لیاری کی بے بسی


محکمہ موسمیات کے مطابق اِس ہفتے کراچی میں ہیٹ ویو کی وجہ سے گرمی کی شدت میں مزید اِضافہ رہے گا، جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان میں حرکت قلب بند ہونا، دماغ کی شریانیں پھٹنا، گردوں کا ناکارہ ہونا اور ہیضہ جیسے مرض میں مبتلا ہو سکنا ہے، بالخصوص لیاری جیسے پسماندہ علاقوں میں۔ دنیا بھر میں ہیٹ ویو سے متاثرہ افراد کے لیے نہ صرف طبَی سہولیات مختلف پوائنٹس پر فراہم کیے جا رہے ہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی سے بچاؤ کے جدید طریقوں پر عمل درآمد کر کے اپنے شہریوں کو محفوظ کرنے کے پلان بنائے جاتے ہیں۔

ہیٹ اسٹروک سے بچنے کے لیے نہ صرف آگاہی مہم چلائے جاتے ہیں بلکہ کچھ ممالک اپنے عوام اور متعلقہ حکام کو آنے والی ہیٹ ویوز کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے قبل از وقت وارننگ سسٹم قائم کرتے ہیں۔ وارننگ سسٹم جیسے نظام میں موسمیاتی اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہوئے یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ کب درجہ حرارت کے خطرناک سطح تک بڑھنے کا امکان ہیں، جس سے حکامِ اعلیٰ کو احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد شروع کرنے کی ضرورت ہے۔

بہت سے شہروں اور علاقوں کے لیے ہیٹ ایکشن پلانز تیار کیے ہیں جو انتہائی گرمی کے دوران کیے جانے والے مخصوص اقدامات کا خاکہ پیش کرتے ہیں۔ اِن منصوبوں میں اکثر حکومتی ایجنسیوں، صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والوں، اور کمیونٹی تنظیموں کے درمیان ہم آہنگی شامل ہوتی ہے تاکہ گرمی سے متعلقہ ہنگامی صورتحال کے لیے فوری اور موثر ردعمل کو ہر سطح پر یقینی بنایا جا سکے۔ شہری منصوبہ بندی کی حکمت عملی میں بالخصوص سبز جگہوں کو شامل کیا جاتا ہے، جیسے کہ پارکس اور باغات شہریوں کو سایہ فراہم کر کے شہروں میں گرمی کے اثرات کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

درخت لگانے اور گھر کے اُوپر سبز چھتیں بنانے پر بھرپور زور دیا جاتا ہے تاکہ شہری ماحول کو ٹھنڈا کرنے میں مدد مل سکے۔ مختلف ممالک میں بعض اوقات شہری علاقوں میں ہیٹ ویوز کے دوران شہریوں کو ٹھنڈک فراہم کرنے کے باقاعدہ مراکز قائم کیے جاتے ہیں تاکہ وہاں اُن لوگوں کو پناہ دیا جا سکے جو ائر کنڈیشننگ تک رسائی نہیں رکھتے ہیں۔ یہ مراکز عام طور پر عوامی عمارتوں جیسے کمیونٹی سینٹرز یا لائبریریوں میں واقع ہوتے ہیں، جہاں صاف پانی، ائر کنڈیشنز، آرام کرنے کی جگہ، سافٹ ڈرنکس اور طبی امداد فراہم کیے جاتے ہیں۔

لیکن بدقسمتی سے پاکستان جیسے ملک میں گرمی اور ہیٹ ویو کے دنوں میں بھی یہاں بسنے والا انسان اب تک بجلی اور پانی جیسے بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ کہا تو یہاں بھی جاتا ہے کہ اِن دنوں میں پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہیے تاکہ ہائیڈریٹڈ رہا جا سکے۔ دن کے گرم حصَوں میں بیرونی سرگرمیوں کو محدود کر کے گرمی کی شدت سے خود کو محفوظ رکھنے کے مشورے دیے جاتے ہیں کہ تقریباً صبح دس گیارہ سے شام چار تک سایہ دار جگہ جیسے گھر کے اندر رہنا چاہیے تاکہ وافر مقدار میں سایہ اور پنکھے کی ہوا مل سکے۔ جہاں دن بھر دس سے بارہ گھنٹے بجلی جیسی سہولت ہی میسر نہ ہوں وہاں مزدور بھی اپنے کام کو ختم کرنے کے بعد گھر جا کر آرام کرنے کے بجائے قدرتی ہوا کے استعمال کے لیے باہر کسی ہوٹل کے ڈھابے میں بیٹھنا پسند کرتا ہے۔

لیاری کا تاریخی پس منظر

لیاری پاکستان کے اکنامک حب کراچی شہر کا ایک قصبہ ہے۔ یہ جنوب مغربی حصے میں بحیرہِ عرب سے متصل ہے۔ اس کی خاصیت تنگ گلیوں، گنجان آباد علاقوں، رہائشی اور تجارتی عمارات کا مرکب ہے۔ لیاری اپنے آپ میں ایک تاریخ کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیاری ایک ایسا گنجان آباد علاقہ ہے جہاں مختلف اقوام، زبان، مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔ ساڑھے چھ لاکھ ( 2017 ء کی مردم شماری کے مطابق) کی اِس آبادی کا ایک بھرپور ثقافتی ورثہ ہے، جو اپنی متحرک کمیونٹی کے روایتوں جیسے یہاں کے چھوٹے بازاروں، کھیلوں، کھانوں، زبانوں، انقلابی تحریکوں اور لیاری ندی کے ساتھ ساتھ مشہور جگہوں جیسے تاریخی مقامات کے لیے جانا جاتا ہے۔

لیاری نہ صرف کراچی بلکہ سندھ اور بلوچستان کا ایک اہم سیاسی گڑھ رہا ہے، جس نے مختلف سوشلسٹ، ڈیموکریٹک اور نیشنلسٹ تحریکوں کی سربراہی کی ہے۔ سیاسی شعور کو عوام میں بیدار کرنے کے لیے یہاں باقاعدہ اسٹڈی سرکلز کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ لیاری نے لالا لال بخش رند، واجہ اکبر بارکزئی، واجہ رحیم بخش آزاد اور شہیدِ قندیل صبا جیسے سیاسی رہنماؤں کو جنما ہے، جو اپنے لوگوں کے لیے ہمہ وقت جدوجہد میں مصروف رہے تھے۔ یہاں عوامی اور سیاسی مسائل پر انجمنوں میں مل بیٹھ کے بات چیت کیا جاتا تھا۔

لیکن آج یہاں محدود سیاسی جماعتیں اپنے اثر و رسوخ کے لیے میدان میں ہیں۔ جن میں مذہبی جماعتیں بھی شامل ہیں، جس کی وجہ سے کبھی کبھار سیاسی کشیدگی اور تصادم بھی نظر آتا ہے۔ سیاسی و نظریاتی آگاہی کے کمی کے باعث مذہبی فرقے واریت ملتی ہے، اب یہاں کے لوگ بھی اکثریت، اقلیت جیسے تصورات کے سائے تلے پل رہے ہیں۔ وہ الگ بات ہے کہ نوجوان نسل اپنی کوششوں سے امن اور یکجہتی پر مختلف ذرائع سے کام کر رہے ہیں۔ یہاں پورے علاقے میں مساجد اور مذہبی ادارے بکھرے ہوئے ہیں، جو محلے کے مذہبی تانے بانے میں اپنا حصہ تو ڈال رہے ہیں مگر سماجی مسائل کو حل کرنے میں اُن کا کہیں کوئی کردار نظر نہیں آتا جبکہ عام لوگوں کی زندگی میں مذہبی رسومات خود اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

لیاری کی معیشت متنوع ہے، جہاں کے رہائشی مختلف پیشوں بشمول تجارت، چھوٹے کاروبار اور دیہاڑی مزدوری میں مصروف ہیں۔ لیاری کا ایک بھرپور ثقافتی ورثہ ہے، جو اپنی متحرک موسیقی، فن اور کھیلوں کے لیے جانا جاتا ہے۔ اس نے مشہور فٹ بال اور باکسنگ کے کھلاڑی اور موسیقار پیدا کیے ہیں۔ یہ علاقہ اپنے اسٹریٹ اسکولوں کے ذریعے دیے گئے تعلیم کے علاوہ اسٹریٹ آرٹ کے لیے بھی مشہور ہے، جو اس کے رہائشیوں کی لچک اور تخلیقی صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔

تاہم، اس علاقے کو آج تک معاشی چیلنجوں کا سامنا ہے، بشمول غربت اور بے روزگاری، جو جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے سماجی مسائل میں معاون ہیں۔ لیاری کی ایک مضبوط برادری ہے، جس کے رہائشیوں کے درمیان مضبوط سماجی بندھن ملتا ہے۔ مجموعی طور پر، لیاری ٹاؤن اپنے آپ میں پائے جانے والے مواقعوں کے ساتھ ساتھ مختلف قسم کے چیلنجوں کا ایک پیچیدہ امتزاج پیش کرتا ہے، جس کی تشکیل اس کے جغرافیہ، سیاسی حرکیات، مذہبی تنوع، ثقافتی فراوانی، معاشی جدوجہد اور سماجی پیچیدگیوں سے ہوتی ہے۔

لیاری کی پسماندگی کے وجوہات

لیاری جیسے تاریخی بستی کو مختلف عوامل کی وجہ سے پسماندگی کا سامنا رہا ہے۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو لیاری کو شہری منصوبہ بندی اور ترقیاتی اقدامات میں ہمیشہ سے نظر انداز کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے یہاں آج تک پانی، بجلی اور گیس جیسے بنیادی سہولیات ہی دستیاب نہیں ہیں۔ تعلیم اور صحت جیسے ضروریات تک رہائشیوں کو محدود رسائی حاصل ہے۔ ناقص صفائی، آلودگی، اور کچرے کے ناکافی انتظام نے ایک غیر صحت مندانہ ماحول پیدا کیا ہے۔

تعلیمی اداروں کے پاس کچرے کے ڈھیر پائے جاتے ہیں جو تعلیمی فقدان کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بنیادی ڈھانچہ جیسے سڑکیں، صفائی ستھرائی یہاں کی آبادی کے لیے ناکافی ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے مجموعی معیارِ زندگی متاثر ہے۔ حکومتی سطح پر کمیونٹی کے لیے حفاظتی مراکز اور تفریحی مقامات کی کمی نے سماجی نقل و حرکت کو محدود کر دیا ہے۔ حالانکہ دیکھا جائے تو ہر علاقے میں حکومتی سطح پر کمیونٹی ہال بنائے گئے ہیں جو سیاسی ناچاقیوں کے سبب چند مخصوص لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں جنہیں عوام کے استعمال میں نہیں لایا جاتا۔

تفریحی مقامات کو حکومتی سطح پر قبضہ کیا جاتا ہے۔ غربت اور بے روزگاری کی بلند سطح نے یہاں کے لوگوں کے اقتصادی اور سماجی ترقی میں نمایاں رکاوٹیں ڈالی ہیں۔ یہاں بہت کم صنعتیں ہیں، ایک مخصوص طبقہ کاروباری عمل میں حصہ دار ہے، ملازمت کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں جو یہاں کی معاشی ترقی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جو ادارے حکومت کی طرف سے قائم جاتے ہیں اُن کا تجزیہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ علاقہ مکینوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو بہتر ہو گا کہ چھوٹے پوسٹ پر یہاں کے مکینوں کو تعینات کر کے اس بات کا ثبوت دیا جاتا ہے جیسے اچھے پوسٹ لینے کے لیے لیاری کے لوگ اہل ہی نہیں ہیں۔

لیاری کے مکینوں کی اپنی سیاسی نمائندگی محدود ہے، جس سے وہ اپنے حقوق کی وکالت کرنے میں ناکام ہوتے ہیں اور کسی بھی قسم کے سماجی ترقیاتی منصوبے میں فیصلہ سازی کے عمل میں یہاں کے کمیونٹی کی شمولیت نہیں ہو پاتی۔ جس سے نسلی اور سماجی گروہوں کے درمیان تناؤ پیدا ہوتا ہے جو تشدد اور سماجی بدامنی کو جنم دیتے ہیں۔

لیاری ٹاؤن کے مکینوں کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں ناقابل تصور چیلنجز کا سامنا ہے۔ جس میں سب سے بڑا چیلنج بجلی کی طویل بندش ہے۔ پانی اور گیس کی کمی اور ناکافی سہولیات یہاں کے عوام کے لیے ایک تلخ حقیقت بن چکی ہیں۔ اگر ہم کراچی بھر کا ایک تجزیہ لیں تو بہت سارے پسماندہ علاقوں میں کہیں عرصے سے کراچی الیکٹرک نے بجلی کی سپلائی کو لوڈ شیڈنگ کے نام پر رکھ کر اپنا کاروبار چمکانا شروع کیا، جس میں ایک پسماندہ علاقہ لیاری ہے۔

اسی سال اپریل کے آخر تک پورے لیاری میں دن کے چودہ سے اٹھارہ گھنٹے کی طویل لوڈ شیڈنگ کی جاتی تھی جسے اب دس سے بارہ گھنٹے کر دیا گیا، جس نے معاشرے کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، زندگی کا ہر شعبہ درہم برہم کر دیا ہے۔ بجلی کی عدم موجودگی کا مطلب ہے کہ خاندانوں کو لفظی اور علامتی طور پر اندھیرے میں چھوڑ دیا گیا ہے۔

وسائل اور سہولیات کی کمی نے نوجوان نسل کی تخلیقی صلاحیتوں کو سلب کر رکھا ہے۔ تفریحی مقامات اور سرگرمیوں کی عدم موجودگی نے نوجوانوں کے قابلیت اور تخلیقی صلاحیتوں کو ختم کر کے رکھ دیا ہے۔ ان کے دلچسپیوں کو تلاش کرنے کے مواقع کو محدود کر دیا ہے۔ تعلیمی خدمات فراہم کرنے کے دوران سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں بجلی کی عدم موجودگی نے ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جو سیکھنے کے لیے کسی طرح بھی سازگار نہیں ہے۔ طلباء اندھیرے میں پڑھنے پر مجبور ہیں، جس سے ایک ایسے علاقے کے لیے تعلیم پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے جہاں کی شرح خواندگی پہلے سے نہ ہونے کے برابر ہے، پڑھنا، لکھنا اور سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے، ہوم ورک مکمل کرنے، یا آن لائن وسائل تک رسائی مشکل ہو گیا ہے ۔

جہاں تعلیم کا حصول پہلے سے ہی ایک مشکل کام ہے، وہاں کمیونٹی کی کام کرنے والی خواتین، بچوں اور بزرگوں کے لیے اس طرح کے مشکلات کا اثر اور بھی زیادہ شدید ہوتا ہے، بجلی تک رسائی کے بغیر، وہ مزید پسماندگی کی طرف جاتے ہیں۔ روشنی کی کمی خود حفاظتی خدشات کو جنم دیتی ہے، خاص طور پر خواتین اور بچوں کے لیے جو ہراساں کیے جانے یا استحصال کا شکار ہو سکتے ہیں۔

بجلی نہ ہونے کی وجہ سے پانی جیسی بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی نے روزمرہ کے کاموں کو مشکل بنا دیا ہے۔ لوگ پانی کے حصول یا مہنگے متبادل پر انحصار کرتے ہوئے گھنٹوں قطاروں میں گزارنے پر مجبور ہیں۔ قدرتی گیس جیسے وسائل سے علاقے کو محروم کیا گیا ہے جس سے بھر وقت کھانا بنانے اور بچَوں کی بہتر نشوونماء کرنے میں کہیں ساری دشواریاں پیش آتی ہیں۔ یہ مشکلات نہ صرف روزمرہ کی زندگی کو متاثر کرتی ہیں بلکہ دماغی صحت پر بھی اس کے سنگین نتائج مرتب ہو رہے ہیں۔

بنیادی ضروریات تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے رہائشیوں میں تناؤ، اضطراب اور افسردگی کو بڑھا دیا ہے۔ بجلی کی ناہموار دستیابی نے بچّوں اور بڑوں کو بے خوابی جیسے مرض میں مبتلا کیا ہے۔ ڈپریشن ایک عام سی بات ہو کر رہ گئی ہے۔ اِس بے یقینی اور بے بسی نے کمیونٹی کی فلاح و بہبود کو متاثر کیا ہے جو لیاری جیسے پسماندہ علاقے کو مزید پسماندگی کی طرف دھکیل رہا ہے۔

بہتری کیسے ممکن ہو

لیاری کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے حکام اور تنظیموں کو مل کر ایک ایکشن پلان کا مطالبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکینوں کے بنیادی ضروریات کو پورا کرنا، کمیونٹی کو با اختیار بنانا، ان کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا اور نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ضروری وسائل فراہم کرنا ضروری ہے۔ لیاری کی پسماندگی کو کم کرنے کے لیے سب سے پہلے تو پانی، بجلی اور گیس کی بر وقت فراہمی کو ممکن بنایا جائے۔

سڑکوں، نکاسی آب، اور صفائی کے نظام کو اپ گریڈ کیا جائے۔ تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال میں معیاری سرمایہ کاری، موجود کمیونٹی کے مراکز، لائبریریوں، اور تفریحی جگہوں پر رسائی کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ وہاں سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ ماحولیاتی تحفظ، سماجی ہم آہنگی، ترقی کے لیے معیاری فنڈنگ اور وسائل کی فراہمی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ عوام کو سیاسی طور پر با اختیار بنانے کے لیے اُن کی سیاسی نمائندگی اور فیصلہ سازی میں شمولیت میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے اور نوجوان نسل کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ ترقی میں پیشرفت کو آگے بڑھانے کے لیے حکومت، این جی اوز اور مقامی تنظیموں کے درمیان شراکت داری کو فروغ دیا جائے۔

بجلی اور پانی جیسے بنیادی سہولت سے انکار آئین میں درج تعلیم کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ یہ غربت اور عدم مساوات کے سرکل کو برقرار رکھتا ہے، آنے والی نسلوں کی صلاحیت کو محدود کرتا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ تمام انفلوئنسر، صحت اور تعلیمی ادارے بھی اس عمل میں اپنا حصّہ ڈالیں، وہ اپنے طلباء کی ضروریات کو ترجیح دیتے ہوئے بشمول بجلی کے دیگر مناسب سہولیات بھی فراہم کرتے ہوئے ایک معاون اور جامع تعلیمی ماحول کو یقینی بنائیں۔

لیاری میں، سیاسی جماعتیں اکثر ترقی اور حمایت کا وعدہ کرتے ہوئے پسماندہ طبقے سے ووٹ تو مانگتی ہیں۔ تاہم، ایک بار جب وہ اسمبلیوں تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں، تو وہ اپنی ذمہ داریوں کو بھول جاتے ہیں۔ اپنے سیاسی رعب کو برقرار رکھنے کے لیے اگر کسی سیاسی جماعت کا اسمبلی ممبر کبھی اِن مسائل پر بات چیت بھی کرتا ہے تو اُسے مختلف حکومتی ادارے مسائل سے جوڑ کر علاقے کے باسیوں کو ہی اُن مسائل کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ لہٰذا علاقہ مکینوں کی جدوجہد اُنہی افراد کی وجہ سے مزید بڑھ جاتی ہے جن پر وہ اپنی نمائندگی کے لیے بھروسا کرتے ہیں۔ استحصال کا یہ چکر ہم سب کے لیے اب جانا پہچانا ہو چکا ہے۔

اس صدی میں جہاں دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکا ہے ہم اب تک بجلی، پانی اور گیس کی عدم دستیابی کا شکار ہیں، جو غیر ترقی یافتگی کی ایک پسماندہ ترین شکل ہے۔ ہم اب تک اپنے جینے کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں، یہ سیاسی جماعتوں کی عدم توجہی کی واضح دلیل ہے۔ یہ نظامی جبر اور نظر اندازی کی واضح مثال ہے جس کا سامنا پسماندہ کمیونٹیز کا حصَہ ہوتے ہوئے ہمیں کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ اقتدار میں رہنے والوں کے لیے اپنے اعمال کی ذمہ داری قبول کرنے اور اپنے وعدوں کو پورا کرنے کا مطالبہ ہے۔ لیاری صرف خالی الفاظ کا مطالبہ نہیں کرتی بلکہ وہ ٹھوس تبدیلی اور ترقی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو ان کے اعمال کے لیے جوابدہ بنایا جائے اور لیاری کے ضروریات کو ترجیح دے کر ہم آواز ہو کر مطالبہ کیا جائے کہ ”لیاری کو لائٹ نہیں لو، لیاری کو لائٹ دو“ ۔ تبھی ہم ایک مستحکم اور منصفانہ معاشرے کو تشکیل دے سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS