مری


آج مری آنا ہوا۔ مری مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ میں 1978 سے مری آتا ہوں۔ مری ایک محبت تھا اس محبت کو بڑی محنت سے مری کے مقامی لوگوں نے خراب کیا۔ اب یہاں سیاح آتے ہوئے ہزار دفعہ سوچتا ہے کہ وہ مری کے لوگوں کی بدتمیزی کو برداشت بھی کر سکتے ہیں یا نہیں۔

میں مری مال جو کہ آج بہت پُرسکون رش نہ ہونے کے برابر تھا۔ میں مسلسل چہل قدمی کر رہا تھا۔ کہ یک دم اس سکون کو برباد کرنے کے لئے خالی سڑک پر ڈپٹی کمشنر صاحب کی گاڑی داخل ہوئی اور اس کے پیچھے ایک سائرن والی گاڑی تھی جس نے ماحول کے سکون کو برباد کر دیا۔ یقیناً ڈپٹی کمشنر صاحب سی ایس ایس کر کے آتے ہیں میرے خیال میں ان کو میٹرک بھی کر لینا چاہیے۔ تاکہ تمیز سیکھ سکیں کہ یہ سائرن کی آواز ماحول کو کتنا برباد کرتی ہے۔

میری کوشش ہے کہ میری ان سے ملاقات ہو جائے تاکہ عرض کر سکوں اس سائرن کی جہاں ضرورت ہو وہاں ضرور بجائیں خالی سڑک کا ماحول خراب کرنے کی کوشش مت کریں۔ مری میں دکانیں تقریباً تبدیل ہو چکی ہیں۔ زیادہ تر ڈالر اور پونڈ شاپس بن چکی ہیں۔ المائدہ ریسٹورانٹ ابھی بھی باقی ہے۔ فیوجی کی دکان بند ہو گئی ہے۔ کچھ دوستوں نے افواہ اڑائی کہ مال روڈ پر واقع بک کارنر بند ہو گیا ہے دل اداس ہوا پر آج جب آنکھوں سے اس کو کھلا دیکھا تو بہت اچھا لگا۔

تقریباً تین سو کے قریب ڈی ایس ایل آر لیے فوٹو گرافر زبردستی تصویر اتارنا شروع کر دیتے پیں۔ پچھلے پینتیس سال سے میں فوٹوگرافی سے وابستہ ہوں آج تک کسی کی بھی بغیر اجازت تصویر نہیں بنائی پر آج میری کئی فوٹوگرافرز نے تصویر بنائی اور مجھے سمجھانے کی کوشش کی یہ ہوتی ہے ڈی ایس ایل آر کی تصویر۔ کیا کہتا خاموش ہی رہا۔ اس عمر میں فوٹو شوٹ کی بار بار آفر ہوئی مسکرا کر گزر گیا۔ میرا کیمرہ آج گاڑی میں ہی ہے۔ کیونکہ برا لگتا ہے جب کیمرہ دیکھ کر پوچھتے ہیں انکل ایک تصویر کا کتنا چارج کرتے ہو۔

لاہوری قلفی والی دکان بھی بند ہو گئی ہے۔ کافی بھی وہ والی کافی نہیں تھی۔ مری کے شوقین اب ناران کا رخ کر کے ہیں۔ میں نے سنا تھا کہ آپ کا مزاج آپ کو اچھا یا برا بناتا ہے مری کے مقامی لوگوں نے مری کو مارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ دراصل آنے والے سیاح کو مارنے اور بدتمیزی کرنے والے ہی مری کے اس حال کے ذمہ دار ہیں۔ مال روڈ سے پنڈی پوائنٹ تک گاڑی سو روپیہ سواری بھی ایک خوش آئند کام ہے پر اب دیر ہو چکی ہے۔

کیونکہ مری کے کوہساروں نے جو سلوک سیاحوں کو ٹرانسپورٹ کی سہولت میں ماضی میں کیا ہے وہ قابل ذکر نہیں ہے۔ بڑا وقت لگا کر مری کے لوگوں نے مری کو مارا ہے اب دیکھیں کب کوئی عیسیٰ آ کر اس کو زندہ کرتا ہے۔ ڈپٹی کمشنر مری صاحب مہربانی فرما کر مری کی رونقیں بحال کرنے کے لئے قابل عمل کام شروع کریں۔ اگر ہم کوئی مدد کر سکتے ہیں تو ضرور بتائیں۔ لیکن مری کو بچا لیں مری وینٹی لیٹر پر ہے۔

 

Facebook Comments HS