لذت کا دائرہ کار

لذت کا دائرہ کار بے حد وسیع ہے۔ یہ جسمانی، ذہنی، نفسیاتی سمیت مختلف صورتوں میں ہو سکتی ہے۔ اسے صرف جسم تک محدود کرنا مناسب نہیں ہے۔ البتہ جسم میں حواس خمسہ لذت کا سب سے نمایاں اور غالب ذریعہ ہیں۔ دیکھنے کی لذت تشفی و تسکین کا سبب بنتی ہے۔ سننے کا لطف اسے مہمیز دیتا ہے، سونگھنے سے خاص کیفیت ظاہر ہوتی ہے۔ لمس ہیجان کا سبب بنتا ہے اور ذائقہ تمام حواس کو گویا ایک خاص نکتۂ انجذاب میں لے آتا ہے۔ پانچوں حواس اپنی جگہ الگ اور جدا سرشاری کا سبب بھی ہیں۔
خوراک ایک اعلی ترین لذت تصور ہوتی ہے۔ بھوک کی نوعیت اور خوراک کا معیار اس لذت کو خاص پیمانہ عطا کرتے ہیں۔ جنس سے انکار ممکن نہیں ہے۔ بجا طور پر اسے زندگی کی اہم ترین لذت میں شمار کیا جاتا ہے۔ جس طرح بھوک کے بعد خوراک کی اہمیت کم ہوجاتی ہے اسی طرح جنس کا عمل اس کی شدت میں کمی لاتا ہے اور عمر کے ساتھ ساتھ بتدریج کم ہوتی رہتی ہے مگر تمام لوگوں میں یہ رویہ یکساں اور مساوی نہیں ہوتا ہے۔ انسانی وجود کی حدود و قیود متعین ہیں اور اس وجہ سے نہ چاہتے ہوئے بھی کسی لذت سے کنارہ کشی کا عمل ازخود وقوع پذیر ہونے کا قوی امکان ہے۔
ہماری تمام جسمانی سرگرمیاں ذہن کے تابع ہوتی ہیں۔ ذہنی رجحان، طبیعی میلان اور نفسیاتی خلجان کے نتیجے میں جسم خاص فریکوئنسی پر تابع فرمان واقع ہوتا ہے۔ جو ذہن کی ہدایت پر اپنی سرگرمی ترتیب دیتا ہے۔ ہر انسان کی تربیت، ماحول اور شعور کی سطح مختلف ہے۔ عین ممکن ہے کہ جس عمل سے کوئی لذت کشید کرے کسی اور شخص کو اس سے گھن آئے۔ بہتی ہوئی ناک والا بچہ جب قلفی کھاتا ہے تو دیکھنے والا سخت ذہنی کوفت میں مبتلا ہو سکتا ہے مگر بچے کو بہتی ہوئی ناک سے غرض نہیں ہوتی ہے۔
اس کا سارا دھیان قلفی کے ذائقے سے ملنے والی لذت پر ہوتا ہے۔ اس باب میں تعلیم، تہذیب اور ثقافت بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ مختلف النوع تعلیمی نظام لوگوں کو حظ اٹھانے کے معیارات عطا کرتے ہیں۔ تہذیبی ورثہ اسے خاص ضابطے میں رکھتا ہے اور ثقافتی میکانیت حدود متعین کرتی ہے۔ یوں انسان کی لذت کا خود ساختہ چیک اینڈ بیلنس اسے دائرے سے باہر نہیں نکلنے دیتا ہے۔
اس دائرے کو توڑنے کے جزوی یا کلی مواقع ہر انسان کو میسر آتے ہیں اور کئی بار اسے توڑ کر دوبارہ اسی دائرے میں لوٹنے کی نفسیاتی وجوہات بھی موجود ہیں۔ داخلی دباؤ اور خارجی عوامل کے باعث ہر کوئی موقع بہ موقع استفادے کی کوشش کرتا ہے۔
علمی، تخلیقی اور تحقیقی لذتوں کی نوعیت اعلی درجے کی حامل ہیں۔ اس کی تسکین اسے مزید مہمیز لگا دیتی ہے۔ مثلاً مطالعہ کی لذت ایسے شخص کو دنیا و مافیہا سے ماورا کر دیتی ہے۔ بعض لوگ مطالعے کی لذت کے لیے وقت، سرمایہ اور صحت داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ تخلیقی ذہن ادب و آرٹ کا سرمایہ ہوتے ہیں، خاص لذت تخلیق کار کو ہمہ وقت مصروف عمل رکھتی ہے اور تصویر و تصور کے حیرت انگیز نمونے سامنے آتے ہیں۔ زندگی کو فن کی بھینٹ چڑھانے کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ کوئی شک نہیں سود و زیاں سے ماورا تخلیق کار فن کی خدمت کرتا رہتا ہے۔
تحقیق کا جذبہ انسان کو ودیعت ہوا ہے۔ معلوم سے نامعلوم کا سفر اسے کھوج لگانے میں مدد دیتا ہے، وہ ہمہ وقت متحرک رہتا ہے۔ اور اسی تحرک سے لذت حاصل کرتا ہے۔ ایجاد و دریافت بھی اس کا حصہ ہیں۔ اس کا تعلق ادب، آرٹ، سائنس، فلکیات سمیت تمام علوم سے ہے۔
لذت کی عمومی سطح جسمانی اور اعلیٰ سطح روحانی ہوتی ہے۔ دونوں کے مابین کوئی تقابلی جائزہ ممکن نہیں ہے اور نہ ہی اسے کسی گراف میں ظاہر کیا جا سکتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ بعد الطرفین واقع ہوئے ہیں۔ تطہیر ذات کا عمل لذت سے عبارت ہوتا ہے۔ نفی ذات اور چلہ کشی خاص ریاضت کے متقاضی ہوتے ہیں۔ اور اس کا حصول لذت روح کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
ہم مزاج لوگوں سے ملاقات اور تبادلہ خیال بھی ایک خاص سطح پر لذت کا سبب ہوتا ہے۔ جو لوگ مسلسل اور روزانہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ انہیں ایک دوسرے سے ملاقات کی طلب پیدا ہوتی ہے اور یوں گفتگو کی لذت حاصل ہوتی ہے۔ انسان ذاتی سطح پر خیال کی دنیا آباد کر کے پسندیدہ لوگوں سے تصوراتی مکالمے کا اہتمام کر سکتا ہے مگر روبرو اور بالمشافہ ملاقات کی نوعیت تصوراتی ملاقات سے حد درجہ فضیلت رکھتی ہے۔ دنیا کی تمام لذتیں کم درجہ حیثیت رکھتی ہیں۔ فقط ہم مزاج لوگوں سے بالمشافہ ملاقات کا درجہ بلند تر ہے۔ یہ درجہ حواس خمسہ کے علاوہ نفسیاتی، مکالماتی، روحانی اور وجدانی غرض تمام سطحوں پر محسوس ہوتا ہے۔ ممکنہ طور پر اسے انسان کی بہترین لذت میں شمار کیا جاسکتا ہے۔
خود فراموشی بھی لذت کا ذریعہ ہے۔ ایسا عموماً ان لوگوں میں دیکھنے میں آتا ہے جو کسی سانحے یا حادثے کے نتیجے میں مسلسل ذہنی اذیت کا شکار ہوتے ہیں۔ اس باعث وہ الکوحل یا دیگر کیف آور اشیاء کے ذریعے راہ فرار اختیار کرتے ہیں۔ اسے سکون کا ذریعہ سمجھنے والے بعد میں اس کے عادی ہو جاتے ہیں اور زندہ درگور ہو جاتے ہیں۔
خود اذیتی عجیب نفسیاتی پیچیدگی ہے۔ ایسے لوگ اپنے آپ کو اذیت دے کر خوش ہوتے ہیں اور اس کے نتیجے میں سکون پاتے ہیں۔ یہ حقیقت میں نفسیاتی مسئلہ ہے جو خاص حالات و واقعات کے باعث کسی شخص کو گرفت میں لے لیتا ہے۔ دماغ میں خیال کسی ایک نقطے پر مرتکز ہو جاتا ہے اور پھر اس شخص کو وہاں سے نکلنے نہیں دیتا ہے۔ وہ رک جاتا ہے، پہلے پہل اسے سخت تکلیف ہوتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ لذّت حاصل ہونے لگتی ہے۔ جو نفسیاتی مسئلہ بن کر زندگی کی مثبت باتوں کو پامال کر دیتی ہے۔ اجتماعی لذت خاص اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ یہ بے خودی کی صورت رکھتی ہے۔ سرکس، کرکٹ میچ، فلم یا محفل نعت سمیت کئی اجتماعی نوعیت کے ایونٹ موجود لوگوں کی لذت کو مہمیز لگاتے ہیں اور اس کی شدت میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ اس کا اثر انفرادی سے زیادہ اور دیرپا ہوتا ہے۔

