سانحہ تبریز کے خطے پہ اثرات


19 مئی 2024 بروز اتوار ایرانی صدر ابراہیم رائیسی نے آذربائجان میں ایک پانی کے ڈیم کا افتتاح کیا۔ واپسی کے سفر کے دوران ان کا ہیلی کاپٹر ہوا میں پھٹ گیا اور یوں ایک عہد کا خاتمہ ہوا۔ ان کے ہمراہ ایرانی وزیر خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی لقمۂ اجل بن گئے۔ دنیا اس واقعہ کو سانحہ تبریز کے نام سے یاد کرے گی۔ اس حادثے کا حتمی نتیجہ تو کچھ عرصہ میں ہی نکلے گا البتہ وجۂ سانحہ تو عام فہم ہے جو بظاہر تو تخریب کاری ہی دکھائی دیتی ہے۔

البتہ اس کے اثرات دور و نزدیک پہ لازماً مرتب ہونگے۔ صدر رائیسی کی اصل وجہِ شہرت ان کی مقننہ میں اہم ترین عہدوں پہ تعیناتی رہی ہے۔ صدر کے منصب پہ پہنچنے سے پہلے وہ چیف جسٹس بھی رہے تھے۔ ساری عمر وہ عدل و انصاف سے جڑے رہے، بعض لوگ انہیں تہران کا قصائی بھی کہتے ہیں کیونکہ 1980 / 90 کی دہائیوں میں ہزارہا افراد کو سخت ترین سزائیں دی گئیں تھیں جس کی ذمہ داری زیادہ تر انہی کی سر تھوپی جاتی ہے۔ صوبۂ خراسان کی نمائندگی بحیثیت ممبر اسمبلی بھی 2016 تا 2019 کی۔

اسی دوران 2017 میں پہلی مرتبہ صدارتی انتخابات میں حصہ لیا مگر حسن روحانی کے ہاتھوں شکست کھا گئے، البتہ 2021 میں وہ روحانی سے جیت کر صدر بن گئے تھے۔ ان کی ایرانی طرز حکمرانی میں بہت گہرا عمل دخل دیکھ کر لوگ یہی اندازہ کرچکے تھے کہ وہ سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنائی کا منصب سنبھالنے کے لئے سب سے موزوں امیدوار ہیں۔

کیونکہ اس عہدۂ جلیلہ پہ فائز ہونے کے لئے انتہائی کڑی شرائط لازم ہیں اور وہ تمامتر معیارات پہ بدرجہ اولیٰ پورا اترتے تھے۔ ان کی بے وقت موت اس وقت ہوئی جب اسرائیل اور ایران کے مابین سخت تناؤ چل رہا ہے۔ پچھلے ماہ ایک اسرائیلی حملے میں ایرانی قونصل خانے کو دمشق میں نشانہ بنایا گیا جس میں میجر جنرل محمد رضا زاہدی اور دیگر کئی اعلیٰ افسران کی موت واقع ہوئی جس کا جواب ایران نے میزائلوں اور ڈرون سے دیا جس نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا اس کا جواب الجواب اسرائیل نے میزائلوں کی بارش سے دیا۔

اس مقابلہ آرائی نے علاقائی سلامتی کو شدید خطرات سے لاحق کر دیا ہے۔ ایرانی ایٹمی پروگرام بھی عالمی سطح پہ بہت کشیدگی کا باعث ہے اور موجودہ تناؤ اس میں بے حد اضافہ کرچکا ہے۔ اس میں ایرانی کامیابی خطے کے امن کو مزید خطرات سے لاحق کردے گی۔ ایرانی آئین کے مطابق اول نائب صدر محمد مخبر اب دو ماہ تک عہدۂ صدارت سنبھالیں گے اور پھر نئے انتخابات ہوں گے۔ متوقع امیدوار سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی کا صاحبزادہ ہو گا جس کا فوج اور انٹیلی جنس حکام کے ساتھ دیرینہ رشتہ و تعلق ہے۔

وہ نوجوان بھی ہے اور تعلیم یافتہ بھی جو کسی ناگہانی حادثے کا شکار نہ ہوا تو کئی برس تک قوم کی خدمت کرے گا۔ مخبر کی تعیناتی بھی خودبخود نہیں ہو سکتی اس کے لئے بھی خامنائی کی رضامندی درکار ہے۔ ایران میں شاید صدر رائیسی کی رحلت کے بعد اندرونی سیاست پہ اتنا فوری گہرا اثر نہ ہو کیونکہ ملکی طرز حکومت میں سپریم لیڈر کا جو اب 85 برس کے جوانسال قائد ہیں اور ایرانی انقلابی گارڈ کونسل کا انتہائی گمبھیر اثر و رسوخ ہے اور ان کی منشاء کے بغیر کچھ نہیں ممکن لہذا حسب دستور اسی طرح یہ نظام چلتا رہے گا۔ بڑی تبدیلی تب ہی ہوگی جب خامنائی کی تبدیلی سے ہوگی کہ آئندہ خان کون بنے گا۔ دنیا تب تک انگشت بدنداں ہی رہے گی۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments