات کا تذکرہ کیا جائے تو ان میں اسکلز کی کمی، سیکھنے کے رویے کا نہ ہونا اور منفی سوچ سرِ فہرست ہوگی۔ اگر کوئی شخص زندگی میں ناکام اور غریب ہے تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اس میں یہ عناصر نہ پائے جائیں۔

مگر بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو زندگی میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں اور اس پست معیارِ زندگی سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں، ان میں سیکھنے اور آگے بڑھنے کی تڑپ ہوتی ہے اور وہ اس پست معیارِ زندگی کو ترک کر کے اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنا چاہتے ہیں، اگر آپ کا شمار بھی اسی طرح کے بلند حوصلہ لوگوں میں ہوتا ہے تو یہ آرٹیکل آپ ہی کے لئے ہے۔ صرف اور صرف پانچ سال کی محنت آپ کے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتی ہے۔ مگر شرط اتنی سی ہے کہ آپ جنون اور مستقل مزاجی کے ساتھ کسی ایک مقصد کو حاصل کرنے کے لئے محنت کرتے رہیں۔ آئیے جانتے ہیں کہ صرف پانچ سالوں میں آپ کیسے اپنا معیارِ زندگی بہتر کر سکتے ہیں۔

بہترین طرز زندگی اختیار کریں :

کسی بھی شخص کے لئے اپنی زندگی میں بہتری لانے کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے وہ اپنا طرزِ زندگی بہتر کرے۔ باقی کے تمام کام اس کے بعد ہی آتے ہیں، بہتر طرز زندگی سے مراد یہ ہے کہ منفی سوچوں سے چھٹکارا حاصل کریں اور اپنے دماغ کو مثبت اور تعمیری سوچ کا عادی بنائیں، اس بات پر یقین رکھیں کہ آپ بہترین زندگی کے حق دار ہیں اور آپ اسے حاصل کر لیں گے، ہمیشہ مثبت سوچیں۔ صحت بخش غذا کا متواتر استعمال کریں اور اپنی صحت کا باقاعدگی سے خیال رکھیں، اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ جان ہے تو جہان ہے۔

معیاری نیند لیں، ورزش کریں یا اس کے علاوہ دیگر کسی جسمانی سرگرمی میں حصہ لیں، منفی اور ناکام لوگوں کی صحبت ترک کر دیں، رفتہ رفتہ ان سے تعلق ختم کر دیں اور اپنے حلقہ احباب میں صرف اور صرف خود سے زیادہ کامیاب لوگ ہی شامل رکھیں۔

ہائی انکم اسکل سیکھیں :

یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی شخص کی آمدنی اس کی شخصیت سے تجاوز نہیں کرتی، ہمیں وہی ملتا ہے جس کے ہم اہل ہوتے ہیں، با الفاظ ِدیگر ہم جتنی ویلیو ڈلیور کرتے ہیں اسی کے مطابق ہمیں پیسہ ملتا ہے۔ غریب ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ غریب شخص کے ایسا کوئی ہائی انکم اسکل نہیں ہوتا جس کے بدلے اسے زیادہ پیسے مل سکیں، لہذا اگر آپ بہتر زندگی اور زیادہ پیسہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہائی انکم اسکل سیکھیں، اپنے شوق کو تلاش کریں اور اسی ملتا جلتا اسکل سیکھیں اور پوری جان لگا کر سیکھیں، ایک مشہور تھیوری ہے کہ کسی کام میں آپ تب تک ایکسپرٹ نہیں بنتے جب تک اس میں آپ کے دس ہزار گھنٹے صرف نہ ہو چکے ہوں، آپ بھی اپنی مرضی کا ہائی انکم اسکل منتخب کریں اور اس میں اس قد جانفشانی سے کام کریں کہ جلد از جلد آپ کے دس ہزار گھنٹے مکمل ہو جائیں، میرا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد آپ کو تمام عمر کبھی بھی پیسوں کی کمی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

بچت کریں :

غریب لوگوں کا ایک مسئلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ انھیں بچت کرنے کی عادت نہیں ہوتی۔ یا اگر یوں بھی کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ ان کی آمدنی ہی اتنی محدود ہوتی ہے جس سے ان کے با مشکل ضروری اخراجات ہی پورے ہوتے ہیں۔

مگر اگر کسی شخص کو امیر ہونا ہے اور غربت بھری زندگی سے نجات حاصل کرنی ہے تو اسے بچت کی اہمیت کو بھی سمجھنا ہو گا اور بچت کرنے کی عادت بھی اپنانی ہوگی۔ کیوں کہ اس کے بغیر دولت کی فراوانی حاصل کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ ان پانچ سالوں میں آپ نے کوئی ایک بھی ایسا مہینہ نہیں گزرنے دینا جس میں آپ نے بچت نہ کی ہو اپنی آمدنی کا کم از کم دس فیصد بچائیں اور اسے بتدریج بڑھاتے جائیں۔ ایسا کرنا آپ کو آنے والے وقت میں بے تحاشا فوائد دے گا۔ یہ عادت ہر امیر ہونے والے شخص میں موجود ہوتی ہے۔

سرمایہ کاری کرنا سیکھیں :

بچت کرنے کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ آپ کو اس بات کا بھی علم ہو کہ آپ اپنی اسی بچت سے مزید دولت کیسے پیدا کر سکتے ہیں اور کیسے اس رقم کو دوگنا اور پھر چار گنا کر سکتے ہیں، اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ کو کاروبار کرنے کے گر پتہ ہوں اور سرمایہ کاری کی الف بے سے آشنائی ہو۔ لہذا مستقل کامیابی حاصل کرنے کے لئے اور دولت کو اپنے گھر کی باندی بنانے کے لئے یہ تمام کام ضرور کریں۔

سائیڈ کاروبار شروع کریں :

اگر آپ نوکری کرتے ہیں تو اس کے ساتھ ساتھ اس بارے میں بھی غور و فکر کریں کہ کیسے آپ کوئی سائیڈ کاروبار شروع کر سکتے ہیں۔ باقاعدہ منصوبہ بندی کریں اور پھر اس پر عمل کریں، اپنے آرام کی قربانی دیں اور اپنے کاروبار کو بھی مکمل توجہ دیں، اس پر اتنی محنت کریں کہ وہ آپ کو فل ٹائم انکم دینا شروع کر دے۔

مطالعہ کریں :

اپنے تمام تر مصروفیات میں سے مطالعے کے لئے وقت لازمی رکھیں، کاروباری موضوعات کے ساتھ ساتھ ذاتی ترقی و نشو و نما کے موضوعات پر کتابیں پڑھیں، کامیاب لوگوں کی سوانح حیات کو پڑھیں، اس سے آپ نہ صرف پرجوش رہیں گے کہ بلکہ آپ کو اندازہ ہو گا کہ کامیابی مفت میں نہیں ملتی اس کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ اور کوئی بھی شخص پیدائشی کامیاب یا ناکام نہیں تھا بلکہ اسے اس کے اعمال نے ہی کامیابی کا تاج پہنایا یا پھر ناکامی کی دلدل میں دھنسایا۔

ایک ایک کر کے منفی عادتوں کو ختم کریں :

اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ کسی بھی شخص کو کامیاب یا ناکام اس کی عادتیں ہی بناتی ہیں، منفی عادتیں اسے ناکامی کی گہرائیوں میں دھکیلیں گی اور مثبت اور منافع بخش عادتیں اسے کامیابی اور عزت سے نوازیں گی۔ لہذا اکثر اوقات اپنی ذات کا جائزہ لینے کی عادت اپنائیں، اور اپنی منفی عادتوں کی فہرست مرتب کریں، اور انھیں مثبت عادتوں میں بدلتے جائیں۔ اگر آپ پانچ سال تک ایسا کرتے ہیں تو یقین جانیں کہ آپ کی زندگی ویسی ہو جائے گی جیسی آپ چاہتے ہیں۔

 

Facebook Comments HS