بھارتی مقبوضہ کشمیر کے الیکشن اور ہماری خوش خیالی


بی بی سی کے نمائندے نے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہوئے حالیہ الیکشن کے موضوع پر اپنے ایک مضمون میں تحریر فرمایا ہے، کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے الیکشن میں عوام کے ووٹ ڈالنے کو وہاں کے عوام کا نریندر مودی حکومت کے طاقت کے بل پر ان پر مسلط کئیے اقدامات پر عوام کا جمہوری انداز میں دستیاب گنجائش کے اندر جواب اور ردعمل سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن اس صورتحال کا ہماری نظر میں ایک امکانی پہلو اور بھی ہے، مختلف بھارتی حکومتوں کی طرف سے ماضی میں کشمیر کے بارے میں لیے گئے اقدامات کا تجزیہ اور ان کے طریقہ واردات سے آگاہی اور فہم کا ہمارا تجربہ، نریندر مودی حکومت کے کشمیر پر اٹھائے گئے اقدامات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

نریندر مودی کے فیصلہ کن اقدام یعنی کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے قدم کے باوجود ”بھارتیہ جنتا پارٹی“ نے وادی کے دو حلقوں کے علاوہ وادی میں کہیں یا تو اپنے امیدوار کھڑے ہی نہیں کئیے یا واضح طور پر بہت کمزور امیدوار کھڑے کئیے ہیں۔ ہم اس کا اس زاوئیے سے تجزیہ کرتے اور دیکھتے ہیں، کہ یہ بھی نریندر مودی کی ایک شاطرانہ اور باریک چال ہے، کیوں کہ اسے ننگی فوجی طاقت کے بل پر ترتیب شدہ، کشمیر کے اس موجودہ منظر نامے میں کشمیری عوام کی طرف سے اپنی ہندو انتہا پسند جماعت ”بھارتیہ جنتا پارٹی“ کے امیدواروں کو وادی کے انتخابات میں مکمل اور واضح طور پر مسترد کر کے نریندر مودی کے کشمیر پر لیے گئے اقدامات کے بارے میں اپنی ناراضگی، کا دنیا کے سامنے علامتی سا اظہار کرنے کا موقع مل جاتا، اور دنیا کسی حد تک نریندر مودی کے کشمیر کے بارے میں اٹھائے گئے اقدامات پر کشمیری قوم کے اصل جذبات سے آگاہ ہو جاتی۔

اس ممکنہ منظر نامے کو بھانپتے ہوئے نریندر مودی نے یہ باریک شاطرانہ چال چلی کہ کشمیری عوام کی انتخابی چوائس میں سے اپنی پارٹی کے نام کو ہی ان کے سامنے سے اٹھا لیا، کہ کہیں وہ اس پارٹی ( بھارتیہ جنتا پارٹی ) کو اس نام سے مسترد کر کے اپنے جذبات کا علامتی اظہار نہ کر دیں، لہذا اس کے بجائے اس نے مختلف ناموں اور جماعتوں کے نام سے اپنی پراکسیز کو الیکشن لڑوایا جو ہمیشہ کی طرح سرکاری حمایت اور دھاندلی سے جیت کر بھی نریندر مودی کے ہی عزائم کی تکمیل و تعمیل کریں گے۔

کبھی ہماری نظر قابض اور غاصب دشمن کی اپنے مقصد کے بارے میں سنجیدگی اور مکاری پر پڑتی ہے اور دوسری طرف اپنے جائز موقف کے وکیل اور مددگار و حامی پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومتوں اور بے خبر بلکہ فرضی خوش فہمیوں کا شکار عوام کی طرف پڑتی ہیں، تو ان کی یہ شعوری سطح، غیر سنجیدگی ان کی ہوائی خوش فہمیاں، اور ان کو زمینی حقائق کے شعور اور ادراک سے محروم و بے خبر، بلکہ اپنے وطن کے وجود اور جواز پر سوال اٹھاتے اور شکوک کا شکار دیکھ کر دل دکھ اور افسوس سے بھر جاتا ہے۔

یہاں جنگ کشمیر اور گلگت بلتستان کے عظیم مجاہد کرنل حسن خان (مرحوم) کی تحریر یاد آ جاتی ہے، وہ لکھتے ہیں کہ گلگت پر قبضہ کے بعد وہ گلگت سکاوٹس اور ریاستی فوج کے باغی مجاہدین کے ہمراہ اپریل کے آغاز میں برف سے ڈھکے دیوسائی سے اور برزل ٹاپ کی گہری برف سے گزرتے ہوئے، گریز سے ہو کر برف سے ڈھکا درہ ترگبل عبور کر کے مقبوضہ کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کی طرف اترائی پر واقع ایک جنگل ”سندر وان“ پہنچے، نیچے وادی کشمیر کا منظر سامنے تھا، جھیل ولر دکھائی دے رہی تھی، اور اس کے کنارے بھارتی جرنیل تھمایا کا ڈویژن درہ تراگبل کی برف پگھلنے کے انتظار میں خیمہ زن تھا، کرنل صاحب لکھتے ہیں کہ میں نے ایک نظر ایڈوانس کے انتظار میں کھڑے بھارتی ڈویژن پر ڈالی سب سے آگے آرمڈ کاروں اور ہلکے ٹینکوں کی قطاریں، ان کے پیچھے دور تک دکھائی دیتے قطار در قطار ایڈوانس اور حملے کے منتظر انفنٹری ( پیدل فوج ) کے خیمے، ان کے پیچھے توپوں کی قطاریں، آسمان پر اڑتے بھارتی ائر فورس کے طیارے، اور پھر ایک نظر اپنے ساتھ موجود بلند حوصلہ مجاہدین پر ڈالی جو خطرناک بلند برفانی درے عبور کرتے اتنی دور کشمیر آزاد کروانے آئے تھے، ہر مجاہد کے پاس راشن کے طور پر ڈھائی ڈھائی کلو آٹا، ان کے گلے میں لٹکی ہوئی برف میں چلنے کے لیے گھاس کی پولیں ( چپلیں ) ایمونیشن کے طور پر رائفل کے تین تین میگزین چند برین گنز اور چند ہلکی مشین گنیں۔ اور آسمان تک پہنچا ہوا عزم و حوصلہ۔

یہاں کرنل حسن خان صاحب لکھتے ہیں یہ سب دیکھ کر میں نے دشمن کی بزدلی کو آفرین کی، جو اسے بہت زیادہ وہم کی حد تک تیاریاں کرنے پر مجبور کر دیتی ہے، اور اپنی بہادری پر لعنت بھیجی جو اتنی دور، ایسے تیار دشمن سے مقابلے کے لیے بے سروسامانی کے عالم میں بغیر کسی سپلائی لائن کے یہاں تک لے آئی۔ سچ پوچھیں تو ہمارے بھی کچھ ایسے ہی جذبات ہیں جیسے کرنل حسن خان ( مرحوم ) کے تھے، کہ دشمن کی اپنے غلط مقصد کے لیے سنجیدگی، مکاری اور باریک چالیں، اور دوسری طرف خود اپنے وجود سے متنفر، اپنے وطن کے جواز اور اہمیت سے نا اشنا، غیر سنجیدہ، غیر منظم ہجوم، تو دشمن کی مکاری پر آفرین کہنے اور اپنی طرف کے غیر منظم، منتشر، اور عزم و حوصلہ سے محروم ہجوم پر لعنت بھیجنے کا جی چاہتا ہے۔

لیکن ان سب مشکلات کے باوجود ہمیں اپنے عزم اور موقف کی سچائی پر پختہ یقین ہے، چاہے ساری دنیا، چاہے یہ آسمان تک ہمارا مخالف ہو جائے ہم اپنی جدوجہد سے نہ دستبردار ہوں گے، نہ اسے ترک کریں گے اور نا اپنے عزم سے کسی بھی صورت پیچھے ہٹیں گے، ہم اس اپنی جدوجہد کو کسی نہ کسی صورت میں دشمن کی عیاریوں اور تیاریوں اور دوستوں کی بے حسی، غیر سنجیدگی و بے شعوری کے باوجود مسلسل جاری رکھیں گے۔ ”کہ فصل گل، بہار کی نہیں پابند“


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments