بم دھماکے میں ہلاکت سے سوئمنگ پول میں ’مشکوک‘ موت تک: ایرانی رہنما جن کے لیے مسند اقتدار کانٹوں کی سیج ثابت ہوئی


ایران
اسلامی جمہوریہ ایران کی 45 سالہ سیاسی تاریخ پر اگر ایک نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مسند اقتدار اکثر رہنماؤں کے لیے کانٹوں کی سیج ثابت ہوئی۔ شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے اقتدار کا خونیں انجام جلا وطنی کے ساتھ ہوا تو 1979 میں آیت اللہ خمینی کی واپسی نے بادشاہت کا خاتمہ کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کو جنم دیا۔

حال ہی میں ملک کے صدر ابراہیم رئیسی کی ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاکت ایسا پہلا واقعہ نہیں جب کسی ایرانی سربراہ مملکت کا سیاسی اور حکومتی سفر وقت سے پہلے ختم ہو گیا ہو۔

ان سے پہلے سوئمنگ پول میں ہونے والی مشکوک موت سے لیکر بم دھماکوں جیسے واقعات میں ایرانی رہنما ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کسی رہنما کو ملک سے فرار ہو کر جلاوطنی کی زندگی گزارنا پڑی۔

اس تحریر میں چند ایسے ہی ایرانی رہنماؤں کے بارے میں جاننے کی کوشش کی گئی ہے۔

مھدی بازرگان اور امریکی سفارت خانے کا تنازع

ایرانی انقلاب کے بعد مھدی بازرگان کی قیادت میں 1979 میں قائم ہونے والی پہلی متنوع عبوری حکومت میں انھوں نے بطور وزیر اعظم خدمات سر انجام دیں۔

آیت اللہ خمینی کی واپسی اور پہلوی بادشاہت کے خاتمے کے بعد وہ پہلے ایرانی وزیر اعظم تھے لیکن جلد ہی انھوں ریاست سے مزید اختیارات کا مطالبہ کر دیا تو تنازعات جنم لینا شروع ہو گئے۔

مختلف تنازعات کے درمیان مھدی نے ریاستی امور سنبھالے تو ان سب کے درمیان تہران میں امریکی سفارت خانے کے اہلکاروں کو یرغمال بنائے جانےکا معاملہ اُن کے لیے دردِ سر بن گیا۔

ایران کے سابق حکمران محمد رضا شاہ پہلوی کی امریکہ سے بیدخلی کا مطالبہ کرنے والے ایرانی مظاہرین نے چار نومبر 1979 سفارت خانے پر دھاوا بول کر درجنوں امریکیوں کو یرغمال بنا لیا تھا اور بلآخر 444 روز عملے کو یرغمال رکھنے کے بعد انھیں 20 جنوری 1981 کو رہا کر دیا گیا۔

تاہم اس معاملے کے حل سے قبل ہی مھدی نے حکومت چھوڑنے اور استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا جس کے بعد وہ حکومتی نظام روح اللہ خمینی کے سپرد کر کے راستے سے ہٹ گئے۔

بازرگان کے استعفیٰ دینے کے دو دن بعد عوام کے نام ایک پیغام میں انھوں نے کہا کہ جس وزیر اعظم کو کام کرنے کے لیے رہبر اعلٰی سے اجازت لینی پڑے وہ ایک رہنما نہیں بس صرف ایک ملازم ہوتا ہے۔

ابو الحسن بنی صدر: غداری کا الزام اور جلا وطنی

ابو الحسن بنی صدر انقلاب کے بعد پہلے صدر بنے اور صدارتی انتخابات میں 75 فیصد ووٹ لے کر ایران کی تاریخ کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔

خمینی نے ان کی اس وجہ سے بھی حمایت کی کیونکہ وہ علماء کے دائرے سے باہر کسی شخصیت کو یہ عہدہ تفویض کرنا چاہتے تھے، ایسے میں خمینی اُن پر مکمل بھروسہ کرتے تھے۔

لیکن 1980 کی ایران عراق جنگ کے دوران بنی صدر کے وزیر اعظم محمد علی رجائی کے ساتھ تصادم کی وجہ سے اختلافات میں اضافہ ہوا۔

یہ اختلافات اس وقت مزید بڑھ گئے جب بنی صدر نے جنگ میں ایرانی مسلح افواج کے کردار پر زور دیا جبکہ قدامت پسندوں نے پاسداران انقلاب کے لیے زیادہ سے زیادہ کردار حاصل کرنے کی کوشش کی۔

تاہم خمینی نے ان پر اس حد تک بھروسہ کیا کہ انھیں آئینی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے فوج کی کمان تک سونپ دی۔

لیکن ان کا اقتدار زیادہ عرصہ نہیں چل سکا۔

ابو الحسن بنی صدر کی عدم موجودگی میں ایران کی پارلیمان نے 21 جون سنہ 1981 میں ان کا مواخذہ کیا اور ان پر انقلاب مخالف گروہوں کی حمایت کرنے کا الزام عائد کیا جس کے بعد انھیں برطرف کر دیا گیا۔

مواخذے کے دوران ہی ان کے مخالفین نے ان پر حملہ کیا اور خمینی نے بھی ان پر کڑی تنقید کی۔ برطرفی کے بعد انھیں غداری اور اسلامی حکومت کے خلاف سازش کرنے کے الزام میں وارنٹ گرفتاری کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

وہ خفیہ طور پر فرانس فرار ہونے میں کامیاب ہوئے جس کے بعد اکتوبر 2021 تک انھوں نے جلا وطنی کی زندگی گُزاری، اور وہیں ان کی وفات ہوئی۔

محمد علی رجائی جو بم دھماکے میں قتل ہوئے

رجائی

محمد علی رجائی کے 1981 میں اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر منتخب ہونے سے پہلے وہ ابو الحسن بنی صدر کے وزیرِ اعظم بھی رہے تھے۔

محمد علی رجائی کا دورِ حکومت انتہائی قلیل المدتی تھا۔ 1981 میں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے کے اندر ایک بم دھماکے میں وہ اپنے وزیر اعظم محمد جواد کے ساتھ ہلاک ہو گئے تھے۔

اگرچہ کسی بھی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، لیکن حزبِ اختلاف کی تنظیم مجاہدینِ خلق، جس کی بنیاد 1965 میں رکھی گئی تھی اور اس نے شاہ کی ریاست کا تختہ الٹنے میں حصہ لیا تھا، پر اس حملے اور ان دو اہم شخصیات کے قتل کا الزام لگایا گیا تھا۔

علی خامنہ ای نے ان کے جانشین کی حیثیت سے عہدہ سنبھالا، اس سے قبل وہ اپنی دو مدتوں کے اختتام پر اور خمینی کی وفات کے بعد ریبر اعلٰی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔

خامنہ ای انقلاب کے بعد ایران کے واحد صدر ہیں جن کا دورِ حکومت کسی بھی سیاسی بحران کے بغیر ختم ہوا یعنی انھوں نے اپنا صدارتی دور مکمل کیا۔

انقلاب کے بعد ایران کے صدور میں وہ واحد ہیں جنھوں نے انقلاب کے رہبر اعلیٰ کے طور پر منتخب ہو کر صدارت سے علیحدگی کے بعد زیادہ کامیابیاں حاصل کیں۔

میر حسین موسوی: وزارت عظمی سے نظربندی تک

علی خامنہ ای صدر تھے اور اپنے ایک معتمد یعنی قریبی رکن پارلیمنٹ علی اکبر ولایتی کو وزیر اعظم بنانا چاہتے تھے لیکن پارلیمنٹ نے ایسا کرنے میں اُن کی مدد نہیں کی۔

خامنہ ای کو نہ چاہتے ہوئے میر حسین موسوی کو قبول کرنا پڑا جس کے بعد ان کا نام نامزد وزیر اعظم کے طور پر پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔

لیکن ان کے درمیان کشیدہ تعلقات نے میر حسین موسوی کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا جس پر رہبر اعلٰی آیت اللہ خمینی نے اعتراض کیا اور خامنہ ای کو موسوی کی حکومت کو کام جاری رکھنے یہاں تک کہ انھیں برداشت کرنے پر مجبور کیا۔

1989 میں خامنہ ای کی قیادت میں آئینی ترامیم کی مدد سے وزیر اعظم کو برطرف کر دیا گیا۔

موسوی 20 سال تک سیاسی میدان سے دور رہے اور پھر برسوں بعد دوبارہ منظر عام پر آئے جب 2009 کے انتخابات کے دوران وہ ایک بار پھر ایران کے سیاسی میدان میں داخل ہوئے۔

تاہم انتخابات میں شکست کے بعد نتائج کو چیلنج کرتے ہوئے سڑکوں پر مظاہرے ہوئے اور میر حسین موسوی کو فروری 2010 میں نظربند کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

ہاشمی رفسنجانی: سوئمنگ پول میں مشکوک موت

رفسنجانی

ایرانی صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی سنہ 1934 میں جنوب مشرقی ایران میں پیدا ہوئے تھے جن کی صدارت کے پہلے چار سال (1989-1993) نسبتا آسانی سے گزرے اور وہ ایک طاقت ور رہنما بن کر ابھرے۔

تاہم، جیسے ہی ان کی صدارت اپنی دوسری مدت میں داخل ہوئی تو رفسنجانی کو آیت اللہ خامنہ ای کی طرف سے واضح مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

رفسنجانی، جو کبھی انقلابی کونسل کے دوسرے بڑے رہنما سمجھے جاتے تھے، کو 2005 کے صدارتی انتخابات میں محمود احمدی نژاد کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

رفسنجانی نے بعد میں صدارتی انتخابات کے خلاف مظاہروں سے ہمدردی کا اظہار کیا اور ان انتخابات کے نتائج پر خود بھی سوال اٹھایا تھا، جسے وہ ’مشکوک‘ سمجھتے تھے۔

مئی 2013 میں انھوں نے صدارتی انتخابات میں حصہ لیا لیکن ان کے کاغذاتِ نامزدگی پر اعتراضات لگا کر مسترد کر دیا گیا تھا۔

تاہم، دو سال بعد، انھوں نے ’مجلسِ خبرگانِ رھبری‘ کے انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ (واضح رہے کہ ایران میں ’مجلسِ خبرگانِ رھبری‘ یا ’مجلسِ رہبری‘ ملک میں 88 علما کا ایک ایسا ادارہ ہے جو رہبر اعلیٰ کا انتخاب بھی کرتا ہے)

9 جنوری 2017 کو ایک سوئمنگ پول میں ان کی موت ہوئی۔ اس وقت وہ 82 سال کے تھے تاہم ان کے اہلخانہ رفسنجانی کی موت کو ’غیر فطری‘ اور ’ایک منظم منصوبہ‘ سمجھتے تھے۔

محمود احمدی نژاد: ناراض رہنما

محمود احمدی نژاد

محمود احمدی نژاد نے اگست 2005 میں صدارت کا منصب سنبھالا۔ آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے ارد گرد کے علما کے ساتھ قریبی تعلقات کی وجہ سے بہت سے لوگ اس نتیجے پر پہنچے کہ سپریم لیڈر کو آخر کار صدارت کے لیے سب سے موزوں شخص مل گیا ہے۔

لیکن یہ سیاسی اتحاد زیادہ دیر تک نہ چل سکا۔

سنہ 2009 کے متنازع صدارتی انتخابات میں احمدی نژاد کے دوسری مدت کے لیے دوبارہ منتخب ہونے کے ایک ماہ بعد اسفندیار رحیم مشائی کو ان کا پہلا نائب مقرر کیا گیا تھا۔

ایران کے سپریم لیڈر نے ایک خط میں اُن سے ناراضگی کا اظہار کیا اور رحیم مشائی کے انتخاب سے عدم اتفاق کا اظہار کیا کیوں کہ وہ اس فیصلے کو ملک کے مفاد میں نہیں سمجھتے تھے۔

لیکن احمدی نژاد نے اپنا فیصلہ اس وقت تک واپس نہیں لیا جب تک کہ سپریم لیڈر کے دفتر کو خط شائع کرنے اور خامنہ ای سے مشائی کو برطرف کرنے کا مطالبہ کرنے پر مجبور نہیں کیا گیا، جس کے نتیجے میں بالآخر مشائی نے عہدہ چھوڑ دیا۔

اپریل 2011 میں احمدی نژاد نے سپریم لیڈر کی مخالفت کے باوجود ایران کے انٹیلی جنس کے وزیر حجت الاسلام حیدر مصلحی کو برطرف کر دیا لیکن احمدی نژاد نے اس تنازعے کے بوجھ تلے ہار نہیں مانی اور اپنے وژن پر قائم رہے۔

سپریم لیڈر پر دباؤ ڈالنے کے لیے انھوں نے خود کو الگ تھلگ کرنے اور 11 دن تک صدارتی دفتر آنے سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اسی عمل نے احمدی نژاد کے سیاسی مستقبل کو تباہ کر دیا۔

جب انھوں نے 2017 میں سپریم لیڈر کی خواہشات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صدر کا انتخاب لڑا تھا، جنھوں نے انھیں تیسری مدت کے لیے انتخاب نہ لڑنے کا مشورہ دیا تھا، تو انھوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ریاست کی موجودہ حالت میں ترمیم کی ضرورت ہے۔

محمود احمدی نژاد کو ان انتخابات میں حصہ نہیں لینے دیا گیا اور انھیں نااہل قرار دے دیا گیا۔

اعتماد کا فقدان: حسن روحانی

حسن روحانی

2013 میں حسن روحانی کے صدر منتخب ہونے کو بہت سے لوگوں نے ایران کے جوہری پروگرام کے حل کے لیے ریفرنڈم کے طور پر دیکھا تھا، جن کی ساکھ ایک اعتدال پسند سیاسی شخصیت کے طور پر تھی۔

لیکن ان کا جوہری معاہدہ، جسے سرکاری طور پر ’جوائنٹ کمپری ہینسیو پلان آف ایکشن‘ (جے سی پی او اے) کہا جاتا ہے، ان کے اور اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تنازع کی وجہ بن گیا۔

اپنے دور صدارت کے آغاز سے ہی روحانی آیت اللہ خامنہ ای کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے کام کرتے رہے لیکن جوہری مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے ان کے وژن نے ان کے اور خامنہ ای کی درمیان تناعازت کو جنم دیا۔

اپنی صدارت کے دوران وہ معاشی نوعیت کے الزامات کا نشانہ بنے اور ان کے اندرونی حلقے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس میں ان کے بھائی حسین فریدون بھی شامل تھے۔

اپنی دو مدتیں ختم ہونے کے بعد اپنے پیشرو محمود احمدی نژاد کے برعکس وہ بڑی حد تک خاموش رہے اور اقتدار کے نظام پر تنقید کرنے والے کسی بھی بیان سے گریز کیا۔

ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاکت

ابراہیم رئیسی محمد علی رجائی کے بعد دوسرے ایرانی صدر ہیں کہ جن کی موت کسی حادثے کے نتیجے میں ہوئی۔ رئیسی 2021 میں تقریبا بلا مقابلہ ہی منتخب ہوئے تھے۔

ان کے دور حکومت کے دوران، خاص طور پر ان کے پہلے دو سالوں میں، انھیں سپریم لیڈر کے ساتھ کوئی اختلاف یا مسئلہ نہیں تھا یا اس کا کوئی واضح اشارہ بھی نہیں تھا۔

تاہم ان کی حکومت کو ’کمزور‘ قرار دیا گیا ہے اور اس حکومت کی معاشی اور سیاسی کارکردگی کی وجہ سے ناقدین نے اُن پر تنقید کی۔

رئیسی 19 مئی 2024 کو جمہوریہ آذربائیجان کے صدر کے ساتھ اہم نوعیت کی ملاقات کے بعد مشرقی آذربائیجان کے شہر تبریز جا رہے تھے جب ان کے وزیر خارجہ حسین امیر عید اللہیان اور دیگر حکام کے ساتھ ان کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا۔

15 گھنٹے سے زائد کی مسلسل تلاش کے بعد اگلی صبح اعلان کیا گیا کہ جس ہیلی کاپٹر پر ایرانی صدر اور اُن کا وفد سوار تھا اُس کا ملبہ مل گیا ہے۔

اسی بارے میں


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33095 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments