میڈیا اور انسان


دور حاضر میں دستیاب مختلف پلیٹ فارمز پر تحریری، سمعی اور بصری مواد کا تعلق میڈیا کی موجودگی ظاہر کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ دور حاضر میڈیا کا دور کہلاتا ہے آج کا انسان ٹیلیوژن کا ریموٹ کنٹرول ہاتھ میں لے کر سیٹلائٹ سے دور دراز کے مناظر اور خبروں سے آگاہ ہو رہا ہوتا ہے اور دوسری طرف سوشل میڈیا نے بھی انسانوں کو معلومات پر وسیع رسائی دی ہے، حضرت انسان نے شکار کرنے سے شروع کیا اور آج مختلف ادوار سے گزر کر معلومات/انفارمیشن کے میدان میں کھڑا ہے اور میڈیا سے فیضیاب ہو رہا ہے لیکن دوسری جانب میڈیا کے میدان میں ہی آج ملکوں کو چیلنجز کا سامنا ہے، انفارمیشن اور میڈیا سے متعلق مسائل بھی درپیش ہیں اور بڑے پیمانے پر میڈیا وار فیئر کا سامنا ہے روایتی میڈیا تک بات کچھ ٹھیک تھی لیکن اب سوشل میڈیا نے بطور فرد واحد معاشرے پر کئی منفی اثرات مرتب کیے ہیں، منفی خبروں اور بیانیوں نے معلومات کے بہاؤ میں ٹرولنگ اور پروپیگنڈے سے عوام کو ذہنی کشمکش کا شکار کر دیا ہے دوسری سطح پر انسانی نفسیات بھی میڈیا کے غلط استعمال سے متاثر ہو رہی ہے میڈیا پر پیش کیا جانے والا مواد مختلف سے مل کر پیش کیا جاتا ہے جن میں میوزک، آواز، انداز، تصویر، اور زمان و مکاں کا عمل دخل شامل ہے جو کسی بھی دیکھنے پڑھنے یا سننے والے کی آنکھوں اور کانوں سے ہو کر اس کے ذہن تک جاتا ہے اور ان کی نفسیات میں تبدیلی پیدا کرتا ہے، سمعی اور بصری پیشکش سے متعلق متعدد ٹی وی اور ریڈیو چینلز، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کے تقابلی جائزے کے بعد افسوس ہی کہنا غلط نا ہو گا کہ آج میڈیا جہاں ایک جانب اپنے یوزرز، ناظرین اور سامعین کو آگاہ کرنے اور مختلف انداز سے سوچنے پر مجبور کرتا ہے وہیں مواد کی پیشکش  سے بھی انسانی دماغ پر نفسیاتی بگاڑ پیدا ہوتا ہے میڈیا پر استعمال ہونی والی زبان، بول چال، ٹی وی مکالموں، پرائم ٹائم شوز، پاڈ کاسٹ، وی لاگز پر ہونے والے مکالموں اور خبروں کی پیشکش بڑی اہمیت کی حامل ہے ماہرین سمجھتے ہیں کہ میڈیا کے اس دور میں ہر ذی الشعور انسان کو چاہیے کے سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کر کے اپنا مذہبی اور سماجی فریضہ ادا کریں کانٹینٹ بنانے والے، لکھاری، پروڈیوسرز اور ٹی وی ڈائریکٹر میڈیا کی اخلاقیات اور مزاج کو سمجھتے ہوئے کام کریں ذمہ داری کو سمجھیں اور ارباب اختیار ایک پیج پر آ کر انفارمیشن کے ڈومین کو اخلاقی اور آئینی اقدار کے ساتھ جدت کی جانب لے کر جائیں تاکہ معاشرے میں استحکام کی فضاء قائم ہو۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments