جرمنی میں ممنوعہ نعرے اور اقوال
مورخہ چودہ مئی بروز منگل کو، انتہائی دائیں بازو کی، اے۔ ایف۔ ڈی یعنی ”جرمنی کا متبادل“ نامی جماعت کے ایک سینئر رہنما کو جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس سینیئر راہنما کے خلاف، موجودہ جرمن الحاقی حکومت کی گرین جماعت کے ایک رکن صوبائی اسمبلی نے مقدمہ دائر کیا تھا۔ اس مقدمے میں اے۔ ایف۔ ڈی کے سینئیر راہنما پر، انتیس مئی دو ہزار اکیس میں ایک تقریر کے دوران، جرمن قانون کے مطابق، ممنوعہ نعرہ لگانے کا الزام لگایا گیا تھا۔
اگر یہ سینئر راہنما اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں اپیل نہیں کرتا اور اگر اعلیٰ عدالتیں بھی یہ فیصلہ برقرار رکھتی ہیں تو وہ ہمیشہ کے لئے ”سابقہ سزا یافتہ“ کہلائے گا۔ جرمنی میں یہ ”ٹائٹل“ قدم قدم پر مشکلیں پیدا کر سکتا ہے۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد سماجی رابطوں کے پلیٹ فارموں پر پرو اینڈ کاؤنٹر تبصروں کی بھرمار ہے۔ اے۔ ایف۔ ڈی کے راہنما نے اپنی تقریر میں تین نعرے لگائے تھے
۔ ہمارے وطن کے لئے سب کچھ۔
۔ سیکسونی۔ انہالٹ کے لئے سب کچھ۔
۔ جرمنی کے لئے سب کچھ
عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ تیسرا نعرہ
( جو جرمن زبان میں تین لفظوں پر مشتمل ہے )
ہٹلر کی جماعت این ایس ڈی۔ اے۔ پی، یعنی نازی جماعت کا ہے اس لئے یہ موجودہ جمہوری جرمنی میں قانونی طور پر ممنوع ہے۔ یہ نعرہ نازی جماعت کی نہایت طاقتور اور ظالم، ایس۔ ایس ”طوفان ڈویژن“ نامی پارا ملٹری فورس لگاتی تھی۔
سیکسونی۔ انہالٹ جرمنی کا موجودہ صوبہ ہے جو جرمن الحاق سے پہلے سابقہ مشرقی جرمنی کا بھی صوبہ تھا۔
اے۔ ایف۔ ڈی کے اسی راہنما کو ایک اور مقدمے میں پیش ہونا ہے۔ اس نے جرمنی کے تھورینگیا نامی صوبے (سابقہ مشرقی جرمنی کا صوبہ) کے شہر ہالے میں ایک اجتماع میں، اسی ممنوعہ نعرے کے پہلے دو الفاظ کہنے کے بعد ، سامعین کی طرف مائیکروفون کرتے ہوئے، ان کو، ممنوعہ نعرے کا تیسرا لفظ ”جرمنی“ بولنے کے لئے کہا جو سامعین کی طرف سے جوش و خروش کے ساتھ ادا کیا گیا۔ اس ممنوعہ نعرے کی ادائیگی کے الزام کے علاوہ، اس پر دوسرا مقدمہ عوام کو نفرت پر اکسانا اور غداری، کا بنایا گیا ہے ۔
ان تمام مقدمات کے فیصلے آنے پر، اے۔ ایف۔ ڈی کے اس سینیئر سیاستدان کو، اجتماعی سزا کے طور پر سزائے قید بھی ہو سکتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فاشسٹ جماعت کا اعلیٰ ترین سیاست دان، اپنے دفاع میں عدالت کو بتاتا ہے کہ اسے اس ممنوعہ نعرے کا علم نہیں تھا۔
نازی جماعت کا، دائیں بازو کو سیدھا لے جاتے ہوئے ”ہائیل ہٹلر“ کہنا، موجودہ جرمنی میں سب سے بڑی ممانعت اور واضح طور پر غیر قانونی ہے۔ یہ قانون اظہارِ رائے کی آزادی کی اجازت نہیں دیتا۔ اس پر، دو ہزار چھ میں، جرمنی کی آئینی عدالت کا فیصلہ آ چکا ہے۔
اسی طرح، ”کیونن سلام“ بھی ممنوع ہے۔ اس میں دائیں ہاتھ کی تینوں بڑی انگلیوں کو الگ الگ اوپر کیا جاتا تھا کہ ”ڈبلیو“ کا نشان بنے۔ یہ مائیکل کیونن نامی نیو نازی باشندے کی مناسبت سے ممنوع کیا گیا ہے ۔
سوستک، ایس۔ ایس۔ رنس، سیلٹک کراس اور وولفس اینجل قابلِ سزا نشانات ہیں۔ ان کا کسی کے پاس ہونا یا استعمال کرنا خلاف قانون قرار پایا ہے۔
نازی جماعت کی دو ڈویژنوں (SA ، SS) سوستک (KZ) ،ہٹلر نوجوانوں کی جماعت (HJ) نازی جماعت کا مخفف (NS) کے حروف سرکاری دفاتر میں مستعمل نہیں۔ کاروں کی رجسٹریشن کے سلسلے میں مختلف صوبوں میں مختلف صوبائی قوانین رائج ہیں۔ لیکن مندرجہ بالا پانچ حروف تہجی مجموعے استعمال کرنا، ہر جگہ ممنوع ہے۔ 18 یا 88 کے ہندسے، ایڈولف ہٹلر (پہلا اور آٹھواں عدد) اور ہائیل ہٹلر (آٹھویں اعداد) کی مناسبت سے ممنوع ہیں۔
ہائیل ہٹلر کے ساتھ کبھی کبھی ”سیگ ہائیل“ یعنی فتح نجات کا نعرہ بھی لگایا جاتا تھا جو اب ممنوع ہے۔ نازی جماعت اور اس کے ذیلی گروہوں کے ممنوعہ اقوال ذیل میں دیکھیے
۔ ایک قوم، ایک سلطنت، ایک راہنما
۔ جرمنی جاگو
۔ وفاداری میری/ہماری عزت ہے
۔ خون اور عزت
اس کے علاوہ، اگر یہ قول ”ہر ایک وجود کے لئے“ نازی جماعت کے پروپیگنڈا کے لئے استعمال ہو رہا ہو تو خلاف قانون ہے۔


