وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور دیگر خواتین سربراہ مملکت


موجودہ دور سوشل میڈیا کا دور ہے ہر ایک اسی کا دلدادہ ہے دنیا بھر میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے پاس ٹچ موبائل ہے۔ موبائل ہاتھ میں کیا آیا جو بات پہلے کئی دن بعد دوسروں تک پہنچتی تھی اب منٹوں سیکنڈوں میں پہنچ جاتی ہے۔ اس حوالے سے ٹک ٹاک اور واٹس ایپ سب سے زیادہ دیکھی جاتی ہیں۔ جس میں لوگ مختلف سوانگ بھر کے مختلف حرکتیں کرتے نظر آتے ہیں۔

آج سے کئی سال پہلے جب سوشل میڈیا نہیں تھا تو بازاروں میں نٹ اور بہروپیے دکھائی دیتے تھے جو مختلف سوانگ اور روپ دھار کے عوام کو محظوظ کیا کرتے تھے۔ بچوں کو مداری کا وہ تماشا سب سے زیادہ پسند آتا تھا جس میں بندر اور بندریا کو مختلف قسم کے کپڑے پہنا کر تماشا دکھا کر خوش کیا جاتا تھا۔ وہاں بڑوں کے لیے پتلی تماشے بھی ہوتے تھے جو پتلیوں کو مختلف پہناوؤں میں ملبوس کر کے کھیل رچاتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ تماشے بھی مفقود ہوتے گئے۔ پھر فلموں ڈراموں کا دور آیا ادا کار اور اداکارائیں مختلف کاسٹیوم پہنے مختلف کردار ادا کرتے دکھائی دیتے۔ ایسے میں سوشل میڈیا آیا تو اس نے تو ہر طرف دھوم مچا دی اب عام لوگ ہاتھ کے ہاتھ چھوٹی سی ویڈیو بنا کے وائرل کر دیتے ہیں۔

ہماری سیاست پر بھی اسی کے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔ ایک واقعہ رونما ہوتے ہی منٹوں میں ہزاروں لاکھوں تک پہنچ جاتا ہے۔ جب سے پنجاب کی خاتون وزیرِ اعلیٰ سامنے آئی ہیں مختلف مواقع پر ان کی مختصر ویڈیو سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ کبھی کسی کے گھر، کبھی بازار، کبھی تندور، کبھی اسکول اور کبھی مختلف جگہ، ان کی جماعت اور مخالف جماعت دھڑا دھڑ تعریفی اور تنقیدی کمنٹس کے ساتھ ویڈیو شیئر کر رہی ہیں۔ جس کی بنا پر انہیں ڈرامہ کوئین اور ٹک ٹاکر وزیرِ اعلیٰ کا نام دیا جا رہا ہے۔

گزشتہ تین ماہ کے دوران پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ نے مختلف موقع پر تین مختلف لباس زیبِ تن کیے ہیں۔ سب سے پہلے چوہنگ ٹریننگ سنٹر میں پولیس کی وردی پہنی، پھر ایک ہسپتال میں گئیں تو ڈاکٹر والا سفید کوٹ پہنا جس پر ان کا نام لکھا ہوا تھا۔ اس کے بعد ایلیٹ فورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں بلیک یونیفارم پہنی۔

موصوفہ کو مختلف ڈریس میں دیکھ کر اسکول کے فینسی ڈریس شو یاد آ گئے جس میں چھوٹے بچے بچیاں مختلف ڈریس پہن کر شو کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں والدین، اساتذہ اور حاضرین انہیں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، وزیرِ اعلیٰ کو مختلف ڈریس میں دیکھ کر لگتا ہے کہ حکومت کی بجائے فینسی ڈریس شو ہی چل رہا ہے۔

جو اصلی اور سچا لیڈر ہو اسے ایسے ڈرامے، ناٹک اور ایسے سوانگ بھرنے کی ضرورت نہیں ہوتی اسے صرف عوام کی فلاح و بہبود سے غرض ہوتی ہے۔ ہمارے سامنے ہمسائے ملک بھارت کی بہت سی وزرائے اعلیٰ کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے لباس کی تراش خراش اور خوبصورت نظر آنے کی بجائے گڈ گورنس، عوام کی فلاح و بہبود اور عوام دوست پالیسیوں پر توجہ دی اور اپنے صوبوں کو بہتر انداز سے ترقی کی جانب گامزن کیا۔

جمہوری دنیا میں بہت سی خواتین سربراہ بنی ہیں یعنی صدرِ مملکت اور وزیراعظم کے عہدوں پر فائز رہیں بلکہ آج بھی بہت سے ممالک کی صدور اور وزرائے اعظم ہیں۔

بے نظیر بھٹو دو بار مملکتِ خداداد میں وزیرِ اعظم کے منصب پر فائز رہیں مگر انہوں نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی بلکہ باوقار انداز سے اپنی مدت مکمل کی۔ ہمارے ہمسائے میں اندراگاندھی وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہیں لیکن انہوں نے بھی ایسے ناٹک کرنے کا نہیں سوچا۔

مارگریٹ تھیچر برطانیہ کی وزیراعظم رہیں انہیں بھی ایسا کوئی ڈرامہ کرنے کا نہ سوجھا۔ دنیا انہیں آئرن لیڈی کے نام سے یاد کرتی ہے۔ جرمن کی چانسلر اینجلا مارکر بھی ایک خاتون سربراہ رہیں انہوں نے 16 سال اپنا عہدہ باوقار انداز سے گزارا۔ ہمارے ملک کا سابقہ حصہ بنگلہ دیش وہاں بھی دو خواتین وزرائے اعظم رہیں خالدہ ضیا اور حسینہ واجد، آخر الذکر تو اب بھی سربراہ ہیں انہوں نے بھی باوقار انداز اختیار کیا۔

سری لنکا کی مسز بندرا نائیکا وزیراعظم تھیں انہوں نے بھی اپنا عہد ایک بہترین سربراہ کے طور پر گزارا۔ نیوزی لینڈ کی خاتون سربراہ جیسنڈا آرڈن جنہوں نے نیوزی لینڈ کے سانحہ میں بڑی نیک نامی کمائی تھی حقیقتاً ایک ینگ سربراہ خاتون ہے۔ (ان کی عمر 39 سال ہے جبکہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب 51 سال کی ہیں ) انہوں نے بھی باوقار انداز سے حکومت کے فرائض انجام دیے۔

فرانس کی ایلزبتھ بورن وزیراعظم ہیں، کبھی ایسی کوئی حرکت ان کی طرف سے نہیں دیکھی گئی۔ اس وقت بھارت کی صدارت بھی ایک خاتون دروپدی مرمو ہے، کیا کبھی کسی نے سنا کہ انہوں نے کوئی ایسی عجیب حرکت کر کے میڈیا میں آنے کی کوشش کی ہو۔ حلیمہ یعقوب اس وقت سنگا پور کی صدرِ مملکت ہیں، آپ کی طرف سے بھی ایسی کوئی خبر دیکھنے کو نہیں ملی جس سے سستی شہرت حاصل کرنا چاہی ہو۔

ماضی میں بہت سی خواتین سربراہ مملکت اور جو خواتین اس وقت سربراہ کے طور پر موجود ہیں انہوں نے اپنی امیج بلڈنگ کو اٹھانے یا بڑھانے کی طرف توجہ نہیں دی بلکہ عوام کی بہتری کے حقیقی اقدامات اٹھانے کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ پنجاب کی وزیر اعلیٰ کو بھی چاہیے کہ مختلف لباس زیبِ تن کرنے، ٹک ٹاک بنوانے اور ہیڈ لائن میں رہنے کی بجائے حکومتی کارکردگی کو بڑھانے، لوگوں کو روزگار فراہم کرنے اور اُن کی طرزِ زندگی کو آسان بنانے کی طرف توجہ مرکوز رکھیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments