لاہور اور تقسیم

لاہور بلاشبہ دھنک مثل ہے کہ اس کے خمیر میں کئی ایک مذاہب، قومیتوں و تہذیبوں کی آمیزش ہے۔ مگر اس شہر نگاراں کی تاریخ میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب ہر جا نفسا نفسی کا عالم تھا اور یہ روشن شہر تاریکیوں میں ڈوب گیا۔ سن 1947 چودہ و پندرہ اگست کی درمیانی شب نوید آزادی تک محدود نہیں۔ بلکہ یہ صبح آزادی اندھیروں میں ڈوبی ہونے کے علاوہ سرخی مائل بھی ہے۔ قریباً دس لاکھ لوگوں

Read more

صادقین اور لاہور

(10 فروری کو حضرت صادقین کی برسی ہے ) سید صادقین احمد نقوی 30 جون 1930ء کو امروہہ (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق خطاطوں کے خاندان سے تھا۔ گو کہ ان کی ابتدائی زندگی کے بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں ملتیں۔ لیکن آپ کے سوانح نگار اس بات پر متفق ہیں کہ آپ بچپن سے ہی مصوری کی جانب راغب تھے۔ گھر و اسکول کی دیواروں پر مشق کیا کرتے۔ حتیٰ کہ آپ کے والدین کو کئی

Read more

لاہور کی مسجد شب بھر (مسجد شہید)۔

لاہور کی یہ مشہور و معروف مسجد شاہ عالمی چوک میں واقع ہے۔
اس مسجد کی وجہ شہرت اس کی تعمیر کے ساتھ جڑا ایک دلچسپ قصہ ہے، جس میں اہالیان لاہور نے مصالحے کچھ تیز ہی رکھے ہیں۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ جس جگہ مسجد ہے، اس زمین کے مدعی ہندو بھی تھے اور مسلم بھی۔ مسلمانوں نے یہاں ایک تھڑا بنا رکھا تھا جس پر وہ نماز ادا کرتے، آہستہ آہستہ یہاں اذان بھی شروع ہو گئی۔ یہ دیکھ کر ہندو بپھر گے اور اس جگہ کا تقاضا شروع کر دیا کہ وہ یہاں بھگوان کا گھر بنائیں گے۔ اس بات پر دونوں کے درمیاں تصادم ہوا اور معاملہ جا پہنچا انگریز منصف کے پاس۔

مسلمانوں کے وکیل جن کا نام بیشتر نے قائداعظم محمد علی جناح بتلایا ہے، یہ سب جان مسلمانان ہند کو مشورہ دیا کہ بھائیو جب صاحب بہادر یہاں قدم رنجہ فرمائیں تو اگر تو اس جگہ مسجد کے آثار ہوئے تو رسم اذاں قائم رہے گی ورنہ مندر کی گھنٹی بجے گی۔ کیونکہ انگریز کے قانون میں سبھی مذاہب کی عبادت گاہیں محترم ہیں یعنی منہدم کرنے کی اجازت کسی کو نہیں۔ یہ سن فرزندان توحید معرکہ حق و باطل کے لیے تیار ہو گئے، ریل کے اسٹیشن تا شاہ عالمی اور شاہ عالمی تا باغبان پورہ اینٹیں قطار کی صورت ہاتھوں ہاتھ ترسیل کی گئیں۔

Read more

مقبول بٹ شہید

کچھ عرصہ قبل ڈڈیال ”آزاد“ کشمیر میں جانا ہوا تو شہر کے ایک مرکزی چوک سے بہت مرتبہ واسطہ پڑا۔ جس کے داخلی دروازے پر درج ہے ”مقبول بٹ شہید چوک“ اور ساتھ ہی چی گویرا کی طرح کے ایک صاحب کی تصویر ہے۔ تو سوچا کہ یہ صاحب کون ہیں۔ وہاں مقامی لوگوں سے جب پوچھا تو سب نے ایک ہی جملہ کہا کہ ”یہ قائد کشمیر ہیں“۔ مقبول بٹ تحریک آزادی کشمیر کے معروف رہنماء ہیں۔ سن اسی

Read more

بھیرو کا استھان

بھیرو کا استھان اچھرہ میں واقع ہے۔ یہ لاہور میں موجود ہندو دھرم کے چند بڑے منادر میں سے ایک ہے۔ بھیرو کے استھان کی قدامت کے متعلق ہندو دوست مختلف دعویٰ کرتے ہیں۔ لاہور گزیٹییئر 1893 ء کے مرتبین کے مطابق ”ماضی میں اچھرہ کو اچھرہ لاہور کہا جاتا تھا اور لاہوری دروازہ بھی اچھرے کے رخ پر ہے۔ اس لیے اچھرہ کو اصل قدیم لاہور بتایا جاتا ہے۔ “ اور کہا جاتا ہے کہ بھیرو کا استھان بہت

Read more

امام بارگاہ کربلا گامے شاہ

یہ مشہور و معروف امام بارگاہ بیرون بھاٹی دروازہ نزد دربار حضرت علی ہجویری واقع ہے۔ کربلا گامے شاہ کا شمار لاہور کی قدیم ترین بلکہ اولین امام بارگاہ میں ہوتا ہے۔ یہ امام بارگاہ بابا سید غلام علی شاہ المعروف گامے شاہ سے منسوب ہے۔ گامے شاہ کے حالات زندگی زیادہ تر زبانی روایات پر مشتمل ہیں۔ سوائے نور احمد چشتی کے ماضی کی کسی کتاب میں ان کے متعلق خاص معلومات نہیں ملتیں۔ چشتی صاحب اس امام بارگاہ

Read more

مزار بابا بلھے شاہ

سید محمد عبداللہ المعروف بابا بلھے شاہ کا مزار قصور میں واقع ہے۔ بابا بلھے شاہ کی ابتدائی زندگی کے متلعق کچھ خاص معلومات دستیاب نہیں۔ آپ کی جائے پیدائش کے متعلق بھی اختلاف ہے۔ مولا بخش کشتہ، ڈاکٹر لاجونتی، ڈاکٹر فقیر محمد، مفتی غلام سرور، جے آر پوری، ٹی آر شنگاری، ڈاکٹر انیس ناگی و زیادہ تر سوانح نگاروں کے مطابق آپ کا تعلق اُچ گیلانیاں (اُچ شریف) سے ہے۔ آپ کا شجرہ نسب شیخ عبدالقادر جیلانی سے جا

Read more

پاکستان کب آزاد ہوا؟

پاکستان کی مظلوم نئی نسل کو ہمیشہ یہی ذہن نشین کرایا جاتا ہے کہ اُن کا پیارا ملک 14 اگست کو آزاد ہوا تھا۔ یہ کہانی اُن کے والدین بھی سناتے ہیں، اُن کی درسی کتب بھی اور، ٹیلی وِژن پر بیٹھے بابے یعنی دانشور یا 14 اگست 1947 ء کے چشم دید گواہ (جن کوخصوصی نشرایات کے لیے خصوصی طور پر برآمد یا دریافت کیا جاتا ہے ) ۔ حکومت پاکستان کے اعلان کے مطابق یہ قومی دن ہے۔

Read more

ساغر صدیقی کی قبر کا احوال

ساغر صدیقی کی قبر میانی صاحب قبرستان لاہور میں واقع ہے۔ ساغر صدیقی کے ایک دوست سید م سلیم یزدانی نے ساغر سے بہت مشکل سے اس کی کی ابتدائی زندگی کے متعلق کچھ معلومات حاصل کی تھی۔ محمد عبداللہ قریشی مدیر ادبی دنیا نے ساغر کے آخری مجموعہ کلام ”مقتل گل“ میں یزدانی صاحب سے ساغر کی مختصر آپ بیتی کو لے کر کتاب میں شائع کردیا۔ ساغر نے یزدانی صاحب کے سوالوں کے جواب میں اپنی سرگزشت کچھ

Read more

لاہور کی تاریخی مسجد صالح کمبوہ

مسجد صالح کمبوہ اندرون موچی دروازہ لاہور میں واقع ہے۔ محمد صالح لاہوری کمبووؤں کے ایک ممتاز فرد اور سلسلہ سہروردیہ کے بزرگ ہیں۔ آپ کا درجہ بحیثیت مصنف بھی بہت بلند ہے۔ آپ فارسی کے معروف لکھاری شیخ عنایت اللہ کے رشتہ دار ہیں، سید لطیف و ڈاکٹر عبداللہ چغتائی نے آپ کو ان کا بھائی، کہنیالال و صاحب تحقیقات چشتی نے داماد، اور بھانجا بتایا ہے۔ جبکہ بعض نے آپ کو ان کا ہم زلف بھی لکھا ہے۔

Read more

سعادت حسن منٹو کی زندگی اور قبر

سعادت حسن منٹو کی قبر میانی صاحب قبرستان لاہور میں واقع ہے۔سعادت حسن منٹو 11 مئی 1912 ء کو سمبرالہ، ضلع لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ منٹو کے والد غلام حسن حکومت پنجاب کے محکمہ عدل میں منصف تھے اور منٹو کی والدہ سردار بیگم نرم مزاج اور محبت کرنے والی خاتون تھیں۔ منٹو اپنے والد سے زیادہ اپنی والدہ سے قربت محسوس کرتے تھے۔ منٹو کے سوانح نگار ابو سعید قریشی کی کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ منٹو بچپن میں بے حد شرارتی تھے۔ منٹو کو رسمی تعلیم سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی اور منٹو نے تعلیمی میدان میں کوئی خاص کامیابی بھی حاصل نہیں کی۔

Read more

مقبرہ مولانا محمد حسین آزاد

مولانا محمد حسین آزاد کی قبر امام بارگاہ کربلا گامے شاہ لاہور کے اندر ہے۔ مولانا محمد حسین آزاد کے روز پیدائش اور سن پیدائش میں اختلاف ہے۔ کچھ لوگوں نے آپ کا سن پیدائش 5 مئی 1827 ء لکھا ہے جبکہ زیادہ تر سوانح نگاروں نے آپ کا سن پیدائش 10 جون 1830 ء درج کیا ہے۔ آپ کے والد مولوی محمد باقر کے دوست ابراہیم ذوق نے ”ظہور اقبال“ سے آپ کی تاریخ ولادت نکالی اور آپ کا

Read more

گلابی باغ و مقبرہ دائی انگہ

گلابی باغ و دائی انگہ سے منسوب یہ مقبرہ شالامار باغ لاہور کے قریب ہی واقع ہے۔ گلابی باغ جو کہ ماضی میں کافی وسیع تھا اب اس کا فقط ایک دروازہ موجود ہے۔ کنہیا لال ہندی لکھتے ہیں ”وسعت میں یہ باغ بہت بڑا تھا۔ چار طرف چار ڈیوڑھیاں عالیشان بنی ہوئی تھیں اور ایک بہت چوڑا کنواں وغیرہ امارات متعلق باغ کے تھیں وسط میں یہ بارہ دری عالیشان بنائی گئی گویا نمونہ خلد بریں کا بنا۔ دیگر

Read more

سانحہ جلیانوالہ باغ کی دستاویزات کی نمائش

13 اپریل 1919 ء کو امرتسر میں عام عوام کا قتل عام کیا گیا اس واقعے کو سانحہ جلیانوالہ باغ کہا جاتا ہے۔ جلیانوالہ باغ میں کوئی خاص درخت یا پودے نہیں تھے بلکہ یہ ایک خالی قطعہ زمین ہے جو کہ مختلف لوگوں کی مشترکہ ملکیت تھا، چاروں طرف مکانات ہیں، ایک شکستہ سمادھی اور ایک کنواں بھی باغ میں ہے۔ باغ میں آنے جانے کے لیے کوئی باقاعدہ راستہ نہیں ہے سوائے چار پانچ جگہوں کے جہاں سے

Read more

علامہ عنایت اللہ مشرقی کے مزار کا احوال

مزار علامہ عنایت اللہ مشرقی علامہ عنایت اللہ مشرقی کی قبر خاکسار تحریک کے مرکزی دفتر، اچھرہ ذیلدار روڈ پر واقع ہے۔ علامہ عنایت اللہ مشرقی 1888 ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے۔ علامہ کے بزرگوں میں سے لال محمد اورنگ زیب کے عہد میں مسلمان ہوئے۔ علامہ کے بزرگ مغل حکومت کے علاوہ سکھ عہد میں اہم عہدوں پر فائز رہے۔ علامہ کے والد عطا محمد نے بھی کئی کتب تحریر کیں۔ علامہ کے والد کے معروف سیاسی رہنماؤں

Read more