کسان کا مسئلہ: جناب وزیر اعظم آپ سے یہ امید نہ تھی
جب ذمہ داروں میں بے حسی انتہاء کو پہنچ جائے، ہواؤں کے رخوں کو آپ رخسار سمجھ کر مزید ہاتھ نہیں پھیر سکتے، آج کل ہیرا پھیری کا بازارِ گرم ہے۔ گرمی کی لہر نے کئی اور لہروں کو لہرا دیا، پاکستان کی آبادی کا ستر فی صد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ نوجوان تعلیمی رسیدیں لیے مارے مارے پھر رہا ہے۔ اداروں میں بیٹھے ہوئے زہریلے سانپ پھنکار رہے ہیں۔ زہریلے سانپوں سے مراد سرکاری اداروں میں بیٹھے ہوئے بھتہ خور، رشوت خور، کمیشن خور افراد ہیں جو اداروں کو اپنی خاندانی وراثت سمجھتے ہیں ٫خیر اب کالم کے عنوان کی طرف آتا ہوں، اس سال گندم کی کٹائی کے دنوں میں شدید موسلادھار بارشیں ہوئیں، کسان اپنی صفات کے ساتھ، ثابت قدم رہا، صبر، توکل، عاجزی اور کامل یقین کا دامن نہیں چھوڑا، گندم کی خریداری کے حوالے سے حکومتی پالیسیاں ابہام کا شکار رہیں، جو آج تک اپنی روایات قائم کیے ہوئے ہیں۔
10، اپریل کو صوبائی، ضلعی سطح کے ذمہ داروں نے بذریعہ سوشل میڈیا پوسٹیں لگائیں، کہ کسان، اپنی گندم کو فروخت کرنے کے لئے باردانہ ایپ کے ذریعے 13، اپریل سے 17، اپریل تک اپنی رجسٹریشن کرائیں، کسانوں نے کم نرخ ہونے کے باوجود حکومتی حکم نامے کو سر آنکھوں سے لگایا، شاید وہ امید رکھے ہوئے تھے۔ کافی دنوں تک حکومت کوئی گندم کی خریداری کا شیڈول نہ دے سکی، ہمارا چھوٹا کسان پوری طرح کچل دیا گیا ہے۔ ایک تو یہاں کا اشرافیہ تھانہ کچہری کے ذریعے جھوٹی درخواست بازی کر کے پورا سال غریبوں کو ہراساں کرتا رہتا ہے۔ دوسرا مائیکرو فنانس بینکوں میں عام آدمی کے ساتھ بہت بڑے فراڈ ہو رہے ہیں۔ ماضی میں جس طرح ہندو بنیا جکڑ لیتا تھا۔ اب اس سے بھی زیادہ خطرناک کام یہی بینک کر رہے ہیں۔ کئی مثالیں شہر لاوارث جلال پور پیر والا میں موجود ہیں۔
اب میں آپ کو اپنے اوپر کئی دنوں سے بیتی جانے والی آپ بیتی سے آگاہ کرتا ہوں، 7، مئی کو بذریعہ سوشل میڈیا میرے گاؤں کے کچھ کسانوں کو پتہ چلا کہ اب باردانہ پاسکو سنٹر سے ملے گا جس کی رجسٹریشن 9، مئی سے شروع ہے۔ میرے گاؤں کے بارہ کسان رجسٹریشن کرانے کے لیے پاسکو سنٹر لودھراں گئے۔ وہاں سارا دن مارے مارے پھرتے رہے، جب ان کی رجسٹریشن والے کے پاس باری آتی، تو وہ غصہ سے پوچھتا آپ کو کس نے بھیجا ہے۔ بیچاروں کی سفارش نہ تھی۔ اس لیے اپنے نام تک نہ لکھوا پائے۔
اسی شام کو مجھ سے رابطہ ہوا ہے میں نے کوشش کی کسی طرح ان کی رجسٹریشن ہو جائے، کسی دوست کے وسیلے سے رجسٹریشن تو ہو گئی۔ وہ خوش تھے۔ میرا شکریہ بھی ادا کیا، کہا کہ 13، کو مئی کو لسٹ لگنی ہے باردانہ کی، امید ہے ہمارے نام آ جائیں گے۔ میں اپنے کام کاج میں مصروف ہو گیا۔ 13، مئی کو دوپہر ایک بجے مجھے فون کالز آنی شروع ہو گئیں، کہ لسٹ لگی ہے ہمارے نام نہیں آئے، میں نے ہر ممکن کوشش کی پاسکو سنٹر لودھراں رابطہ کرنے کی، رابطہ تو ہوا، مگر آگے سے جو، جواب ملا اظہار میری زبان سے ممکن نہیں، پھر میں نے پاسکو ہیڈ آفس میل کی کوئی جواب نہیں دیا گیا پھر میں نے پاسکو ہیڈ آفس کال کی، پہلے تو زبردست طریقے سے پیش آئے کہ آپ کا کام ہو جائے گا جلدی، کئی گھنٹے گزر گئے پھر میں نے کال کی آگے سے کہا گیا کہ فلاں شخص ہمارا وہاں انچارج ہے اس کا نمبر بند جا رہا ہے۔
میں نے کہا کہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ کے پاس اس کا کوئی اور نمبر نہ ہو، مجھے ایک ایسا نمبر دے دیا گیا جو آج تک بند ہے۔ 14، مئی تک میں، مسلسل اپنی شکایت کا کہتا رہا، آخر کار میرے پاس کسی ذرائع سے وزیر اعظم آفس کا نمبر آ گیا میں نے 14، مئی کو شام 5 : 17 بجکر منٹ پر کال کی، مجھے جواب ملا کہ آپ کل کال کرنا صبح آپ کی شکایت کا ازالہ کیا جائے گا۔ میں نے 15، مئی صبح 10 : 35 بجکر منٹ پر کال کی، وہ افسر مجھے کہنے لگے کہ یہ وزیر اعظم آفس کا نمبر ہی نہیں ہے جب کہ وہ جھوٹ بول رہے تھے۔
حقیقت یہی تھی وہ کام نہیں کرنا چاہتے تھے۔ خیر میں نے وزیراعظم آفس کا دوسرا نمبر کسی ذرائع سے حاصل کیا، 15، مئی 3 : 20 بجکر منٹ پر کال کی، انہوں نے میری بات بہت توجہ سے سنی، مجھ سے وضاحت بھی طلب کی، مجھے لگا کہ شاید اب کام گھنٹوں میں ہو جائے گا۔ کیوں کہ ماضی میں جب میاں محمد شہباز شریف صاحب وزیر اعلیٰ پنجاب ہوتے تھے تو ان کا سول اداروں پر رعب و دبدبہ ہوتا تھا۔ منٹوں میں کام ہوتا تھا میرے ذہن میں وہی ماضی کا عکس تھا۔ 16، مئی ہو گئی مگر کوئی شنوائی نہ ہو سکی، میں نے دوبارہ وزیراعظم آفس کال کی اپنی شکایت کے ازالہ کی بات کی تسلی تو ملی مگر اپنی تک کام نہیں ہوسکا۔
جناب وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان میاں محمد شہباز شریف صاحب آپ سے لوگوں کو یہ امید نہ تھی جو اب ہو رہا ہے۔ کل تو قومی اسمبلی کے اجلاس میں بہت سارے پارلیمان یہ شکایت کر رہے تھے کہ باردانہ بلیک پے فروخت ہو رہا ہے۔ پاسکو سنٹر لودھراں کی بھی اس حوالے سے بہت ساری شکایات ہیں کہ 100 بوری باردانہ کی ساٹھ ہزار روپے میں فروخت رہی ہے جناب وزیراعظم میاں شہباز شریف صاحب! آپ فوری نوٹس لیتے ہوئے عام سطح پر گندم کی خریداری کا حکم دیں، اور انکوائری کا حکم دیں۔


