ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں موت ایران کے سیاسی منظرنامے پر کیا اثرات مرتب کرے گی؟


ebrahim raisi
ڈاکٹر ابراہیمی رئیسی کی موت سے پہلے کہا جا رہا تھا کہ جلد ہی وہ ایران کے سب سے طاقتور شخص بننے جا رہے ہیں۔

تاہم ہیلی کاپٹر حادثے میں ان کی موت کے بعد ان قیاس آرائیوں نے مزید زور پکڑ لیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا جانشین کون ہو گا۔

ایران کے سخت گیر صدر کی موت سے ملک کی پالیسیوں یا ایرانی ریاست کو تو کوئی کوئی خطرہ نہیں تاہم یہ ایک ایسے نظام کے لیے ایک امتحان ہو گا جہاں طاقت کے منتخب اور غیرمنتخب تمام ایوانوں پر سخت گیر قدامت پسند غالب ہیں۔

ڈاکٹر صنم وکیل تھنک ٹینک چیٹھم ہاؤس کے وسطی ایشیا اور شمالی افریقہ کے پروگرام کی ڈائریکٹر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نظام کی کوشش ہو گی کہ آئینی تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے رئیسی کے متبادل کے طور پر کسی ایسے شخص کو لایا جائے جو نہ صرف خامنہ ای سے وفادار ہو بلکہ قدامت پسندوں کے اتحاد کو بھی قائم رکھ سکے۔

دوسری جانب رئیسی کے مخالف ایک ایسے شخص کے جانے کی خوشی منا رہے ہوں گے جس پر وہ الزام لگاتے ہیں کہ انھوں نے 1980 کی دہائی میں بطور پراسیکیوٹر سینکڑوں سیاسی قیدیوں کو سزائے موت دلوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ رئیسی اس الزام کی ہمیشہ تردید کرتے آئے تھے۔

دوسری جانب ایران کے قدامت پسند حکمرانوں کے لیے رئیسی کی سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین نہ صرف ایک جذباتی موقع ہو گا بلکہ یہ ایک ایسا موقع بھی ہو گا جب وہ لوگوں کو اپنے تسلسل کا واضح اشارہ دے سکیں گے۔

رئیسی کی موت کے بعد صدر کے عہدے کے علاوہ ایک اور منسب جسے پُر کرنا ضروری ہے وہ ہے رئیسی کی مجلس خبرگان رهبری کی نشست۔ یہ وہ ایوان ہے جو ایران کے سپریم لیڈر کا انتخاب کرتا ہے۔

ڈاکٹر وکیل کہتی ہیں کہ خامنہ ای کی جگہ لینے کے لیے رئیسی ایک مضبوط امیدوار تھے۔ خامنہ ای جب ایران کے سپریم لیڈر بنے تھے تو وہ بھی رئیسی کی طرح قدرے جوان، وفادار اور ایک نظریاتی تھے جو نظام کے تسلسل کے حامی تھے۔

ایران کے سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے کئی افراد میدان میں ہیں جن میں خامنہ ای کے بیٹے مجتبی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔

رئیسی کے موت کی تصدیق سے کہیں پہلے ہی خامنہ ای نے ایکس پر اعلان کر دیا تھا کہ ایرانی عوام کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں کیوں کہ ریاستی معاملات میں کوئی تعطل نہیں آئے گا۔

فی الحال ایران کے لیے سب سے بڑا سیاسی مسئلہ صدارتی انتخابات کا انعقاد ہے۔

فی الوقت نائب صدر محمد مخبر کو اختیارات منتقل کر دیے گئے ہیں اور نئے انتخابات 50 دنوں میں کروائے جانے ہیں۔

یہ انتخابات ایسے وقت میں کروانے پڑ رہے ہیں جب رواں برس مارچ کے مہینے میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ووٹروں کا ریکارڈ کم ٹرن آؤٹ دیکھنے میں آیا ہے۔

حالیہ انتخابات بشمول 2021 کا صدارتی مقابلہ جس میں رئیسی بطور صدر منتخب ہوئے میں مجلس خبرگان رهبری کے جانب سے اعتدال پسند اور اصلاح کے حامی حریفوں کو منظم طریقے سے باہر رکھا گیا تھا۔

محمد علی شبانی لندن سے چلنے والے ایک نیوز ویب سائٹ امواج میڈیا کے ایڈیٹر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ قبل از وقت صدارتی انتخابات سے خامنہ ای اور ایرانی ریاست کے طاقتور حلقوں کو موقع ملے گا کہ وہ ووٹروں کو ایک بار پھر سیاسی عمل میں واپس لا سکیں۔

’لیکن بد قسمتی سے ہمیں تاحال ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں کہ ریاست ایسا کچھ کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

دوسری طرف، رئیسی کی صفوں میں بھی کوئی ان کا واضح جانشین نظر نہیں آتا ہے۔

برلن میں قائم تھنک ٹینک ایس ڈبلیو پی کے وزٹنگ فیلو حامد رضا عزیزی کہتے ہیں کہ ’اس قدامت پسند گروہ کے اندر بھی مختلف گروہ ہیں، جن میں ایسے افراد بھی ہیں جو بہت سخت گیر ہیں اور کچھ بہت عملیت پسند ہیں۔‘

ان کا خیال ہے کہ اس سے نئی پارلیمنٹ اور مقامی سطحہ پر اس عہدے کے لیے رسا کشی مزید سخت ہو جائے گی۔ جو کوئی بھی ابراہیم رئیسی کی جگہ لے گا اسے ایک سخت گیر پالیسی کا ایجنڈا اور محدود اختیارات وراثت میں ملیں گے۔

کیونکہ فیصلہ سازی کا مکمل اختیار صرف ایران کے رہبر اعلیٰ کے پاس ہے۔ اسی طرح ملک کی خارجہ پالیسی خصوصاً خطے میں تعلقات کا حق ایران کی عسکری قوت پاسداران انقلاب کے پاس ہے۔

چند ماہ قبل جب ایران نے اپنے روایتی حریف اسرائیل پر حملہ کیا تھا تو یہ فیصلہ صدر نے نہیں لیا تھا۔ اگرچہ اس حملے نے جوابی حملے کے خطرے کو مزید بڑھاتے ہوئے بہت سے ممالک میں اسرائیل غزہ تنازعے کے خطے میں پھیلنے سے متعلق خدشات کو جنم دیا تھا اور ایران کو بھی اسرائیل کی جانب سے زیادہ سخت جواب کے لیے چوکنا کیا تھا۔

مگر ان کی روزمرہ کے معاملات کی صدارت کے دوران بھی ایرانیوں کو بین الاقوامی پابندیوں کے ساتھ ساتھ ملک میں بدانتظامی اور بدعنوانی کے باعث بڑھتی ہوئی مالی مشکلات کا سامنا تھا۔

ملک میں مہنگائی میں 40 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا اور ملک کی کرنسی کی قدر گراوٹ کا شکار رہی۔

ان کے دورِ صدارت کے دوران ایران ستمبر 2022 میں 22 سالہ مہسا امین کی پولیس کی حراست میں موت کے بعد ہونے والے مظاہروں کی ایک غیر معمولی لہر سے ہل گیا تھا۔ 22 سالہ مہسا کو ایران کی اخلاقی پولیس نے ایران کے سخت لباس کوڈ کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔

کشیدگی سے چند ہفتے قبل ابراہیم رئیسی نے ایران میں ’حجاب کے قانون‘ پر سختی کرنے کے احکامات دیے تھے۔ اس قانون کے تحت خواتین کے لیے عوامی مقامات پر مناسب لباس اور سر پر سکارف پہننا لازمی ہے۔‘

A view of protestors setting garbage bins on fire to block the roads during the protests. The nationwide protests started after the death of Mahsa Amini

لیکن نوجوان خواتین نے ان مظاہروں میں اپنی زندگیوں پر عائد پابندیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے اپنے غصے کا نشانہ طاقت کے حقیقی مرکز ایرانی سپریم لیڈر اور نظام کو بنایا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں کے بعد حکومت کی جانب سے کیے جانے والے کریک ڈاؤن میں سینکڑوں افراد مارے گئے جبکہ ہزاروں کو حراست میں لیا گیا تھا۔

شبانی کہتے ہیں کہ ریکارڈ کم ٹرن آؤٹ کے نتیجے میں منتخب ہونے والے صدر رئیسی سابق ایرنی صدر حسن روحانی جتنے مقبول نہیں تھے۔

روحانی کی مقبولیت کی جزوی وجہ 2015 کی امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والا جوہری معاہدہ تھا۔ تاہم، یہ معاہدہ اس وقت ختم ہو گیا جب تین سال کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر امریکہ کو اس معاہدے سے الگ کر دیا۔

امریکی صدر بائیڈن کی انتظامیہ اور رئیسی کی ٹیم کے درمیان بالواسطہ بات چیت میں بہت کم پیش رفت ہوئی۔

شبانی کے خیال میں رئیسی کو بطور صدر روحانی جتنی تنقید کا سامنا شاید اس لیے نہیں کرنا پڑا کیونکہ روحانی کے مقابلے میں وہ کم بااثر سمجھے جاتے تھے۔

Iran’s Foreign Minister Hossein Amir-Abdollahian

ہیلی کاپٹر حادثے میں ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان بھی ہلاک ہوئے ہیں جنھوں نے دنیا کے سامنے ایران کا مقدمہ لڑنے میں اہم کردار ادا کیا اور علامی پابندیوں کے اثرات کو کم کرنے کے طریقے تلاش کیے۔

اسرائیل کی غزہ جنگ کے دوران ہونے والی سفارت کاری میں حسین امیر فون پر سنائی دینے والی آواز، ملاقاتوں میں نظر آنے والا وہ چہرہ تھے جس نے اتحادیوں کے ساتھ ساتھ تنازعے کو کم کرنے کے لیے بے چین عرب اور مغربی دنیا کے وزرائے خارجہ کا سامنا کیا۔

ایک سینئر مغربی سفارتی شخصیت نے کہا کہ پیغامات پہنچانے کے لیے وہ ایک مفید ذریعہ تھے۔ لیکن یہ محتاط انداز میں ہوتی تھی کیوں کہ طاقت وزارت خارجہ کے پاس نہیں تھی۔

اسفندیار بورس اینڈ بازار تھنک ٹینک کے سی ای او ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر کی اچانک موت عموماً ایک اہم واقعہ ہوتا ہے لیکن سربراہ اعلیٰ کے عہدے کے امیدوار دیکھے جانے کے باوجود ابراہیم رئیسی کے پاس سیاسی حمایت اور واضح سیاسی وژن نہیں تھا۔ لیکن ان کو منتخب کروانے والے اب ان کے بغیر آگے بڑھیں گے۔

بی بی سی

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33096 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments