جمہوریت جاگیردار اشرافیہ اور زرعی اصلاحات


دنیا کے۔ مختلف ممالک میں اس وقت مختلف نظام ہائے حکومت رائج ہیں جن میں ایک جمہوریت بھی ہے جمہوریت کوئی آئیڈیل یا نقائص سے پاک طرز حکومت قرار نہیں دیا جا سکتا ہے تاہم موجود قابل عمل نظاموں میں اس کو قدرے بہتر سمجھا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ تقریباً تمام ترقی یافتہ ممالک میں جمہوری نظام کو اختیار کیا گیا ہے جبکہ دوسرے ممالک کے بیشتر عوام بھی اس کے حق میں ہیں۔ پاکستان میں ابتدا سے زیادہ تر اہل فکر جمہوریت کے حامی رہے ہیں اور تقریباً ساری سیاسی جماعتیں جمہوریت کی داعی ہیں مگر بدقسمتی سے جمہوریت کی ہمہ گیر اہمیت اور افادیت اور دعووں کے باوجود پاکستان میں حقیقی جمہوریت کا قیام اور استحکام تسلی بخش نہیں۔

اگرچہ مارشل لاء ادوار کے علاوہ انتحابات کے ذریعے سیاسی جماعتیں کی تشکیل کردہ حکومتوں کو آئینی اور رسمی طور پر جمہوری کہا جاتا ہے مگر یہ حکومتیں جمہوریت کے اصل مقاصد (معاشی عدل، سماجی مساوات، تہذیبی ترقی۔ سیاسی حقوق اور آزادی اور مذہبی رواداری و ہم آہنگی) کے حوالے سے زیادہ کامیاب نہیں رہی ہیں اور نہ ان کو تسلسل اور حقیقی اختیار ملا ہے۔ ایسے میں ایک اہم سوال تو یہ آتا ہے کہ پاکستان میں حقیقی جمہوریت نہ پنپنے کے اسباب کیا ہیں یہ ایسا موضوع ہے جو عرصے سے اہل فکر میں زیر بحث رہا ہے۔

اس ضمن میں کئی دوسرے عوامل اور اسباب کے ساتھ فیوڈل (جاگیردارانہ) کلچر ایک بنیادی سبب ہے جو پاکستان میں حقیقی جمہوریت کے قیام اور استحکام میں مانع گردانا جاتا ہے۔ بیشتر اہل فکر اور سیاسی مفکرین کا متفقہ موقف ہے کہ جب تک جاگیردار اشرافیہ کا اثر ختم یا کم نہیں ہوتا تب تک حقیقی لبرل جمہوریت کی موثر نشو و نما کا امکان بھی کم ہے۔ اگر ایسا ہے تو اگلا سوال یہ ہے کہ جاگیردار اشرافیہ کی طاقت اور اثر کو کس طرح توڑا یا کم کیا جا سکتا ہے۔

اس ضمن میں ایک تجویز تو یہ دی جاتی ہے کہ بڑے پیمانے پر موثر زرعی اصلاحات کی جائیں۔ اس طرح کے حل سے جاگیردار اشرافی اقلیت اور اس کے حاشیہ برداروں کے سوا کوئی اختلاف نہیں کرتا یوگا مگر اس سلسلے میں پھر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ کیا پاکستان میں اس طرح کی اصلاحات کی امید کی جا سکتی ہے کہ نہیں؟ قیام پاکستان کے دنوں سے ترقی پسند اہل فکر ملک میں حقیقی جمہوریت کے قیام کے لیے زرعی اصلاحات کے ذریعے فیوڈل کلچر کے خاتمے کو بنیادی شرط سمجھتے چلے آرہے ہیں لیکن ان کے اس، مطالبہ یا تجویز پر خاطر خواہ عمل کرنا باقی ہے۔

ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے ادوار میں بلاشبہ بعض زرعی اصلاحات کی گئیں جس کے کچھ مثبت اثرات بھی نکلے تاہم محدود پیمانے پر ہونے کے باعث وہ زیادہ نتیجہ خیز اور موثر ثابت نہیں ہوئے۔ پاکستان کی ایک بدقسمتی یہ رہی ہے کہ یہاں کے حکمران اور فیصلہ سازوں کا تعلق زیادہ تر جاگیر دار اور مراعات یافتہ طبقے سے ہوتا ہے اس لیے ان کی طرف سے موثر قسم کے زرعی اصلاحات کی مخالفت اور مزاحمت فطری ہے کیونکہ ان سے وہ اپنے اثر اور طاقت کے سرچشمے سے محروم ہوتے ہیں۔

یوں جاگیردار اشرافیہ کے تحت عام جمہوری طریقے سے موثر زرعی اصلاحات کی تجویز پر عمل ہونے کا امکان کم ہے۔ اس کے بعد اگلا سوال یہ ہو سکتا ہے کہ متذکرہ حل کے علاوہ زرعی اصلاحات کے ضمن میں دوسرے امکانات کیا ہو سکتے ہیں؟ اس حوالے سے کچھ ”خواہشات“ کو امکانات قرار جا سکتا ہے جن میں ایک تو کوئی انقلاب برپا ہونے کا ہے مگر اس کا امکان بوجوہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ حکمران اشرافیہ میں کوئی چین کے چوین لائی، بھارت کے پنڈت نہرو جیسا یا کوئی دوسرا ذوالفقار علی بھٹو ابھر آئے جو ان کی طرح جاگیردارانہ اور مراعات یافتہ پس منظر ہونے کے باوجود بڑے پیمانے پر موثر زرعی اصلاحات کریں تیسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ وقت کے ساتھ ارتقائی عمل کے تحت فیوڈلزم کا اپنا اثر کھونے کا انتظار کیا جائے مگر اس صورت میں پلوں کے نیچے بہت سا پانی بہہ چکا ہو گا اور کسے معلوم کہ اس عرصے میں حقیقی جمہوریت کے فقدان کے نتیجے میں ملکی حالات کیا ہو چکے ہوں گے۔

چونکہ متذکرہ ان تینوں امکانات کا دار و مدار محض اتفاق اور قسمت یا ان دیکھے مستقبل بعید پر ہے۔ اس لیے ان کی وقوع پذیری کی صرف خواہش کی جا سکتی ہے تاہم ان کے مقابلے میں ایک نسبتاً معقول اور قدرے حقیقت پسندانہ صورت بھی ہو سکتی ہے وہ یہ کہ قومی سطح کی ایک ایسی جماعت ابھر آئے جس کے اغراض و مقاصد میں زرعی اصلاحات بنیادی ترجیح ہوں اور اس کے پاس عوام اور ملک کے معروضی حالات کی روشنی میں قابل عمل ٹھوس پروگرام ہو۔

اگرچہ کہنے کی حد تک ملک کی تقریباً بیشتر جماعتیں حقیقی جمہوریت کی راہ میں فیوڈل کلچر کو نہ صرف رکاوٹ سمجھتی ہیں بلکہ بعض تو زرعی اصلاحات کے وعدے بھی کرتی ہیں مگر ان جماعتوں کی طرف سے اس قسم کی باتیں اور وعدے محض سیاسی نعرے ہوتے ہیں کیونکہ ان جماعتوں میں فیوڈل اشرافیہ کا غلبہ ہوتا ہے جس سے ایسے اصلاحات اور اقدامات کی توقع نہیں کی جا سکتی ہے جو ان کے سیاسی اور معاشی مفادات۔ طاقت اور اثر کو زک پہنچائے۔

اس لیے ضرورت ایک ایسی ملک گیر سیاسی جماعت کی ہے جس کے پاس نہ صرف اس حوالے سے ٹھوس قابل عمل پروگرام ہو بلکہ اس کی قیادت واقعی عوام دوست، مخلص۔ اہل اور فقیر منش قسم کی ہو۔ اگر مستقبل قریب میں متذکرہ خصوصیات والی سیاسی جماعت ابھر کر عام آدمی کی حمایت حاصل کرے تو فیوڈل کلچر کے خاتمے اور حقیقی لبرل جمہوریت کے پنپنے کی توقع کرنا بے جا نہیں ہوگا بصورت دیگر موجود روایتی فیوڈل اور اشرافیہ کلچر کی موجودگی میں ایسی حکومتیں بنتی رہیں گی جو آئینی اور رسمی طور پر بلا شبہ جمہوری کہلائی جاتی ہوں گی مگر اس طرز سیاست سے حقیقی جمہوریت کے قیام اور استحکام کی زیادہ توقع کرنا صرف حد درجہ رجائیت پسندی ہو سکتی ہے۔

Facebook Comments HS