غلام حسین ساجد اور جمالِ دشت ِحیرت


گزشتہ صدی کی چھٹی اور ساتویں دہائیاں اردو ادب اور شاعری کی ہنگامہ خیز دہائیاں ہیں۔ پہلے یہ سمجھا جاتا رہا تھا کہ سماج کو لکھ لیں گے تو فرد بھی اس میں آ جائے گا کہ ترقی پسندوں کا یہی دعویٰ تھا اور اب تک انہی کا سکہ چل رہا تھا۔ سماجی طبقات اور ان کی الجھنیں اس قدر توجہ پا رہی تھیں کہ فرد دھندلا تا گیا۔ جب اسے ایک خرابی کی صورت میں شناخت کیا گیا تو لکھنے والے اُدھر سے منہ موڑ کر انسان کے باطن میں موجزن احساسات کی طرف متوجہ ہو گئے۔

اسی داخلیت نے دروں بینی کے چلن کو عام کیا تو لسانی تشکیلات کا تجربہ سامنے آیا۔ نئی نظم میں کئی طرح کے ابہام اس کی خوبی ہوئے۔ نثری نظم/ نثم پر مکالمے زور پکڑا۔ افسانے نے علامت و تجرید کی طرف یوں جست لگائی کہ مربوط کہانی کہیں پیچھے رہ گئی۔ وہ زمانہ ہیئت اور تیکنیک کے تجربات کا زمانہ تھا۔ کوشش سے اور خوب جتنوں سے اپنا اپنا الگ اسلوب بنا کر نمایاں ہونے کا زمانہ۔ خیر، اس زمانے میں یہ سب، بہت اچھا بھی لگ رہا تھا۔ ادب کے ایک نئے تصور سے جڑنا گویا زبان کے اندر اظہار کی بے پناہ قوت کی نئی کان کو دریافت کرنا تھا۔ تخلیقی زبان لکھنے کی اس لگن کے زمانے میں جہاں نظم کے ساتھ افسانہ مختلف ہوا وہیں سب کچھ ”نیا“ ہو گیا تھا حتیٰ کہ غزل بھی نئی۔

اسی زمانے میں غلام حسین ساجد کا نام سننے کو ملا تھا۔ اچھا، یہیں کہتا چلوں کہ اردو غزل اگر ترقی پسندوں کی ترجیحات میں کہیں نیچے پڑتی تھی اور نئی نظم کے مراتب بلند تھے تو نئے ادب والوں کی بھی ادھر نظر نہ ٹھہرتی تھی اور اعتراض وہی تھا کہ بھلا غزل بدل کر نئی ہو گی بھی تو کتنی؟ ایسے میں غزل کہنے والے والوں کا اس صنف کو بھی جھاڑ جھٹک کر نیا کرنے کا سوچنا بنتا تھا اور اس باب میں ہونے والی کوششیں بھی نظر میں رہنی چاہئیں۔

میں ایسی کوششوں کی کامیابی یا ناکامی کی بات نہیں کروں گا تاہم اتنا کہے دیتا ہوں کہ جن کوششوں میں ہیئت سے چھیڑ چھاڑ ہوئی وہ لائق توجہ نہ رہیں۔ موضوعاتی اور لسانی اکھاڑ پچھاڑ کے تجربات کی قبولیت کُلی طور پر نہ سہی، جزوی طور پر ہوئی، وہ بھی بس اتنی، جتنی غزل کے مزاج نے قبول کیا۔ اثر لکھنوی کی ”مزامیر“ کے مقدمے کی طرف دھیان چلا گیا۔ انہوں نے اس میں بتایا تھا کہ اچھا، یہ ردو قبول کا معاملہ بھی الل ٹپ رہا ہے کہ جن پر ”شعرائے اصطبل“ کی پھبتی کسی جا رہی تھی وہی پوری پوری توجہ بھی کھینچ رہے تھے۔

غلام حسین ساجد ان لوگوں میں ہیں جو قبول کیے جا رہے تھے اور لطف یہ کہ تب سے اب تک ان کا قلم یوں رواں رہا ہے کہ مسلسل توجہ کھینچتے رہے ہیں۔ یوں تو ان کے ساتھ والے کئی ہیں جنہوں نے توجہ پائی اور اب تک اپنے تخلیقی عمل سے جڑے ہوئے ہیں۔ مشاہدے میں آتا رہا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ لکھنے والوں کے ہاں تخلیقی توانائی ماند پڑتی جاتی ہے۔ اس کا سبب افتخار عارف نے ایک بار یہ بتایا تھا کہ تخلیقی قوت مکھن کی ٹکیا جیسی ہوتی ہے، ایک توش پر لگا لیں، جو بچ رہے وہ دوسرے اور تیسرے پر؛ پھر بس کہ اسے کم یا ختم ہونا ہی ہوتا ہے۔

یہ محض ایک وجہ ہو سکتی ہے مثلاً دیکھیے کسی کی تخلیقی رفتار مدہم پڑنے اور اس کے ہاں قلت مواد کی شکایت کا سبب یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ تخلیق کار کو محسوس ہونے لگے کہ وہ اپنا تخلیقی علاقہ جا چکے وقت میں چھوڑ آیا ہے۔ اگرچہ بڑھتی عمر میں قلم رک رک کر چلنا ایک قدرتی عمل کے طور پر دیکھا گیا ہے تاہم مستثنیات کو بھی ذہن میں رکھنا ہو گا کہ شمس الرحمن فاروقی جیسے بھی تو ہیں جو قلم رکھ دینے کی عمر میں ”کئی چاند تھے سر آسماں“ جیسا ضخیم اور اہم ناول سامنے لے آئے تھے۔

رواں منظر نامے میں اردو غزل والوں کے ہاں بھی ایسی مثالیں بالکل سامنے کی ہیں جیسے ظفر اقبال، صابر ظفر اور غلام حسین ساجد۔ ظفر اقبال اب تک حیرت انگیز طور پر تخلیقی توانائی کو بحال رکھے ہوئے ہیں ان کے کلیات کا سلسلہ ”اب تک“ کچھ یوں چلا ہے کہ بھائی لوگ کہنے لگے ہیں ”کب تک؟“ صابر ظفر تو لگتا ہے سوتے جاگتے میں غزل کہتے ہیں کہ ہر سال کسی ایک موضوع کا تاثر دیتی غزلیات کا مجموعہ آتا ہے اور اتنا مختلف ہوتا ہے کہ توجہ بھی کھینچتا ہے۔

غلام حسین ساجد بھی کم تیز رو نہیں ہیں اور ان کا اختصاص یہ ہے کہ ان کی تخلیقی اپج میں ایک الگ نوع کی مشاقی، تہذیبی رچاؤ اور بدلتے موسموں اور مزاجوں کا اتنی لطیف سطح پر معاملہ ہے کہ وہ مختلف ہو جاتے ہیں۔ اچھا، یہ بھی ہے کہ وہ محض اردو ہی میں نہیں، پنجابی میں بھی خوب خوب کہتے ہیں۔ افسانہ اور تنقید الگ ؛یوں درجن بھر شعری مجموعوں میں درجن دو درجن کتابیں مزید شامل کر لیجیے۔ اپنی اس رفتار، معیار اور مقدار کا انہیں احساس ہے۔ تب ہی تو وہ کہتے ہوئے ملتے ہیں :

بہت سے لوگ رکے ہیں یہ دیکھنے کے لیے
میں رخش عمر کو کیسے کمند کرتا ہوں

تو یوں ہے کہ انہوں نے رخش عمر کو اپنے تخلیقی وفور سے کمند کیا ہے۔ نواب جعفر علی خان اثر لکھنوی نے خدائے سخن میر تقی میر کے کلام کا انتخاب دو جلدوں میں کیا تو اس کا نام ”مزامیر“ رکھا تھا۔ مزامیر کے معنی مطربوں کے ساز بھی ہیں اور دعائیں اور مناجات بھی۔ یہ عربی کا اسم ہے جو بالعموم حضرت داؤد کی دعاؤں اور وظائف کے لئے معروف ہے۔ ایک کتاب جس میں یہ دعائیں اور وظائف جمع ہوئے اس کا نام بھی مزامیر ہوا۔ اگرچہ ن م راشد نے اپنی ایک نظم ”حزن انسان“ میں یہ کہہ کر کہ ”ٹوٹ جائیں گے کسی روز مزامیر کے تار“ کہہ کر اس جانب اشارہ کر دیا ہے کہ یہ ستار جیسا ساز ہو سکتا ہے مگر بالعموم یہ ہونٹوں میں لے کر سانسوں کے وسیلے سے بجائے جانے والے ساز کے لیے بولا جاتا ہے۔

مزامیر، ”مزمار“ کی جمع ہے اور مزمار بانسری کو شاید اسی لیے کہتے ہوں گے۔ تو یوں ہے کہ میر صاحب کی غزل کا انتخاب ہوا اور اس کا نام ”مزامیر“ ہو گیا تو اس نے لطف دیا تھا۔ ویسے بھی غزل کہنا لمبے اور مسلسل سانس کا کھیل ہے ؛ جیسے بانسری کو تسلسل اور ایک خاص قرینے کے ساتھ سانسوں کی کمک چاہیے، یہاں بھی سانس سانس جھونک کر احساسات، جذبات اور کیفیات کا الاؤ روشن رکھنا ہوتا ہے۔ غلام حسین ساجد، میر صاحب کے چاہنے والوں میں ہیں۔

کلیات چھپوانے کا وقت آیا تو میر صاحب کی طرف دیکھا اور ”مزامیر“ ہی کے نام سے ہی دو جلدوں میں اپنا کلیات لے آئے۔ میں ان خوش بختوں میں سے ہوں جنہیں انہوں نے ”مزامیر“ کا پہلا حصہ عطا کیا تھا۔ یہ اپریل 2018 ء کی بات ہے ؛ تب سے اب تک یہ میرے مطالعے کی میز پر رہا ہے اور جب جب جی چاہتا ہے یہاں وہاں سے پڑھتا رہتا ہوں ؛ اور ہر بار میں اس شاعر کو الگ علاقے میں پاتا رہا ہوں۔ جی، ایسا علاقہ جسے میں اپنی سہولت کے لیے دشت حیرت کہوں گا۔ یہ حیرت کا عجب دشت ہے کہ اس کا اپنا جمال اور اپنے موسم ہیں۔ یہاں رہ کر ان گزرتے موسموں کو چکھا جاسکتا ہے، عناصر حیات سے مکالمہ ہو سکتا ہے، یہاں صبح و شام بلکہ وقت کی ایک ایک ساعت سے معاملہ ہوتا رہتا ہے۔

غلام حسین ساجد کی غزل روایت سے منحرف نہ ہو کر بھی اتنی مختلف، تہ دار، حسیات کے لطیف تاروں کو چھیڑنے والی اور کائنات کی سی وسعت لیے منظر نامے سے مواد کشید کرنے والی ہے کہ انہیں پڑھتے ہوئے اس صنف سے ’تنگنائے‘ والی شکایت جاتی رہتی ہے۔ ”مزامیر“ حصہ اول میں شامل کتب کے نام دیکھئے ؛ ”موسم“ ، ”عناصر“ ، ”کتاب صبح“ ، ”آئندہ“ ، ”معاملہ“ ، ”روداد“ ۔ ان میں ”گل سیمیا“ ، حقیقت ”،“ چہار دریا ”،“ ہست و بود ”،“ نیند میں چلتے ہوئے ”اور اعادہ کا اضافہ کر لیں۔

یہ نام ہی بتا دیتے ہیں کہ ان کی شاعری بہ طور خاص غزل کا علاقہ کون سا ہے۔ پھر ہر کتاب کے اندر ذیلی عنوانات کی تقسیم ؛ جیسے شعری مجموعے“ موسم ”میں“ بہار ”،“ سعیر ”،“ برشگال ”،“ خزاں ”،“ زمہریر ”اور“ قدیم ”کی ذیل میں بیس سے تیس غزلیں ہیں تو غزل کے ایک اور مجموعے“ عناصر ”میں“ مٹی ”،“ پانی ”،“ آگ ”،“ ہوا ”اور“ خواب ”جیسے عنوان پاتے بیس بیس غزلوں پر مشتمل حصے ہیں۔ غزل کی کتب میں ایسا اہتمام شاید ہی کسی اور کے ہاں دیکھنے کو ملے گا۔ لطف یہ ہے کہ یہ الگ سا راستہ ان کے تخلیقی وفور کی عطا ہے جس کے سبب یہ بامعنی تو ہے ہی، اپنی تاثیر بھی بدرجہ اتم قائم رکھتا ہے۔ خود غلام حسین ساجد کے لفظوں میں کچھ ایسا معاملہ ہے :

ایک سایہ سا گزر جائے گا موج ِ نور سے
جب اُجالے میں وہ شاخ یاسمیں رکھوں گا میں
اگر چہ انہوں نے کہہ رکھا ہے :
عشق سے اور کار دنیا سے حذر کرتا ہوں میں
اب فقط اپنی معیت میں بسر کرتا ہوں میں

مگر واقعہ یہ ہے کہ غزل میں وہ جہاں تک جست لگا کر گئے ہیں، اس صنف سے عشق کے بغیر ممکن ہی نہیں تھا۔ کار دنیا سے حذر کرنے اور اپنی معیت میں رہنے کا بھی یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اتنے گوشہ نشین ہیں کہ اپنے وجود کے سوا ان کا معاملہ کسی اور سے نہیں رہا۔ غزل کے شاعروں کے اس قسم کے دعووں کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے کہ وہ کسی اور مقام پر اپنی تردید بھی کر سکتے ہیں۔ جیسے ایک اور مقام پر غلام حسین ساجد یہ کہتے ہوئے ملتے ہیں :

کبھی ہے ترک دنیا پر بہت اصرار مجھ کو
کبھی میں اپنے حصے کی خدائی چاہتا ہوں

اپنے حصے کی خدائی چاہنے والے کا ہاتھ زمانے کی نبض پر ہے۔ کار ِدنیا پر ان کی نظر ہے اور یہی سبب ہے کہ عصری حسیت اور بدلتے ہوئے انسان کے تیور ان کی غزل میں متن ہوتے رہے ہیں :

یہ خاک راکھ میں تبدیل ہوتی جاتی ہے
کہ اس نگر میں کہیں کوزہ گر نہیں ہوتے

تو یوں ہے کہ جس کائنات سے غلام حسین ساجد کا مکالمہ اور معاملہ رہا ہے وہ ان کے وجود کے اندر باہر بکھری پڑی ہے اور ہر بکھرا ہوا ذرہ رومی کے درویشوں جیسے رقص میں ہے ؛ کچھ یوں کہ یہ منظر آب حیرت کی طرح ان پر برستا اور ان کی روح کو دھو کر تروتازہ کرتا رہتا ہے۔ ایسے گہرے تخلیقی تجربے سے گزرنے والے کے لیے فقط مصرع سازی کوئی معنی نہیں رکھتی کہ ان کے ہاں نہ صرف شعر مکمل ہوتا ہے ؛ پوری غزل پہاڑی تختوں سے اچھلتی، بہتی تند ندی کی طرح شعر شعر آگے بڑھتی اور تاثیر کا طلسم بڑھاتی چلی جاتی ہے۔ اور یہ ایسا قرینہ ہے کہ کہیں تو کوئی روایتی شعری حیلہ متروک ہو رہا ہوتا ہے اور کہیں کسی طلسم کی تاثیر میں اضافہ کر رہے ہوتے ہیں :

کسی طلسم کی تاثیر میں اضافہ کیا
کسی طلسم کو بے کار کر دیا اُس نے

مجھے اچھا لگتا ہے کہ وہ جوانوں کے سے تخلیقی وفور کے ساتھ مسلسل غزل کہہ رہے ہیں ؛ اپنی غزل میں جہان ِحیرت کی جمالیات متشکل کرتے ہوئے اور کچھ ایسی ادا سے جیسے اپنے ہم عمر ہم عصروں کی جانب ذرا سا بدل کر اپنا ہی مصرع اچھال رہے ہوں کہ دیکھیے! : ’میں رخشِ عمر کو‘ ایسے ’کمند کرتا ہوں‘ ۔

۔

Facebook Comments HS