
کل بروز ہفتہ کو 18 مئی تھا جسے عالمی طور پر عجائب گھر کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس سے ایک زور قبل ہمیں اپنے شعبہ سے حکم نامہ ملا کہ آپ سب لاہور میں موجود اقبال میوزیم ( جو کہ جاوید منزل، علامہ اقبال روڈ) پر واقع ہے جائیں اور وہاں تعمیرات پر ہونے والے سیمنار میں شامل ہو کر عجائب گھر کے عالمی دن کو آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے سنگ منائیں۔ اس سیمنار میں آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے سرکردہ اور متحرک کارکنان لاہور میں موجود عمارات، تعمیرات اور اقبال عجائب گھر پر لیکچر دینے والے تھے۔
اس موقع کو موقع غنیمت جانتے ہوئے میں نے بھی شرکت کا مصمم ارادہ کیا۔ وہاں مختلف مقررین کی گفتگو سنی اور بعد ازاں عجائب گھر کا دورہ کرنے کو چل پڑا۔ اس عمارت میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے علامہ محمد اقبال کی اسناد اور اعزازات کی نمائش کی گئی تھی۔ ان میں قابل ذکر ان کی ڈاکٹریٹ کی اصل سند، خان جمال ایس میڈل جو علامہ اقبال کو بی اے کے امتحان میں عربی میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے پر پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے 1897 میں دیا گیا تھا، ان کی گریجویشن کی سند ( جو شاید اصل نہیں تھی) ، لنکن ان یونیورسٹی کا سرٹیفیکیٹ، اور علامہ مرحوم کے ہاتھ سے لکھے ہوئے چند ایک مضامین بھی شامل تھے۔
اتنا قیمتی اثاثہ دیکھ کر دل کو بہت سکون ملا مگر یہ سکون جلد ہی ملال میں بدل گیا، جب میں ان قیمتی دستاویزات کو غور سے دیکھا، یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ان کو اس طرح محفوظ نہیں کیا گیا جیسے آرکائیوز ( محفوظات) کو محفوظ کیا جاتا ہے۔ جب ڈاکٹریٹ کی سند کو غور سے دیکھا تو اس پر ٹرمائٹ کے آثار نظر آئے جو اس کے لیے زہر قاتل ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ تمغے پر زنگ کے آثار بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ ان کے ہاتھ سے لکھے ہوئے مسودات کو بھی پوری طرح سے ڈسپلے نہیں کیا گیا تھا جس کے باعث یہ کاغذ شکستہ ہو گئے تھے۔ یہ تو صرف اسی حصہ کا المیہ تھا۔ آگے کے مناظر اور بھی تاریک تھے۔
1930 میں الہ آباد میں جو علامہ اقبال نے خطبہ صدارت دیا تھا اس کی حالت بھی کافی غیر تھی، اس کے علاوہ ان کے خطوط بھی مکمل دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے کریک ہو چکے تھے جن میں جلد ہی ٹرمائٹ ہو جانے کا خدشہ ہے۔ یہاں پر ایک چیز جو میرے لیے باعث حیرت تھی کہ علامہ اقبال کے اصل خط پر میوزیم نمبر لگا ہوا تھا جب وہ ایک الگ صفحہ پر رکھا ہوا تھا۔ اب راقم الحروف کی عقل ناقص انتظامیہ کے اس امر کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ میوزیم نمبر کو اس صفحہ کی بجائے اصلی خط پر کیوں لگایا گیا تھا؟
اس کے بعد اگلے حصہ میں اقبال لے ملبوسات، جوتے، فرنیچر اور برتن وغیرہ موجود تھے۔ ان کی حالت بھی کافی تشویشناک تھی۔ ملبوسات کو دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ انتظامیہ روایتوں کی امین ہے انھوں نے اقبال کے زیر استعمال رہنے والے کپڑوں کو دھونے کی بھی جسارت تک نہیں کی۔ علامہ کے کوٹ اور بو کی حالت دیکھ کر دل ایسے ہی سیپارہ ہوا جیسے علامہ کا یورپ میں علم کے موتی دیکھ کر ہوا تھا۔
اس کے ساتھ ہی علامہ صاحب کے جوتے بھی موجود تھے جو قدرے صاف اور اچھی حالت میں تھے۔ البتہ کتابیں، فرنیچر اور برتنوں کو پوری تزئین و آرائش سے رکھا گیا تھا۔ یہ ایک مختصر روداد تھی اقبال میوزیم کی جس کے ملال نے راقم کو یہ تحریر لکھنے پر مجبور کیا۔
آخر میں میری آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ سے التماس ہے کہ اس نایاب ورثہ کو خاصی توجہ دیں۔ علامہ صاحب کے مخطوطات، اسناد اور دوسرے قیمتی اشیاء کو اچھی حالات میں محفوظ کر کے رکھا جائے۔ خاص طور پر مسودات کو کسی آرکائیوسٹ کے زیر نگرانی محفوظ کیا جائے تاکہ یہ نایاب ورثہ ہماری اگلی نسلوں تک پہنچ پائے۔