زعفرانی بھارت اور مدنی پاکستان

47 میں ہندوستان کے بٹوارے کی بنیاد مذہبی تشخص اور طرز معاشرت کا فرق تھا۔ صدیوں کی ہندوستانی شناخت کو رد کرنے والے علیحدگی پسندوں نے اپنے لیے مسلم اکثریت کے علاقوں میں ایک الگ مملکت حاصل کر کے خود کو محفوظ و مامون تصور کر لیا تھا۔ مذکورہ مملکت کے دونوں بازوں کے درمیان سینکڑوں میل کا زمینی فاصلہ حائل ہونے کے باوجود مذہبی ایکتا نے کروڑوں انسانوں کو مشرقی اور مغربی پاکستان کے دلفریب نعرے سے مطمئن و

Read more

لوک سبھا چناؤ! 240 کا آنکڑہ اور ساجھے داری کی حکومت

بھارت کے ایوان زیریں کے تھکا دینے والے معرکے کے نتائج کا اعلان ہو چکا ہے، 2014 میں 282 اور 2019 میں 303 کی زور دار باری کھیلنے والی مودی جی کی بھارتیہ جنتا پارٹی اس بار محض 240 سیٹیں ہی جوڑ پائی ہے، جبکہ 543 کے ایوان میں اسے سادہ اکثریت حاصل کرنے لیے کم از کم 272 نشستیں درکار تھیں جبکہ 14 جماعتی اتحاد این ڈی اے نے مجموعی طور پر 293 سیٹیں جیتی ہیں۔ بھارت کے پہلے

Read more

مودی کی پاپولسٹ سیاست اور لوک سبھا چناؤ کے نتائج

سات مراحل میں مکمل ہونے والے بھارت کے ایوان زیریں، لوک سبھا کے 18 ویں الیکشن کے نتائج کا اعلان ہو چکا ہے۔ برسرِ اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی اور وزیراعظم نریندر مودی کی لگاتار تیسری انتخابی فتح، نہرو کے 1947 سے 1964 تک تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے کے بعد یہ دوسرا موقع ہے۔ انتہا پسند ہندوتوا سیاست کے بل بوتے گجرات کی وزارت اعلی سے دلی سرکار کے مکھ منتری کے پتھ پر براجمان ہونے والے مودی نے حالیہ

Read more

لوک سبھا انتخابات اور جموں و کشمیر کا سیاسی لینڈ سکیپ

آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیریوں پر کیا گزری ہے؟ لوک سبھا انتخابات کے دوران جموں و کشمیر کی سیاسی بیٹل فیلڈ میں کیا داؤ پیچ آزمائے گئے؟ کشمیریوں نے الیکشن کو استصواب رائے کا نعم البدل تسلیم کر لیا ہے؟ کشمیر و فلسطین کے انسانی المیے نام نہاد مہذب قوموں کے سامنے سراپا سوال ہیں۔ کروڑوں کشمیریوں کا ان کی زمین پر حق تسلیم کرنے سے انکار کرنے والا بھارت! دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی کلغی

Read more

لوک سبھا چناؤ اور بھارتی اقلیتیں

بھارت میں جاری ایوان زیریں کے الیکشن کا نہایت اہم مدعا یہاں بسنے والی اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے کردار اور مستقبل سے جڑا ہے۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 25 تا 28 تمام شہریوں کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتے ہیں لیکن نریندر مودی کے گزشتہ دو ٹرمز کی بھارتی سیاست! دائیں بازو کی مذہبی بنیاد پرستی سے عبارت ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ آج اپنے سماجی اور سیاسی تصورات کو لے کر جن تضادات میں گھری

Read more

لوک سبھا انتخابات کا چوتھا فیز

بھارت میں لوک سبھا ( لوئر ہاؤس ) انتخابات کا چوتھا مرحلہ آج 13 مئی کو انجام کو پہنچا۔ گزشتہ ہفتے 7 مئی کو تیسرے فیز کے دوران موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی نے گاندھی نگر کے حلقے میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ الیکشن کے چوتھے مرحلے کے دوران مشہور ویٹرن اداکار شترو گھن سنہا اویسٹ بنگال کے علاقے آسانسول سے میدان میں اتریں گے۔ جبکہ ساؤتھ میں تلنگانہ سے مجلس اتحاد المسلمین کے اویس الدین اویسی کے چناؤ پر

Read more

آر پار کشمیری برسرِ پیکار

تقسیم ہند کے برطانوی فارمولے کی ٹیڑھی کھیر آج 2024 میں بھی جوں کی توں ہے۔ خطہ جموں و کشمیر کے کروڑوں باشندے گزشتہ سات دہائیوں کے پیہم سیاسی و سماجی بحرانوں سے دوچار ہیں۔ جنت نظیر وادی! سات لاکھ سے زیادہ بھارتی افواج کے بہیمانہ سلوک اور بھارت کے غاصبانہ تسلط سے آزادی کی جدوجہد کرنے والوں کے درمیان پستے کشمیریوں کی بربادی اور تباہی کی داستان بن چکی ہے۔ مودی حکومت کی جانب سے بھارت کے آئین میں دی

Read more

سرینگر میں جی 20 کانفرنس کا اجلاس – زمینی حقائق اور امکانات

عالمی اور علاقائی سیاست کے تیزی سے بدلتے رجحانات پر نگاہ ڈالتے ہی ‏پاکستان اور بھارت کی ترجیحات اور معاملات کی یکسر مختلف سمتوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ پاکستان داخلی محاذوں کی دلدل میں گھرا جبکہ پڑوسی ملک بھارت جی 20 ممالک کی میزبانی کی تیاریوں میں مصروف عمل ہے اور وہ بھی ایسی سر زمین پر جو 7 دہائیوں سے زائد عرصے سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود متنازع ریاست جموں کشمیر کہلاتی ہے۔ اس تقریب

Read more

کوئی تو آگے بڑھے، ہاتھ روکے

قریب 24 سال پہلے کی بات ہے چھوٹا بھائی، جو ایف ایس سی میں زیر تعلیم تھا، دوڑتا ہوا گھر پہنچا۔ کچھ گھبرایا ہوا دیکھ کر ہم نے وجہ پوچھی ہی تھی کہ اتنے میں دھڑ دھڑ دروازہ پیٹنے کی آوازیں آنے لگیں۔ کچھ ہی لمحوں میں عجیب افراتفری پھیل گئی۔ والدہ دروازے پر گئیں تو کچھ لوگ ہاتھوں میں ڈنڈے سوٹے پکڑے غصے سے بھائی کا نام لے کر اسے باہر بھیجنے کا کہہ رہے تھے۔ صورتحال کی سمجھ نہیں آ رہی تھی لہذا ہمارا پہلا خیال یہی تھا کہ ہو نہ ہو بھائی کا کسی سے جھگڑا ہو گیا ہے۔

والدہ نے باہر کھڑے لوگوں سے معاملے کی بابت سوال کیا۔ ان میں بہت سے شناسا چہرے تھے جو ایک مخصوص علاقے سے تعلق رکھتے تھے۔ ہمارے معاشرتی تعصب کا ایک پہلو اپنے ہم زبان ہم علاقہ لوگوں کا ہر اچھے برے کام میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا بھی ہے۔ دریں اثناء چند اشخاص جو محلے کے سمجھدار سمجھے جانے والے لوگ تھے وہاں پہنچ گئے اور والد صاحب کا پوچھنے لگے۔ ہم بہنیں، بھائی کو گھر میں روکے ہوئے تھیں جو بار بار باہر کو لپک رہا تھا۔ عجیب کھینچا تانی جاری تھی کہ مذکورہ افراد کو والدہ نے گھر میں بلا کر تسلی سے بات کرنے کو کہا۔ چونکہ والد ڈیوٹی پر تھے اور بڑا بھائی بھی گھر پر موجود نہ تھا۔ والدہ نے بھائی کو بھی بیٹھک میں بلا لیا اس کے بعد جو سوال جواب ہوئے وہ مجھے آج بھی یاد ہیں۔

Read more

ریاستی بیانیے کی لاٹھی، لیاقت بلوچ کا بیٹا اور میرا بھائی

ہر گھر کی طرح ہمارے گھر کا لاڈلا بچہ اعجاز تھا۔ کچھ اپنی عادات، بھولی بھالی صورت، صلح جو طبیعت اور کچھ اپنی بیماری کی وجہ سے والدین ہر لحظہ اس کا خیال رکھتے، جلد تھک جاتا تو اسے سہلاتے اوپن ہارٹ سرجری کے بعد صحت کے مسائل قدرے کم ہوئے تھے مگر ختم نہیں ہو سکے تھے۔ پڑھائی کے معاملات میں وہ نہایت سنجیدہ اور ذمے دار طالب علم تھا۔ ٹیکنیکل کالج سے میٹرک کے بعد علامہ اقبال کالج سے ایف اے کیا اسی دوران پاک سوزوکی کمپنی کی اپرنٹس شپ ٹرینی کے طور پر سیلیکٹ ہو گیا۔ یوں پڑھائی اور کام ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ کراچی ان دنوں لسانی خلفشار اور فسادات کا شکر تھا۔ تعلیمی اداروں میں بھی لسانی سیاست عروج پر تھی۔ بڑے بھائی چونکہ اسلامی جمیعت طلبہ سے وابستہ تھے اسی وجہ سے بجائے کسی قوم پرست طلبہ تنظیم کے اسے اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کرتے

Read more

برانڈز کی شاپنگ: چوہا دوڑ میں وقت نہ ضائع کیجیے

ابھی کچھ سال تک سیر و تفریح سے مراد کسی پارک، تاریخی مقام یا میوزیم کی سیر سمجھا جاتا تھا۔ بچے چڑیا گھر کی سیر کی ضد کرتے اور بڑے ساحل سمندر یا کسی جھیل کے کنارے وقت گزارنے سے محظوظ ہوا کرتے۔ بدلتے وقت نے جہاں اور بہت کچھ بدلا تفریح کے ڈھنگ اور مطالب بھی بدلنے لگے۔ بڑھتی ہوئی آبادی، تفریحی مقامات کی ابتری و نایابی نے عام آدمی کو گھٹن کا شکار کیا اور اس خلاء کو خریداری کلچر نے پورا کرنے کی ٹھان لی۔ اس ضمن میں عوامی اشتہاء اور ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے بزنس ماڈلز کے تحت متبادل تفریح کے نظریے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بلند و بالا، وسیع و عریض جگمگاتے شاپنگ سینٹرز اور مالز کی ”مشروم گروتھ“ ہونے لگی۔

Read more

”صحافت کا دھندہ تو اب ڈیجٹل مارکیٹ میں ہی چلے گا“

میڈیا کے دھندے کا مندہ ہے کہ ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔ صحافی بے روزگار، میڈیا ہاؤسز بند جب کہ اخبارات کی سرکولیشن گرتی جا رہی ہے اشتہارات کی کمی نے میڈیا مالکان کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ نت نئے ہتھکنڈے آزما کر بھی ڈوبتی نیا بچانا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ روایتی میڈیا کا ایسا عروج اور ایسا زوال کہ باعث عبرت ٹھہرے! ذرا سوچئے نیوز میڈیا انڈسٹری کا زوال اس کے مفقود ہونے کا مژدہ ہے یا اس مردہ ہوتے روایتی میڈیا ماڈل پر ایک نئے اور پہلے سے بہتر سفر کا آغاز؟

تیز رفتار سائنسی ترقی نے میڈیا کو بھی نئے امکانات اور چلینجز سے دوچار کیا ہے۔ آراستہ اور پیراستہ بند کمروں میں قیمتی سوٹ بوٹ میں ملبوس میڈیا ”گرو“ ہزار جتن کے باوجود مٹھی سے ریت کی صورت پھسلتی ویوئر شپ کو جوڑے رکھنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ روز و شب برپا کیے جانے والے سرکس کے باوجود بزنس ٹھپ اور مستقبل تاریک دکھائی دیتا ہے۔ ٹامک ٹوئیاں مارنے کے بجائے دیوار پر لکھا پڑھیں اور سمجھ کر بہتری کی تدبیر کریں۔

Read more

پنجاب ہوشیار باش

پنجاب آج کل ’بریلوی رائز‘ کے رنگین خوش کن سہانے خواب دیکھ رہا ہے۔ جو درحقیقت راکھ اور خون کے سوا کچھ نہیں اور اس خلفشار کا انجام کسی صورت قبائلی عوام کے دیوبندی وہابی مقدس جہاد سے مختلف نہ ہو گا۔ ماضی کی بربادی، تاریخ کی کتاب میں مفصل درج ہے۔ جبکہ دیکھنے والی آنکھوں کے لئے قبائلی عوام اور پشتون قوم کی طویل، کٹھن اور مستقبل قریب میں نہ ختم ہونے والے آلام باعث عبرت ہونا چاہیے۔ بظاہر غلبے کو جانے والا یہ راستہ تباہی کی گہری کھائی کو جاتا ہے، یہ وہ فیصلہ کن موقع ہے جس کی قیمت پنجاب کی آنے والی کئی نسلوں کو چکانا پڑے گی۔

Read more