لندن سے برمنگھم تک ( 1 )


تیرہ اپریل دو ہزار چوبیس، ہفتے کے دن کا سحرانگیز پہلا پہر پھیلنے کو ہے۔ لندن کے ”رمفرڈ کاؤنٹی“ میں بہار اپنے جوبن پر ہے۔ پودوں کی پناہ گاہوں میں پرندوں کے سُر سنگیت سے جو سماں بندھ رہا ہے، ہمارے قلم کی نوک میں وہ دَم کہاں کہ اس کی منظر کشی کر سکے۔ سورج بادشاہ غیر معمولی طور پر چمک رہا ہے۔ یہ بادشاہ، شاذ و نادر گھٹاؤں کا گھونگھٹ سرکا کر چہرہ مبارک کا دیدار کروانے کی دعوت عطا فرماتا ہے۔ بہ یک وقت، جب سورج بے پردہ ہو کر آنکھیں دکھاتا ہے، بہ یک وقت یہاں کی رعایا جسم کے اضافی لباس کا بوجھ پَرے پھینکتی ہے۔

جامۂ نورانی ہی میں ساحلوں کی طرف دوڑ پڑتی ہے، جہاں لیٹ کر بلکہ پھیل کر مفت وٹامن ڈی کشید کرتی ہے۔ گرما گرم ریت سے جسم کی لیپا پوتی اور ٹکور کرتی ہے۔ ’خدائے راستی‘ اِس ننگ دھڑنگ ہجوم کے ساتھ دوڑ کی خواہش، اپنی بھی ہے کیوں کہ وٹامن ہٰذا کی اشد ضرورت، بجائے اُن کے، ہمیں زیادہ ہے کہ تتلی جتنی اِن ٹانگوں میں دَم ہے، نہ خم ہے، مگر کیا کریں دل کے بہلانے کو ’زاہد‘ خیال اچھا ہے۔ یہ وارے نیارے اپنے جیسے کم بختوں کی قسمت میں کہاں؟ بہرحال ہم اتنے بھی فارغ نہیں، کہ آج تو ہم بابِ لندن سے بابِ برمنگھم کی جانب ’اُڑان‘ بھر نے کے موڈ میں ہیں۔

شریکِ سفر ہیں مشر افضل شاہ باچا اور گل گل، حاضر گل، لندن میں ہمارے میزبان و مہربان بھائی رحیم شاہ اور بہ نفسِ نفیس ہم۔ سوات کے بریکوٹ (نجی گرام) کے بے قرار کھاتے پیتے شاہ جی نے کھاؤ پُتر بننے کے بجائے کماؤ پُتر کا آپشن اختیار کرتے ہوئے جنونی جوانی کے عالم میں نقل مکانی کی۔ غمِ روزگار کے واسطے پاپڑ بیلتے بیلتے مشرق وسطیٰ سے لندن آ دھمکے۔ طویل محنت و مشقت کے مراحل پار کیے ، سختیوں اور مشکلات سے دوچار ہوئے۔ جہدِ مسلسل اور حسرت و یاس کی اِس دل چسپ کہانی کو اب خیر سے ایک ربع صدی گزرنے کو ہے۔ اب وہ لندن میں اپنے کاروبار کے مالک ہیں اور بال بچوں سمیت مسرور زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

تو ہاں، شہر برمنگھم میں ایک ایسے ساتھی اور اُن کی مختصر فیملی کا دیدار کرنا ہے جو پچھلے تیرہ سال سے وطن سے دور، بڑے صبر و استقامت، ضبط اور حوصلے کے ساتھ جینے کا امتحان دے رہے ہیں۔ ایک طرف وہ معقول لوگ، جو دنیائے جہاں کے کونوں کھدروں سے بھاری بھر رقوم اور وقت خرچ کر کے اِس لئے برطانیہ آتے ہیں کہ یہاں کے ماضی، حال اور مستقبل سے متعلق جان کاری حاصل کریں، جدت و قدامت اور روایات کا مطالعہ کریں۔ سیر سپاٹے، دھوم دھڑکے، موج مستی اور حصہ بقدرِ جُثّہ عیاشی کریں اور ایک طرف نامعقول ہم، کہ پاکستان کے مشرقی بعید شمالی سے نکلتے ہیں، جان جوکھوں میں ڈالتے ہیں، پورا دِن فضاؤں میں لق دق اور معلق رہتے ہیں اور آخرکار دنیائے غرب کے اِس دور دراز جنوبی کونے میں کود پڑتے ہیں۔

صرف یار دوستوں سے ملنے، گپیں ہانکنے، قہقہے بکھیرنے، تلخ و شیریں یادوں کی گرہیں کھولنے اور حالات و واقعات پر دل کھول کر بات کرنے۔ سوچیں یہ پیارے کتنے پیارے ہوں گے؟ یاد رہے، دیدار کی یہ دیوانگی یک طرفہ نہیں ہے۔ برمنگھم والے بھی اتنے ہی بے چین و بے قرار ہیں، جتنے ہم بلکہ ہم سے زیادہ۔ اُن کی دل چسپی دراصل ہم سے ملنے میں نہیں بلکہ وہ ہمارے سراپے میں وطن کی مٹی کی بھینی بھینی خوشبو سونگھنا چاہتے ہیں۔ وہ وطن کی باتیں سُننا چاہتے ہیں۔ وطن کی باتیں کرنا چاہتے ہیں۔ حالات و واقعات کے متعلق جاننا چاہتے ہیں۔

ہم لندن میں واقع ”ایلم حجرہ“ کے پہلو میں واقع چھوٹے سے باغ اور سرسبز لان سے ہوتے ہوئے باجماعت باہر کی جانب نکلتے ہیں۔ جی ہاں ایلم حجرہ، یہاں بھی اپنے پختون بھائی وطن سے دوری کی خلش میں ترستی آنکھوں کا مداوا یوں کرتے ہیں کہ آپس میں مل بیٹھنے اور حالہ دئی کرنے کے لئے حجروں کی روایت کو فروغ دے رہے ہیں۔ جہاں سرِشام بھائی لوگ محفلیں سجا کر پردیس کی سختیوں کا، گھروں سے دوری کا اور پاکستان میں ہماری بے نمک و بے رمق زندگی کا رونا روتے ہیں۔

عین اِسی کاؤنٹی میں واقع ”خیبر حجرہ“ میں تو ہمارے آنے کی خوشی میں رحیم شاہ بھائی کے دوست آصف خان صاحب نے بڑی محبتوں اور رنگ ڈھنگ کے ساتھ ایک محفلِ یاراں منانے کا اہتمام کیا۔ جس میں درجنوں دوست و احباب شریک ہوئے اور نشستن، گفتن و خور دن تینوں مراحل میں تینوں نسلوں کے نمائندوں کا اشتراکِ عمل دیکھنے کو ملا۔ جوان، نوجوان اور ہمارے جیسے عمر رسیدہ بزرگ شُزرگ، سب اکٹھے اُٹھتے بیٹھتے ہیں، گپیں ہانکتے ہیں، اپنے مسائل و مشکلات ایک دوسرے سے بیان کرتے ہیں اور زیادہ صورتوں میں ہنسی خوشی زندگی گزارتے ہیں۔

روزگار ہے، امن و آشتی اور جی داری ہے۔ ہماری طرح ایک دوسرے سے کچھ چھپاتے ہیں، نہ شرماتے ہیں۔ اسی تضاد پر سوچتے سوچتے ہم پارکنگ شیڈ تک پہنچ جاتے ہیں۔ جملہ معترضہ نہ ہو تو کہہ دوں کہ لندن میں سڑکوں اور بازاروں میں تو کُجا، گھروں کے ساتھ بھی پارکنگ کا مسئلہ بڑا گمبھیر ہے۔ جتنے قابلِ ڈرائیونگ سر ہیں، چاہے مادہ ہیں یا نر ہیں، اتنی ہی گاڑیاں ہیں۔ بھلا اُن کو کوئی کھپائے تو کہاں کھپائے؟ یہاں کے لوکل کونسلز، تعلیم، صحت، سماجی خدمات، صفائی اور سڑکوں کی ضروری مرمت جیسے معاملوں کی طرح، پارکنگ کے نظام کو بھی خوش اسلوبی سے سنبھالا دے رہی ہیں۔

یہ کونسلز علاقائی حالات و واقعات کے مطابق اپنے ٹیکسوں کا نظام وضع کرنے میں مکمل طور پر با اختیار ہیں۔ لوگ ٹیکس کی ادائیگی کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتے ہیں۔ ہمارے بلدیاتی ادارے تو عضو معطل ہیں، ان کے کام کا بیڑہ اسمبلی ممبران نے اپنے ناتواں کندھوں پر اُٹھا رکھا ہے جو مرض کی دوا نہیں، امراض لانے کے منبع ہیں۔ معاف فرمائیں، ہم بات کر رہے تھے برمنگھم روانگی کی، بیچ میں پٹڑی سے پھسل گئے، گناہ ہمارا نہیں اس کھوپڑی کا ہے، جس میں دماغ نہیں بھوسہ بھرا ہوا ہے۔ چلیں بات کا ٹوٹا سِرا پھرسے جوڑتے ہیں۔

ہماری طرح دیسی شلوار قمیص میں ملبوس، اُجلا اُجلا، گورا گورا رحیم شاہ بسم اللہ سے شروعات کر کے اپنی آراستہ و پیراستہ کار کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے ہیں۔ وہ بہ یک وقت ہمیں بھی دائیں جانب لٹکے بیلٹ کے ساتھ وہی سلوک کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہتے ہیں، یہاں ٹریفک کے چند قوانین اور چند اُصول ہیں جن کا احترام اور بجا آوری فرض نہیں، قرض ہے۔ لوگ اُن کو بہ رضا و رغبت فالو کرتے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں وہ ایک خصوصی پاوچ سے ’عطر سہاگ‘ نکال کر بڑی محبت اور ناز و نعم سے ہمارے ایک کلائی پر چھڑکتے ہیں۔

دونوں کلائیوں کو آپس میں مَلنے کا اشارہ کرتے ہیں۔ اِس دوران ہماری معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے کہتے ہیں، ”اچھی خوشبو ہمیشہ جسم کے جلد پر لگانی چاہیے، جسمانی حرارت کی وجہ سے خوشبو پھیلتی بھی ہے اور تا دیر قائم بھی رہتی ہے۔ اکثر لوگ لباس پر فرفیوم چھڑک لیتے ہیں جس کی خوش بو جلد ہی اُڑ جاتی ہے۔“ یہ کہتے ہوئے وہ ایک بٹن دباتے ہیں تو گاڑی جیسے نیند سے بیدار ہو جاتی ہے اور ہم معطر فضاؤں میں سانس لینے لگتے ہیں۔

اسی مرحلے میں ایک انگلی کی مار سے سامنے لگے سکرین پر، جیسے ہی مخصوص منزل کی نشان دہی کرتے ہیں تو مختلف معلومات ڈسپلے ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ لندن سے برمنگھم تک گاڑی کے ذریعے سفر کا وقت، مختلف عوامل جیسے ٹریفک، راستہ اور دن کے مخصوص وقت پر منحصر ہو سکنے والی سرگرمیوں کی پوری تفصیل سامنے آجاتی ہے۔ اوسطاً، لندن اور برمنگھم کے درمیان فاصلہ تقریباً 125 سے 140 میل ہے اور عام حالات میں سفر کا دورانیہ دو سے ڈھائی گھنٹے پر محیط ہوتا ہے۔ تاہم زیادہ ٹریفک یا بھیڑ بھاڑ کے وقت میں یہ دورانیہ زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔ اِسی عمل کے ساتھ ہی ملٹی میڈیا پر جادوئی انگلی کے لمس سے پشتو موسیقی کی مٹھاس کانوں میں رس گھولنا شروع کرتی ہے۔

ناوختہ کیگی دہ جانان دیدن لہ ذمہ، ارمان مے دہ دیدن پاتی دے
کہ جوند وفا راسرہ وکڑہ بیا رازمہ۔ نن زم رانہ وطن پاتی دے

لو جی، انتظار کی گھڑیاں ختم، گاڑی حرکت میں آ گئی۔ جیسے جیسے منزل مقصود کی جانب آگے بڑھتے ہیں تو آگے سے فون کالز کی بھر مار شروع ہو جاتی ہے۔ کہاں پہنچے ہو؟ کب پہنچو گے؟ مزید کتنا وقت لگے گا؟ گویا:

آپ کس کس جگہ سے گزریں گے
اپنی آنکھیں کہاں کہاں رکھ دوں
(بقیہ احوال اگلی قسط میں )

Facebook Comments HS