قریب 24 سال پہلے کی بات ہے چھوٹا بھائی، جو ایف ایس سی میں زیر تعلیم تھا، دوڑتا ہوا گھر پہنچا۔ کچھ گھبرایا ہوا دیکھ کر ہم نے وجہ پوچھی ہی تھی کہ اتنے میں دھڑ دھڑ دروازہ پیٹنے کی آوازیں آنے لگیں۔ کچھ ہی لمحوں میں عجیب افراتفری پھیل گئی۔ والدہ دروازے پر گئیں تو کچھ لوگ ہاتھوں میں ڈنڈے سوٹے پکڑے غصے سے بھائی کا نام لے کر اسے باہر بھیجنے کا کہہ رہے تھے۔ صورتحال کی سمجھ نہیں آ رہی تھی لہذا ہمارا پہلا خیال یہی تھا کہ ہو نہ ہو بھائی کا کسی سے جھگڑا ہو گیا ہے۔
والدہ نے باہر کھڑے لوگوں سے معاملے کی بابت سوال کیا۔ ان میں بہت سے شناسا چہرے تھے جو ایک مخصوص علاقے سے تعلق رکھتے تھے۔ ہمارے معاشرتی تعصب کا ایک پہلو اپنے ہم زبان ہم علاقہ لوگوں کا ہر اچھے برے کام میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا بھی ہے۔ دریں اثناء چند اشخاص جو محلے کے سمجھدار سمجھے جانے والے لوگ تھے وہاں پہنچ گئے اور والد صاحب کا پوچھنے لگے۔ ہم بہنیں، بھائی کو گھر میں روکے ہوئے تھیں جو بار بار باہر کو لپک رہا تھا۔ عجیب کھینچا تانی جاری تھی کہ مذکورہ افراد کو والدہ نے گھر میں بلا کر تسلی سے بات کرنے کو کہا۔ چونکہ والد ڈیوٹی پر تھے اور بڑا بھائی بھی گھر پر موجود نہ تھا۔ والدہ نے بھائی کو بھی بیٹھک میں بلا لیا اس کے بعد جو سوال جواب ہوئے وہ مجھے آج بھی یاد ہیں۔
Read more