نیم حکیم، کامل شاعر

حلقہ اربابِ ذوق فیصل آباد کے تنقیدی اجلاس میں اشرف یوسفی کی غزل پر تند و تیز گفتگو ہو رہی تھی۔ قواعد کے مطابق صاحب تخلیق کو خاموش رہنا پڑتا ہے۔ اشرف یوسفی پہلو بدلتے رہے۔ کسی نے کہا کہ فلاں شاعر کا رنگ جھلکتا ہے، ایک اور صاحب بولے ”فلاں شاعر کو بھی شامل تصور کیا جائے“ اجلاس ختم ہوا تو کہنے لگے ”جن دو شعرا کا رنگ دکھایا جا رہا ہے ان کا اپنا کوئی رنگ نہیں ہے،

Read more

مذہبی متن اور مابعد جدیدیت

ہر خطے کا کلچر ادب کے ذریعے منعکس ہو کر زندگی کی تصویر کشی کر تا ہے۔ نتیجتاً خاص ماحول، حالات اور سماجی سر گرمیاں کسی نکتہ نظر کو پروان چڑھانے میں معاون بنتی ہیں۔ نکتہ نظر تغیر و تبدل اور تعمیر و تشکیل کے بعد کسی نظریے یا تھیوری کی شکل میں ترتیب پاتا ہے۔ مغرب میں سماجی سیاسی اور معاشی سرگرمیاں خاص نہج پہ دکھائی دیتی ہیں اور گزشتہ صدی سے پہلے یعنی جنگ عظیم دوم سمیت کئی

Read more

جناب شیخ کا نقشِ قدم

پہلی ملاقات ایک ادبی کانفرس کے دوران میں ہوئی۔ وہ سٹیج پر تشریف فرما تھے اور میں سامعین میں موجود تھا۔ کچھ استثنا کے ساتھ یہ صورت ہنوز برقرار ہے۔ کئی تقاریب میں ہم اکٹھے جاتے ہیں۔ وہ سٹیج پر براجمان ہوتے ہیں اور میں انھیں سامعین میں بیٹھ کر دیکھ دیکھ جیتا ہوں۔ گزشتہ کئی برسوں سے ایک ہی ادارے میں کولیگ کی حیثیت سے انھیں بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ وہ جہاں دیدہ، زیرک، معاملہ

Read more

بنام مرزا غالب

لاہور 27 دسمبر 2024 مرزا صاحب، آداب سالگرہ کی مبارک باد، کچھ دن پہلے سموگ اور اب ملک خدا داد شدید دھند کی لپیٹ میں ہے۔ آپ سموگ سے واقف نہیں ہوں گے۔ آپ نے دلی میں گھوڑوں کی ٹاپوں سے اٹھتی دھول اور جلتے ہوئے مکانات دیکھے ہیں۔ سمجھیے ملک خدا داد جل رہا ہے، نفرت کی گرد اڑ رہی ہے دھویں اور گرد نے مل کر فضا کو آلودہ کر دیا ہے۔ آپ کو کتب خانے لٹ جانے

Read more

روح کی ڈھولک پہ شاداں: غلام حسین ساجد

موجودہ دور میں غزل اور آزاد نظم ہر اعتبار سے اظہار کا بہترین وسیلہ تصور ہوتی ہیں۔ ان اصناف میں زندگی کا ہر موضوع بیان کیا جا سکتا ہے۔ ان اصناف کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ قیام پاکستان کے بعد غزل میں فکری سطح پر غیر معمولی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ غزل میں فکری و فنی سطح پر تغیرات دکھائی دیتے ہیں۔ خیال، موضوع، اسلوب، ڈکشن اور تکنیک میں واضح تبدیلیاں ملتی ہیں۔ اردو غزل ہر عہد میں

Read more

کچھ جنوں کے بارے میں

انسانی کیفیات مختلف محرکات کا موجب ہوتی ہیں۔ یہ اندرونی و بیرونی تغیرات سے تشکیل پاتی ہیں۔ ممکن ہے کہ ذرا سی بات جوار بھاٹا بن جائے اور سخت دباؤ کے باوجود ممکنہ ردعمل سامنے نہ آئے۔ اس کی بنیادی وجہ ذہنی و جسمانی حالت قرار دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ فوری ردعمل یا غیر معینہ مدت کے بعد جواب آں غزل کی پیشین گوئی ممکن نہیں ہے۔ ہر دو صورتوں میں محرکات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا

Read more

ثقافت کے ذریعے استحصال

استحصالی نظام کی قباحتوں میں سب سے مہلک سوچنے کی صلاحیت کو جنس، رقص، گائیکی اور نشے کے ذریعے دبانا شامل ہے۔ جس کے تحت ایسے ثقافتی پروگرام تشکیل دیے جاتے ہیں۔ جن کا بنیادی مقصد لوگوں خصوصاً نوجوانوں کو تفریح کے نام پر استحصال کے محرکات کو جاننے سے محروم کرنا ہوتا ہے۔ استحصالی نظام کے ایجنڈے میں نوجوانوں کو خاص تفریحی سرگرمیوں کے ذریعے مصروف رکھا جاتا ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں اور اشرافیہ کی حکومت سپانسر شپ کے

Read more

ڈاکٹر کبیر اطہر کا تصور مسیحائی

مسیحائی کا دائرہ کار جسمانی اور روحانی عوارض کو محیط ہے۔ دونوں عوارض انسانی ذات سے متعلق ہیں۔ کچھ عوارض کا تعلق فرد کے بجائے سماج سے ہوتا ہے۔ یہ عوارض براہِ راست لوگوں کی زندگیوں پر اثرات مرتب کرتے ہیں۔ سماجی، مذہبی، سیاسی اور اخلاقی اعتبار سے ان عوارض کے لیے ایک مسیحا کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ڈاکٹر کبیر اطہر معروف آرتھوپیڈک سرجن ہیں۔ اُن کی شاعری میں جابجا انفرادی اور اجتماعی عوارض کی جانب اشارہ ملتا ہے۔

Read more

مجید امجد اور سرمایہ دارانہ نظام

وسائل اور اختیارات کا حصول انسانی سرشت میں روزِ اوّل سے موجود ہے۔ یوں انسان نے قدرتی وسائل کے بعد اِنسانی وسائل سے استفادے کے لیے اجتماعی زندگی کی طرف قدم آگے بڑھایا۔ قبائلی نظام کو وسائل و اختیارات پر قبضے کی اوّلین کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔ آبی ذخائر کے کناروں پر کھیتی باڑی کا آغاز نئے سماجی ڈھانچے کی بنیاد بنا اور اجتماعی زندگی کا تصور پیدا ہوا۔ اس اجتماعی زندگی کے تصور کے بطن سے بادشاہت

Read more

نوید صادق کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ”ارتکاز“ ایک جائزہ

معاصر شعراء کے بارے میں کم لکھا جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نقاد مخالفت مول نہیں لینا چاہتا ہے۔ اگر کچھ لکھتا بھی ہے تو زیادہ تر توصیفی ہوتا ہے۔ وہ حسن و قبح کے اعلٰی معیارات سامنے رکھ کر تخلیقات کا جائزہ لینے کے بجائے مصلحت کا شکار ہو جاتا ہے۔ ”ارتکاز“ میں معاصر شعراء کی شاعری پر مضامین شامل ہیں۔ یہ کتاب دو اعتبار سے اہم ہے۔ پہلا یہ کہ انھوں نے شعراء

Read more

ڈاکٹر خورشید رضوی کا نعتیہ مجموعہ ”نسبتیں“ ایک جائزہ

ڈاکٹر خورشید رضوی کا مجموعہ ”نسبتیں“ حمد، نعت، سلام اور منقبت کا حسین امتزاج ہے۔ یہ مجموعہ عصری لب و لہجہ، زبان و بیان اور انداز و اُسلوب سے مزین خاص رنگ و آہنگ کا مرہونِ منت ہے۔ چاروں اصناف میں زبان کی چاشنی اور خیال کی تازگی جھلکتی ہے۔ وہ اپنے دلکش پیرایۂ اظہار کی بدولت قاری کو گرفت میں لینے کا ہُنر جانتے ہیں۔ ہر صنف سخن میں انھوں نے کمال تکنیک کے ذریعے خیال کو ترتیب دینے

Read more

یکساں نصاب تعلیم

نظام تعلیم کسی قوم کی مجموعی روایات، نفسیات اور ترجیحات سے ترتیب پاتا ہے۔ اسے موجود اور آئندہ حالات کو پیش نظر رکھ کر تیار کیا جاتا ہے۔ نظام تعلیم میں یکتائی نہ ہونے سے کئی مسائل جنم لیتے ہیں اور یکساں نصاب تعلیم نہ ہونے کی بنا پر کئی ذہنوں، نظریوں اور خیالات کو پروان چڑھنے میں مدد ملتی ہے۔ جس کی وجہ سے باہم ٹکراؤ، کشمکش اور عدم مطابقت پیدا ہوتے ہیں۔ کسی قوم کی مجموعی ترقی میں

Read more

گلزار پاویل اور لائل پور کے دوسرے ادیب

حلقہ ارباب ذوق فیصل آباد کے الیکشن ہوئے اور ڈمی امیدوار جیت گیا، اصل امیدوار کے ہارنے کی وجہ ڈمی امیدوار کی مقبولیت قرار پائی۔ بادشاہ گر سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ ان دنوں حلقے کے اجلاس محفل ہوٹل میں منعقد ہوتے تھے۔ اس الیکشن کی تفصیلات بیان کرنا راقم افورڈ نہیں کرتا ہے۔ اس پاداش میں حلقہ راندۂ درگاہ ہو گیا۔ آخر تھری سٹار ہوٹل کے مینجر ملک بشارت نے پناہ دینے کی ہامی بھر لی۔ وہ علمی و

Read more

جز وقتی سرور یا دائمی لطف

فنون لطیفہ تاریخ، کلچر، روایت اور عقیدے کی پریزنٹیشن کا بہترین ذریعہ ہوتے ہیں۔ فنون خاص لوگوں کے لیے ہوتے ہیں جن سے عام لوگ بھی حظ اٹھاتے ہیں۔ فنون کے پیش نظر عوامی شعور کی بیداری ہوتی ہے مگر عام لوگ اسے محض تفریح کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یوں آہستہ آہستہ تفریح غالب آ جاتی ہے اور شعور عنقا ہو جاتا ہے۔ فنون پر دسترس رکھنے والے عوامی پذیرائی کے باعث اپنے معیارات پر سمجھوتا کر لیتے ہیں۔ وہ

Read more

تم کون؟ میں کون؟ رضاکار رضاکار

غالباً 1985 میں ڈھاکا سٹیڈیم میں پاکستان اور بھارت کے مابین ہاکی کا فائنل میچ ہو رہا تھا۔ جب پاکستانی ٹیم موو بناتی تو تمام سٹیڈیم تالیوں اور نعروں سے گونجنے لگتا۔ بھارتی ٹیم کی موو پر سٹیڈیم میں خاموشی چھا جاتی۔ یہ میچ پاکستان میں لائیو دکھایا جا رہا تھا۔ میچ دیکھ کر اندازہ ہوا کہ شیخ مجیب الرحمٰن کے بنگلہ دیش کو الگ ملک بنانے کے باوجود سٹیڈیم میں عوامی سطح پر پاکستان سے شدید محبت موجود ہے۔

Read more

عام آدمی اور شاعر

سماجی زندگی پیچیدگیوں سے عبارت ہے۔ ہم مزاجی کو ذات، عمر، نسب، اور مذہب پر فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ ہم ایسے لوگوں کے درمیان بیٹھ کر اطمینان محسوس کرتے ہیں جن سے ہم آہنگی ہوتی ہے۔ بنیادی طور پر انسان اپنے مزاج، نفسیات اور جذبات کے تابع ہوتا ہے اور اکثر اس کے مطابق اپنا حلقہ احباب بناتا ہے۔ مجبوری، مفاد اور محبت کی وجوہات الگ ہیں۔ ہماری سوشل زندگی میں اتار چڑھاؤ بھی آتے ہیں لیکن حلقہ احباب تبدیل

Read more

دائرہ توڑنے کی ممکنہ کوشش کا نتیجہ

سیاست میں جماعت، نظریہ، عقیدہ، برادری اور علاقائی تعصبات کے نتیجے میں غلط اور درست کے معیارات بدلتے رہتے ہیں۔ یہ تعصبات انسانی ذہن کو جکڑے رکھتے ہیں اور سیاسی وابستگی کو متزلزل نہیں ہونے دیتے ہیں۔ کبھی کبھی حکومت کا کوئی غیر مقبول فیصلہ جزوقتی ذہنی تبدیلی کا باعث بنتا ہے مگر بہت جلد ذہن گزشتہ وابستگی کی طرف لوٹ آتا ہے۔ موجودہ مہنگائی کی وجوہات سے قطع نظر عوام میں مہنگائی کے خلاف ممکنہ ردعمل دکھائی نہیں دیتا

Read more

شعرا میں دائیں اور بائیں رجحانات کا خاتمہ

درست یہی ہے کہ رومان اردو شاعری کا سب سے بڑا موضوع ہے۔ اظہار محبت کے ہزار ہا قرینوں کے باوجود مزید امکانات موجود ہیں۔ عام مشاہدہ ہے کہ شعرا اس خاص اور پسندیدہ موضوع کے دائرے سے باہر نہیں نکلتے ہیں لیکن موجودہ سیاسی، سماجی اور معاشی حالات کا تقاضا ہے کہ محبت کے دائرے کو وسعت دے کر عوامی مشکلات کو زیر بحث لایا جائے۔ مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی ناہمواری کے باوجود محبت کی شاعری کا جواز سمجھ

Read more

غلام حسین ساجد کے مجموعے ”تجاوز“ میں آئینے کا شعری اظہار

اردو شاعری میں مختلف لفظوں کا استعاراتی، علامتی اور تلمیحاتی استعمال خیال کو وسعت عطا کرنے کا بہترین نمونہ سمجھا جاتا ہے۔ اپنے لغوی مفہوم سے قطع نظر شعری پیرائے میں لفظ خاص معنی کو اجاگر کرتا ہے تو خیال میں ندرت، وسعت، رعنائی اور رفعت پیدا ہوتی ہے۔ شاعری میں کثیر الفاظ اپنے لغوی معنی کے بجائے خاص معنوں میں جلوہ گر ہیں۔ آئینہ حیرت انگیز طور پر اردو کے تمام شعراء کا مشترکہ پسندیدہ لفظ قرار دیا جاسکتا

Read more

جون ایلیا کے شعری عجائبات

عجیب شاعر ہے ایک سرا پکڑتا ہوں تو دوسرا ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ شاعری اور شخصیت میں یکساں عجائبات حیرت و انبساط کا سبب بنتے ہیں۔ علمی و ادبی گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود طبیعت و مزاج میں حد درجہ لا ابالی پن عجیب دکھائی دیتا ہے۔ شاعری سے لگاؤ گھریلو ماحول کا نتیجہ تھا۔ پہلا شعر آٹھ سال کی عمر میں کہا، ملاحظہ کیجیے۔ چاہ میں اس کی طمانچے کھائے ہیں دیکھ لو سرخی مرے رخسار کی

Read more

عرب ملوکیت اور فلسطینی بچے کا وصیت نامہ

کسی زمانے میں اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان او آئی سی کے پلیٹ فارم پر سنائی دیا تھا۔ آہستہ آہستہ مسلم ممالک میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی طرف رغبت پیدا ہو رہی تھی۔ ستتّر سالوں میں تھوڑی بہت رغبت پیدا نہ ہونا قدامت پسندی کے رجحانات کی نشان دہی کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو قدامت پسند کہلوانا پسند نہیں کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ بدلنا پڑتا ہے لیکن موجودہ حماس اور اسرائیل

Read more

اکیسویں صدی نمائندہ ادیب کی تلاش میں ہے

۔کسی واقعے پر فوری تخلیقی رد عمل ادیب کی حساسیت کا غماز ہوتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی ادیب برسوں بعد کسی واقعے کے بارے میں لکھے۔ ہم ادیب کو مجبور نہیں کر سکتے ہیں کہ وہ خارجی سطح پر ہونے والے تغیرات کو احاطہ ء تحریر میں لائے۔ کبھی کبھی وہ صرف داخلی سطح پر نبرد آزما رہتا ہے اور خارج سے مکالمے کے لیے تیار نہیں ہوتا ہے۔ یہ بھی خارج از امکان نہیں ہے کہ

Read more

ڈاکٹر سعادت سعید کا سماجی شعور

فرد سماج کی اکائی تصور ہوتا ہے اور اکائیاں مل کر سماج کی تشکیل کرتی ہیں۔ عام آدمی گزشتہ سے پیوستہ سماجی زندگی میں ڈھلتا چلا جاتا ہے لیکن ادیب سماج کی ناہمواریوں کو محسوس کرتا ہے اور اُس کی تشکیلِ نو چاہتا ہے۔ وہ تنہا نہیں رہ سکتا اور موجود ناہمواریوں سے سمجھوتے پر بھی تیار نہیں ہوتا ہے۔ یہاں سے تبدیلی کا آغاز ہوتا ہے جو فکری سطح پر قطع و برید کے بعد نظریے کی صورت میں

Read more

بچپن اور سویا ہوا محل

زمانۂ طالب علمی میں کلاس کے دوران میں سوئے ہوئے بچے کو بیدار کرنے کے لیے چاک کا ٹکڑا استعمال میں لایا جاتا تھا۔ نیند کا پتا نہیں کب آ جاتی تھی لیکن چہرے پر چاک کا ٹکڑا لگنے سے بیدار ہونے میں ذرا دیر نہیں لگتی تھی۔ استاد کمال نشانہ باز ہوتے تھے۔ نشان گالوں پر اس جگہ بنتا تھا کہ بعد میں ہر پوچھنے والے کو بتانا پڑتا تھا ”نہیں، جو تم سمجھ رہے ہو وہ بات نہیں

Read more

لذت کا دائرہ کار

 لذت کا دائرہ کار بے حد وسیع ہے۔ یہ جسمانی، ذہنی، نفسیاتی سمیت مختلف صورتوں میں ہو سکتی ہے۔ اسے صرف جسم تک محدود کرنا مناسب نہیں ہے۔ البتہ جسم میں حواس خمسہ لذت کا سب سے نمایاں اور غالب ذریعہ ہیں۔ دیکھنے کی لذت تشفی و تسکین کا سبب بنتی ہے۔ سننے کا لطف اسے مہمیز دیتا ہے، سونگھنے سے خاص کیفیت ظاہر ہوتی ہے۔ لمس ہیجان کا سبب بنتا ہے اور ذائقہ تمام حواس کو گویا ایک خاص

Read more

امی جان

بازو دھوتے ہوئے ہائی نیک کی آستینیں اوپر چڑھ جاتی ہیں اور انھیں نیچے لانا خاصا مشکل امر ہوتا ہے۔ بچپن میں مجھے ہائی نیک پہننے سے سخت کوفت ہوتی تھی مگر بچوں کے لیے یہ سردی کا خاص تحفہ تھا۔ سردیوں میں کم از کم چار چیزوں ایک وقت میں ضرور پہنی جاتی تھیں۔ بنیان، ہائی نیک، شرٹ اور جرسی یا جیکٹ، شدید سردی میں جرسی اور جیکٹ دونوں کا اہتمام کرنا پڑتا تھا۔ میں امی جان سے ہائی

Read more

کھڑکی اور میں

کمرے میں ہوا، روشنی اور صدا کا واحد رابطہ کھڑکی ہے۔ کمرے کا دروازہ ٹی وی لاونج میں کھلتا ہے جو لائٹ نہ جلنے کے باعث اندھیرا میں ڈوبا رہتا ہے۔ گھر کے وسط میں ٹی وی لاونج کی موجودگی جزیرے کے مانند ہوتی ہے۔ پہلے پہل یہاں گہما گہمی رہتی تھی۔ جب سے دنیا سمٹ کر موبائل فون میں آ گئی ہے۔ یہاں آمد و رفت کم کم دیکھنے میں آتی ہے۔ عقبی گھر کی دو منزلہ تعمیر کے

Read more

سوشل میڈیا پر موجودگی کا جواز

ہماری ہر جگہ موجودگی ممکن نہیں ہے۔ مختلف جگہوں پر موجودگی کا اصرار بھی بے معنی ہے۔ ہمیں انتخاب کرنا پڑتا ہے اور اس اس انتخاب میں بسا اوقات غلطی کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔ جہاں ہم موجودگی کی خواہش رکھتے ہیں وہاں ہماری موجودگی توقع پر پورا نہیں اترتی ہے۔ یہ الگ بات کہ جہاں ہم موجود نہیں ہیں وہاں ہمارا انتظار ہو رہا ہے۔ ترجیحات کا تعین پسند، جذبے، خواہش اور مفاد کے تابع ہوتا ہے۔ کبھی کبھی

Read more

بد دیانت معاشرہ

بد دیانتی اخلاقی مسئلہ ہے اور اس کی روک تھام کے لیے فرد، معاشرے اور حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ بظاہر یہ مسئلہ دولت اور وسائل کی غیر مساویانہ تقسیم کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ یوں ہر شخص دولت اور وسائل کے حصول کے لیے مذہبی، اخلاقی اور قانونی ضابطے فراموش کر دیتا ہے۔ چوں کہ عزت کا معیار دولت ہے اس لیے ہر کوئی دولت کے لیے سب کچھ کر گزرنے کو تیار ہو جاتا

Read more

میاں بیوی کی ذہنی ہم آہنگی اور بھنڈی توری

ہمیں رات آٹھ بجے کا وقت دیا گیا تھا اور ہم ٹھیک آٹھ بجے پہنچ گئے۔ میں نے زندگی میں ایک ہی بارات کو وقت پر پہنچتے دیکھا ہے اور اس بارات کا دولھا میں تھا۔ گاڑیاں رکیں، ہم اترے تو کسی کی آواز میرے کانوں میں پڑی۔ ”آپ آ گئے ہیں، ہمارا خیال تھا کہ دس بجے آئیں گے“ والد صاحب نے کہا ”آپ نے آٹھ بجے کا ٹائم دیا تھا، آٹھ بجے کا مطلب دس بجے نہیں ہوتا

Read more

نظریاتی سیاست کا فقدان

جمہوریت سے سب سے بڑا گلہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے انقلاب کا نعرہ بے معنی ہو گیا ہے۔ عرصہ دراز پہلے ایشیا سبز اور سرخ کے نعرے دلوں کو گرماتے تھے۔ ان دنوں انقلابی جدوجہد کسی رومان سے کم نہ تھی۔ اس دوران میں ملکی سطح پر کوئی تبدیلی جز وقتی ٹھہراؤ کا سبب بن جاتی تھی اور کچھ عرصہ بعد پھر سے تعلیمی، صنعتی اور عوامی اداروں میں انقلاب کی گونج سنائی دینے لگتی تھی۔ نظام

Read more

کتاب پڑھنے کا شوق اور محلے کی لائبریری

ہمیں آنہ لائبریری کے بارے میں صرف شنیدہ معلومات حاصل ہیں البتہ پچاس پیسے اور پھر ایک روپیہ فی دن کتاب کی ادائیگی کے ذریعے بڑی تعداد میں کتابیں اور رسائل پڑھنے کا موقع میسر آیا ہے۔ ان دنوں کتاب خریدنے کی استطاعت نہیں تھی۔ ذاتی کتاب کی خوشی دیدنی ہوتی تھی۔ وسائل کم تھے اور لائبریری سے کرایہ پر کتابیں اور رسائل لے کر پڑھنے کا شوق پورا ہوتا تھا۔ نیا افق، جاسوسی ڈائجسٹ، سسپنس ڈائجسٹ اور سب رنگ

Read more