بادشاہ گر فقیروں سے یک جہتی


سال 2011 میں یوسف رضا گیلانی نے کراچی میں نیوی کی ایک تقریب میں بحیثیت وزیر اعظم شریک ہوئے جس میں انہوں نے نیوی کی یونیفارم پہنی تھی۔
سال 2018 میں شہباز شریف نے پنجاب پولیس اکیڈمی کا بحیثیت وزیر اعلی ’پنجاب شرکت کی۔ جس میں انہوں نے پولیس کی یونیفارم پہنی تھی
سال 2020 میں سید مراد علی شاہ نے سندھ پولیس کے ایک ٹریننگ کالج میں بحیثیت وزیر اعلی ’سندھ شرکت کی۔ جس میں انہوں نے سندھ پولیس کی یونیفارم پہنی تھی
سال 2020 میں عمران خان نے سیاچین کا بحیثیت وزیر اعظم دورہِ کیا، جس میں انہوں نے آرمی کا یونیفارم پہنا تھا

مارشل لائی حکمرانوں کا تو حکومت ہی یونیفارم کی وجہ سے ہوتی ہے۔ البتہ پرویز مشرف اپنے دور میں آرمی سے ریٹائر ہونے کے بعد بھی کبھی کبھی یونیفارم پہنا کرتے تھے

ابھی گزشتہ دنوں مریم نواز صاحبہ نے بھی پنجاب پولیس کے پاسنگ آؤٹ پریڈ کے موقع پر بحیثیت مہمان خصوصی اور وزیر اعلی ’پنجاب شرکت کی جس میں اس نے بھی پولیس یونیفارم پہنی تھی

ایسے دیگر کئی مواقع اور تقریبات بھی ہیں جس میں وزراء اعظم اور وزراء اعلی ’نے کسی فورس میں مہماں بن کے اس کی یونیفارم پہنے ہوں گے۔

لیکن مریم نواز صاحبہ کے اس پروگرام اور یونیفارم پہننے پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر بہت ہی اعتراضات کے علاوہ بات اسمبلی کے فلور تک بھی جا پہنچی۔

کسی بھی غیر مجاز شخص کا کھلے عام اور کسی بھی فورس کا یونیفارم پہننا پاکستان میں ایک تعزیری جرم ہے۔ لیکن ہر فورس اور ادارے کا یونیفارم اور ڈریس کے متعلق ان کے قواعد اور ضوابط ہوتے ہیں، جیسے ڈریس کوڈ وغیرہ۔ جو اس بابت مکمل رہنمائی کرتے ہیں۔ نیز مخصوص موقعوں پر مخصوص مقصد کے لیے متعلقہ اور مجاز افسران مخصوص افراد کو ایسے یونیفارم کے پہننے کی اجازت دینے کے مجاز ہوتے ہیں۔ چنانچہ مریم نواز صاحبہ سمیت جس نے بھی جب، جہاں اور جن کی یونیفارم پہن کر ایسے کسی تقریب میں شرکت کی ہو، ان کو اگر باقاعدہ واضح اور تحریری آرڈر جاری نہ بھی کیا گیا ہو۔ اعلی ’ترین تقریب میں اعلی‘ ترین اور مجاز افسران کی موجودگی اور ان کی خاموشی کو ”خاموشی نیم رضا“ ہی سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے تو کوئی مؤاخذہ یا تعزیری کارروائی سامنے نہیں آئی ہے۔ ویسے بھی بصورت دیگر Law makers are law breakers والے معاملہ کی نظر سے بھی اس کو دیکھا جا سکتا ہے۔

ویسے بھی ”میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی“ کے مصداق جب متعلقین کو اعتراض نہ ہے تو : من کجا تو کجا۔

اس عمل کے حق میں جو سب سے بڑی دلیل دی جاتی ہے یا وضاحت پیش کی جاتی ہے۔ وہ نیت پر منحصر ہونے کی ہوتی ہے۔ وہ یوں کہ کہا جاتا ہے کہ اس طرح فورس کی یونیفارم پہننے سے فورس کے جوانوں کے ساتھ یک جہتی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ یک جہتی کے ایسے نیک اور ارفع جذبے کو دونوں ہاتھوں سے سلام۔

لیکن دیکھا جائے تو ہمارے مضبوط فورسز اور اس کے جوانوں کے بھی بحیثیت ملازمین کئی ذاتی، ملازمتی اور محکمانہ مسائل مشکلات اور مسائل ہوتے ہیں۔ اور یہ لوگ دیگر اداروں اور ملازمین کی طرح نہ تو مطالبے کر سکتے ہیں اور نہ ہی کچھ کہہ سکتے ہیں۔ تو ایسی صورت میں جو بھی ان کے ساتھ یک جہتی کے طور پر ان کا یونیفارم پہن کر جاتے ہیں۔ عام طور پر وہ ان کے ایسے مشکلات، مسائل اور ضروریات سے پہلے سی ہی آگاہ ہی ہوتے ہیں۔ اگر ان تمام کا حل کرنا ممکن نہ ہو تو اس موقع پر کچھ کے تو حل کرنے کا اعلان کیا جائے۔ اور باقی کے حل کرانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔ یہ یک جہتی کی ایک بہترین شکل اور عملی مظاہرہ ہو گا۔

ساتھ ہی ساتھ اگر یہ حکمران اور خاص کر عوامی منتخب حکمران اگر عام عوام، سرکاری، نجی اداروں کے ملازمین، کارخانوں کے لیبر، صبح سے شام تک دیہاڑی ملنے کی آس پر بیٹھے مزدوروں، بیواؤں، بےکسوں اور زندگی کے تمام شعبوں کے لوگوں کے ساتھ بھی یک جہتی کے طور پر کبھی کبھی ان کے رنگ میں ہی ان کے ساتھ ان کے ماحول، حالات میں ان کی طرح تھوڑا سا وقت گزاریں۔ تو کم از کم کچھ اندازہ تو ہو جائے گا ان کی بے بسی کا اور ان کے مسائل کا۔

ان لوگوں کا جن کی دم سے یہ فورسز ہیں، جن کے دم سے حکومتیں ہیں اور جن کے دم سے یہ حکمران ہی ہیں۔

Facebook Comments HS