لوک سبھا چناؤ اور بھارتی اقلیتیں

بھارت میں جاری ایوان زیریں کے الیکشن کا نہایت اہم مدعا یہاں بسنے والی اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے کردار اور مستقبل سے جڑا ہے۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 25 تا 28 تمام شہریوں کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتے ہیں لیکن نریندر مودی کے گزشتہ دو ٹرمز کی بھارتی سیاست! دائیں بازو کی مذہبی بنیاد پرستی سے عبارت ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ آج اپنے سماجی اور سیاسی تصورات کو لے کر جن تضادات میں گھری ہے اس کا سب سے زیادہ نقصان بھارتی اقلیتوں نے بھگتا ہے۔ بی جے پی سرکار کے تحت بھارت کا سیاسی، سماجی اور عدالتی نظام بری طرح متاثر ہو چکا ہے اور یہی متعصبانہ ہندوتوا نظریہ! بی جے پی اور نریندر مودی کا سب سے مضبوط پینترا ہے۔ رام مندر کی تعمیر بارے عدالت کے فیصلے میں بھی اسی بنیاد پرست سیاست کا اثر دکھائی دیتا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ”راشڑیہ سیوک ہریوار ’ (آر ایس ایس) کا سیاسی ونگ ہے جو انتہائی گہری اور فعال ہندوتوا شناخت پر یقین رکھتا جبکہ بھارت میں بسنے والے مسلمانوں اور عیسائیوں کو خود سے الگ اور کم تر درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ چیف منسٹر گجرات سے دلی سرکار کے مکھ منتری تک کا مودی جی کی سیاسی معرکہ آرائیوں کا سفر! بنیاد پرست سیاست کا مرہون منت ہے۔ بھارت کے 200 ملین سے زائد مسلمان اور تقریباً 28 ملین عیسائی، مودی کی سیفران پالیٹکس کے ہاتھوں خوف اور بے یقینی سے دوچار ہیں۔
1992 میں بابری مسجد کے انہدام اور رام مندر کی تعمیر معاملے پر بی جے پی نے بھارت کی چمپئن سیاسی جماعتوں کو پیچھے دھکیل کر سیاست کے روایتی مراکز پر اپنا قبضہ جما لیا۔ اسی جماعت کے چیف منسٹر کے دور میں 2002 میں گجرات فسادات کے دوران 1 ہزار سے زیادہ مسلمانوں کا قتل عام ہوا اور ہزاروں گھروں کو نذر آتش کیا گیا، لاکھوں بے گھر ہوئے مگر اس نفرت انگیز تشدد پسندی نے مودی کو مقبولیت کے ساتویں آسمان پر پہنچا دیا ہے۔
گزشتہ سال شمال مشرقی ریاست منی پور میں کرسچن کمیونٹی کے خلاف ہونے والے شرمناک واقعات میں کچھ مسیحی خواتین کی سرعام برہنہ پریڈ کروائی گئی، گھروں کو لوٹا اور جلایا گیا۔ ہریانہ اور چھتیس گڑھ میں بھی مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف تشدد، گھروں کو نذر آتش کرنے کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔
ہندوتوا سیاست کے exclusivist بیانیے کے پھیلتے وائرس نے بھارتی اقلیتی مسلمانوں کو کبھی گاؤ رکھشا تو کبھی ”Love Jihad“ اور مسلم پرسنل لا کے نام پر ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس ضمن میں قابل مذمت سچائی یہ ہے کہ شہریوں کے مابین مذہبی بھید بھاؤ اور زیادتی کے واقعات کو کھلے چھپے سٹیٹ اور رائیٹ ونگ سیاسی جماعتوں کی بھرپور سرپرستی و معاونت حاصل رہی ہے۔ مرکز اور بی جے پی سرکار کے تحت ریاستوں میں مذہبی عدم برداشت اور دنگا فساد کے مظاہرے عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 2014 اور 2019 کی الیکشن وکٹری نے مودی حکومت کے عزائم اور منصوبوں کو عوامی ووٹ کی طاقت مہیا کر کے عدم برداشت اور مذہبی شدت پسندی پر مہر ثبت کی ہے۔
بھارتی آئین میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کے خاتمہ بھی ہندو ووٹرز کو خوش کرنے کی کوشش تھی۔ اسی دوران دسمبر 2019 میں مودی حکومت کی جانب سے سیٹزن ترمیمی قانون (NRC) کے ذریعے ایک نیا تنازعہ کھڑا کیا گیا۔ مجوزہ قوانین کا اطلاق بھارت میں پناہ لینے والوں پر کیا جانا ہے۔ سٹیزن شپ ایکٹ کے خلاف دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں بشمول اقوام متحدہ سمیت بھارتی شہریوں اور سول سوسائٹی نے بھی بھرپور احتجاج کیا۔ متعلقہ قانون کو لے کر مطلوبہ دستاویزات نہ رکھنے والے تارکین وطن شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ بھارت میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والوں کی اکثریت بنگالی اور روہنگیا مسلمانوں کی ہوتی ہے۔ جنہیں نامساعد حالات کی بنا پر مجبوراً اپنا علاقہ چھوڑنا پڑتا ہے یو این کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی ( یو این سی آئی آر سی) کی 2023 میں مرتب کی گئی رپورٹ کے مدنظر بھارتی حکومت کو مذکورہ قانون کے حوالے سے امریکی تحفظات سے آگاہ کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اس ایشو پر فریڈم ہاؤس کی 2023 کی رپورٹ میں بھارت کو مذہبی آزادی کے حوالے سے ”جزوی آزاد“ کا درجہ دیا گیا ہے۔
بی جے پی کے دور حکومت میں تبدیلی مذہب قانون کے ذریعے شہریوں، خاص طور پر شیڈول کاسٹ ہندوؤں کے اسلام اور عیسائیت قبول کرنے کا راستہ روکنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس مقصد کے حصول کی خاطر ہر قسم کے دباؤ اور تشدد آمیز ہتھکنڈوں کا استعمال بھی کیا جا تا ہے۔ بھارت کی 28 میں سے 12 ریاستوں میں اینٹی کنورژن لا پاس کیا جا چکا ہے۔ بعض ریاستوں میں اس قانون کو عدالتی فیصلوں سے مشروط کرنے کے باوجود کچھ میں اس کا اطلاق ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں، بھارتی سول سوسائٹی اور ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ نے اس معاملے پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
بی جے پی اور وزیراعظم مودی کانگریس پر مسلم نوازی کا الزام دھرتے آئے ہیں، جس کا مقصد ملک کی 80 فیصد ہندو اکثریت کے ووٹ کا حصول ہے۔ مرکز اور کئی ریاستوں میں حکمران جماعت کے مسلم دشمنی کے کھلم کھلا اظہار نے عام شہریوں میں مسلمانوں کے خلاف ہر قسم کے اقدام کی ہلہ شیری دی ہے۔ اس پس منظر میں 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں مودی کی ریکارڈ تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کی صورت میں سنگین خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
بی جے پی کی پاپولسٹ سیاست کے ماتحت بھارت کے بدلتے تشخص کو بے بنیاد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن جیتنے کی صورت میں ہیٹ ٹرک کرنے والے مودی جی اور ان کے سیاسی اتحادی، بھارت کے آئین میں کیا تبدیلیاں لاتے ہیں؟ اور ان کے سیاسی مخالفین ان کے راستے میں کون سی رکاوٹیں کھڑی کر سکتے ہیں؟ بھارت کے روایتی، متنوع، غیر مذہبی تشخص کو بنیاد پرست ہندو اکثریتی آٹو کریسی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔

