سگ آزاد
ان دنوں شہر کہ ارباب اختیار نے عجب انتظام کیا ہوا ہے کہ کتوں کو چھوڑ رکھا ہے اور اینٹ، پتھروں کو باندھ رکھا ہے۔ جن سے کتوں کی خبر لی جاتی ہے :۔
”ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظم بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد ”
( فیض )
ان دنوں شہر کی حالت اتنی آشوب ناک ہے۔ پچھلے کئی برسوں سے ڈاکا زنی اپنے عروج پہ ہے۔ خوف و ہراس کی بو فضاء میں پھیل ہوئی ہے :۔
”ان دنوں حال شہر کا ہے عجب
لوگ مارے ہوئے ہیں دہشت کے ”
(جون ایلیاء)
پارک میں بیٹھے ہوئے چار دوستوں سے چاند رات کو بٹوے، موبائل اور موٹرسائیکل ڈکیتی سر عام بندوق کی نوق پہ کی جاتی ہے۔ اور اس طرح عید کے دوسرے دن ایک بزرگ شہری سے بندوق کی نوق پہ موٹرسائیکل ڈکیتی کی جاتی ہے۔
”یہ شکوہ کجبر ناروا ہے
سب کچھ تو یہاں گنوا سکے ہم ”
اس طرح سے شہر کے گردونواح سے آئے روز یہی سننے کو ملتا ہے کہ فلاں شخص کو لوٹ لیا گیا فلاں نے مزاحمت کرنے کی کوشش کی اور فائر مار دیا گیا۔
”اے قاتلوں کے شہر! بس اتنی سی عرض ہے
میں ہوں نہ قتل، کوئی تماشا کیے بغیر ”کل رات ایک اور خبر سننے کو ملی کہ شہر کے ایک مرکزی چوک پہ ایک نوجوان سے تین مسلح ڈاکوں نے موٹرسائیکل ڈکیتی کی تو نوجوان کو مزاحمت کرنے پر پانچ فائر مار دیے گئے وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا اور ستم ظریفی یہ کہ وہ اس بھرے شہر سے نکل بھی گئے اور مرحوم جون کا شعر یاد آ رہا ہے کہ :۔
”اب نہیں کوئی بات خطرے کی
اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے ”
حیرت اس بات کی ہوتی ہے کہ آخر کب تک لوگ مرتے رہے گے یا برسراقتدار کے کانوں پہ جوں رینگے گی کہ نہیں
آج سے کچھ ماہ پہلے الیکشن کے وقت یہی عوام جلسے جلوسوں کے لیے اکٹھا ہو جایا کرتی تھی مگر یہاں کسی کے مرنے پہ کوئی افسوس نہیں۔
” آبادیوں سے عرض ہے، شہروں سے التماس
اس وقت اپنے کارگزاروں کا ساتھ دو ”
حیرت تو یہ ہوتی ہے کہ الیکشن کے دنوں میں روباہ خضال سیاسی امیدوار عوام کے ہاں گڑھے مردے نکال کر ان کی بخشش کی دعا کے لیے پہنچتے تھے۔ مگر اب تو کوئی عمائدین شہر بھی ان کے ہاں پرسش حال کے لیے نہیں جاتا عمائدین شہر تو کوتوالوں اور افسروں کو روغن قاز ملنے میں مصروف رہتے ہیں کتنا نفاق ہے اس شہر کی فضاء میں جانے ان حالات کو دیکھ کر مجھے مرحوم جون ہی یاد آتا رہتا ہے :۔
”یہ تیرے لوگ نہیں ہیں یہ تیرا شہر نہیں
یہ مشورہ ہے مرا تو یہاں سے چل نکلو ”
ملک اور ریاست میں عام شہری کی عزت و عظمت، جان و مال کی ذمہ داری حکومت کے ذمے ہوتی ہے۔ مگر یہاں چپ رہنے ہی کو امن سمجھا جاتا ہے اور مرحوم فیض کے دھیمے لہجے کی لو ظلم کے شعلے کو بجھا کر ہی بجھے گی:۔
”بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں ”
دل ان دنوں سنگ بنا جاتا ہے کوئی مزاحمت نہیں کوئی افسوس نہیں کوئی سرکاری سطح سے بیان نہیں ایم این اے، ایم پی اے، ایس پی، وزیراعلی تک کس نے بھی لبوں کو جنبش نہیں دی۔
”شہر کی داستاں نہ پوچھ، ہے یہ عجیب داستاں
آنے سے شہر یار کے شہر غلام ہو گیا ”
قصور صرف اتنا ہے کہ یہ شہر ( جام پور ) جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقے ہونے کی سزا بھگت رہا ہے۔ جہاں پر وعدوں کے دفتروں کو دیمک چاٹ گئی:۔
” یہ زندگی جو ہے اسے معنی بھی چاہیے
وعدہ ہمیں قبول ہے، ایفا کیے بغیر ”
ارباب اختیار سے التماس ہے کہ ماوٴں کی نالاں و فریاد پہ کان دھرے اور آزاد کتوں کو مارنے کے لیے کتا مار مہم شروع کرے۔
”حاکم وقت ہوا، حاکمِ فطرت شاید
ان دنوں شہر میں، نافذ ہے خزاں کا موسم ”

