سندھ میں وزارتوں کی تقسیم اور کارکنان میں پھیلی مایوسی
پاکستان پیپلز پارٹی کو سندھ میں چوتھی بار حقِ حاکمیت نصیب ہوا۔ پارٹی کارکنان اور دہائیوں سے پیپلز پارٹی پہ اندھا اعتماد کرنے والے سندھ واسی خوش تھے کہ اس بار پیپلز پارٹی پہلے سے زیادہ بہتر انداز میں ان کی خدمت کرے گی اور ان کی تکالیف کے خاتمے کے انقلابی اقدامات اٹھائے گی۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اور اپنے انقلابی عوامی منشور میں بھی پورے ملک سمیت سندھ کی عوام کو یہ نوید سنائی تھی کہ پیپلز پارٹی عوامی فلاح و بہبود کے کیا کیا منصوبے رکھتی ہے۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھ میں طرزِ حکمرانی میں مثبت اور فلاحی تبدیلیوں، بدعنوانی پر عدم برداشت کی پالیسی اور عوام کو مفت بجلی، پانی دینے، سڑکوں کا جال پورے سندھ میں پھیلانے، عوام کو مزید بہتر مفت صحت و صفائی کی سہولیات اور مفت تعلیم جیسی سہولیات کا وعدہ کیا۔ انہوں نے پانی، اور سولر سے بجلی کے منصوبوں کو اپنی ترجیحات میں سر فہرست رکھا جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی کی سندھ سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں مزید اضافہ ہوا جبکہ حاصل کردہ ووٹوں میں بھی ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا، یہ امید بلکہ تقریباً یقین ہو چلا تھا کہ پارٹی قیادت سندھ کی عوام کے اعتماد پارٹی کارکنان کی شبانہ روز محنت، ان کی اپنے اپنے امیدواروں کی کامیابی کے لیے پرجوش اور جا رہا نہ انتخابی مہم کا صلہ ایک بہترین عوامی امنگوں کی ترجمانی کرنے والی صوبائی حکومت تشکیل دے گی جو پارٹی کارکنان اور سندھ کی عوام کے نہ صرف حقوق کی ترجمانی کرے گی بلکہ ان کے مسائل اور مشکلات کے حل کے فوری اور ہنگامی اقدامات اٹھائے گی مگر وہ کہتے ہیں نا کہ ”ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے“ یہ بھی ان ہی ہزاروں خواہشوں میں سے صرف ایک خواہش ہی نکلی جو پوری ہونے سے پہلے ہی دم توڑ گئی۔
سندھ کابینہ کا اعلان ہوا، جیالوں اور سندھ کے لوگوں کے ارمان پورے ہونے سے پہلے ہی ٹھنڈے پڑ گئے۔ کسی زمانے میں پارٹی کا سرمایہ کارکن ہوتے تھے مگر وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ ترجیحات اور خیالات بھی بدل گئے، اب پارٹی کارکنوں اور ووٹ دینے والوں کے بجائے ارکان اسمبلی وہ بھی منظورِ نظر پہلی ترجیح اور پسند بن چکے ہیں۔ کارکن کیا سوچتا ہے عوام کس طرح ردعمل دیتے ہیں کسی کو غرض نہیں، کرنے والوں کو جو کرنا ہے اپنی مرضی منشاء اور مفادات کے تحت ہی کرنا ہے چاہے اس سے عوامی بے چینی میں اضافہ ہوتا ہو یا کارکنان میں مایوسی بددلی اور تشویش پھیلتی ہو۔
سندھ میں وزارتوں کے دونوں فیز میں انتہائی سینیئر کہنہ مشق پارٹی عہدیداران اور رہنما وزارتوں سے محروم رکھے گئے۔ سب سے زیادہ حیرت اس وقت ہوئی جب صوبائی صدر نثار احمد کھوڑو وزارت سے محروم کیے گئے۔ پیپلز پارٹی سندھ کی تنظیم و کارکنان یہ امید رکھے ہوئے تھے کہ ان کے صوبائی صدر نہ صرف سینئر صوبائی وزیر کی حیثیت سے وزارت کا حلف اٹھائیں گے بلکہ انہیں اہم وزارت تفویض کی جائے گی جس سے تنظیم کے مایوس اپنے آپ کو لاوارث سمجھنے والے عہدیداران و کارکنان کی داد درسی ممکن ہو سکے گی، مگر اس امید پہ اوس پڑ گئی جب پارٹی کے صوبائی صدر نہ صرف سینئر وزیر نہ بن سکے بلکہ وزارت سے ہی محروم کر دیے گئے۔ یہاں تک کہ ایسے لوگوں کو بھی اہم اور ایک سے زائد وزارتیں تفویض کی گئیں جن کے خلاف اپنی ہی پارٹی کے امیدواروں نے انہیں شکست سے دوچار کرنے کا الزام عائد کیا۔
سندھ کی صوبائی وزارتوں کی تقسیم میں کیا مصلحت کارفرما تھی یہ بات ابھی تک سمجھ سے بالاتر ہے۔ نثار کھوڑو صاحب کے علاوہ، آغا سراج درانی، امتیاز احمد شیخ، اسماعیل راہو، میر نادر خان مگسی، قمبر شہداد کوٹ کے چانڈیو برادران، خیرپور میرس کا وسان خاندان اور بہت سارے اہم پارٹی رہنما اس بار وزارت حاصل کرنے کے لیے قیادت کے اعتماد پہ پورا کیوں نہیں اترے اس پہ ابھی تک سوالیہ نشان ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انتخابات میں کامیابی کے بعد ٹھٹہ میں ایک جلسہ عام میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس بار سندھ حکومت پیپلز پارٹی کی تنظیم چلائے گی، تاکہ سندھ اور پارٹی کارکنان کی زیادہ بہتر طریقے سے خدمت کرسکیں، مگر چیئرمین صاحب کی باتیں محض باتیں ہی رہ گئیں، نجانے کون سی غیرمرئی طاقت ہے جس کے ہاتھوں میں اب تک سندھ حکومت کی باگ ڈور ہے۔
اس وقت سندھ میں پیپلز پارٹی کی مسلسل چوتھی بار صوبائی حکومت بن چکی ہے، مگر تنظیم اور کارکنان کی صفوں میں پھیلی مایوسی کی موجودہ صورتحال شاید پہلی بار محسوس ہو رہی ہے۔ اس کی وجہ تنظیم کی حکومتی معاملات سے مکمل دوری، حکومت اور تنظیم کے درمیان ہم آہنگی اور رابط کا فقدان، صوبائی وزراء اور ارکانِ اسمبلی کی تنظیمی عہدیداران و کارکنان کو نظر انداز کرنا انہیں اہمیت نہ دینا اہم وجوہات ہیں۔ پارٹی قیادت نے پچھلے دنوں سندھ کے پانچوں ڈویژنز میں تنظیم اور صوبائی وزیرِ اعلیٰ کی قیادت میں وزراء کے اجلاس منعقد کروا کر تنظیم کو اہمیت نہ ہونے کے تاثر کو زائل کرنے کی کوشش تو ضرور کی ہے مگر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں یہ ان میٹنگز کی نتائج پہ منحصر ہے اور اس انتہائی اہم مسئلے کے حل کی جانب فوری طور پر توجہ کی ضرورت ہے، بصورت دیگر یہ معاملات آگے چل کر کسی بڑے نقصان کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔
سندھ میں پیپلز پارٹی کے پچھلے تین ادوار میں صرف 2008 سے 2013 تک سندھ کی عوام کو بڑی تعداد میں سرکاری اور نیم سرکاری اداروں میں ملازمتیں فراہم کی گئیں، مگر اس کے بعد روزگار تو ملا مگر صرف مخصوص طبقے کو۔ سندھ پبلک سروس کمیشن میں یا تو سندھ کے با اثر لوگوں کو یا پھر کھلے عام لاکھوں کروڑوں روپے کے عیوض نوکریاں فروخت کرنے کے الزامات لگے۔ اس دوران پارٹی کارکنان سمیت سندھ کے عوام بھی نوکریوں سے محرومی کا رونا روتے رہے۔
پیپلز پارٹی کے کارکنان کی مایوسی اور ان میں پھیلی بے چینی کی وجوہات میں اکثر کارکنان کا طویل العمر ہوتے جانا بھی ہے جو پچھلے دس گیارہ برس سے سرکاری نوکری کے انتظار میں نوکری کے لیے درکار اہلیت کھوتے جا رہے ہیں۔
کارکنان میں مایوسی کی ایک اور اہم وجہ پارٹی میں جزا سزا کا فقدان بھی ہے۔ حالیہ قومی انتخابات میں کئی جگہوں پر پارٹی کے ٹکٹ پر ہی انتخابات میں حصہ لینے والے با اثر اور امیر کبیر افراد نے اپنی ہی پارٹی کے ٹکٹ ہولڈرز کی سخت مخالفت کر کے انہیں شکست سے دوچار کروایا اور سونے پہ سہاگا ان کی اس طرح کی غداری کی شکایات کے باوجود انہیں نہ صرف اہم بلکہ ایک سے زائد وزارتیں دی گئیں جو پارٹی کے نظریاتی کارکنان کے لیے انتہائی مایوسی اور بے چینی کا سبب بنا۔ ان تمام وجوہات اور اسباب کا سنجیدگی اور باریک بینی سے جائزہ لینے کی فورا ضرورت ہے۔ حکومت اور تنظیم کے درمیان مربوط رابطے بحال کر کے کارکنان کے روزگار سمیت دیگر مسائل کے حل کی مخلصانہ کوششیں کر کے اس مایوسی اور بے چینی کو دور کیا جا سکتا ہے


