گوادر ڈوب رہا ہے

گوادر شہر میں حالیہ بارشوں کو تقریباً تین مہینے کا عرصہ مکمل ہونے کو ہے مگر شہر کے کئی علاقے ابھی تک زیرِ آب ہیں۔ بعض علاقوں کے مکین اب اس نفسیاتی کرب میں مبتلا ہیں کہ دن کو پانی نکال لیتے ہیں مگر رات کو دوبارہ اُن کے گھر، چار دیواری، پینے کے صاف پانی کے ٹینکی اور کمرے زیر زمین نکلنے والی پانی سے بھر جاتے ہیں۔ ایسے میں سی پیک کے شہری اپنے گھروں میں نہ تو فرش پر بچھونا بچھا کر بیٹھ سکتے ہیں نہ ہی سو سکتے ہیں۔ اولڈ سٹی کے اندر پینے کے صاف پانی کی ٹنکیاں زہر آلود پانی کا تالاب بنی ہوئی ہیں۔ سیوریج کا پانی، بارش کا پانی اور زیر زمین سمندر کا پانی ایک ساتھ گوادر کے شہریوں پر حملہ آور ہے۔ مستقبل کا دبئی اور سنگاپور، مالدیپ بن چکا ہے۔
گوادر اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کا بدترین شکار ہے۔ عثمانیہ وارڈ کی رہائشی بی بی آمنہ بارش کو تقریباً تین مہینے کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی اذیت ناک زندگی گزار رہی ہیں۔ بلکہ اب وہ پینے کے صاف پانی سے بھی محروم ہیں۔ آمنہ بی بی کہتی ہیں کہ اُن کے گھر کے صاف پانی کی ٹینکی گٹر کا پانی اُگل رہی ہے۔ وہ خود تو معذور ہیں لیکن ان کی بچیاں پانی کے لیے کبھی اس ہمسایہ کے در تو کبھی کسی اور ہمسایہ کے در پہ جاتی ہیں۔ یہی حال ٹوباگ وارڈ کی رہائشی ایک اور خاتون کی ہے جن کے گھر میں زیر زمین پانی نکلنے کی وجہ سے نہ تو وہ فرش پر بیٹھ سکتے ہیں اور نہ ہی سیوریج کے پانی کو نکال سکتے ہیں۔
گوادر کے کئی علاقوں کے مکین انہی مشکلات کا شکار ہیں۔ بلکہ بعض علاقوں سے لوگ اپنے مکانات چھوڑ کر اب تک رشتہ داروں کے ہاں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ گوادر کے علاقے بخشی کالونی، ٹی ٹی سی کالونی، تھانہ وارڈ اور دوسرے کئی مقامات پر اب لوگ پانی نکالتے تھک چکے ہیں کیونکہ دن کو وہ پانی نکالتے ہیں مگر رات کو دوبارہ اُن کے گھر تالاب بن جاتے ہیں۔
گوادر سے تعلق رکھنے والے کلائیمیٹ ریسرچر اور ہائیڈرولوجسٹ پذیر احمد بلوچ شہر کے حالات کو انتہائی تشویش ناک قرار دیتے ہیں۔ اُن کے مطابق گوادر شہر اِس وقت سطح سمندر پر ہچکولے کھا رہا ہے جو کہ بہت خطرناک ہے۔ گوادر شہر میں زمین کی ساخت ریتیلی ہے جو کہیں ٹیلوں پر ہے اور کہیں کھائیوں میں۔ اس وقت گوادر شہر میں زیر زمین پانی کی گنجائش ختم ہو چکی ہے جو یہاں کی انفراسٹرکچر کے لیے خطرہ کی گھنٹی ہے۔ پذیر احمد کے مطابق گوادر شہر میں سیوریج اور ڈرینیج سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے گھروں کا ضائع شدہ پانی زمین میں جاتا ہے۔
گوادر کی جیوگرافی ایسی ہے کہ تین اطراف سمندر کے بیچ مشرق سے مغرب کی جانب کہیں ڈیڑھ کلومیٹر چوڑائی تو کہیں چھ کلومیٹر کہ چوڑائی پر اور جنوب سے شمال تک تقریباً کوئی بارہ کلومیٹر تک شہر پھلا ہوا ہے۔ سطح سمندر میں اضافے کی وجہ سے زیرزمین سمندر کا پانی بھی آگے کی طرف آ چکا ہے۔ شہر میں اچانک کنسٹرکشن میں اضافہ اور بارش کے پانی کا صحیح نظام نہ ہونے کی وجہ سے شہر ڈوبنے کی دہلیز پر ہے۔
اس قدر معاملے کی سنگینی کی باوجود منصوبہ ساز ادارے سنجیدہ نہیں ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے کوئی خاطرخواہ حکمت عملی اور اقدامات ہوتے نظر نہیں آرہے۔ شہر میں ترقیاتی کاموں کے ذمہ دار ادارہ، گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی ہے۔ میں نے اس سلسلے میں معلومات کے لیے جی ڈی اے کی ماحولیات سے متعلق ڈپارٹمنٹ کو آن لائن رائٹ ٹو انفارمیشن کا ایک ایپلیکیشن لکھا جس کے جواب میں ادارہ ترقیات گوادر کے مطابق انھوں نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے شہر میں سڑکوں کے کنارہ سبزہ لگانے کے علاوہ شہر میں تین پارک، دو سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ، سمندری کٹاؤ کو روکنے اور ماہی گیروں کی تحفظ کے لیے حفاظتی بندوں کا کام، مینگروو کے درخت لگانے کے منصوبے سمیت بارش کے پانی کو نکالنے کے لیے دس ملین سے زائد رقوم خرچ کی ہے۔
باوجود ان تمام کاموں اور وضاحتوں کے شہر کی تحفظ کے لیے کوئی مستقل حکمت عملی کا منصوبہ نظر نہیں آتا۔ شہری پریشان ہیں کہ اُن کے پہلے سے کریک گھروں کی دیواریں اور بنیادیں کیا کسی اور بارش کو برداشت کر سکیں گی؟ یا اسی زیر زمین نکلنے والی پانی میں ہی گر جائیں گی؟ اگر موسمیاتی تبدیلیوں اور خصوصاً زیر زمین پانی کے بڑھتے ہوئے مقدار کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تو سی پیک کا شہر گوادر، مستقبل کا سنگاپور اور دبئی بنے یا نہ بنے مگر مالدیپ بن رہا ہے۔ ایک ڈوبتا ہوا شہر۔

