کیا ایرانی صدر کی ہلاکت میں ورلڈ پاور ایلیٹ ملوث ہے؟


 

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی طیارہ حادثے میں ہلاکت کے بعد ہمارے ہاں مختلف قیاس آرائیاں سننے کو مل رہی ہیں مثلاً

ان کی ہلاکت میں اسرائیل ملوث ہے۔
یہ ایک بین الاقوامی سازش ہے۔
سپر پاورز کو ابھرتا ایران ایک آنکھ نہیں بھاتا وغیرہ۔

طاقت میں ایک عجیب سا نشہ ہوتا ہے اور طاقتور ایک بدمست ہاتھی کی طرح ہوتا ہے جو چھوٹی موٹی چیزوں کو روندتا ہوا چلا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ طاقتور کی اپنی ایک الگ ہی دنیا ہوتی ہے جس کا وہ تن تنہا مالک ہوتا ہے اور اپنے طاقت کے حصار میں کسی دوسرے کو برداشت کرنا تو درکنار پاس پھٹکنے تک نہیں دیتا۔

کیونکہ طاقت کوئی فری لنچ نہیں ہوتا اور طاقت ور جو بنتا ہے اس کے پیچھے ایک طویل جدوجہد ہوتی ہے
سیانے درست ہی تو کہتے ہیں ”مائٹ از رائٹ“

پہلے ”جسمانی طاقت“ کی دنیا تھی اور آج ”علم و ٹیکنالوجی“ کی ہے۔ کھلا میدان سامنے پڑا ہے، جسے بھی طاقتور بننے کا شوق ہے آ جائے میدان میں اور دنیا کا امام بن جائے اور آج کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر دنیا پر اپنی برتری ثابت کر دے کس نے روکا ہے بھائی؟

اسی طرح سے ”کمزوری یا بے بسی“ میں بھی ایک الگ ہی نشہ ہوتا ہے۔

کمزور یا بے بس اپنی کمزوری کو طاقت میں بدلنے کی بجائے رونا پیٹنا کرتا رہتا ہے، کوئی عملی اقدامات کرنے کی بجائے خود کو ایک ایسی دنیا کا اسیر بنا لیتا ہے جو یوٹیوپیائی ہوتی ہے جو اس کے ذہن کے نہاں خانے میں ہی کہیں بسی ہوتی ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

اسی لیے جب کمزور کو حالات کے تھپیڑے پڑتے ہیں تو وہ چیختے چنگھاڑتے ہوئے کہنے لگتا ہے

” وہ بھی ایک دن طاقتور بنے گا اور آج کے فرعونوں کو نیست و نابود کر دے گا اور پوری دنیا پر راج کرے گا“

یہ ہر دور کے شکست خوردہ اور بے بسوں کا مجموعی رویہ ہوتا ہے۔

لیکن بیچارگی کی اس کیفیت سے باہر وہی نکلتا ہے جو زمانے میں پنپنے کے ڈھنگ سیکھ جاتا ہے اور خود کو آنے والے حالات میں ایڈجسٹ کرنے کی تدابیر کرتا رہتا ہے۔

اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ طاقتور ہمیشہ تدبیر کرتا ہے جسے کمزور ”سازش“ سمجھتا ہے جبکہ کمزور کے پاس سوائے اپنی بے بسی کا ماتم کرنے کے کچھ نہیں ہوتا۔

ہمیں کب اس حقیقت کا ادراک ہو گا کہ یہ دنیا کمزور کی نہیں بلکہ طاقتور کی ہے۔

فطرت بھی اسی کو جینے کا موقع فراہم کرتی ہے جو طاقتور ہوتا ہے، کمزور اور نحیف کی آنکھ تو کھلنے سے پہلے ہی بند ہو جاتی ہے۔

ہمارے ہاں ایک دوسرا مائنڈ سیٹ بھی پایا جاتا ہے جو اس ہلاکت پر خوشی سے بغلیں بجا رہا ہے کہ چلو ایک شیعہ دنیا سے رخصت ہوا۔

ان کے نزدیک شیعہ مسلمان ہی نہیں ہیں اور ان کا تعصب یا نفرت انسانیت سے بڑھ کر ہے۔ اب یہ کون لوگ ہیں جو نسبت یا فرقے کو انسانیت پر ترجیح دینے لگتے ہیں؟

جناب یہ وہی لوگ تو ہیں جو ایک دوسرے کے فرقوں پر کفر کی سند جاری کرتے ہیں۔
اب یہ مذہبی لوگوں کا حوصلہ ہے کہ ان کے نزدیک فرقہ انسانیت سے بڑا ہو جاتا ہے۔
اب رہا یہ سوال کہ ایرانی صدر کی موت محض ایک حادثہ تھی یا کوئی سازش؟

ظاہر ہے طاقت کی دنیا ہے اور طاقت کے ایوانوں میں کچھ بھی بعید نہیں ہوتا لیکن ہمارا تو یہ پختہ ایمان نہیں ہے

کہ جو رات قبر میں ہے وہ باہر نہیں۔
وقت سے پہلے کوئی کسی کو ہلاک نہیں کر سکتا۔
قادر مطلق کی رضامندی کے بغیر ایک پتہ بھی اپنی جگہ سے حرکت نہیں کر سکتا۔

مارنے والے سے بچانے والا زیادہ طاقتور ہوتا ہے، بلکہ تبلیغی جماعت کے نزدیک تو حقیقی مومن ہی وہ شخص ہوتا ہے جس کا یقین اس بات پر مستحکم ہو جائے

” کہ جو کچھ بھی ہوتا ہے قادر مطلق کی رضا سے ہوتا ہے“
پھر یہ سازشی تھیوریاں کیوں؟ کیا ہمارا ایمان کمزور ہے؟
سوچنا ہو گا نا کہ ہمارا ایمان و یقین زیادہ مضبوط ہے یا کفار کی تدبیر؟

Facebook Comments HS