نوکری، چمچہ گیری اور ترقی


تقریباً پندرہ سال پہلے کی بات ہے جب میں ایک ملٹی نیشنل ٹیلی کوم کمپنی کے سینٹرل ریجن میں ٹیم لیڈر کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ میرے لائن مینجر قابلیت اور صلاحیت میں خاصے کم تھے اس لئے میری موجودگی سے خوف زدہ رہتے تھے اور میرے خلاف منصوبے بناتے رہتے تھے۔ وہ ایک قاری بھی تھے۔ اچانک سے ٹاپ مینیجمنٹ میں تبدیلیاں آئیں تو ایک دن میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ان کے نئے باس نے جوائن کر لیا ہے اور وہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں، اس بات کو بتاتے ہوئے ان کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ تھی جیسے مجھے راستے سے ہٹانے کا انتظام کر چکے ہوں اور اسی لئے اپنے باس سے ملاقات کروانے کے لئے لے جانا چاہتے تھے۔

مجھے اپنی صلاحیت پر ناصرف پورا یقین تھا بلکہ اپنی ایمان داری پر بھی فخر تھا جس سے کافی لوگ پریشان رہتے تھے۔ توکل کو میں اپنی طاقت سمجھتا تھا۔ ہم دونوں روانہ ہوئے تو قاری صاحب نے میرے گلے میں تعویذ دیکھ کر طنزیہ انداز میں پوچھا یہ کیوں پہنا ہے، میں نے بتایا کہ اللہ کے نام کی برکت ساتھ رہتی ہے۔ کہنے لگے جہاں میں ملاقات کے لئے لے جا رہا ہوں اگر انہوں نے دو تعویذ پہن رکھے ہوں تو کیا کرو گے، اس لئے تیار رہنا۔

قصہ مختصر، مشکلات بہت آئیں، غلط فہمیاں پیدا کی گئیں، کانوں کے کچے سینئرز ملے جنہوں نے بغیر تصدیق یقین کیا، کچھ جونیئرز نے میرے سینئرز کے ساتھ مل کر سازشیں کیں، لیکن اللہ کی مدد ایسے ساتھ تھی کہ کوئی بھی سازش مجھے نقصان نہیں پہنچا سکی۔ اچھی نیت اور ایمان داری پر اللہ نے ہمیشہ مجھے تھامے رکھا، پھر اس کی لاٹھی ایسی چلی کہ مجھے گھر بھیجنے کے منصوبے بنانے والے قاری صاحب خود گھر چلے گئے اور ان کی پوزیشن مجھے مل گئی۔ ظلم کرنے والے بہت سے افراد مکافات عمل کا شکار ہو چکے ہیں اور باقی بھی ہو جائیں گے لیکن مجھے ایسا اعزاز ملا کہ میرا شمار اپنے ادارے کے کامیاب اور کم عمر ترین مینیجرز میں ہونے لگا۔

مختلف دفاتر میں پانچ قسم کے لوگ دیکھے جا سکتے ہیں، پہلی قسم ان خوش نصیبوں کی ہے جو مٹی پر ہاتھ رکھیں تو سونا بن جائے، کوئی دفتری سیاست اور سازش ان کے راستے میں مستقل رکاوٹ نہیں بن پاتی ہے۔ غیب سے ان پر خاص نوازش ہوتی ہے اور وہ سرخرو رہتے ہیں۔ ایک قسم وہ ہے جو عام سی قابلیت والے لوگ ہوتے ہیں، بس وقت گزارتے ہیں اور کسی امید میں نہیں رہتے، ان میں سے کچھ کو اپنی سطحی صلاحیتوں کا اندازہ بھی ہوتا ہے اس لئے ان کی چھوٹی سی خواہش ہوتی ہے کہ نوکری لگی رہے اور گھر کا نظام چلتا رہے، ایسے افراد اگر سینئر پوزیشن پر ہوں یا قسمت سے سینئر بن جائیں تو ان کے ماتحتوں کی قسمت اندھیری رہتی ہے جن کے حق کے لئے لڑنے والا کوئی نہیں ہوتا۔

کچھ ایسے ملازمین ہوتے ہیں جو ایک خاص اونچائی تک پہنچ جاتے ہیں لیکن اس کے بعد انہیں یقین ہونے لگتا ہے کہ اس سے اوپر یا ادارے میں ٹاپ پوزیشن ان کے لئے نہیں کیونکہ خوشامد، دفتری سیاست، لابنگ اور سفارش کے بغیر مزید ترقی ممکن نہیں رہتی، ان میں سے کچھ افراد آسانی سے صبر کرتے ہیں اور کچھ بے چین رہتے ہیں لیکن مصلحتا وہ بھی خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ چوتھی قسم کے وہ منفی لوگ ہوتے ہیں جن کو ترقی حاصل کرنے کا فن آتا ہے اور اس کے لئے وہ کسی بھی حد سے گزر جاتے ہیں، ان کے لئے قابلیت کی کمی یا زیادتی معنی نہیں رکھتی کیونکہ ان کا مقصد کسی بھی طریقے سے اس منزل کو پا لینا ہوتا ہے جس کی وہ خواہش رکھتے ہیں چاہے حق کسی کا بھی ہو۔

باس کی خوشامد کرنا ہو، سیکنڈ لائن مینجر یا دوسرے سازشیوں سے مل کر اپنے لائن مینجر کی کرسی حاصل کرنی ہو، کسی کو روندنا ہو یا پھر کوئی نا مناسب راستہ اختیار کرنا ہو، دوسروں کو نیچا دکھانے کے لئے وہ منافقت اور غیبت کا سہارا بھی لیتے ہیں۔ مشتاق یوسفی صاحب کی یاد آ گئی جن کا کہنا ہے کہ دنیا میں غیبت سے زیادہ زود ہضم کوئی چیز نہیں۔ بہر حال یہ طریقہ اخلاقی اور مذہبی دونوں لحاظ سے غلط ہے اور اس کا حساب کبھی نہ کبھی دینا پڑتا ہے۔

دفتری ملازمین کی ایک قسم وہ بھی ہے جو افراد خود کو ترقی کا اہل سمجھتے ہیں اور مقصد حاصل نہ ہونے پر ہر وقت قسمت اور باس کو کوستے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے سامنے جو بھی آئے اسے اپنا ہمدرد سمجھ کر شکوے اور شکایتیں شروع کر دیتے ہیں۔ یہ افراد مشکلات کو خود دعوت دیتے ہیں، ان کو احتیاط کا مشورہ ہے کیونکہ مسکرا کر ملنے والا ہر انسان مخلص نہیں ہوتا ہے۔ بعض دفعہ کہے گئے الفاظ بدل دیے جاتے ہیں اور پھر آگے پہنچائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے حالات مزید مشکل ہو جاتے ہیں۔ اکثر سینئرز ہمیشہ خود کو صحیح سمجھتے ہیں اور ان کے فیصلوں پر اعتراض کی کسی کو اجازت نہیں ہوتی ہے۔

دفاتر میں نا انصافی ایک حقیقت ہے جس کی ذمہ داری یقینی طور پر مینیجرز اور مینجمنٹ پر ہوتی ہے۔ دفتری سیاست پر پہلے بھی میرے کچھ مضامین شائع ہو چکے ہیں جو آن لائن بھی موجود ہیں۔

خواتین کے حوالے سے ایک سوچ عام پائی جاتی ہے کہ ان میں قائدانہ صلاحیت مردوں کی نسبت کم ہوتی ہے، اس لئے ان کے لئے میرٹ پر نوکری یا ترقی پانے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ ایسی سوچ رکھنے والوں کے خیال میں کسی کمپنی میں ٹاپ لیول پر باپردہ خواتین اسی لیے کم نظر آتی ہیں اور بننے سنورنے والی خواتین میں ترقی کی شرح زیادہ ہے۔

کچھ لوگ اس کا جواب اس طرح دیتے ہیں کہ خواتین کو اپنا وقت فیملی اور بچوں میں بھی تقسیم کرنا ہوتا ہے اس لیے ان کے مطابق یہ بات صحیح نہیں ہے کہ خواتین میں کسی طرح بھی قائدانہ صلاحیت کی کمی ہوتی ہے بلکہ یہ وقت کی کمی اور ذمہ داریوں کی زیادتی ہوتی ہے، بہت سے ایسے ادارے موجود ہیں جن کی سربراہی خواتین کر رہی ہیں۔

آئیں اب ہم تعریف اور چاپلوسی میں فرق کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چاپلوسی دراصل خوشامد ہے جس میں سامنے والے کی جھوٹی تعریف کی جاتی ہے اور وہ خوش ہوتا ہے۔ بعض افسران خوشامد کو اتنا پسند کرتے ہیں کہ وہ جھوٹی تعریف سن کر پھولے نہیں سماتے۔ بے وقت اور بے مقصد تعریف چاپلوسی ہے۔ خوشامد اور جھوٹی تعریف سننے کے شوقین افراد کی عقل پر پردہ ہوتا ہے اور وہ جھوٹی تعریف کو بھی حقیقت سمجھ رہے ہوتے ہیں، اس کی ایک چھوٹی سی مثال دیتا چلوں۔ زنانہ لال رنگ کی شرٹ پہن کر آپ کا افسر دفتر آئے اور آپ اس کو کہیں کہ یہ شرٹ تو آپ پر بہت اچھی لگ رہی ہے، اگر خوشامد پسند ہے تو وہ اس پر بھی خوش ہو جائے گا۔ غلط طریقے سے قربت یا کوئی فائدہ حاصل کرنے کے لیے کی جانے والی جھوٹی تعریف کو خوشامد کہتے ہیں، ایسی جھوٹی تعریف کو چمچہ گیری بھی کہا جاتا ہے۔

آپ کس قسم کے افسر یا ماتحت ہیں فیصلہ خود کریں اور بہتری کی گنجائش نظر آ جائے تو موقع ضائع نہ کریں۔ اپنی پوزیشن اور اختیارات کو اللہ کی عطا سمجھتے ہوئے ایمان داری کے ساتھ انسان اور انسانیت کی بھلائی کے لئے استعمال کریں، یاد رکھیں کہ مکافات عمل ایک حقیقت ہے۔

Facebook Comments HS