پاکستان کے قومی لمحاتِ فکریہ

کچھ اصلاحات اپنے استعمال اور تعدد کی وجہ سے زبان زدِعام ہوجاتی ہیں اور بعض اوقات ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ کسی اصطلاح کو کبھی بھی کسی بھی وقت کہیں بھی استعمال کیا جائے تو یہ حالات کی بہترین عکاسی کرتی ہے۔ ایسی ہی ایک اصطلاح ”لمحۂ فکریہ“ ہے اور وطن عزیز پر اس کا اطلاق بھی خوب ہوتا ہے۔ پاکستان کی چھہتر سالہ تاریخ میں کسی بھی وقت کسی بھی معاملہ میں اس اصطلاح کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ہر معاملہ ہر مسئلہ ہر پہلو لمحۂ فکریہ کے طور پر یاد رکھا گیا ہے۔ یہ اصطلاح پاکستان میں کبھی پرانی نہیں ہوئی بلکہ زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو کر اتنی متاثر کن بن چکی ہے کہ آج بھی کسی شعبۂ زندگی میں آپ اس کا استعمال بلا خوف و خطر کر سکتے ہیں۔ میری ناقص رائے کی مطابق اسے پاکستان کی قومی اصطلاح نامزد کر دینا چاہیے تاکہ اسے بھی ٹیکس، احتساب، عوامی رائے، قومی مفاد، دشمن ملک کی سازش، آئی ایم ایف، خزانہ خالی ہے وغیرہ وغیرہ جیسی اصطلاحات کی طرح سرکاری زبان میں شامل کر لیا جائے۔
سرکار استعمال کرے نہ کرے لیکن وطن عزیز کے ہر شعبہ۔ محکمہ، پراجیکٹ، پروگرام غرض یہ کہ ہر کام کے لئے آپ صریحاً لمحۂ فکریہ کا استعمال کر سکتے ہیں۔ صحافتی اور تعلیمی میدان میں بھی اس کا بے دریغ استعمال ہوتا ہے۔ اب دیکھ لیجیے چند مثالیں، محض شعبہ، معاملہ یا پراجیکٹ کا نام ہی لیا جائے تو اس کے ساتھ لمحۂ فکریہ جوڑا جا سکتا ہے۔ مثلاً پاکستان میں تعلیم کے لئے مختص بجٹ کا حصہ۔ لمحۂ فکریہ
پاکستان میں جمہوریت آئین و قانون کی بالادستی۔ لمحۂ فکریہ
پاکستان کی معیشت اور معاشی پالیسی۔ لمحۂ فکریہ
پاکستان کی ترقی کے نام پر لئے گئے قرضے اور واپسی کے لئے لائحہ عمل۔ لمحۂ فکریہ
پاکستان میں نظامِ عدل و انصاف۔ لمحۂ فکریہ
پاکستان کے لا اینڈ آرڈر کی صورتحال۔ لمحۂ فکریہ
پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی۔ لمحۂ فکریہ
پاکستان کے سرکاری محکموں کی کارکردگی۔ لمحۂ فکریہ
پاکستان میں افسر شاہی کے کارکردگی اور اس کے بدلے ملنے والی مراعات۔ لمحۂ فکریہ
پاکستان میں صحت و علاج کی سہولیات۔ لمحۂ فکریہ
پاکستان میں خوراک اور غذا کی کوالٹی۔ لمحۂ فکریہ
پاکستان میں نوجوانوں کو روزگار مہیا کرنے کے لئے کوئی پالیسی اور مواقع۔ لمحۂ فکریہ۔ وغیرہ وغیرہ
غرض یہ کہ آپ کچھ بھی سوچ لیں جہاں پاکستان کا کوئی معاملہ زیرِ بحث ہو گا آپ اس کے ساتھ لمحۂ فکریہ لگا سکتے ہیں۔
اب معلوم نہیں اتنے ساری فکریں کرے گا کون؟ حکمران، سیاستدان، پالیسی بنانے والے، بیوروکریسی، عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ کوئی بھی فکرمند نظر نہیں آ رہا سب اپنے اپنے کھیلوں میں مصروف ہیں اور ان تمام قومی لمحاتِ فکریہ پر صرف تقاریر ہو رہی ہیں۔

