زندگی کی چند بڑی غلطیاں جن کی وجہ سے ہمیں بہت نقصان اٹھانا پڑتا ہے


کیا آپ نے زندگی میں کوئی غلطی کی ہے۔ یقیناً کی ہوگی۔ آپ بھی کہیں گے کہ بھلا یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے کیا؟

یوں تو ہم سارے لوگ ہی اپنی زندگی میں غلطیاں کرتے رہتے ہیں لیکن کچھ غلطیاں ایسی ہوتی ہیں جن کا خمیازہ ہمیں تمام عمر بھگتنا پڑتا ہے۔

آئیے ایسی ہی غلطیوں کے بارے میں جانتے ہیں۔

1۔ معاشی حالت بہتر کیے بغیر شادی کر لینا:

جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں شادی کی خواہش کر شخص کو ہوتی ہے۔ شادی کرنی چاہیے اور ضرور کرنی چاہیے لیکن اپنی معاشی حالت بہتر کیے بغیر شادی کر لینا اکثر لوگوں کی بڑی غلطی ہوتی ہے۔ کیوں کہ اس کے بعد ان کے لئے مسائل کا ایک ایسا پنڈورا باکس کھلتا ہے جسے بند کرتے کرتے ان کی عمر گزر جاتی ہے۔

2۔ قرض لے کر شادی کرنا:

بہت سے لوگ ایسا کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسی معاشی غلطی ہے جس کا خمیازہ ہمیں بہت دیر تک بھگتنا پڑتا ہے۔ اس کی وجہ سے ہماری رسک لینے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔ معاشی مشکلات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوتا ہے اور آنے والے کئی سال تک ہم شادی کے لئے اٹھائے گئے قرض کے بوجھ سے ہی نکلنے کی کوشش میں مگن رہتے ہیں۔

3۔ شادی پر بے تحاشا خرچہ کرنا:

شادی ایک نیا تعلق اور رشتہ شروع کرنا نام ہے، اس میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا ہوا کہ آپ لاکھوں کا خرچہ کریں گے تو ہی آپ کی شادی بھی ہوگی۔ لیکن عموماً ہم ایسا ہی کرتے ہیں۔ شادی کے لئے قرض لیتے ہیں اور اس قرض کی رقم سے بڑی دھوم دھام سے شادی کرتے ہیں۔ جو کہ ایک قطعی غیر ضروری خرچہ ہوتا ہے۔

4۔ غلط شریکِ حیات کا انتخاب:

بہت سے لوگ یہ غلطی بھی کرتے ہیں وقتی جذبات کی لہر میں بہہ کریا پھر اپنے گھر والوں کی خوشی کے لئے کسی ایسے پارٹنر سے شادی کر لیتے ہیں جس سے ان کا مزاج ہی نہیں ملتا۔ دونوں ایک دوسرے کی خوشی میں خوش ہی نہیں ہو پاتے اور ایک دوسرے کے لئے سکون کا سبب بننے کی بجائے ایک دوسرے کے مسائل میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

5۔ ایک ہی جاب میں پھنسے رہنا:

بہت سے لوگ ساری زندگی ایک ایسی جاب میں گزار دیتے ہیں جو کم آمدنی دیتی ہے اور جس میں گروتھ بھی نہیں ہو رہی ہوتی۔ اسی وجہ سے لوگوں کی معاشی حالت میں بھی بہتری نہیں آتی۔ اگر آپ یہ غلطی کر رہے ہیں تو اس غلطی سے فوراً بچیں اور مختلف جابز کرنے کے تجربے کرتے ہیں جہاں آپ کو زیادہ آمدنی ملے اور جہاں آپ کو اپنی ترقی کے مواقع نظر آئیں وہاں وقت گزاریں۔ کمپنیوں کے ساتھ جذباتی وابستگی رکھنے کی بجائے اپنے آپ کے ساتھ مخلص رہیں۔

6۔ بچت نہ کرنا:

90 فیصد سے بھی زیادہ لوگ جتنا کماتے ہیں اتنا یا اس سے بھی زیادہ خرچ کرتے ہیں اور یوں وہ تمام عمر معاشی مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ معاشی خوشحالی کی ابتدا بچت کرنے سے ہوتی ہے۔ اگر آپ بچت نہیں کر رہے تو آپ ایک سنگین معاشی غلطی کر رہے ہیں جس کے نتیجے کے طور پر آپ آنے والے وقت میں دوسروں کے محتاج ہو سکتے ہیں۔

7۔ آمدنی کا ایک ہی ذریعہ رکھنا:

ایسے لوگوں کی تعداد کو انگلیوں پر گننا جا سکتا ہے جن کے آمدنی کے ایک سے زیادہ سورسز ہیں۔ لوگوں کی اکثریت کا ایک ہی سورس آف انکم ہوتا ہے۔ جاب کرتے ہیں، پیسہ کماتے ہیں اور اسی سے ان کی زندگی کا پہیہ چلتا ہے۔ لیکن جیسے ہی یہ واحد سورس آف انکم بند ہوتا ہے تو ان کو اس قدر شدید معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ خدا کی پناہ۔

اگر آپ معاشی مسائل سے نجات چاہتے ہیں تو کم ازکم اپنے لئے دو ایسے ذرائع ضرور پیدا کریں جن سے آپ کو متواتر آمدنی ہوتی رہے۔

8۔ بڑا گھر بنانا:

بڑا گھر لوگوں کی خواہش ہوتی ہے۔ لیکن اس کی وجہ سے لوگوں کی محنت کی کمائی پھنس کر رہ جاتی ہے۔ یعنی جتنے پیسے انھوں نے بڑا گھر بنانے پر لگائے ہوتے ہیں وہ پیسے اب ان کو کسی بھی طرح کا ریٹرن نہیں دے رہے۔ بڑا گھر بنا کر دکھاوا کرنے کی بجائے اپنی ضرورت کے مطابق چھوٹا گھر بنائیں اور باقی کے پیسوں کو کسی ایسے کا روبا ر میں لگائیں جہاں آپ کا پیسہ ڈبل ہو سکے۔

9۔ مہنگی اشیا رکھنا:

بہت سے لوگ دوسروں کو دکھانے کے لئے، اپنی ضرورت سے بڑھ کر خرچہ کرنے کے عادی ہوتے ہیں جیسے کہ مہنگی گاڑی خریدنا، مہنگی گھڑیاں اور موبائل فون لینا وغیرہ وغیرہ۔ ایسے شوق پالنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ہاں البتہ نقصان ضرور ہے۔ آپ کا پیسہ ان اشیا کی نظر ہو جاتا ہے اور کچھ ہی وقت بعد ان کی قیمت بھی گر جاتی ہے۔

10۔ بنک میں کیش جمع کرنا:

بہت سے لوگ اس عمل کو بڑا عقل مندانہ اقدام سمجھتے ہیں اور ایسا ہی کرنے کا دوسروں کو بھی مشورہ دیتے ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ بنک میں پیسے رکھنے سے آپ کے پیسے ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہوتے جاتے ہیں۔

جی ہاں! جیسے جیسے مہنگائی ہوتی ہے۔ اشیا کی قیمتیں بڑھتی ہیں ویسے ویسے ہی آپ کے پیسے کی قیمت ِ خرید میں کمی آتی رہتی ہے۔

۔ ٭۔

Facebook Comments HS