عدلیہ اصلاحات: دِل ہَمَہ داغ داغ شُد پُن٘بَہ کُجا کُجا نِہُم


عدلیہ جمہوری معاشرے کا اہم ستون ہے، اس کا کردار اس بات کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ انصاف سستا، فوری، غیر جانبدارانہ اور منصفانہ ہو۔ عدلیہ حقائق اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرے۔ وہ بیرونی دباؤ سے آزاد ہو، چاہے وہ حکومت، سیاسی جماعتوں یا کسی مفاد پرست ٹولے کی طرف سے ہو۔ عدلیہ کو آئین نے اہم اختیارات تفویض کیے ہیں، تاہم دیگر اداروں کی طرح اسے بھی لا محدود اختیارات حاصل نہیں، وہ بھی اپنے کاموں کے لئے جواب دہ ہے۔

اس کے فیصلے شفاف، واضح اور قابل فہم استدلال پر مبنی ہوں۔ تاکہ ان فیصلوں پر اعتماد کیا جا سکے۔ ماضی میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں عدلیہ اور حکومت کے متنازع فیصلوں کے متعلق سوالات اٹھتے رہے۔ ”نظریہ ضرورت“ اور آئین کی خود ساختہ تشریحات نے بحرانوں کو جنم دیا۔ برطانیہ نے ہندوستانی عدالتی نظام کو نوآبادیاتی طاقت کے مفادات کے لئے ڈیزائن کیا۔ ججوں کو وسیع صوابدیدی اختیارات دیے گئے۔ انہیں جائیداد کے تنازعات سے ٹیکس کے معاملات پر فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل تھا۔ قیام پاکستان کے بعد اسی قانونی نظام میں ججوں کے صوابدیدی اختیارات بھی ورثے میں ملے۔ عدلیہ کے صوابدیدی اختیارات، بدعنوانی اور سیاسی اثر و رسوخ کے فروغ کا ذریعہ بنے۔ ایسے ججوں کے سامنے مقدمات دائر کرنے کی روایت نے قانون کے اطلاق میں شفافیت کے فقدان اور تعصب کے تاثر کو نمایاں کیا۔ 22

پاکستان میں عدالتی نظام اپنی سست رفتاری کے باعث بد اعتمادی کا شکار ہے، مقدمات کے فیصلوں میں دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ اس سے عدلیہ پر عوامی اعتماد ختم اور سائلین فوری اور شفاف انصاف سے محروم رہتے ہیں۔ مقدمات کے بیک لاگ کو حل کرنا، تقرری کے عمل میں اصلاحات، عدالت کے بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی کو بہتر بنانا، اور قانونی تعلیم اور تربیت میں اصلاحات وہ تمام اہم اقدامات ہیں جو عدلیہ کو مضبوط بنانے میں مدد عدلیہ کو ایک آزاد اور موثر ادارہ بنا سکتے ہیں۔

گزشتہ دنوں ”عاصمہ جہانگیر کنونشن“ منعقد ہوا جس کا عنوان تھا ”پیپلز مینڈیٹ، جنوبی ایشیا میں شہری حقوق کا تحفظ“ ۔ کنونشن میں ”شہری حقوق کے تحفظ میں عدلیہ کا کردار“ میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے جسٹس منصور علی شاہ نے پاکستان میں عدلیہ کی تاریخ پر ندامت کا اظہار کیا اور اسے بہتر بنانے کے لیے پرکشش تجاویز دیں۔ ان کے خطاب کے اہم نکات یہ تھے۔

• آئین میں ہے کہ ”عدلیہ آزاد ہوگی“ عدلیہ میں اس پر اتفاق ہے کہ اب یہ کسی صورت ممکن نہیں کہ ہم عدلیہ کی آزادی پر کسی قسم کا سمجھوتہ کریں۔

• عدلیہ کے متعلق آئین یہ تین باتیں درج ہیں۔ 1۔ عدلیہ آزاد ہوگی۔ 2۔ عدلیہ سستا انصاف فراہم کرے گی۔ 3۔ عدلیہ آسان انصاف مہیا کرے گی۔

•عدلیہ کی تاریخ میں سیاہ باب ہیں جن پر فخر کر سکتے ہیں اور نہ ان کا دفاع، لیکن ماضی کے کچھ اچھے فیصلے بھی موجود ہیں۔

•کچھ فیصلے غلط بھی ہوسکتے ہیں لیکن 4000 ججز میں سے روزانہ کام کرنے والے 3000 ججز سارے کے سارے تو غلط نہیں ہوسکتے۔ وہ ڈلیور بھی کر رہے ہیں۔ 2023 میں تقریباً 14 لاکھ سے زائد کیسز انہی ججز نے نمٹائے۔

•عدلیہ بالکل مفلوج نہیں لیکن ان میں ایسے فیصلے بھی ہیں جو اچھے فیصلوں پر حاوی رہے۔
•ہمارا عدالتی نظام بہت سست ہے، ضلعی عدالتوں سے سپریم کورٹ تک کیس پہنچنے میں 20 سال لگ جاتے ہیں۔

•اس وقت بھی 24 لاکھ سے زائد کیسز زیرالتواء ہیں جن میں ضلعی عدالتوں کی کارکردگی بہت ہی بری ہے کیونکہ 20 لاکھ سے زائد کیسز صرف وہاں ہیں۔

• اس مسئلے کے حل کے لیے ہم ایسی ایپ بنا رہے ہیں، جس میں ہر ضلع میں درج کیسز کو تین رنگوں میں تقسیم کیا جائے گا اور واضح طور پر یہ جانا جا سکے گا کہ ان کی التواء کی وجہ کیا ہے اور یہ آگے کیسے بڑھ سکتے ہیں۔ یہ کیس کب درج ہوا اور اس کے بعد کی سماعتوں میں کیا کیا ہوا اور اسے نمٹانے میں تاخیر کی وجہ کیا ہے؟

•فرد کی بجائے سسٹم مضبوط کیا جا رہا ہے موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے خود کو طاقت ور رکھنے کی بجائے اپنی طاقت کا کافی حصہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں سسٹم کے حوالے کر دیا ہے جو ایک اچھا آغاز ہے جس میں اب فرد واحد کے بجائے یہ فیصلہ سسٹم کرے گا کہ کیس کہاں لگے گا اور اس کو کون سنے گا جس کا عدالتی نظام انصاف کو بہت فائدہ ہو گا۔

•ججز کی تعیناتی کے طریقہ کار میں بھی اصلاحات ہوں گی ضلعی عدالتوں کے ججز کے امتحانات کو بھی درست کر رہے ہیں۔ ماضی میں بہت زیادہ ججز کی تعیناتی جعلی امتحانات کے ذریعے ہوئی جس کا خمیازہ پوری قوم نے بھگتا۔

• موجودہ اعلی عدلیہ کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ جو جج کام نہیں کر رہا اس کو اٹھا کر باہر پھینکا جائے۔ کرپشن اور نا اہلی پر زیرو ٹالرنس پالیسی ہوگی۔ موجودہ چیف جسٹس اس معاملے میں بہت سنجیدگی سے اقدامات لینے جا رہے ہیں۔

• وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کو مخاطب کرتے ہوئے جسٹس منصور شاہ نے کہا کہ موجودہ عدالتی نظام 1860 اور 1940 کے قوانین کے ذریعے چلایا جا رہا ہے پوری دنیا میں عدلیہ کے لیے جدت کے ساتھ ساتھ جدید قوانین بنتے آئے ہیں لیکن ہم ٹس سے مس نہیں ہوئے۔

• کتنی شرمناک بات ہے کہ جن لوگوں کو عوام نے قانون سازی کے لیے بھیجا وہ قومی اسمبلی کے ایک دن کے اجلاس میں تقریباً 6 کروڑ روپیہ لگا کر بھی عوام کو جدید طرز پر قانون سازی دینے کی بجائے ابھی تک گلیوں، نالیوں اور کھمبوں کی سیاست سے باہر نہیں نکل رہے۔

•ہمارے ادارے میں مافیاز کا راج ہے اس لیے اس میں اب شخصیات کی بجائے سسٹم کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

• پوری دنیا میں 90 فیصد تنازعات کا حل ”اے ڈی آر“ سسٹم کے ذریعے نکالا جاتا ہے اور 10 فیصد کیسز عدالتوں میں آتے ہیں جبکہ ہم نے اپنے پنچایت سسٹم اور جرگہ سسٹم کو بالکل مفلوج کر دیا ہے۔ پاکستان بھر کے 138 اضلاع میں مصالحاتی مراکز قائم کیے جائیں گے جہاں پر مل بیٹھ کر لوگوں کے تنازعات کا حل نکالا جا سکے گا۔

•روزانہ 70 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں جنہیں 3000 یا 4000 ججز کے ذریعے حل کرنا، ناممکن ہے۔ دنیا میں 10 لاکھ لوگوں کے لیے 90 سے زائد ججز، جبکہ ہمارے ہاں 10 لاکھ کے لیے صرف 13 ججز ہیں۔ دیگر ممالک میں صرف 10 فیصد کیسز ججز کے پاس، جبکہ یہاں 100 فیصد کیسز لائے جاتے ہیں۔ عالمی معیار کے مطابق ملک بھر میں 21000 ججز درکار ہیں جبکہ ہمارے پاس صرف 4000 ہیں۔

• عالمی رپورٹ میں پاکستانی عدلیہ کا نمبر 142 واں ہے جس کی وجہ سے قوم ہمیں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتی۔

• غلط مقدمہ پر سارے اخراجات مقدمہ بنانے والے پر ڈالے جائیں یہ دنیا بھر میں رائج ہے کیونکہ یہ بہت بڑا مسئلہ ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ کی تقریر کو پڑھتے ہوئے ماضی پر نظر دوڑائیں تو یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ کب اور کس نے نظام عدل کو اپنے مفادات کا اسیر بنایا، اور کون ہے جو آج بھی اسی تسلسل کو جاری رکھنے پر مصر ہے۔ جج تو جج، ان کے اقرباء کی خواہشات پر ملک کو سیاسی عدم استحکام کی طرف دھکیلا گیا، ایک جیسے مقدمے میں ایک ہی بینچ نے وفاق اور صوبے میں متضاد فیصلے کیے۔ یہ شاید ہی دنیا کی کسی اور عدلیہ میں ہو کہ عدالتی سماعت سے پہلے ہی جج کا نام سن کر ، فیصلے کی جو پیش گوئی ہوئی، وہی جاری ہوا، آدھے آدھے گھنٹے کی سماعت میں 6 سو دہشت گردوں کی بریت اور ملزموں کو وہ مراعات بھی دیے جانے کی مثالیں موجود ہیں، جس کا مطالبہ ہی نہیں تھا۔ جب کسی کام میں اتنی خرابیاں آ پڑیں کہ ان کی درستی امکان سے باہر ہو جائے تو یہ کہتے ہیں۔ ”دل ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم“ ۔ کچھ یہی عالم ہماری عدلیہ کا ہے۔

بہر حال جسٹس منصور علی شاہ کا خطاب امید کی کرن ہے۔ ججوں کے تقرر کی سپریم کورٹ کی قائم کردہ کمیٹی کی قیادت انہی کے پاس ہے، امید ہے کہ نشتر مسیحائی کے ذریعے عدلیہ کی اصلاحات میں وہ قوم کو مایوس نہیں کریں گے۔ انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام جس شعر سے کیا وہی وقت کا تقاضا ہے اگر اس طرف توجہ نہ دی گئی تو اب یہ آوازیں بلند ہو رہی ہیں کہ اصلاحات سے کام نہیں چلے گا بلکہ پورا نظام بدلنا ہو گا:

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
منصف ہو تو تم حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے

Facebook Comments HS