مقابلے کا امتحان: متوسط ذہنیت یا نوآبادیاتی باقیات
مقابلے کے امتحانات کے نتائج کا اعلان ہوا اور پورے ملک میں جیسے ایک دریافت کی لہر دوڑ گئی ہو کہ لو دیکھو اس سال کون کون سے غیر معمولی دماغ یعنی ”افلاطون“ دریافت ہوئے ہیں۔ جو پاس ہو گئے ان کی گردنیں اکڑ گئیں، موبائل فون پہ پرائیویسی لگ گئی، سوشل میڈیا اکاؤنٹ پہ ”follow“ کا بٹن نمودار ہو گیا اور نام کے ساتھ اچانک صاحب لفظ کا اضافہ کر دیا گیا۔ گھر کے باہر قطار در قطار عزیز و اقارب مٹھائیاں لے کر کھڑے نظر آئے مانو کہ اوپن ہائمر ایٹم بم کا تجربہ کر کے گھر پہنچا ہو۔
جو فیل ہو گئے، اپنی ہی نظروں میں گر گئے جیسے کند ذہنیت کی مثال بنا دیے گئے ہوں۔ کئی امیدوار اسی ذلت کو گلے لگائے جان کی بازی ہار دیتے ہیں اور جو بچ جائیں ان کی حالت بھی بچے ہوؤں سی معلوم نہیں ہوتی۔ یہ ریت میرے دیس میں کچھ نئی نہیں بلکہ روز کا قصہ ہے۔ پوری قوم قانون و ایمان پہ ایک ہو نہ ہو لیکن اس بات پہ یک جان ہے کہ مقابلے کے امتحانات سے آنے والے یہ سپوت ہمارے مائی باپ ہیں۔ ملک میں دانش و حکمت کی معراج یہی سمجھے جاتے ہیں۔
ان کے لیے ریاست بانہیں پھیلائے منتظر رہتی ہے کہ میرے جگر گوشے کب آئیں اور میں آرتی اتاروں۔ ان کے رستوں میں سرخ قالین بچھائے جاتے ہیں، محلات کے جیسے نوکر چاکر، آؤ بھگت کے تمام سامان اور شان و شوکت کی خاطر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگائی جاتی ہیں۔ جہاں جاتے ہیں شمع محفل بن جاتے ہیں۔ بات کرتے ہیں تو لفظ سنہری حروف واقع ہوتے ہیں۔ فراز شاید یہ شعر انھی کی نذر کرنا چاہتا ہو گا مگر اہالیان چمن نے کہیں اور منسوب کر دیا
رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں
چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں
ان سورماؤں کے کیے گئے فیصلے خدا بھی زمیں پہ اتر کے بدلنا چاہے تو بدل نہیں سکتا۔ پوری ریاست ان کی جاگیر سی کیفیت معلوم ہوتی ہے اور اس مقابلے کے امتحانات میں کامیاب ٹھہرنے والوں کا سواگت اس جاگیر کے فرماں رواؤں کی طرح کیا جاتا ہے۔ گویا یہ زمین کے خدا ہوں اور باقی رعایا معبود۔ ان کے پروٹوکول اور شوکت کی داستانیں تو تاریخ کے اوراق میں نقش ہی ہیں مگر ان کے ناز نخرے اور شوخ مزاجیوں کے قصے الگ ہیں۔ یہی تو ہیں جن کو پالنے کے لیے اس ریاست کا قیام وجود میں لایا گیا تھا جس کی داغ بیل نوآبادیاتی دور کے صفحات میں ملے گی۔
جب انگریز سرکار تاج برطانیہ کے تابع اس نو آبادیاتی معاشرے کا قیام عمل میں لائی تو اس وقت اس نوآبادیات یعنی برصغیر کا انتظام سنبھالنے کے لئے سیکٹری آف سٹیٹ مقرر کیا گیا جس کے تابع نوآبادیاتی سلطنت میں پولیس، عدلیہ، ٹیکس، زراعت، ضلعی انتظامیہ اور اس مثل دوسرے کئی شعبہ جات کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اب ظاہر ہے انگریز سرکار کو نوآبادیاتی معاشرے کی فلاح و بہبود کی تو نہیں سوجھی تھی جو اس نے اس انتظام کو چلانے کے لیے مقابلے کے امتحانات کے ذریعے ”صاحب بہادران“ یعنی بیوروکریسی کی بنیاد رکھی۔
انگریز سرکار کی اس مقابلے کے امتحانات کے توسط سے ایجاد کردہ بیوروکریسی کا واحد مقصد تسلط، قبضے اور سامراجیت کو مستحکم کرنا تھا اور اس لیے یہ ہر صورت ممکن بنایا گیا کہ اس امتحان سے آنے والے افراد ایک خاص قسم کی احساس برتری کی حامل غلام اور کند ذہنیت کا مرقع ہوں جنھیں عام معاشرے میں بے بہا طاقت دے کر زمینی خدا بنا دیا گیا۔ کیفیت یہ ہوا کرتی تھی کہ ان زمینی خداؤں کے سامنے کرسی پہ بیٹھنے کے لئے باقاعدہ ”کرسی نشینی“ کے سرٹیفکیٹ بانٹے جاتے بصورت دیگر سائلین لائنوں میں لگے لگے ہی واپس پلٹا دیے جاتے۔
ظاہر ہے ان زمینی خداؤں کی تخلیق کا واحد مقصد مفلس، نادار، ذہنی اپاہج اور غلام معاشرے کا قیام تھا جہاں کسی قسم کی بغاوت یا تحریک پنپ نہ سکے اس لیے ان خداؤں کا چناؤ بھی ایسے طریق سے کیا جاتا جس کا دانش و حکمت سے تو کجا کسی بھی طرح کے علمی یا جستجو کے حامل نصاب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا۔ مقابلے کا امتحان متعارف کرایا گیا تو اس کے وجود کو ایک خاص قسم کی اپاہج ذہنیت کا فلٹر بنایا گیا تاکہ اس سے آنے والے حضرات مفلوج ہوں۔
اسے جوں کا توں پاکستان نامی ناکام ریاست میں رواں کر دیا گیا۔ یعنی نوآبادیات کے استحکام کو ناگزیر کرنے والا چلن ہو بہو برقرار رکھا گیا اور نومولود ریاست انگریزی سامراج کے تخلیق کردہ زمینی خداؤں کے سپرد کر دی گئی۔ پاکستان کے پہلے صدر اور آخری گورنر جنرل سکندر مرزا جنھوں نے مارشل لاء جیسی لعنت کی بنیاد ڈالی، بھی ایک زمینی خدا یعنی سول افسر تھے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سی مثالیں تاریخ کا حصہ ہیں اور اس بات کی شاہد ہیں کہ یہ ریاست اس مقابلے کے امتحان جیسے فتنے کی زد میں تباہ و برباد ہوئی ہے۔
اس امتحان کی پیدا کردہ مخلوق نے ایک ایسے منافق، ذہنی اپاہج، سائنسی ترقی سے پاک، مذہبی انتہا پسند، دقیانوسی اور جاہل معاشرے کی بنیاد رکھی ہے جہاں ہر ادارہ شمشان گھاٹ بن کر رہ گیا ہے۔ ان سول افسران نے جو پالیسیاں بنائی اور جس طرح سے ان پہ عمل کیا یہ معاشرہ تقسیم در تقسیم ہوتا چلا گیا اور یہ ”سول سرونٹ“ کہلانے والے زمینی خدا بیرون ملک جائیدادوں کے مالک بنتے گئے۔ پورے ملک میں کوئی ایک مثال نہیں ملے گی کہ ان خداؤں کے خاندان کا کوئی فرشتہ اس ملک میں ٹکا ہو یا سکونت اختیار کر رہا ہو۔
ان کی تعلیم، علاج، سیر سپاٹے سب کچھ رعایا کے خون نچوڑ کر دیے گئے ٹیکس کی مرہون منت ہوتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ سیاست دان تو بس اک چہرہ ہیں اصل کردار تو یہ مقابلے کے امتحان کی پیداوار مفلوج ذہنی صلاحیتوں کے حامل سول افسران ہیں۔ پچھلے ستتر برس سے ان کی ذہنیت کی نذر ہوا معاشرہ آج صحت، تعلیم، انصاف تو کجا، رہنے کے بھی قابل نہیں رہا مگر ان کے ٹھاٹھ ہیں کہ کم ہونے کو نہیں۔
وقت نے پلٹا کھایا بقیہ دنیا میں نوآبادیات سے منسوب ہر شے کو گالی بنا دیا گیا مگر ہمارے ہاں اس نوآبادیات کی لعنت کو گلے کا ہار بنا رکھا ہوا ہے۔ یہ نوجوان جو مقابلے کے امتحانات میں ہلکان ہوئے جاتے ہیں اسی کند ذہنیت کا شکار ہیں جس کے بیج نوآبادیات میں بوئے گئے تھے۔ ظاہر ہے یہ امتحان اور اس سے حاصل کردہ مراعات زمینی خدا کے مترادف ہیں مگر اس نظام کے تحت پالی گئی مفلوج اور غلام ذہنیت بھی کسی لعنت سے کم نہیں لہذا جو امیدواران فیل ہو گئے انھیں بہت بہت مبارک باد اور جو پاس ہوئے ان کے لئے اظہار افسوس کے ساتھ دو منٹ خاموشی کہ یہ امتحان پاس کرنا اپنے آپ میں کوئی دانش نہیں بلکہ اپاہج ذہنیت کے بے مثال دور کا آغاز ہے!


