ہم تو چلے کیلاش


پشاور سے چترال کے لیے جہاز میں بیٹھنے سے قبل چیکنگ سکریننگ اور جہاز کی سیڑھیوں سے آگے دروازے تک کے مرحلوں میں میں نے اپنی تمام تر چالاکیوں اور ہوشیاریوں سے اپنے آپ کو کھڑکی کے ساتھ سیٹ لینے کے چکر میں گھُما پھرا کر آگے آگے رکھا۔ پر اس ساری تگ و دو پر پانی پھر گیا جب ایر ہوسٹس نے بورڈنگ کارڈ مانگا جو مجھے جلدی میں سٹیورڈ سے لینا یاد نہیں رہا تھا۔ نتیجتاً نیچے جانا پڑا۔ اور جب واپس آئی پروین عاطف کھڑکی کے ساتھ والی سیٹ پر قبضہ جما چکی تھی۔ ہانپتے ہوئے میں سیٹ پر ڈھے سی گئی۔

اس وقت میرا جی چاہا کہ میں جیمز بانڈ کے سٹائل میں مُکا مار کر کھڑکی کا شیشہ توڑ دوں اور پروین کو گچی سے پکڑ کر نیچے پھینک دوں اور خود مزے سے اس کی سیٹ پر براجمان ہو جاؤں۔

میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ جہاز اُڑان لے چکا تھا۔ میں نے بیلٹ بھی نہیں باندھی اور ہمسائی کے کندھوں پر جھکتے ہوئے باہر نظر بازی بھی نہیں کی۔ چُپ چاپ بے حس و حرکت سر پشت سے ٹکائے بیٹھی رہی۔

جونہی پرواز ہموار ہوئی خوش شکل ایر ہوسٹس اور سٹیورڈ نے چائے کے لئے سروس شروع کر دی۔ برگر بند اور کیک کا پیس۔ چائے کی پیالی ہاتھ میں تھامتے ہوئے پروین نے کہا۔

”سویرا کے گھر کا ناشتہ ابھی تک میرے سینے پر دھرا ہے۔ اسے پیک کر لیتے ہیں دوپہر اور شام کے کھانے کی بچت ہو جائے گی۔“

”ماشا االلہ خیر سے کفایت شعاری میں یہ میری بھی پیو نکلیں“ ۔ مجھے ہنسی آ گئی تھی جسے میں نے کمال ضبط سے روکا۔ یوں میں اندر سے خوش بھی ہوئی کہ اللہ کے فضل و کرم سے خیالات میں کافی ہم آہنگی معلوم ہوتی ہے۔ اگر سفر کے ہر موڑ اور رُخ پر ایسی ہی دور اندیشی سے کام لیا گیا تو شاندار نتائج برآمد ہوں گے۔ اور جب ہم دونوں پیکنگ کر رہی تھیں میں نے دیکھا تھا میرے برابر والی سیٹ پر بیٹھا مرد ہماری اس کارروائی کو گہری نظر سے دیکھتے ہوئے طنزاً مسکرا رہا تھا۔ اُسکے بچوں کے چھوڑے ہوئے بند برگر ایر ہوسٹس اٹھا رہی تھی۔ یوں ہم نے بھی اپنے شوگر بیگز پی آئی اے والوں کو واپس کر دیے تھے۔

دور سے جو نظارے دیکھنے کو ملے اُن میں بادلوں کے پُرے، برفانی چوٹیاں، لواری ٹاپ کی ایک چھوٹی سی جھلک، پتلی سی لکیر کی مانند بہتے ندی نالے، گڑیوں کے گھروندوں کی مانند مکان اور سب سے آخر میں جہاز کا دریائے چترال پر پرواز کرنا تھا۔ جونہی جہاز نے زمین کو چھوا میں نے شکر کا لمبا سانس بھرا تھا۔ چترال کے لئے فوکر جہاز مخصوص ہیں۔

پی آئی اے کے فوکر اب بہت پرانے ہو چکے ہیں۔ لواری ٹاپ پر ذرا سی دھند انہیں آگے کی بجائے پیچھے لے جاتی ہے۔ اور آپ جہاں سے چلے تھے وہیں آن کھڑے ہوتے ہیں اکثر آپ کا سارا شیڈول اپ سیٹ ہو جاتا ہے۔

ائر پورٹ کی چھوٹی سی عمارت سیاہ پر ہیبت پہاڑوں میں گھری نگینے کی طرح چمکتی تھی۔ تیز ہواؤں سے نہال ہوتے ہوئے میں نے تنقیدی نظروں سے ائر پورٹ کا جائزہ لیا۔ اور بے اختیار سوچا کیا اسے بوئنگ طیاروں کے لئے وسعت نہیں دی جا سکتی ہے۔ گلگت ائر پورٹ کے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے۔ پروردگار کوئی مرد آہن اس قوم کو نصیب ہو جو میدانوں صحراؤں اور پہاڑوں کو نتھ ڈال دے۔

چھوٹی سی عمارت کے شیشوں والے دروازے میں داخل ہونے سے قبل کیاریوں میں اُگے رنگا رنگ پھولوں اور سیبوں کے بار سے جھکے درختوں نے جھوم جھوم کر جیسے سرگوشی میں کہا ہو۔

”خوش آمدید چترال آئی ہو“ ۔
اس اتنے پیارے استقبالیہ جُملے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے میں اندر داخل ہو گئی تھی۔

ایک کریلا دوسرے نیم چڑھا ایک شراب اوپر سے دوآتشہ جیسی مثالوں کی پروین کے وجود کے ساتھ عملی موزونیت کا احساس مجھے چترال ائرپورٹ سے ڈپٹی کمشنر کے دفتر تک بہترین انداز میں ہوا۔ پروین خوبصورت لکھاری کیلاش پر ٹی وی کے لئے سیریل بنانے کی تگ و دو میں مصروف اوپر سے ہاکی کے بین الاقوامی شہرت کے حامل بریگیڈئیر عاطف کی بیوی۔ اب وہ اپنی جس خوبی کو جہاں چاہتی کیش کرواتی یہ اُسکی مرضی تھی۔ ائر پورٹ کے کمرے میں اس کے بھاری بھرکم بیگ بھی سنبھالے گئے اور اسسٹنٹ کمشنر اظفر بہ نفس نفیس دینین روڈ پر ریسٹ ہاؤس میں چھوڑنے بھی آیا۔ آرٹسٹ پارٹی کل کی فلائٹ سے پہنچ رہی تھی۔ ان کے لئے گاڑیوں کا بندوبست بھی فی الفور ہوا۔ انتظامیہ کی جانب سے ہر طرح کے تعاون کے وعدے پر اُس نے سُکھ کا لمبا سانس بھرا۔ بیڈ پر ٹانگیں پھیلا کر لیٹی اور بولی۔

”سلمیٰ لنچ کرتے ہیں اور چائے پیتے ہیں۔ “

اس وقت لنچ کرنے اور چائے پینے کی خواہش کا اظہار کیوں نہ کرتی کہ اجنبی جگہ پر اُسکے گمبھیر مسائل الہ دین کے جن کی طرح مقامی حکام نے حل کر دیے تھے۔ میں نے اپنے بیگ سے چینی پتی اور دودھ نکالا۔ سائیڈ ٹیبل پر رکھی تھرماس میں دو کپوں کے حساب سے چیزیں ڈالیں اور گرم پانی کے لئے کچن میں گئی۔ اس وقت ریسٹ ہاؤس کے دو خانسامے اشتہا انگیز کھانے پروسنے میں پسینہ پسینہ ہو رہے تھے۔ ملحقہ کمرے میں بھاگم دوڑ جاری تھی۔

میں نے بوتل میں پانی ڈالا اور ناک بند کرتی اپنے کمرے میں آ گئی۔ دو گھروں کا لنچ نکالا۔ سویرا کے دیے ہوئے شامی کباب اور سلائس ٹوٹ پھوٹ کے عمل سے دوچار تھے۔ یہی حال پی آئی اے کے برگر بندوں کا تھا۔ روکھے سوکھے سلائس چائے کے گرم گھونٹوں کے ساتھ حلق سے نیچے اُتار کر رب کا شکر ادا کیا کہ اُس نے مفت کا یہ من و سلویٰ ہمیں دیا۔ ساتھ ہی ہمسایوں کو بھی لعن طعن کی کہ وہ کھانے کے لئے لان میں کھیلتے اپنے بچوں کو آوازیں دے دے کر بلا رہے ہیں کمبخت یہ نہیں دیکھتے کہ برابر میں دو عورتیں بھی ان کی نظر کرم کی مستحق ہیں۔ ہمسایوں کے تو بڑے حقوق ہوتے ہیں۔

جاری ہے

Facebook Comments HS