سیاسی عدم استحکام


اس سال الیکشن سے پہلے ملک کے سارے نامور کالم نگار اور سیاسی کمنٹیٹرز کا خیال تھا کہ اگر الیکشن صاف شفاف نہیں ہوئے تو ملک میں کوئی استحکام نہیں آئے گا۔ ملک میں جس طرح کے الیکشن ہوئے ہیں۔ آج ملک اس کے نتائج بھگت رہا ہے۔ کچھ معاشی اشارے بھی اچھے ہوئے ہیں مگر ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہے۔ ہمارے ادارے آمنے سامنے ہیں۔ اس سیاسی عدم استحکام کا سلسلہ کشمیر سے شروع ہوا، جہاں پی ٹی آئی کا فارورڈ بلاک بنا کے کشمیر میں حکومت بنائی گئی۔

اس کا نتیجہ بھی ہم سب کے سامنے ہیں۔ آج کشمیر میں جو نعرے لگ رہے وہ میں یہاں لکھ نہیں سکتا۔ آج کشمیر کی حکومت کو کشمیر کے لوگ ماننے کو تیار نہیں۔ لوگ سڑکوں پر ہیں۔ کشمیر کے شاعر احمد فرہاد مسنگ ہو گئے ہیں۔ پاکستان کی حکومت نے عوام کے سارے مطالبات مان لیے ہیں مگر ابھی تک کشمیر میں امن نہیں آیا۔ کشمیر میں شروع ہونے والا احتجاج اب گلگت بلتستان پہنچ چکا ہے۔ وہاں مسلسل لوگ احتجاج کر رہے ہیں اور ان کے نعرے بھی ملک کے خلاف لگ رہے ہیں اور وزیراعظم شہباز شریف بھی گلگت کے مسئلے کو حل کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔

کی پی کے وزیر اعلی امین گنڈاپور مسلسل اسلام آباد کو للکار رہے ہیں۔ وہ قومی اداروں کو بھی دھمکا رہے ہیں کہ اگر انہوں نے اپنا قبلہ درست نہیں کیا تو ان کی حکومت قومی اداروں پر قبضہ کر لے گی اور خود چلائے گی۔ اس کے علاوہ اس نے یہ بھی کہا ہے کشمیر کو پختونوں نے فتح کیا تھا اور آپ کشمیریوں کے آگے ڈھیر ہو گئے ہو۔ اگر پختون اپنے حق کے لیے باہر نکلے تو آپ کا کیا ہو گا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں نے چیف جسٹس سپریم کو خط لکھا ہے کہ ان کے کام میں ایجنسی کی دخل اندازی ہو رہی رہی ہے اس سے لگتا ہے کہ ہمارے ادارے آمنے سامنے آ چکے ہیں، کوئی بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ جسٹس بابر ستار نے ایک اور خط اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو لکھ ڈالا ہے کہ اس کو ایجنسی کے اعلی قیادت کی طرف سے میسیج آیا ہے آپ پیچھے ہٹ جائیں، اس کے بعد حالات اور کشیدہ ہو گئے ہیں۔ فیصل واوڈا اور مصطفی کمال نے ججوں کے خلاف پریس کانفرنس کر ڈالی اور ان کو سپریم کورٹ نے سمن بھی بھیج دیا ہے۔ فیصلہ واوڈا اور مصطفی کی سیاسی حیثیت ایک کونسلر والی بھی نہیں مگر وہ گھر بیٹھ کر سینیٹر اور ایم این اے بن گئے ہیں۔ وہ اب اپنے محسنوں کے لیے میدان میں آ گئے ہیں۔

ملک کے وزیر اعظم اتنے کمزور نظر آتے ہیں، وہ کسی معاملے میں فیصلہ نہیں کر رہے۔ وہ ایجنسی کی مداخلت کی مخالفت بھی نہیں کر رہے اور ججوں کی بھی کھل کر سپورٹ نہیں کر رہے۔ اس ملک میں مصیبت یہ ہے جو پارٹی اقتدار میں آتی ہے اس کو سب کچھ اچھا لگتا ہے اور اسٹیبلشمنٹ کے رول کا بھی دفاع کرتے ہیں، مگر جیسے ہی اقتدار سے نکالا جاتا ہے ان کو اسٹیبلشمنٹ خراب لگنا شروع ہو جاتی ہے۔ جیسے عمران خان ریٹائرڈ جنرل باجوہ کی تعریفیں کرتا تھا اور ایجنسی کی دخل اندازی کو بھی سپورٹ کرتا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ ایجنسیز ان کا ٹیلی فون رکارڈ کر سکتے ہیں۔ جب عمران خان اقتدار سے باہر ہوئے ان کی رکارڈنگ سامنے آئی تو اس کو ملک کی ایجنسی کا رول اچھا نہیں لگا۔ اس وقت بھی شہباز شریف ہائبرڈ حکومت میں خوش نظر آتے ہیں مگر کل اگر ان کا مشکل وقت آیا تو یہ بھی کہے گا میرے پاس کوئی پاور نہیں تھی، جیسے عمران خان نے کہا تھا۔

یہ بات تو طے ہے جب تک عمران خان کا کوئی فیصلہ نہیں ہوتا ملک میں نہ سیاسی استحکام آنا ہے نہ ہی معاشی استحکام آنا ہے۔

پی ٹی آئی کے پاس ایک تگڑی اپوزیشن ہے اور وہ حکومت کو کبھی چلنے نہیں دی گی۔ اور جتنی دیر عمران خان جیل کے اندر رہے گا وہ زیادہ پاپولر ہوتا جائے گا اور شہباز شریف کی حکومت کمزور ہوتی جائے گی۔ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو عمران خان کو ریلیف دینا پڑے گا۔ کم از کم ان کی پارٹی کو مخصوص سیٹیں ہی مل جائیں اور عمران خان کو آزاد کیا جائے تو یہ کام حکومت کے فائدے میں جائیں گے اور عمران خان جیل کے اندر حکومت کے لیے زیادہ خطرناک ہو گا اور پتا نہیں یہ بات حکومت کو کیوں سمجھ نہیں آتی۔ اگر حکومت عمران خان کو ریلیف دینے کا کوئی فیصلہ نہیں کرتی تو ملک کے حالات ایک دو سال میں مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS