مہنگائی کے خلاف جنگ
آزاد کشمیر کا میرا ایک دوست محمد ثاقب مغل کئی دنوں سے مجھے متوجہ کر رہا تھا کہ کشمیر پہ بھی آپ ضرور قلم اٹھائیں، اس کی یاد دہانی سے مجھے ضلعی انتظامیہ کی گاڑی کی تصویر یاد آ جاتی، جو چند دن پہلے بڑی وائرل ہوئی اور سوشل میڈیا پر اسے خوب پذیرائی ملی، عوام الناس نے کشمیر کے عوام کی جد و جہد کو سراہا اور ان کو خراج تحسین پیش کیا کہ آپ اپنے حق کے لیے لڑ رہے ہیں سو یہ جنگ ضروری ہے، اس پورے وقت میں ایک دلچسپ بات اور یہ بھی ہے کہ اس احتجاج کو ہمارے میڈیا نے بہت کم کوریج دی جب کہ ہندوستانی میڈیا کو تو پچھلے ہفتے یہ ایک ایسا عنوان مل گیا تھا اور وہ اسے ایسے بڑھا چڑھا کر پیش کرتے تھے کہ جیسے پاکستان کا کشمیر چند دنوں میں ہندوستان فتح کر لے گا، ظاہر ہے انہوں نے پچھلی آدھی صدی سے جو ظلم و ستم مقبوضہ کشمیر میں ڈھایا ہے، جس کی وجہ سے دنیا کے سامنے وہ ایک مجرم کی حیثیت رکھتے ہیں بھارتی فورسز کے ہاتھ کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، جب کہ پاکستان کے زیر سایہ کشمیر میں ہمیشہ سے امن کی فضاء قائم رہی یہ احتجاج بھی پُر امن احتجاج تھا، پس اس احتجاج میں مذاکرات کی ناکامی کے بعد شدت پسندی ضرور دیکھی گئی جسے ہندوستانی میڈیا نے مزید بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔
اس احتجاج کی نمائندگی اور سرپرستی عوامی ایکشن کمیٹی کر رہی تھی جس میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی ہے لہذا یہ کسی ایک سیاسی جماعت کی طرف سے بھی احتجاج نہیں تھا بلکہ عوام الناس کا ایک سمندر تھا۔ اور عوام الناس کا سمندر کیوں نا نکلتا حالیہ چند برسوں کی مہنگائی نے ہر انسان کے منہ کا نوالہ چھین لیا ہے، وادی کشمیر میں یہ ہی صورت حال ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی کے وہ کمر توڑ بل جس نے بچوں کے دودھ کی رقم بھی اپنی جیبوں میں بھر لی ہے۔
ہم جو بجلی استعمال کرتے ہیں اس کا اچھا خاصا حصہ آزاد کشمیر کے دریاؤں، اور ندی نالوں سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ جب لوگوں کے احتجاج نے ایک منظم تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا روپ دھار لیا اور اس نے حکومت کے سامنے تین بنیادی مطالبات پیش کر دیے تو پہلے پہل تو انتظامیہ یہ سمجھ رہی تھی کہ یہ معمولی سا احتجاج ہے، ڈنڈے کے زور پر دبا لیا جائے گا۔ لیکن پہیہ جام ہڑتالوں، اور آزاد کشمیر کے مختلف ضلعوں سے آنے والے مظاہرین نے جلد ہی حکومت کے پاؤں سے زمین کھینچ لی۔
دکان دار اس احتجاج میں پیش پیش تھے، لیکن ہر طبقے کا عام آدمی جو ظالمانہ بلوں اور مہنگائی سے تنگ آ کر سڑکوں پر نکلا تھا، اس احتجاج میں شامل تھا۔ اس ایکشن کمیٹی کے تین بنیادی مطالبات تھے۔ اول یہ کہ آزاد کشمیر سے جو بجلی بن رہی ہے، اس کا حق ہے کہ بجلی کے نرخ ہائیڈرو پاور کی لاگت پر لگائے جائیں۔ دوم۔ پورے ملک میں اس وقت گندم کی فراوانی ہے اس لیے آٹا سستا کیا جائے۔ تیسرے اشرافیہ کو دی جانے والی مراعات ختم کی جائیں۔
اگر ان تینوں مطالبات کا جائزہ لیا جائے تو کوئی ایک ایسا مطالبہ نہیں تھا جو غلط ہو، بجلی کے بلوں نے تو ضروریات زندگی کی تمام قیمتوں کے برابر اپنا پیٹ بھرنا ہوتا تھا۔ جب کہ گندم تو اس وقت وافر مقدار میں موجود ہے اور یہ مطالبہ بھی بجا ہے جب کہ اشرافیہ کی سہولیات تو ہر سال مزید بڑھ جاتی ہیں جب کہ کام یہ ایک ٹکے کا نہیں کرتے مثال کے طور پر ، گندم سکینڈل کو ہی سامنے رکھ لیں۔ تو اس سارے معاملے میں اشرافیہ اور بیوروکریسی کا منفی کردار سامنے آئے گا یہ بیوروکریٹ جو ٹھنڈے کمروں میں بیٹھنے کے عادی ہیں انہیں اندازہ تک نہیں تھا کہ گندم کا سیزن آنے والا ہے؟
اور کسان سردی گرمی میں پورا سال محنت کر رہے ہیں ان کی گندم کون خریدے گا، ؟ یا پھر بیوروکریسی سے لے کر وزارتوں تک ملی بھگت تھی؟ بہر حال یہ ایک الگ عنوان ہے لیکن اشرافیہ کی یہ تو پلاننگ ہے، یہ تو ان کا ہوم ورک ہے۔ لیکن ان ان کی مراعات میں ہر سال مزید اضافہ ہوتا ہے۔ کشمیری عوام نے زبردست احتجاج کر کے آخر کار اپنے تینوں مطالبات منوا لیے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے 23 ارب روپے کا سبسڈی پیکیج آزاد کشمیر کے لیے جاری کر دیا۔ جوڈیشل کمیشن کا اعلان کر دیا گیا جو مراعات کا جائزہ لے کر تجاویز دے گا۔ مطالبات منوانے کے بعد 14 مئی سے یہ ہڑتال اور مظاہرے ختم کر دیے گئے۔ بجلی کے نرخ 100 یونٹ تک 3 روپے۔ 300 یونٹ تک 5 روپے۔ 300 سے زائد یونٹس پر 6 روپے۔
اس میں کوئی شک نہیں عوام ہی اصل طاقت ہیں۔ عوام الناس جب تک حکومت کو اشارتاً کہتی رہے گی حکومت مطالبات نہیں مانے گی۔ لیکن کشمیر کی عوام کی طرح احتجاج کر کے ڈٹ جائیں گے وہاں ان کی بات مان لی جائے گی۔ ورنہ حکام جو کیے جا رہے ہیں وہ جاری رکھا جائے گا۔ کشمیر کی طرز پر ہی ایک احتجاج کی کال پاکستان میں بین الصوبائی لیول پہ ضروری ہے۔ جس کی سرپرستی کوئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ تاجر اور عوام خود کریں۔


