غزہ کی تباہی اور عالم اسلام کی بے حسی


اتوار کے روز پشاور میں رنگ روڈ پر شدید گرمی کے باوجود ایک عظیم الشان غزہ ملین مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی پاکستان کے نومنتخب مرکزی امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ فلسطین کی آزادی کے لئے ایک ملین مارچ کافی نہیں بلکہ اس مشن کے لئے مسلسل جد و جہد کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ہم ہر گلی اور محلہ تک پہنچیں گے۔ عوام سے تعاون مانگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ ہمارا ہے، اس کے لئے ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔

غزہ میں پچھلے آٹھ ماہ سے نہتے فلسطینیوں، بچوں اور خواتین پر ظلم و بربریت کی جو نئی تاریخ رقم کی جا رہی ہے ہم اس پر خاموش نہیں رہیں گے، اسرائیل کو ان مظالم کا جواب دینا پڑے گا۔ فلسطین امت مسلمہ کے بزدل حکمرانوں کی ملی حمیت اور دینی غیرت کا ٹیسٹ کیس ہے۔ جماعت اسلامی پوری قوم کو فلسطینیوں اور کشمیریوں کی پشت پر کھڑا کرے گی، ہم انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ غزہ ملین مارچ سے حماس کے رہنماء اور سابق وزیر اعظم اسماعیل ہانیہ نے بھی آن لائن خطاب کیا۔

واضح رہے کہ پشاور میں کسی عوامی اجتماع سے حافظ نعیم الرحمٰن کا جماعت اسلامی پاکستان کا امیر منتخب ہونے کے بعد یہ پہلا خطاب تھا، دراصل امیر منتخب ہونے کے بعد جماعت اسلامی پشاور کی ضلعی تنظیم نے حافظ صاحب کے لیے صوبائی دارالحکومت میں ایک عوامی استقبالیہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن بعد ازاں حافظ صاحب کی ہدایت پر اس استقبالیہ تقریب کو اہل غزہ کے نام منسوب کرتے ہوئے پشاور میں ایک عظیم الشان غزہ ملین مارچ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا چونکہ حافظ صاحب کا یہ فیصلہ اخلاص اور اہل غزہ کے ساتھ عقیدت اور یکجہتی کے جذبے پر مبنی تھا اس لیے ان کا یہ فیصلہ باعث برکت ثابت ہوا جس کے دوران نہ صرف موسم کافی خوشگوار ہوا اور دن بھر کی شدید گرمی اور حبس مارچ شروع ہونے سے قبل ٹھنڈی ہواؤں میں تبدیل ہوا بلکہ اہل خیبرپختونخوا بالخصوص نوجوانوں نے اس ملین مارچ میں جوق در جوق شرکت کر کے اس مارچ کو تاریخی بھی بنا دیا۔

دریں اثناء غزہ میں اسرائیلی فوج نے نصیرات پناہ گزین کیمپ کے ایک گھر پر شدید بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں 20 افراد شہید ہو گئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے پناہ گزین کیمپ کے ایک گھر پر رات 3 بجے بمباری کی جس سے یہ رہائشی عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی۔ امدادی کاموں کے دوران ملبے سے 50 کے قریب افراد کو نکالا گیا جن میں سے 13 افراد کو معمولی چوٹیں آئی تھیں جب کہ 35 افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا۔

غزہ کے الاقصیٰ شہدا اسپتال نے تصدیق کی ہے کہ پناہ گزین کیمپ نصیرات سے 35 سے زائد افراد کو شدید زخمی حالت میں لایا گیا۔ ان میں سے 20 افراد مرہ حالت میں لائے گئے تھے جب کہ بقیہ شدید زخمی ہیں۔ اسپتال کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ زخمیوں میں سے 4 کی حالت نازک ہے۔ شہید اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں۔ فلسطین کی سرکاری نیوز ایجنسی وفا کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جس گھر پر بمباری کی ہے وہ حسن نامی شخص کی ملکیت تھا اور شہید و زخمی ہونے والے ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔

غزہ کے بے بس اور مظلوم مسلمانوں کے ساتھ جماعت اسلامی کی جانب سے حالیہ یکجہتی ملین مارچ ایک ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب اسرائیل کی آٹھ ماہ کی وحشیانہ بمباری کی وجہ سے اب تک چالیس ہزار سے زائد معصوم بچے، بوڑھے اور خواتین جاں بحق ہوچکے ہیں، لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں جب کہ اب بھی غزہ میں 10 ہزار لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، آج 15 واں دن ہے کہ کوئی امدادی ٹرک وہاں نہیں پہنچ پایا ہے اور لوگ بھوک اور پیاس کی وجہ سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

اہل غزہ پر ڈھائے جانے والے یک طرفہ مظالم اتنے سنگین اور بے رحمانہ ہیں کہ بعض یورپی ممالک کے ساتھ ساتھ امریکی عوام بھی فلسطینیوں کے حق میں نکل آئے ہیں، امریکی جامعات میں جاری احتجاج اور ان مظاہرین پر ہونے والے ریاستی تشدد کی وجہ سے امریکی حکمران منہ چھپاتے پھررہے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اسرائیل صرف بچوں اور معصوم لوگوں کو مار رہا ہے جس پر غیر اسلامی ممالک میں تو منظم احتجاج ریکارڈ کرایا گیا ہے لیکن عالم اسلام بے حسی کی انتہا کرتے ہوئے اب تک ان سفاکانہ مظالم پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے۔

56 اسلامی ممالک کے حکمران، ڈیڑھ ارب مسلمان، لاکھوں افواج اور تیل و گیس جیسی معدنی دولت سے مالامال اسلامی ریاستیں فلسطینیوں کی نسل کشی پر چھپ کا روزہ رکھی ہوئی ہیں۔ ترکی، پاکستان، ملائشیا اور انڈونیشیا جیسے غیر عرب اسلامی ممالک تو ایک طرف مصر، سعودی عرب، اردن اور عرب امارات جیسی عرب اسلامی ریاستوں نے بھی اہل غزہ کی منظم تباہی و بربادی پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں حالانکہ اگر یہ آٹھ دس ممالک بھی غزہ کے انسانی بحران پر ایک موثر اور مشترکہ موقف اپنا لیں تو اس سے اسرائیل کی بولتی بند ہو جائے گی لیکن چونکہ ان مظالم پر عالم اسلام سنگین بے حسی اور تفریق کا شکار ہے اس لیے اسرائیل کو نہ تو رتی برابر کوئی پرواہ ہے اور نہ ہی وہ کسی دباؤ میں آنے کے لیے تیار ہے۔

حالانکہ بین الاقوامی عدالت انصاف نے بھی اسرائیل کو دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ملک قرار دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک اسرائیل کا وجود دنیا کے نقشے پرایک پھوڑے کے طور پر موجود رہے گا اس وقت تک دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا ہے۔ عالمی سطح پر امن کے قیام کے لئے اسرائیل کوایک مضبوط نکیل ڈالنی ہوگی تب ہی فلسطین اور پوری دنیا میں امن قائم ہو سکے گا۔

Facebook Comments HS