روشنی کے سفیر


زیرِنظر کتاب ”روشنی کے سفیر“ (پاکستان کے مثالی اساتذہ ) کے عنوان سے ڈاکٹر انجم حمید نے ادارہ فروغ قومی زبان کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر رؤف پاریکھ کی زیرنگرانی مرتب کیا جسے ادارہ فروغ قومی زبان اسلام آباد نے سنہ 2022 میں شائع کیا۔ اس سے قبل اس کتاب کی جلد اوّل کو ادارہ فروغ قومی زبان نے سنہ 2018 میں شائع کیا جسے ڈاکٹر رؤف پاریکھ اور افتخار عارف کی سربراہی میں ڈاکٹر راشد حمید اور ڈاکٹر صفدر رشید نے مرتب کیا تھا۔

چونکہ بے شمار اساتذہ ہیں جنہوں نے مختلف انداز سے لوگوں کو متاثر کیا سب کو ایک جلد میں بیان کرنا ناممکن تھا جس کے پیش نظر ڈاکٹر انجم حمید نے اس کتاب کو جلد دوم کی صورت میں شائع کیا۔ ڈاکٹر انجم حمید مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد جو اب ادارہ فروغ قومی زبان ہے میں ڈائریکٹر مطبوعات کے عہدہ پر اپنی خدمات سر انجام دے رہیں ہیں۔ اس سے قبل آپ اسی ادارہ میں ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کے عہدہ پر بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کر چکیں ہیں۔

کتاب ”روشنی کے سفیر“ میں پاکستان بھر سے کل 113عظیم اساتذہ کے بارے میں مضامین پیش کیے گئے ہیں جلد اوّل میں 60 جب کہ جلد دوم میں کل 53اساتذہ پر مضامین قلم بند کیے گئے ہیں۔ اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ جن عظیم اساتذہ پر مضامین لکھے گئے ہیں ان پر مضامین لکھنے والے بھی بیشتر نامور اساتذہ ہی ہیں۔ اس کتاب میں ڈاکٹر اقبال آفاقی، پروفیسر افتخار چشتی، پروفیسر حمید یزدانی، قاضی برکت علی، ڈاکٹر تحسین فراقی، ڈاکٹر غلام نبی، ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی، پروفیسر ڈاکٹر آنسہ احمد سعید، ڈاکٹر توصیف تبسم، پروفیسر ڈاکٹر ایوب صابر، پروفیسر ڈاکٹر رفیع محمد چودھری، ڈاکٹر صوفی محمد ضیاءالحق پروفیسر ڈاکٹر معین الدین عقیل سمیت کل 53 اساتذہ کی خدمات درج کی گئیں ہیں۔

ایک معلم ان خوبیوں پر جنہیں اقبال نے اوصافِ میرِ کارواں بتایا ہے پر عمل کر کے نظم و ضبط کو اپنا شعار بنا لیتا ہے تو وہ پھر وہ ”خودی کے زور سے دنیا پہ چھاجا“ کا عملی استعارہ بن جاتے ہیں۔

شاید اقبال نے ایسی ہی شخصیات جو اس کتاب ”روشنی کے سفیر“ کا حصہ ہیں کے لیے لکھا ہے جو خودی کی لاج رکھتے ہیں وہ اپنا مقام خود پیدا کر لیتے ہیں۔ آپ معاشرے کے کسی بھی شعبہ پر نظر دوڑائیں تو آپ کو وہاں جن مناصب پر بھی موجود اشخاص نظر آئیں گے چاہے وہ منصفِ اعلی ہو یا وزیراعظم وہ اپنے اساتذہ ہی کی مرہون منت ہیں۔ کتاب میں موجود شخصیات کو پڑھیں تو فخر محسوس ہوتا ہے کہ یہی ”ذروں میں آفتاب“ جیسی شخصیات ہیں جنھوں نے ہمارے معاشرے کے لیے ہر لحاظ سے گراں قدر خدمات پیش کیں ہیں ) پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی (آپ کبھی کبھی اس قدر جذباتی ہو جاتے کہ انہیں خود پر قابو نہ رہتا مزاجاً بھی آپ کسی قدر مغلوب الغضب تھے کبھی کسی بات پر غصہ آ جاتا تو طلبہ کو نہایت سختی سے ڈانٹ دیتے لیکن دوسرے ہی لمحے یا کلاس کے بعد انہیں احساس ہوتا کہ میری برہمی ضرورت سے زیادہ تھی تو کسی قدر وقفے کے بعد اسی طالب علم کو بُلا کر اس سے عذرِ معذرت کرنے لگتے کبھی کسی طالب علم کی بدتمیزی یا گستاخی پر اُسے کلاس سے نکال دیتے اور کہتے خبردار آئندہ ایک ہفتے تک میری کلاس کا رخ نہ کرنا مگر دوسرے دن جب وہ کلاس میں نہ آتا تو اسے بلا کر پوچھتے : ”میاں تم آئے کیوں نہیں؟ کیا میری بات کا برا مان گئے؟ لیکچر دینا ہوتا یا امتحانی پرچوں اور طلبہ کی تحریری مشقوں کی پڑتال یا تحقیقی مقالے کی جانچ یا دفتری امور کی ذمہ داری۔ آپ مزاجاً اور طبعاً ہر کام توجہ، محنت اور انہماک سے انجام دیتے۔ امتحانی پرچوں اور مشقوں کو جانچتے ہوئے، وہ صحیح اور غلط پر نشان لگاتے جاتے اور بعض اوقات ایک دو لفظوں میں اپنا اچھا یا بُرا تاثر بھی رقم کر دیتے مثلاً“ بالکل غلط ”۔ لغو ہے۔ فضول وغیرہ۔

(قاضی برکت علی) ایسے استاد پڑھاتے ہیں تو پڑھانے کا حق ادا کر دیتے ہیں۔ بچوں کو پڑھانا لکھانا قاضی برکت علی کا اوڑھنا بچھونا تھا ان کے پڑھانے کا طریقہ اتنا عمدہ اور دلچسپ ہوتا کہ جو کچھ پڑھاتے وہ اسی وقت ذہن نشین ہو جاتا۔ ”آپ کے ایک شاگرد آپ کے بارے لکھتے ہیں۔ :

” میرا تعلق گجر برادری سے ہے ایک زمانہ تھا کہ گجروں کو پڑھنے لکھنے سے کوئی سرو کار نہ تھا۔ میں بھی ایک دفعہ سکول سے بھاگا تھا مگر پکڑا گیا اور قاضی صاحب نے مجھے سمجھایا اور مجھ سے وعدہ لیا کہ آئندہ سکول سے نہیں بھاگوں گا اور محنت سے پڑھوں گا۔ میں نے وعدہ کر لیا پھر جوں جوں مجھ میں لیاقت پیدا ہوتی گئی تو تو میرا دل پڑھائی میں لگتا گیا گجر برادری میں شاید میں پہلا پڑھا لکھا شخص ہوں پھر میں نے اپنے بھائی بندوں اور برادری کے لوگوں کو حصول علم کی طرف راغب کیا میں تسلیم کرتا ہوں کہ لاہور اور قصور کی گجر برادری میں آج جو تعلیم کا چرچا ہے وہ زیادہ تر قاضی برکت علی کی وجہ سے ہے میں یہ کہتا ہوں کہ اگر میں قاضی برکت علی کا شاگرد نہ ہوتا تو آج کھوتی ریڑھی چلا رہا ہوتا اور گلیوں میں دودھ بیچتا پھرتا۔

“ قاضی برکت علی نے اپنی زندگی میں تقریباً دو ڈھائی لاکھ شاگردوں کو زیورِ تعلیم و تربیت سے آراستہ کیا۔ (ڈاکٹر آنسہ احمد سعید) آپ سے میرا پہلا تعارف تب ہوا جب میں گورنمنٹ اسلامیہ کالج فیصل آباد میں انٹرمیڈیٹ کی تعلیم حاصل کر رہی تھی۔ تب ہمیں اردو کا مضمون ہماری محترم استاد ڈاکٹر شازیہ صمدانی پڑھایا کرتیں تھیں۔ دوران لیکچر انھوں نے بتایا کہ آپ اِسی کالج سے پڑھ کر پھر اِدھر ہی اپنی تدریسی خدمات بطور لیکچرار بھی سر انجام دے چکیں ہیں۔

آپ نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم فل اردو کی ڈگری ”کرشن چندر کے ناولوں کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ“ کے نام سے مقالہ لکھ کر حاصل کی۔ آپ ہی کی کوششوں سے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں پی۔ ایچ۔ ڈی کی کلاسوں کا اجراء ہوا اور اس طرح ڈاکٹر رشید امجد کی نگرانی میں ”کرشن چندر کے افسانوں کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ“ کے موضوع پر مقالہ لکھ کر 1990 میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی پہلی پی۔ ایچ۔ ڈی (ڈاکٹر) ہونے کا اعزاز پایا جس پر اس وقت کے صدرِ پاکستان جناب رفیق تارڑ نے آپ کو رول آف آنر اور گولڈ میڈل سے نوازا۔

آپ کا ہزاروں تشنگانِ علم کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کا جو طویل سفر گورنمنٹ اسلامیہ کالج فیصل آباد سے شروع ہوا تھا آپ کی ریٹائرمنٹ کے بعد جو اعزازی عہدہ رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے صدر شعبہ کے طور پر آپ کو ملا تھا اس عہدہ سے سبکدوش ہونے پر وہ سفر مکمل ہوا لیکن آپ آج بھی علم کی شمع جلائے ہوئے ہیں اور اپنی کتابوں کی تصنیف و تالیف میں مصروف ہیں۔

(ڈاکٹر رفیع محمد چودھری) آپ کو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں شعبہ طبیعات کے منتظمِ اعلی کے طور پر تعینات کیا گیا یہاں آپ 1959 تک اپنے فرائض منصبی ادا کرتے رہے۔ آپ نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے ایم ایس سی فزکس کی جماعت کی ابتدا کی اور 1956 میں ایم ایس سی فزکس کا پہلا گروہ نکالا۔ آپ نے ایٹمی توانائی کے شعبے میں تحقیق اور عملی تربیت کی اعلی تجربہ گاہ قائم کی۔ آپ کی کوششوں سے طبیعات کے میدان میں تحقیقی کاموں میں صحت مند رجحان پیدا ہو گیا اور ملک کو اعلی تربیت یافتہ سائنسدان میسر آنے لگے۔

1955 میں جب ڈاکٹر نظیر احمد کی سربراہی میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن قائم کیا گیا تو ان اداروں سے فارغ التحصیل افراد اس ادارے کو مسلسل میسر آنے لگے ڈاکٹر ثمر نے بتایا کہ ایٹم بم کی تیاری میں اٹامک انرجی کمیشن کے بیس کے قریب مختلف ضمنی اداروں کے دس ہزار سائنسدان مصروف عمل رہے جن میں اسّی فی صد نامور سائنس دان ڈاکٹر رفیع محمد چودھری کے بلاواسطہ یا بالواسطہ شاگرد تھے۔ آپ کے ان مایا ناز شاگردوں میں بذات خود ڈاکٹر ثمر مبارک مند، ڈاکٹر اشفاق احمد، ڈاکٹر آئی ایچ عثمانی، ڈاکٹر سعید دورانی، ڈاکٹر حمید احمد خان، ڈاکٹر این ایم بٹ اور متعدد شاگرد حکومت پاکستان سے اعلی قومی اعزاز ”نشانِ امتیاز“ ”حلال امتیاز“ ستارہ امتیاز ”وغیرہ حاصل کر چکے ہیں۔

ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری صاحب کو 1964 میں“ ستارہ خدمت ”1981میں“ ستارہ امتیاز ” اور 2006 میں“ حلالِ امتیاز ”سے سرفراز کیا جا چکا ہے۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور نے اس عظیم استاد اور سائنسدان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف کے طور پر چند سال پہلے پروفیسر رفیع محمد چوہدری سے منسوب اتالیقی اور تحقیقی نشست کا اجراء بھی کیا۔

پروفیسر ( ڈاکٹر خواجہ عبدالحمید یزدانی) ادیب، نکتہ سنج، شاعر، محقق، نقاد، مُبصر اور ہمہ جہت شخصیت کے حامل انسان بلکہ آپ بہترین اقبال شناس اور غالب شناس بھی ہیں۔ آپ ہمیشہ دوسروں کو آسان فہم علم پہنچانے کے لیے سچی اور کھری بات عمدہ انداز میں بیان کرتے ہیں۔ آپ کا شمار چند بڑے مبصرین میں بھی ہوتا ہے۔ تحقیق و تنقید کے شعبے میں آپ کی خدمات قابلِ ستائش ہیں۔ آپ کی تحریروں میں سادگی و روانی بدرجۂ اتم موجود ہے۔ آپ کی شخصیت بقول غالبٓ

نہ ستائش کی تمناء نہ صلے کی پروا

کی عملی تصویر ہے۔ یہی وجہ ہی کہ آپ اپنی تحریروں میں کسی قسم کی ڈپلومیسی سے کام نہیں لیتے۔ اور بوجھل اور مشکل الفاظ کی بھرمار سے اجتناب کرتے ہیں۔ آپ کی ادبی تخلیقات کا سب سے بڑا کارنامہ کلامِ اقبالٓ کی شرح پیامِ مشرق، شرح جاوید نامہ، شرح بالِ جبریل اور کلامِ غالبٓ میں شرح کلیاتِ غالب فارسی سمیت دیگر شرحیں ہیں جسے آپ نے ایسے ڈھنگ اور سلیقے سے بیان کیا ہے کہ قاری کو موضوع کے پیچیدگی کا رتیّ بھر احساس نہیں ہوتا

کتاب پر کیے جانے والے تبصرہ میں اتنی وسعت نہیں کہ کتاب میں موجود عظیم شخصیات کی خدمات کو بیان کیا جا سکے۔ ستاروں پر کُمند ڈالنے والی یہی شخصیات ہیں جن کی درس و تدریس کی خوشبو معاشرے میں تادیر مہکتی رہے گی اور یہی شخصیات موجودہ اور اگلی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ آپ اس کتاب کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ کیا لوگ تھے جو ہم نے کھو دیے اور یہی لوگ ہیں جو اب بھی ہمارے درمیان موجود ہیں مگر ہمیں ان کی عظمتوں اور ان کے اندر موجود روشنیوں کا احساس نہیں ہے۔ پیشِ لفظ کے مطابق یہ کتاب اُن عظمتوں اور روشنیوں کا احساس اور ادراک کرانے کی ایک کوشش ہے میرے مطابق جس میں لکھاری کافی حد تک کامیاب ہوا ہے۔ ”ڈاکٹر انجم حمید صاحبہ“ کی اس کتاب کو مرتب کرنے کی کوشش بلاشبہ قابلِ تحسین ہے کہ کتاب کو بار بار پڑھنے کا جی چاہتا ہے۔

میرے لیے یہ بڑی فخر کی بات ہے کہ مجھے میری محترم اساتذہ اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ اردو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد ڈاکٹر سمیرا اکبر صاحبہ نے مجھے کتاب ”روشنی کے سفیر“ پر قلم فرسائی کا موقع دیا۔ جس پر میں آپ کی بے حد مَشکُور ہوں۔ یہ کتاب ان عظیم شخصیات ہمارے (قومی مشاہیر) جنہوں نے معاشرے کے ہر شعبے میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دیں ہیں۔ ان کی خدمات کے اعتراف کی ایک کوشش ہے۔ اور ہمیں بھی باشعور قوم ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے چاہیے اپنے مشاہیر کو اپنی قومی زندگی میں زندہ و جاوید رکھیں اور نوجوان نسل کے سامنے نمونۂ عمل کے طور پر پیش کریں تا کہ ان سے متاثر ہو کر اور ان کی پیروی کر کے نوجوان طبقہ ملک کے لیے مفید ثابت ہو سکے۔

محسنوں کی ناقدری ایسا اجتماعی گناہ ہے جو قوموں کو بانجھ کر دیتا ہے اور اس گناہ میں مبتلا قومیں مادی اور اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو جاتی ہیں۔ ہمیں آج اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا کہ ہم اس گناہ میں کس قدر مبتلا ہیں۔ میں اپنے معزز اساتذہ خاص طور پر جامعہ کی سطح پر جن اساتذہ کرام سے اکتسابِ علم کا موقع ملا سمیت ان تمام عظیم شخصیات جو کتاب ”روشنی کے سفیر“ کا حصہ ہیں یا جنہوں نے کسی طور معاشرے کی تعمیر و ترقی اور ادب کی ترویج میں اپنی خدمات سر انجام دیں ہیں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے تبصرہ کو میر تقی میٓر کے اِس شعر پر اِختتام پذیر کرتی ہوں۔

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

فضیلہ زاہد
Latest posts by فضیلہ زاہد (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments