چیخوف اور افسانہ خادمہ: ایک تعارف


پیدائش: 1860 ء۔ انتقال: 1904۔ روس کا افسانہ نویس اور ڈراما نگار۔ 1884 ء میں انیس برس کی عمر میں چیخوف کے قلمی نام سے مختصر افسانے لکھنے شروع کیے۔

چیخوف نے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جہاں ‌‌ اسے ایک سخت مزاج باپ اور ایک اچھی قصّہ گو ماں نے پالا پوسا۔ چیخوف کی ماں اپنے بچّوں کو دل چسپ اور سبق آموز کہانیاں سنایا کرتی تھی۔ یوں ‌ بچپن ہی سے وہ ادب اور فنونِ لطیفہ میں ‌ دل چسپی لینے لگا اور بعد میں ‌ اسے تھیٹر کا شوق پیدا ہوا۔ انتون چیخوف نے کم عمری میں اسٹیج پر اداکاری بھی کی اور پھر اپنے تخلیقی صلاحیتوں کو پہچان کر قلم تھام لیا، اور اس کے افسانے شاہ کار قرار پائے۔ اپنے وقت کے کئی ادیبوں اور ماہر مترجمین نے چیخوف کی کہانیوں ‌ کو اردو زبان میں ‌ ڈھالا اور وہ قارئین میں مقبول ہوئیں۔

پہلے مجموعے کی کامیابی کے باعث ڈاکٹری ترک کر کے افسانے اور ڈرامے لکھنے شروع کیے۔ سائنسی تربیت نے روسی ادب کو بہت فائدہ پہنچایا اور حقیقت نگاری کا ایک نیا اسلوب روسی ادب کو ملا۔ شروع ہی سے اس کا ذہنی رجحان روسی زندگی کے روزمرہ کے معاملات کی طرف تھا۔ انسانی فطرت کی منفی صفات سفلہ پن، کمینہ پن اور ایسی ہی چھوٹی چھوٹی باتوں پر اس نے شدید طنز کیا۔ اس کی تحریروں میں تاجر پیشہ، طلبہ، پادری، اساتذہ، حجام، مجسٹریٹ، اعصابی مریض، پاگل، اعلیٰ افسر، سرکاری افسر، غرض سب طبقوں کی تنگ نظری اور سادہ لوحی یوں ریکارڈ ہو گئی ہے کہ جیسے کیمرے نے زندگی کی تصویر کھینچ لی ہو۔ چیخوف کو جدید افسانہ نگاری کا امام سمجھا جاتا ہے۔ بعض نقادوں کے نزدیک وہ دنیا کا سب سے بڑا افسانہ نگار ہے۔

چیخوف کو جدید افسانہ نگاری کا بانی سمجھا جاتا ہے اور ان کی کہانیاں دنیا کے مبصرین اور ناقدین کے درمیان میں بہت احترام کا درجہ رکھتی ہیں اور سراہی جاتی ہیں۔

چیخوف کے تمام افسانوں کا رجحان زندگی کے روزمرہ کے معاملات کی طرف ہوتا۔ انسانی فطرت اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر انھوں نے شدید طنز کیا۔ ان کی تحریروں میں سب طبقوں کی تنگ نظری اور سادہ لوحی یوں ریکارڈ ہو گئی ہے کہ جیسے کیمرے نے زندگی کی تصویر کھینچ لی ہو۔

وہ اپنی پوری ادبی زندگی کے دوران میں ڈاکٹری کرتا رہا اس کا کہنا تھا کہ ’ڈاکٹری میری قانونی بیوی ہے اور ادب میری رکھیل ہے‘۔ اس نے لکھنا صرف پیسے کمانے کے لیے شروع کیا تھا مگر جیسے جیسے اُس کی فنکارانہ طلب بڑھتی گئی اُس نے لکھنے میں جدت شروع کی جس سے بعد میں بہت سے مصنفین متاثر ہوئے۔ وہ کبھی اپنے کام کے مشکل ہونے پر پشیمان نہیں ہوا بلکہ اُس کا کہنا تھا کہ فنکار کا کام سوال کرنا ہے نہ کا جواب دینا۔

میکسم گورکی جیسا ادیب اسے ”روسی زبان کا معمار قرار دیتا ہے“
سعادت حسن منٹو نے کہا تھا کہ ”چیخوف کا کام فطرتِ انسانی کی عکّاسی کرنا تھا۔ ”

افسانہ خادمہ: تعارف و تجزیہ

روس سے اشرافیہ طبقے کا آغاز ہوا یہ روایت وہی سے چلی کی کمزوروں پر ظلم کیا جائے کہ ان کے بنیادی حقوق اور جبلتیں بھی صلب کر لی جائے ان پر اتنے بوجھ لاد دیے جائے کہ وہ نہ اہل ماتحتوں کے حکم کی بجا آوری پر مجبور ہو جائے ایسے طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد غربت اور افلاس کے علاوہ غلامی کی تکلیف بھی برداشت کرتے ہیں۔ یہ انسان کی نفسیات ہے کہ وہ بھوک پیاس گرمی سردی کا مقابلہ تو کر سکتا ہے مگر اپنی جبلتوں پر سمجھوتا کرنا اس کے بس کی بات نہیں لیکن اگر یہ سمجھوتا مجبوراً اسے کرنا پڑے تو اس کا انجام اور نتائج بہت خطرناک نکلتے ہیں۔

کوئی انسان اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشات کو تو قربان کر سکتا ہے مگر بنیادی انسانی جبلتیں اس کا انسانی حق ہے جو کہ ہر طبقے امیر غریب کو یکساں حاصل ہونا چاہیے۔ خاص طور پر پسماندہ طبقات کے نوعمر بچے سماج کی نا انصافیوں اور مظالم کی بھینٹ چڑھتے ہیں اور اپنے بچپن کی ضرورتوں اور خواہشات کو روندنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

جیسا کہ افسانہ خادمہ میں معاشرے کے متوسط طبقے کی بات کی گئی ہے یہ افسانہ غریب طبقے کی نمائندگی کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ جہاں انسانوں کے حقوق کو پورا کرنے کی بجائے اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے جیساکہ خادمہ افسانے میں ہمیں جابجا نظر آ تا ہے معاشرے میں ہونے والے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ مالکوں کا نوکروں سے برا سلوک، ان کی بنیادی ضروریات کا خیال نہیں رکھا جاتا جس کی وجہ سے بے شمار مسائل جنم لیتے ہیں اور انہیں اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشات کا گلا گھونٹنا پڑتا ہے ایسے گھروں میں پروان چڑھنے والے بچے بچپن ہی سے ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں اور انسانوں کا ایک دوسرے کے ساتھ کیا جا نے والا سلوک کہیں نہ کہیں نفرت کے پہلو کو رونما کرتے ہیں اور انہیں دنیا سے نفرت ہونے لگ جاتی ہے۔ اس افسانے میں ایسا ہی سلوک خادمہ کے ساتھ بھی ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ایک تیرہ سال کی بچی جو نا اہل مالکوں کی غلامی کرتی ہوئی دکھائی گئی ہے۔ یہ اس کی بنیادی ضروریات تو پوری کرنے سے قاصر ہیں ہی اس کے ساتھ ہی اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی اس پر ڈال دیتے ہیں

اس افسانے میں ایک ایسی کمسن بچی کی کہانی کا ذکر ملتا ہے جو گھر میں بطور خادمہ کا کردار نبھاتی ہوئی دکھائی گئی ہے جو اپنا بچپن قربان کرتی ہے یہاں تک کہ اسے اپنی نیند اور بھوک پر بھی سمجھوتا کرنا اس کی مجبوری بن جاتا ہے۔ اس کی عمر سے زیادہ اس پر ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ وہ خود بھی بچپن کے دن گزار رہی ہیں اس کی خواہشات خوابوں کی مانند ڈھل جاتی ہیں۔ یہاں ہمیں سماجی رویوں کا پتہ چلتا ہے کہ کس طرح خود سے کمزور طبقے سے سلوک رکھا جاتا ہے۔ ان سے ناروا سلوک کیا جاتا ہے۔

افسانے میں چیخوف نے کرداروں کی مدد سے تلخ معاشرتی حقائق کی عکاسی کی ہے

جیسا کہ خادمہ کا کردار ایک ایسا کردار ہے جو غربت کی چکی میں پسا ہوا ہے والد کی وفات کے بعد خادمہ اس دنیا کے رحم و کرم پر اپنی زندگی بسر کر رہی ہوتی ہیں۔ اس کو بنیادی ضروریات سے محروم رکھا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کی نیند وغیرہ کا خیال بھی نہیں رکھا جاتا اور اپنی ذمہ داریاں بھی اس کے کندھے پر ڈال دی جاتی ہے۔ یہ کردار ایسے طبقے کی نمائندگی کرتا ہے جو معاشرے کے اعلیٰ طبقے کے ہاتھوں اپنی زندگی بسر کرتی ہے اور اپنے خواب نیند سب اس معاشرے کی نظر کر دیتی ہے

اس کے علاوہ خادمہ کی ماں ایک ایسے طبقے کی نمائندگی کرتی ہے جو خود کو معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہے شوہر کی وفات کے بعد اس کو معاش کی فکر امیر طبقے کی غلامی کرنے کے لیے مجبور کر دیتی ہے اور یوں اپنی بچی کو ذمہ داریوں کے گہرے دلدل میں دھکیل دیتی ہے

اس کے ساتھ ساتھ امیر طبقے کے عکاس کرداروں میں خادمہ کی مالکن ایسے طبقے کی نمائندگی کرتی ہے جو خود کو اعلی اور دوسروں کو کمتر سمجھتی ہے اور خود کو اعلیٰ سمجھنے کے طور پر یہ انسانیت کے درجے سے بھی گر جاتی ہے اپنی ذمہ داریوں کو دوسرے کے کندھوں پر سوار کرنا اپنا مقصد حیات سمجھتی ہے یہاں پر ایسا ہی کردار بخوبی نبھاتی ہوئی دکھائی گئی ہے۔

افسانے میں انسانی نفسیات کو بھی بیان کیا گیا ہے اس کا ایک اور پہلو یا زاویہ یہ بھی ہے کہ خادمہ وارکا کا دماغ کس طرح دکھ، نیند اور ذمہ داریوں کے بوجھ سے بوجھل ہے، جس کی وجہ سے اسے طرح طرح کے خواب بھی ستاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جاگتی آنکھوں کے علاوہ وہ نیند میں بھی نیند سے متعلق اشیاء کو ہی دیکھتی ہے۔ وارکا اپنی جسمانی اور ذہنی تھکاوٹ کی وجہ سے منتشر خوابوں کے حصار میں رہتی ہے یہاں تک کہ اسے اپنے خواب بھی حقیقت معلوم ہونے لگتے ہیں۔ آخر کار وہ اپنے خوابوں اور اپنی سوچوں سے چھٹکارا پانے کا حل سوچتی ہے اور ایک نہایت خطرناک قدم اٹھانے کے بعد میٹھی گہری ابدی نیند سو جاتی ہے۔ افسانے میں ناصرف یہ کہ غریب طبقے کی نمائندگی کی گئی ہے بلکہ امیر طبقے کی فطرت اور غریب طبقے کے ساتھ برتاؤ بھی بتایا گیا ہے

چیخوف افسانہ نگاری میں ایک نئے اور نرالے طرز کا موجد مانا جاتا ہے اسی لئے اس کی شاہکار تصنیف افسانہ خادمہ کو بھی ان خوبیوں کا بہترین عکاس کہا جاتا ہے کہ جو زندگی کی کیفیات اور انسان کے احساسات بیان کرنے کے لئے اس قدر موزوں ہے کہ اس نے فن افسانہ نگاری میں ایک انقلاب پیدا کر دیا اس کے افسانوں میں۔ سب سے نمایاں خصوصیت اس نئے طرز کی یہ ہے کہ اس میں قصہ سنانے کا خیال بالکل نظر انداز کیا گیا ہے۔ دوسرے روسی انشا پردازوں کی طرح چیخوف بھی داستان کو معنی خیز بنانے کے لئے غیر معمولی حادثوں کا سہارا نہیں ڈھونڈتا تھا، اس کے قلم میں معمولی واقعات اور احساسات کو اس صفائی اور وضاحت سے پیش کرنے کی قدرت تھی کہ اس کے افسانے سیدھی سادی حقیقت ہی کی بدولت لطیف اور دل کش ہو جاتے ہیں۔

چیخوف نہ تو خط و خال کی باریکیوں پر جان دیتا ہے، جو عہد مغلیہ کے مصوروں کا دستور تھا اور نہ اصلیت سے قطع نظر کر لیتا ہے جیسا کہ یورپ کے جدید مصور کرتے ہیں افسانے میں چیخوف نے حقیقت کو مد نظر رکھنے کے علاوہ اس میں ایسی جان ڈال دی ہے کہ جو کچھ وہ بیان کرتا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں یا دیکھ چکے ہیں۔

اس افسانے میں چیخوف کا فنی کمال، اس کے احساس کی نزاکت اور گہری انسانی ہمدردی سب سے بہترین انداز میں ظاہر ہوتی ہے جن کا موضوع دل کا درد ہے یا وہ چھوٹے بڑے صدمے جو ہم میں سے ہر ایک کو پہنچتے رہتے ہیں یا غریب طبقے کی وہ حسرتیں جو دل کو تڑپایا کرتی ہیں۔ اس طرز کے افسانے اور بھی بہت ہیں اور ہر ایک اپنی جگہ بے مثل ہے۔ افسانے کے نقش نازک اور باریک ہیں، اس کے اشارے اور کنائے پر معنی ہیں۔ چیخوف نے قصے کو اس طرح نامکمل چھوڑا ہے کہ وہ خود بخود پڑھنے والے کے ذہن میں انجام کو پہنچ جاتا ہے اور اسے آپ بیتی معلوم ہونے لگتا ہے۔

Facebook Comments HS