لاہور کی یہ مشہور و معروف مسجد شاہ عالمی چوک میں واقع ہے۔
اس مسجد کی وجہ شہرت اس کی تعمیر کے ساتھ جڑا ایک دلچسپ قصہ ہے، جس میں اہالیان لاہور نے مصالحے کچھ تیز ہی رکھے ہیں۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ جس جگہ مسجد ہے، اس زمین کے مدعی ہندو بھی تھے اور مسلم بھی۔ مسلمانوں نے یہاں ایک تھڑا بنا رکھا تھا جس پر وہ نماز ادا کرتے، آہستہ آہستہ یہاں اذان بھی شروع ہو گئی۔ یہ دیکھ کر ہندو بپھر گے اور اس جگہ کا تقاضا شروع کر دیا کہ وہ یہاں بھگوان کا گھر بنائیں گے۔ اس بات پر دونوں کے درمیاں تصادم ہوا اور معاملہ جا پہنچا انگریز منصف کے پاس۔
مسلمانوں کے وکیل جن کا نام بیشتر نے قائداعظم محمد علی جناح بتلایا ہے، یہ سب جان مسلمانان ہند کو مشورہ دیا کہ بھائیو جب صاحب بہادر یہاں قدم رنجہ فرمائیں تو اگر تو اس جگہ مسجد کے آثار ہوئے تو رسم اذاں قائم رہے گی ورنہ مندر کی گھنٹی بجے گی۔ کیونکہ انگریز کے قانون میں سبھی مذاہب کی عبادت گاہیں محترم ہیں یعنی منہدم کرنے کی اجازت کسی کو نہیں۔ یہ سن فرزندان توحید معرکہ حق و باطل کے لیے تیار ہو گئے، ریل کے اسٹیشن تا شاہ عالمی اور شاہ عالمی تا باغبان پورہ اینٹیں قطار کی صورت ہاتھوں ہاتھ ترسیل کی گئیں۔
Read more