پوٹن کا دورۂ چین
صدر ولادیمیر پوٹن نے چین کا چھ ماہ کے عرصے میں دوسرا دو روزہ سرکاری دورہ کیا ہے۔ یوکرائن کی جنگ کے دوران یہ دوسرا دورۂ بیجنگ ہے۔ روس کو اس جنگ میں چینی تائید و حمایت درکار ہے۔ دونوں ممالک اشتراکی نظریات کے حامل ہیں اور دونوں کے ہاں آمرانہ طرز حکومت بھی کم و بیش ایک سا ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین کے ممالک نے روس پہ کئی پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ جبکہ چین مسلسل روسی حمایت پہ کمر بستہ کھڑا نظر آتا ہے۔
ان پابندیوں کی وجہ سے تیل و گیس کی ترسیل اگرچہ مغربی ممالک کو بند ہو چکی ہے مگر چین اس کا اب سے بڑا خریدار بن گیا ہے۔ روس کا خزانہ بھر گیا ہے نیز اسے جدید ترین اسلحہ و گولہ بارود چین سے ملتا ہے۔ پوٹن کا چین میں پرتپاک استقبال کیا گیا انہیں اکیس توپوں کی سلامی دی گئی، گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا اور صدر شی جنپنگ سے خصوصی ملاقات کی تھی جس میں قدرتی امر ہے کہ یوکرائن کی جنگ بارے تفصیلی بات چیت کی گئی، مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے خصوصی گفتگو ہوئی ہے۔
معیشت اور دفاع بارے میں خاصی سیر حاصل گفتگو بھی ہوئی۔ یہ دورہ کئی پہلوؤں سے اہم ترین دورہ تھا دونوں عظیم ممالک کے درمیان ایک اہم ترین تزویراتی اتحاد قائم ہے جس کی پوٹن نے تعریف کی، اور کہا کہ ہماری بے مثال دوستی ہے۔ دونوں کا خیال ہے کہ مغربی دنیا جو جمہوریت کا راگ الاپتی ہے وہ بے وقت کی راگنی ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کو اپنے عظیم کاموں سے الگ کرنا تھا۔ دونوں کا خیال ہے کہ یہ سب ان کی کام سے توجہ ہٹانے اور نیچا دکھانے کے لئے کیا جا رہا ہے جبکہ ان کے ہاں صرف اسی طرح کی حکومت کی جا سکتی ہے۔
ان کے خیال میں اس طرح کے شخصی حکمرانی کے ساتھ ہی وہ شاہراۂ ترقی پہ گامزن ہوسکتے ہیں۔ چین نے ابھی تک روس کو اپنے اسلحے کی کوئی کھیپ نہیں بھجوائی مگر سفارتی طور پہ اس کی حمایت کی ہے جواب میں روس چین کی تائیوان کے معاملے پہ مکمل تائید کرتا ہے۔ امریکیوں کے خیال میں چین روس کو اسلحہ سازی کا سامان دے رہا ہے۔ امریکی اندازوں کے مطابق 2023 کے دوران 90 % سامان حرب چین سے ہی روس نے خریدا، مائیکرو الیکٹرانکس کا سامان اور % 70 مشین کے پرزے بھی روس یہیں سے خریدتا ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ ٹونی بلنکن کے مطابق روسی قوت کا دار و مدار چینی ٹیکنالوجی پہ منحصر ہے۔ اس کے خیال میں چین ہی یوکرائن میں پیش قدمی روکنے کے لئے کچھ کر سکتا ہے۔ چین البتہ غیر جانبدارانہ ہونے کا تاثر دیتا آیا ہے البتہ اس نے کبھی بھی کھل کر روسی جارحیت کی مذمت نہیں کی نہ اسے جارحانہ عمل قرار دیا ہے۔
البتہ روس کے خلاف ان مغربی ممالک پہ اس نے ہمیشہ ناروا پابندیاں لگانے اور جنگ کے شعلے بھڑکانے کا الزام لگایا ہے۔ یوکرائن کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ہمیشہ اس بات پہ زور دیا ہے کہ روسی افواج کا یوکرائن سے انخلا کیا جائے۔ ایک امن کانفرنس کا انعقاد جون میں سوئٹزر لینڈ میں کیا جا رہا ہے جس کا چین نے بائیکاٹ کیا ہے جہاں روس کی مذمت کی جا رہی ہے البتہ چین کی خواہش ہے کہ ایسی کوئی کانفرنس منعقد کی جائے جہاں دونوں فریقین موجود ہوں تاکہ امن کا کوئی امکان ہو سکے۔
روس اور چین کے مابین فوجی تعاون بھی بڑھ رہا ہے دونوں فوجوں نے مل کر کئی ایک مرتبہ فوجی مشقیں کی ہیں۔ ان کی آرمی اور نیوی مشترکہ مشقیں کرتی آئی ہیں بلکہ خلیج فارس میں تو ایرانی فوجی بھی ان کے ہمراہ مشق کرتے پائے گئے۔ روس اور چین کے تعلقات دن بدن مستحکم ہو رہے ہیں اور اگر یہ یونین زیادہ گہری ہوئی تو غالباً بڑی طاقتوں کو گھبرانے کی ضرورت پڑ جائے گی۔


