بے ثمر راہ کی ثمر


ثمر نے ایک متمول گھرانے میں آنکھ کھولی۔ رزق اور بہن بھائیوں کی فراوانی میں زندگی خوبصورت اور مصروف تھی۔ باپ اچھے سرکاری عہدے پر تھا اور فضل ربی پر بھی یقین رکھتا تھا سو گھر میں خدا اور بندوں کا دیا سب کچھ تھا۔ یہ شہر ملک کا وہ علاقہ ہے جسے کوئی صوبہ دل سے تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ دہشت گردی کے زمانے میں اس شہر نے پوری پوری قیمت چکائی اور ہنستا بستا شہر بارود کا ڈھیر بن گیا۔ پہاڑوں سے اترتے مختلف قبائل شہر میں کیا آباد ہوئے شہر کا خون ہو گیا۔

ثمر کے والدین اسی شہر کے باسی تھے۔ کھلا رزق، وافر محبتیں کسی شے کی کمی نہ تھی۔ لڑکیوں کی تعلیم بس مناسب حد تک رکھی جاتی۔ چھوٹی عمر کی شادی وہاں کی روایت تھی کہ بڑی عمر کی دلہن کے چہرے پر سختی آ جاتی ہے والی متھ ابھی زندہ ہے۔

فرید اللہ محسود بھی نہ جانے کس پہاڑ سے اترا اور اسلحے کے ساتھ کئی چیزوں کی سمگلنگ کا خوب پیسہ بھی ساتھ لایا۔ ثمر کی ماں کو بھی کئی ماؤں کی طرح بیٹی کی خوشی اندھا دھند خوش حالی میں نظر آتی تھی سو رشتہ پکا ہو گیا۔ شادی خاصی دھوم دھام سے ہوئی اور ثمر محبتوں بھرے گھر سے نکل کر اس جہنم میں پہنچائی گئی جہاں جانے کے بعد پھر کبھی سکھ کا سانس نصیب ہوا نہ مقدر کی کوئی خوشی۔

فرید اللہ ہر طرح کے نشوں کا عادی تھا دن رات گویا ثمر کا امتحان تھے۔ زبان کے ساتھ ساتھ ہاتھ پاؤں بھی خوب چلتے اور نازک کانچ سی لڑکی دن میں کئی بار ٹوٹ کر پھر جڑ جاتی دوبارہ ٹوٹنے کے لیے۔

رشتہ روح کا نہ بھی ہو تو جسم خراج ادا کرتا ہے۔ جب ثمر کو ماں بننے کی اطلاع ملی تو ایک آس بندھی کہ شاید فرید اللہ بھی باپ بن کر تبدیل ہو جائے مگر جس کی فطرت ٹیڑھی ہو سو سال بعد بھی نلکی سے ٹیڑھا نکلتا ہے۔

ہر گزرتا دن ثمر کا امتحان تھا۔ ایک دن کسی بات پر شوہر کو غصہ آیا تو شوہرانہ حق استعمال کرتے ہوئے مار پیٹ کر والدین کے دروازے پر ڈال گیا۔ ثمر شادی کے وقت فرسٹ ائر کی طالبہ تھی۔ اچھی ذہین لڑکی تھی مگر کم عمری کی والدانہ خواہش کی بھینٹ چڑھ گئی۔ صلح صفائی کی تمام کوششوں کے باوجود کوئی حل نہ نکل سکا۔ وقت مقررہ پر ثمر نے بیٹے کو جنم دیا۔ بچے کی پیدائش کی اطلاع سسرال بھجوائی گئی تو جواب میں باپ، مٹھائی اور مبارکباد کی جگہ طلاق کے کاغذات آ گئے۔

بات بڑھی تو پیغام بھجوایا گیا کہ آ کر اپنا بچہ لے جاؤ ہم اسے کیوں پالیں۔ جبکہ ہماری بیٹی ابھی کم عمر ہے ہم اس کی دوسری شادی کریں گے بچے کے ساتھ اسے کون اپنائے گا۔ خیر بہت سی شرائط کے ساتھ بچہ باپ کے حوالے کر دیا گیا۔ ثمر سے نہ شادی کے وقت کسی نے پوچھنے کی زحمت کی کہ آیا اسے یہ رشتہ منظور ہے یا نہیں اور نہ اب گود سے چند دن کا لعل چھینتے کسی نے اس کے درد کا احساس کیا۔ روتی کرلاتی ماں کے تن کی بوٹی جیتے جاگتے کاٹ دی گئی۔

وقت کچھ سرکا۔ جس معاشرے میں کنواری لڑکیوں کے رشتے سب سے بڑا مسئلہ ہوں وہاں ایک بچے کی ماں کے لئے دل اور گھر کے دروازے کون کھولتا۔ اس عرصے میں بھابیاں بھی گھر آ چکی تھی۔ بھائیوں کو اپنے گھروں کی پرواہ نہیں تھی ثمر کی فکر کون کرتا۔ ایک دن باپ نے بھی آنکھیں موند لیں تو ماں کے ساتھ ثمر بھی بھائیوں کی محتاج ہو گئی۔ بیٹوں کو ماں بوجھ لگتی بہن تو دوگنا بھاری تھی۔

ثمر کے بڑے بھائی کا کچھ لوگوں سے دوستانہ تھا جو پاکستانی مسلمانوں کے لئے حجاز مقدس کی زیارات کا بندوبست کرتے ان سے معلوم ہوا کہ سعودی عرب میں ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور ہے شادی شدہ اور جوان بچوں کا باپ ہے اور دوسری شادی کا خواہشمند۔ بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا اور ثمر دو بولوں میں بندھ کر سعودی عرب پہنچ گئی۔ بزرگ شوہر نے نئی نویلی دلہن کو دل میں بسایا مگر جوان اولاد کاہے کا روگ پالے۔ ثمر کو اس نفرت کا پھل چھوٹے سے علیحدہ گھر اور چند روزہ سکھ کے سانس کی صورت مل گیا۔

ہمارے ہاں بیٹیوں کی پیدائش پر تعلیم، شعور اور معاشی آزادی ملے نہ ملے نیک نصیبوں کی دعا ضرور ملتی ہے اور نصیب جیسے بھی ہوں کون ان سے لڑ سکا۔ چھ سال سکھ کے گزرے کہ شوہر کار حادثے دونوں ٹانگیں گنوا کر چارپائی پر آ بیٹھا۔ چند دن ثمر نے جیسے تیسے گزارے مگر کمانے والا بے بس ہو تو گھر کی گاڑی گھسیٹنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ اب کے مشکل یہ آئی کہ بزرگوار کی اولاد باپ کو تو قبول کرنے پر تیار تھی مگر اس کی بہوؤں نے جوان ساس کو گھر قدم رکھنے کی اجازت نہ دی سو ایک بار پھر ثمر طلاق کا جھومر سجائے پاکستان پہنچا دی گئی جہاں ماں بیٹی خاموشی کی زبان میں مکالمہ کرتیں اور بیٹوں اور بہوؤں کے طعنے اوڑھ کر سو جاتیں۔

اس عرصے میں فرید اللہ کی دوسری شادی ہوئی اور وہ بھی دم توڑ گئی۔ اس رشتے سے ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ دوسرے سسرالی بھی چند دن کی بچی اس کے دروازے پر ڈال گئے۔ بچی کچھ بڑی ہوئی تو معلوم ہوا ذہنی طور پر نابالغ تھی۔ جب تک دادی زندہ رہی ان بچوں کی دیکھ بھال کرتی رہی جب دنیا چھوڑی تو بچے خود پلنے لگے۔ فرید اللہ ہمیشہ سے نشوں کا رسیا تھا۔ نشے میں دھت جانے کیا اول فول بکتا بچہ یہی سنتے بڑا ہونے لگا۔ جب اسے معلوم ہوا کہ ماں دوبارہ اجڑ کر واپس آ گئی ہے تو ثمر سے ملنے آنے لگا۔

برسوں کی ترستی مامتا کو تو بیٹے کو سینے سے لگا کر جیسے سکون آ گیا۔ دیکھ دیکھ نہال ہوتی قدم قدم قربان جاتی۔ دن گزرے ایک دن بیٹے نے کہا ماں میں سارا بچپن تیری گود کو ترسا ایسا کر کہ ابا سے دوبارہ نکاح کر لے ہم پھر سے جڑ جائیں گے۔ فرید اللہ نے بھی ایسی اتاؤلی دکھائی گویا ثمر کو چھوڑ کر ایک دن سکون سے نہیں رہ سکا۔ سب کے مشورے سے نکاح ہوا اور ثمر دوبارہ پہلے گھر پہنچ گئی۔ اگلے روز سورج کا منھ دیکھتے ہی بیٹے کی طرف لپکی تو قدم زمین نے جکڑ لئے۔

اس کی آنکھوں میں کھولتی نفرت، غصے اور حقارت نے ثمر کے پاؤں باندھ دیے۔ جب بولا تو دہکتے انگارے ثمر کو بھسم کرتے چلے گئے۔ برسوں دادی اور باپ کی بھری نفرت پھل پھول لا چکی تھی۔ وہ بے وزن وجود کے ساتھ بے حس و حرکت تھی جب بیٹے نے پیچھے کھڑے باپ کے ہاتھ سے کاغذات چھین کر ماں کے منھ پر مارے اور بتایا کہ کیسے باپ بیٹے نے منصوبہ بنایا اپنی تذلیل کا بدلہ لینے کا۔ مجھے پال نہ سکی اور دوسرے شوہر کی آس میں گود سے نکال پھینکا۔

برسوں کی نفرت بھڑکتی آگ بن چکی تھی۔ ثمر ہوش و حواس کی سرحد سے کہیں باہر تھی۔ آنکھیں کھولتی بند کرتی بخار میں تپتی نیم بے ہوشی میں بیٹے کو صفائیاں دیتی کہ اس کی تو کسی دور میں بھی کسی نے نہ سنی۔ نہ جانے کتنے روز اس خواب اور بے ہوشی میں گزرے۔ ہوش میں آئی تو پیٹ کے ساتھ بھائی بھی چلا اٹھے روٹی کے بغیر گزارا نہیں۔

آج ثمر اسی کالج میں آیا کی نوکری کرتی ہے جس میں وہ فرسٹ ائر کی طالبہ تھی۔ قندھاری اناروں جیسی صحت مند اور سرخ۔ بات بات پر کھلکھلا کر ہنستی تو چہرہ گلال سے بھر جاتا۔ اب خاموشی سے سٹاف روم سے پرنسپل آفس اور کلاس رومز کے چکر کاٹتے فرسٹ ائر کی ان بچیوں کی باتیں حیرت سے سنتی ہے جو سہیلیوں کو عنابی چہرے اور کھلتی مسکراہٹوں سے بتاتی ہیں کہ ان کی منگنی کسی رشتہ دار یا کسی رئیس زادے سے ہو گئی ہے کہ خاندان کی بزرگ خواتین کا کہنا ہے بڑی عمر کی دلہن کے چہرے پر سختی آ جاتی ہے۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).