لاہور اور تقسیم


لاہور بلاشبہ دھنک مثل ہے کہ اس کے خمیر میں کئی ایک مذاہب، قومیتوں و تہذیبوں کی آمیزش ہے۔ مگر اس شہر نگاراں کی تاریخ میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب ہر جا نفسا نفسی کا عالم تھا اور یہ روشن شہر تاریکیوں میں ڈوب گیا۔ سن 1947 چودہ و پندرہ اگست کی درمیانی شب نوید آزادی تک محدود نہیں۔ بلکہ یہ صبح آزادی اندھیروں میں ڈوبی ہونے کے علاوہ سرخی مائل بھی ہے۔ قریباً دس لاکھ لوگوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ کتنا آسان ہے یہ سب کہنا و لکھنا۔

گر ایک لمحہ کو رک کر ہم سوچیں کہ جب یہ سب ہوا ہو گا تو کیا وہ قیامت صغریٰ نہ ہوگی؟ فضاؤں میں ایسا کون سا زہر گھلا تھا کہ جب صد ہا برس ساتھ رہنے والے ایک دوجے کے دشمن بن گئے۔ کئی ایک ادیبوں نے اس پر قلم کی سیاہی صرف کی۔ یونہی مورخین نے بھی اس سب پر اتنا کچھ لکھا کہ اب غالباً اس لکھے ہوئے پر کچھ لکھے جانے کی حاجت ہے۔ ان بیانیوں کے انبار میں ایک نئی آواز ڈاکٹر عدنان طارق کی ہے جو کہ ان کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب لاہور و تقسیم میں سنائی دیتی ہے۔ یہ آواز نئی بھی ہے اور اپنی تحقیق و جستجو کی بناء پر پچھلی تمام آوازوں میں انتہائی اہم و توانا بھی۔

میری دانست میں اس کتاب کے دو امتیازات ہیں۔ اول یہ کہ یہ تحقیق مناظرانہ نوعیت کی نہیں۔ یعنی اس میں تحقیق کا حق اس بات پر ادا نہیں کیا گیا کہ کیسے حقائق کے منہ سے الفاظ نکلوائے جائیں، جس سے ایک فریق ظالم و دوسرا مظلوم دِکھے۔ سرحد کے دونوں جانب لکھی جانے والی بیشتر کتب کے برعکس اس کتاب کا بنیادی مدعا ہی یہ ہے کہ تقسیم کے دوران ہونے والے فسادات کی ذمہ داری کسی ایک فریق پر عائد کرنا غلط ہے۔ دوسرا امتیاز جو مجھے معلوم ہوا وہ یہ ہے کہ پہلی مرتبہ تقسیم کے دوران ہونے والے فسادات کو سمجھنے کی خاطر ہجوم کی نفسیات کو جاننے کی کوشش کی گئی ہے۔

مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک جگہ گوپال متل نے لکھا تھا کہ پندرہ اگست کے بعد ایک صبح وہ نگینہ بیکری پر بیٹھے تھے کہ کچھ نوجوان آئے اور پچھلے چند ایام کی اپنی روداد سنانے لگے۔ ان کا موضوع تھا کہ کس طرح انہوں نے ہندؤں و سکھوں پر حملے کیے، حتیٰ کہ انہیں ذبح کیا۔ اسی بیچ متل نے انہیں بتایا کہ وہ ہندو ہیں۔ اس کو سنتے ہی ان نوجوانوں نے وضاحت کی اگر جناب انہیں ایک روز قبل ملتے تو وہ ضرور انہیں قتل کر ڈالتے۔ مگر چونکہ اب پاکستان وجود میں آ چکا ہے اور وہ پاکستانی ہیں تو وہ اب ان کے مہمان ہیں۔ سو وہ سوال جس کا آغاز میں تذکرہ تھا کہ آخر ایسا کیا ہوا تھا کہ بھائیوں جیسے ہمسایوں نے ایک دوسرے کے گلے کاٹنے شروع کر دیے تو اس کا جواب ہجوم کی نفسیات کو جانچے بغیر دینا ممکن نہیں۔

کتاب کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس کے چار ابواب ہیں جو کہ لاہور کی تخریب سے تعمیر تک داستان بیان کرتے ہیں۔ پہلا باب اس متعلق ہے کہ کیسے فسادات کا آغاز ہوا اور اس میں مارچ تا جون 47ء تک کے واقعات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ مصنف کے بقول ہندو مسلم فسادات اس سے قبل بھی بہت سے مواقع پر ہوئے لیکن مارچ 47 میں شروع ہونے والے فسادات و ماضی کے فسادات میں بہت فرق ہے۔ اول تو یہ کہ سن 47 کے فسادات بہت بڑے پیمانے پر تھے۔

نیز یہ جس تیزی سے بتدریج مختلف مراحل سے گزرے یہ بھی انہیں ماضی کے فسادات سے ممتاز کرتا ہے۔ اوائل میں غیر مسلم منظم ہونے کے باعث کامیاب ٹھہرے۔ بم سازی کے مقابلے میں مسلم آبادی کا انحصار زیادہ تر گلیوں و چوراہوں پر جھڑپوں و املاک کو نذر آتش کرنے پر رہا۔ لیکن سب سے اہم مسئلہ جو ہندؤں و سکھوں کو درپیش تھا وہ مسلمانوں کی عددی برتری تھی اور اس کا کوئی فوری حل ان کے پاس موجود نہ تھا۔

کتاب کا دوسرا باب لاہور کی ہزار سالہ تاریخ کے چند اہم ترین واقعات میں سے ایک یعنی شاہ عالمی بازار کے جلنے سے متعلق ہے۔ یہ باب دستاویزات کے علاوہ لاہور کے 13 تھانوں کی کم و بیش ایک ہزار ایف آئی آر و درجنوں عینی شاہدین کے انٹرویوز کے تجزیے پر مشتمل ہے۔ اس بازار کا نذر آتش ہونا وہ اہم موڑ تھا، جب لاہور کے ہندو و سکھ مکین یہ جان گے کہ اب یہ شہر ان کے لیے پرایا ہو چکا ہے۔ اس ضمن میں سوم آنند نے ایک انتہائی غور طلب واقعہ درج کیا ہے۔

سوم آنند لکھتے ہیں کہ ایک صاحب نے جب ماڈل ٹاؤن میں بیٹھے دور سے آگ کے شعلوں کو بلند ہوتے دیکھا تو انتہائی پرجوش لہجے میں اپنی بیوی کو مبارکباد دی کہ لاہور ہندوستان میں شامل ہو گیا ہے۔ جب بیوی نے اس پر استفسار کیا تو انہوں نے وضاحت کی دیکھو اگر لاہور پاکستان میں ہوتا تو مسلمان بھلا کیونکر اپنی املاک کو آگ لگاتے۔ یہ آگ کے شعلے گویا گواہ ہیں کہ لاہور ہندوستان میں شامل ہوا ہے۔ خیر اس باب میں بتایا گیا ہے کہ کیسے ہندؤں کی امیدوں کے برعکس کہ وہ اس شہر میں تقسیم کے بعد بھی رہ سکتے ہیں، انہیں بالآخر ہجرت کرنا پڑی۔

دراصل اگست کے قریب آتے آتے اب فسادات نے دہشت گردی کی صورت دھار لی تھی۔ ہندؤں کا مرکز شاہ عالمی تھا۔ حتیٰ کہ اس کو انہوں نے قلعہ بنا رکھا تھا اور اس کے داخلی راستے کی جانب آٹومیٹک گنز تعینات تھیں۔ مسلم آبادی میں اس حوالے سے بہت تشویش تھی اور یوں شاہ عالمی کو نذر آتش کرنے کی باقاعدہ منصوبہ بندی شروع ہوئی۔

چوک متی سے لگنے والی آگ نے جلد ہی پورے بازار کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور 80 فیصد کے قریب املاک جل کر خاکستر ہو گئی۔ اس موقع پر فائر بریگیڈ بھی بے بس بلکہ خاموش تماشائی بنی رہی۔ گوالمنڈی کے ہندو تاجروں نے اپنے تئیں آگے بجھانے کی کوشش میں مگر پولیس میں موجود مسلم سپاہیوں نے اسے ناکام بنا دیا۔ ایک عجب منظر یہ تھا کہ شہر میں اس وقت کرفیو نافذ تھا اور آگ لگنے کے باوجود لوگ اپنے گھروں سے کرفیو کے باعث باہر نہیں نکل پا رہے تھے۔

اس پر پنڈت نہرو نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو شدید احتجاجی خط بھی لکھا۔ مصنف نے شاہ عالمی بازار کی آتشزدگی کے حوالے سے ایک اور انتہائی اہم امر کی جانب توجہ مبذول کروائی ہے کہ حکومتی رپورٹس و لاہور کے اخبارات دونوں نے ہی اس سانحہ پر کچھ خاص نہیں لکھا۔ اس ضمن میں واحد قدرے تفصیلی خبر نیویارک ٹائمز نے لگائی تھی۔ خیر شاہ عالمی کی آگ نے جلد ہی باقی شہر کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور انارکلی میں کراؤن سینما اور ہندو و سکھ تاجروں کی اکثریت پر مشتمل چھوٹے بڑے بازاروں کو بھی یونہی نظر آتش کیا گیا۔

نیز نمایاں سکھ و ہندو احباب اور خصوصاً ریلوے اسٹیشن پر قاتلانہ حملوں میں بھی شدت آ گئی۔ اُن تمام مقامات پر جہاں غیر مسلم افراد کے ہونے کا خدشہ تھا کو بطور خاص نشانہ بنایا جانے لگا۔ مزنگ میں واقع گردوارہ چھیویں پادشاہی کا محاصرہ کر کے وہاں سے سکھوں کو نکلنے پر مجبور و بعد ازاں ان کا قتل عام کیا گیا۔ اس موقع پر مصنف نے اس وقت کی سول مشنری کی فسادات کو روکنے کے حوالے سے نا اہلی کا بھی تفصیلی تجزیہ کیا ہے۔ ایک تجویز یہ بھی تھی کہ لاہور میں مارشل لاء لگا دیا جائے مگر اسے بھی نظر انداز کر دیا گیا۔ بہرکیف شاہ عالمی کی آتش شہر میں بچ جانے والے ہندؤں و سکھوں کے لیے واضح پیغام تھا کہ انہیں اب یہ شہر چھوڑ کر جانا ہو گا۔

کتاب کا تیسرا باب لاہور سے ہندو و سکھ آبادی کے انخلا اور مہاجرین کی آمد پر مشتمل پر ہے۔ لاہور کے غیر مسلم سیاسی رہنماؤں نے سکھ و مسلم آبادی کو قائل کرنے کی کوشش کی وہ لاہور سے ہجرت نہ کریں۔ شہر میں جاری فسادات کے باعث غیر مسلم آبادی عجب کشمکش کا شکار تھی۔ ایک جانب ہندو و سکھ رؤسا تھے تو دوسری جانب نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے غیر مسلم تھے۔ بہت سوں کا اب بھی یہ خیال تھا کہ کچھ ہی عرصہ میں شاید سب پھر سے بحال نہیں تو بہتر ضرور ہو جائے گا۔

مگر تیزی سے بدلتے حالات میں جلد ہی انہیں اپنی خام خیالی کا اندازہ ہو گیا۔ اس سب میں ہجوم نے جیت حاصل کی۔ اگست میں حکومت نے شہر میں نظم و نسق کے حوالے سے کچھ سختی کرنے کی کوشش کی لیکن مہاجرین کی تیزی سے آمد اور ہجوم کے بے قابو ہونے کی وجہ سے یہ سب محال تھا۔ مہاجرین کی آمد کے حوالے سے بھی مصنف نے دلچسپ تجزیہ پیش کیا ہے۔ مصنف کے بقول اوائل میں شہر میں ہر جا قابض ہجوم و حکومتی اہلکاروں کی جانب سے مہاجرین کا گرم جوشی سے خیر مقدم کیا گیا۔ مگر جلد ہی دونوں کا رویہ مہاجرین کی جانب تبدیل ہو گیا۔ حتیٰ کہ اب مہاجرین کو لوٹنے وغیرہ کے واقعات سامنے آنے لگے۔ مصنف نے اس تبدیلی کے حوالے سے بھی ہجوم کی نفسیات کا عمدہ تجزیہ پیش کیا ہے۔

آخری باب مہاجرین کی آبادکاری اور لاہور شہر کی تنظیم نو کے حوالے سے ہے۔ آبادکاری کے ضمن میں سب سے اہم مسئلہ گھروں کی الاٹمنٹ کا تھا اور کلیم اور بغیر کلیم دونوں کے ہی الاٹمنٹس ہوئیں۔ انتظامیہ کی کاوشوں سے لاہور میں زیادہ مہاجرین کو آباد نہیں کیا گیا بلکہ انہیں ملک کے دوسرے حصوں میں بھیج دیا گیا۔ لاہور میں جتنے مہاجرین آئے تقریباً اتنے ہی ہندوؤں و سکھوں کا شہر سے انخلاء ہوا۔ اگر تقسیم سے قبل کی مردم شماری کو مدنظر رکھا جائے تو تقسیم کے بعد بھی لاہور کی آبادی میں کوئی خاص فرق نہیں آیا۔

اس وجہ سے شہر کی بحالی میں کافی آسانی رہی۔ حکومت نے خاص طور لاہور میں مشرقی پنجاب کے مہاجرین کو آباد کیا اور ان کی معاش کے لیے چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کو خصوصی فروغ دیا۔ شہر لاہور اپنی ہزار سالہ تاریخ میں کئی مرتبہ حملوں کا نشانہ رہا، بربادی بھی ہوئی مگر یہ شہر پھر سے اٹھ کھڑا ہوا۔ تقسیم کے بعد بھی لاہور پاکستان کے اہم سیاسی، سماجی و صنعتی مرکز کے طور جلد نمایاں ہو گیا۔ لیکن تقسیم ہند نے اس شہر پر دور رس اثرات مرتب کیے۔

تقسیم کے بعد لاہور کے نوجوانوں نے باقاعدہ ایک تنظیم بنائی جس کا مقصد مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کے قتل عام کا بدلہ لینا تھا۔ حتیٰ کہ شہر میں کئی ایک گھروں پر لکھا نظر آتا تھا کہ ہم مشرقی پنجاب کے قتل عام کو بھولے نہیں۔ مصنف نے اس ضمن میں اردو اخبارات و ان کے طرز صحافت کا بھی جائزہ لیا ہے کہ کیسے ایک نئی طرح کی حب الوطنی لوگوں میں اس ذریعے سے جگانے کی کوشش کی گئی۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ کتاب اپنی تحقیق، ماخذات کی جانچ پڑتال، طرز تحریر اور پیشکش ہر اعتبار سے ایک کامیاب کاوش ہے۔ پچھلی دہائی میں لاہور پر چند ایک اہم و اچھی اکیڈمک کتب منظر عام پر آئی تھیں۔ اس دہائی کے آغاز میں ہنوز کسی اچھی کتاب کی گنجائش باقی تھی اور یہ کتاب اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ نیز یہ کتاب لاہور تک محدود نہیں۔ مصنف نے جس عمدگی سے ہجوم کی نفسیات کا مطالعہ و تجزیہ کیا وہ انتہائی اہم و قابل غور ہے۔

یہ کتاب چند اہم سوالات کو سمجھنے میں معاون ہے۔ مثلاً یہ کہ لوگ ڈر و خوف کی فضاء میں کس طرح سے برتاؤ کرتے ہیں؟ کیا یہ عوامل انہیں پرتشدد بنا دیتے ہیں؟ یہ وہ دو اہم سوالات یا مسائل ہیں جن سے شاید آج بھی ہماری ریاست نبرد آزما ہے۔ ایسے میں اس کتاب کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے۔ سو لاہور کی تاریخ کے علاوہ بھی جن احباب کو تقسیم ہند اور پاکستان کے سیاسی و سماجی مسائل سے دلچسپی ہے، ان کے لیے سال نو کے آغاز میں یہ کتاب یقیناً ایک دلچسپ مطالعہ ثابت ہو گی۔

Facebook Comments HS