اختلاف برائے اختلاف کی سیاست کا خاتمہ ہونا چاہیے!


پاکستان کا شمار تیسری دنیا کے ممالک میں ہوتا ہے 76 سال بعد بھی پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے۔ چین ہم سے بعد میں آزاد ہوا، لیکن آج یہ دنیا کی ایک معاشی طاقت ہے، ملک میں برسر اقتدار آنے والی ہر حکومت نے ملکی ترقی کے حوالے سے بلند بانگ دعوے تو بہت کیے لیکن عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر تھے، جس سے ملک رفتہ رفتہ تباہی کی جانب گامزن ہوا، اور ہر حکومت نے سابقہ حکومتوں پر الزامات عائد کر کے خود کو بری الذمہ قرار دیا جس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔

ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو اتفاق رائے سے کام کرنا چاہیے، ملکی معیشت کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے، ملکی معیشت کے حوالے سے تمام معاملات اتفاق رائے سے طے کیے جائیں اور اس کا کریڈٹ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو جانا چاہیے تھا، قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی یہ فیصلہ ہونا چاہیے تھا کی ملکی معیشت کے معاملات سیاست سے باہر ہوں گے، اس حوالے سے باقاعدہ قانون سازی بھی ہونی چاہیے تھی، اگر قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی اس پر عمل درآمد ہوجاتا تو آج پاکستان کا شمار بھی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا، کیونکہ ملک معاشی طور پر مستحکم ہو گا تو اس کا فائدہ سبھی کو ہو گا۔

ملکی تباہی کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ یہاں سب نے اپنی الگ الگ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائی ہوئی ہے، ہم خود کو محب وطن اور ایماندار سمجھتے ہیں اور دوسروں کو چور، ڈاکو، لٹیرا، بے ایمان، غدار اور نہ جانے کیا کیا کچھ سمجھتے ہیں، مزے کی بات یہ ہے کہ ہر آنے والی حکومت دوسرے پر الزامات عائد کرتی ہے، سوچے سمجھے بغیر کسی پر الزام عائد کرنا وہ بھی بغیر ثبوت کے اس حوالے سے متفقہ طور پر قانون سازی ہونی چاہیے، سب سے اہم یہ کہ غیر ملکی قرضے جس طرح دھڑا دھڑ لئے جاتے ہیں، اس حوالے سے بھی کوئی متفقہ لائحہ عمل ہونا چاہیے، اسی طرح تعلیم، صحت اور امن و امان کے حوالے سے بھی قومی اتفاق رائے سے فیصلے ہونا چاہئیں، قومی معاملات سیاست کی نذر ہو جانے سے بعض اوقات ملکی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔

ملک میں جو سیاسی عدم استحکام ہے اور اختلاف برائے اختلاف کی سیاست اور قومی اداروں پر اٹھنے والی انگلیوں اور بیانات سے جو نقصان ہو رہا ہے، بالخصوص قومی سلامتی کے ضامن اداروں کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جو طوفان بدتمیزی برپا ہے، اس پر بند باندھنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سنجیدہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے، اس پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے سے مسائل مزید الجھ رہے ہیں، بالخصوص نوجوان ذہنی خلفشار میں مبتلا ہیں، وہ اپنے اندر کا غبار نکالنے کے لیے یا تو سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں، یا پھر اپوزیشن کے احتجاجی جلسوں، جلوسوں میں شامل ہو کر اپنا غصہ نکال رہے ہیں، یہ کوئی اچھی علامت نہیں ہے۔ اگر اس کے سدباب کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو حالات گمبھیر صورت بھی اختیار کر سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS